جنات و شیاطین - 1

(manhaj-as-salaf, Peshawar)
جنات کی اقسام
جن کے معنی
جنات کس چیز سے پیدا ہوۓ
انسان پہلے پیدا ہوۓ یا جن
کیا جنات میں مرد اور عورت بھی ہیں
شیطان کی شکل
شیطان کے سینگ
شیطان انسان کی شکل میں

محترم قارئین، ابو زید ضمیر حفظہ اللہ ہندوستان کے ایک جید عالم ہیں. انکے مختلف سیشن سے جنات کے متعلق چند روایات کو جمع کیا گیا ہے جو آپ کی معلومات کے لیے پیش کی جائیں گی. اللہ تعالی نے فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ

اور میں نے جنوں اور انسانوں کو محض اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا
(سورۃ الذاریات 51 آیت 56)

اس سے معلوم ہوا کہ جنات بھی انسانوں کی طرح ایک مخلوق ہیں جن کو اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا

جنات کی اقسام:
ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عن أبي ثعلبة الخشني قال : قال رسول الله : " الجن ثلاثة أصناف : صنف لهم أجنحة يطيرون في الهواء وصنف حيات وكلاب وصنف يحلون ويظعنون ."

مفہوم: جنوں کی تین قسمیں ہیں. ایک قسم کے پر ہیں اور وہ ہواؤں میں اڑتے پھرتے ہیں. اور ایک قسم سانپ اور کتے ہیں. اور ایک قسم آباد ہونے والے اور کوچ کرنے والے ہیں.
(امام بغوی نے اسکو شرح السنۃ بعد 3264 درج کیا، امام طحاوی نے مشکل الاثار حدیث: 2941 میں حسن سند سے درج کیا اور ابن حبان نے 6123 اور 6156 میں درج کیا. مزید اس روایت کو الشیخ البانی نے اپنی تحقیق میں مشکاۃ نمبر 4148 میں صحیح کہا. اسی طرح حافظ زبیر نے بھی پر حسن (اچھی سند) کا حکم درج کیا. مشکاۃ المصابیح مع الاکمال فی اسماع الرجال جلد 2 صفحہ 611 مکتبہ اسلامیہ.

گویا معلوم ہوا کہ جنات کتے اور سانپ کی شکل میں ہوتے ہے اوربعض اڑتے پھرتے ہیں، گھروں میں بھی آسکتے ہیں اور مسجدوں میں بھی آسکتے ہیں. البتہ اس سے کوئ ڈرنے کی بات نہیں کیونکہ وہ تو صرف ایک مخلوق ہے

جن کے معنی: ابن منظور نے لغت کی کتاب لسان العرب میں کہا:
اسکا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کو چھپانا. اسکو اسنے چھپایا. فلاں کو رات نے چھپایا. اسی لیے انکو جن کہا جاتا ہے کہ وہ نگاہوں سے چھپے رہتے ہیں. ابلیس کے معنی مایوسی کے ہیں. شیطان کے معنی خیر سے دور ہونے کے ہیں اور جن کے معنی جس پر پردہ پڑا ہو. اللہ نے فرمایا:
إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ ۗ

مفہوم: وہ اور اسکا لشکر تم کو ایسی جگہ سے دیکھ سکتے ہیں کہ تم انکو دیکھ نہیں سکتے
( (سورۃ الاعراف:7 آیت:27

جنات کس چیز سے پیدا ہوۓ:

اللہ تعالی نے فرمایا:
وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُومِ

مفہوم: اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا.
(سورۃ الحجر 15 آیت: 27)

دوسری جگہ فرمایا:
وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ

مفہوم:اور جنات کو آگ کے شعلہ (لپٹ) سے پیدا کیا
(سورۃ رحمن 55 آیت:15)

آگ کا جو سب سے اوپر والا حصہ ہوتا ہےجنات کی تخلیق وہاں سے ہےجس میں دھواں نہیں ہوتا.

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"خُلِقَتِ الْمَلاَئِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ.."

مفہوم:"فرشتے نور سےجنات آگ کے شعلہ سے پیدا ہوۓ.."
مسلم:2996

اس سے پتہ چلا کہ فرشتے نور سے،جنات آگ سے اور آدم (انسان) کھنکھناتی ہوئ مٹی سے پیدا ہوا. جیسا کہ ہم نے پہلے دیکھا کہ شیطان شطن سے جس کے معنی ہیں خیر سے دور. اللہ نے فرمایا:
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا .." ۚ

مفہوم:
اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بہت سے شیطان پیدا کیے تھے کچھ انسان اور کچھ جن. جن میں سے بعض بعض کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے تاکہ انکو دھوکے میں ڈال دیں.."
(سورۃ الانعام 6 آیت: 112)

معلوم ہوا بعض انسانوں میں شیطانی صفات ہوسکتی ہیں

انسان پہلے پیدا ہوۓ یا جن:
اللہ نے فرمایا:
وَالْجَانَّ خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ مِن نَّارِ السَّمُوم

مفہوم:
یقینا ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئ کھنکھناتی مٹی سے پیدا فرمایا اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا
(سورۃ الحجر 15 آیت 27)

اس سے معلوم ہوا کہ جنات کی تخلیق انسانوں سے پہلے ہوئ.

کیا جنات میں مرد اور عورت بھی ہیں.
جنات کی مرد یا عورت ہونا:

اللہ تعالی نے فرمایا:
وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْإِنسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا

مفہوم:
بات یہ ہے کہ چند انسان بعض جنات سے پناہ طلب کیا کرتے تھے جس سے جنات اپنی سرکشی میں اور بڑھ گۓ.
(سورۃ الجن 72 آیت: 6)

یہاں پرعربی میں لفظ رجال استعمال ہوا دونوں انسان اور جنوں کے لیے جس کے معنی مرد کے ہیں. اسی طرح حدیث میں بیت الخلا کی دعا ہے:

مفہوم:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ ‏"‏ ‏.‏

میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں خبیث مرد جن اور خبائث یعنی عورتوں جنیوں سے
سنن ابی داؤد،رقم: 6 سندہ صحیح

شیطان کی شکل:
اللہ نے جنت کی نعمتوں کا ذکر کرنے بعد فرمایا:
أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ ﴿٦٢﴾ إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِّلظَّالِمِينَ ﴿٦٣﴾ إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ ﴿٦٤﴾

مفہوم: کیا یہ مہمانی اچھی ہے یا زقوم کا درخت؟ جسے ہم ظالموں کے لیے سخت آزمائش بنا رکھا ہے. بے شک وہ درخت جہنم کی جڑ سے نکلتا ہے. جس کے خوشے شیطانوں کے سروں جیسے ہیں.
(سورۃ الصافات 37 آیت: 62,63,64)

اللہ تعالی نے زقوم کو شیطان کے سرسے تشبیہ دی، یعنی جسکو جس چیز سے تشبیہ دی جائ وہ چیزجس سے تشبیہ دی جاۓ وہ خود کتنی بری ہوگی.

اس آیت سے معلوم ہوا کہ شیطان کے سر بدصورت ہوتے ہیں.

شیطان کے سینگ:
روایت ہے:

مفہوم: اس طرح منافق کی نماز ہے. بیٹھا(عصر کے وقت) سورج کو دیکھتا رہتا ہے. یہاں تک کہ جب وہ شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان پہنچ جاتا ہے (یعنی غروب کا وقت قریب ہوجاتا ہے) تو اٹھ کر چار ٹھنگیں مار لیتا ہے جس میں اللہ کو کم یاد کرتا ہے
(بخاری، مسلم)

یہاں پر لفظ قرنی شیطان استعمال ہوا یعنی واقعتا یہاں مراد شیطان کے سینگ ہی ہے

جو اسکے دیر سے نماز پڑھنے کی وجہ سے اپنے سینگ اس کے اور سورج کے درمیان رکھتا ہے.

جنات دوسری شکلیں مثلا انسان یا جانور بھی شکل اختیار کرسکتے ہیں:
الْكَلْبُ الأَسْوَدُ شَيْطَانٌ

کالا کتا شیطان ہے
(صحیح مسلم،حدیث نمبر: 510)

کالا سے مراد ہے مکمل کالا. اس سے مراد ہے، علماء نے فرمایا:

یعنی یا تو وہ بعینی شیطان ہے یا پھر اسکا مطلب ہے کالا کتا کتوں میں شیطان ہے سرکش ہے. اور جنات اسکی شکل میں کثرت سے آتے ہیں. اسی طرح کالی بلی بھی اسلیے کے شیاطین کے لیے کالے پن میں بہت حرارت ہے
(حافظ ابن تیمیہ مجموع فتاوی جلد 19 صفحہ: 52)

مثلا کالا کتا، کالی بلی، اندھیرا رات کا. جیسا کہ مغرب کے وقت بچوں کو روکنے کے لیے کہا گیا ہے کیونکہ اندھیرا شیاطین کے انتشار اور انکے منتشر ہونے کا وقت ہے:

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ؛ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَعِيثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ >.
قَالَ أَبو دَاود: الْفَوَاشِي مَا يَفْشُو مِنْ كُلِّ شَيْئٍ۔
تخريج:م/ الأشربۃ ۱۲ (۲۰۱۳)، حم (۳/۳۰۱، ۳۱۲، ۳۶۲، ۳۷۴، ۳۸۶، ۳۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۲۳) (سنن ابی داؤد، رقم: 2604: وسندہ صحیح

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے'' ۱ ۔

ابوداود کہتے ہیں:فواشی ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جوپھیل جائے۔
وضاحت ۱ : اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلے پیدل یا جانوروں کی سورای والے سفر میں مغرب کے وقت ٹھہر جانا چاہئے، پھر اندھیرا ہونے پر چلنا چاہئے۔

اسلیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کالے کتے کو مارنے کے لیے کہا. لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر کالا کتا یا بلی جنات و شیاطین میں ہو. واللہ اعلم۔

شیطان انسان کی شکل میں:

اسی طرح ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کی ایک لمبی حدیث ہے کہ جس میں شیطان انسان کی شکل میں آیا اور سیدنا ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ نے اسکو پکڑ لیا اور اس نے انکو آیت الکرسی کی فضیلت بتائ اور اس پر انہوں سے اسے چھوڑ دیا. اور آخر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَمَا إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ، تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلاَثِ لَيَالٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ‏"‏‏.‏ قَالَ لاَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ شَيْطَانٌ ‏"‏‏.

‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کی یہ بات سن کر ) فرمایا کہ اگرچہ وہ جھوٹا تھا ۔ لیکن تم سے یہ بات سچ کہہ گیا ہے ۔ اے ابوہریرہ ! تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ تین راتوں سے تمہارا معاملہ کس سے تھا ؟ انہوں نے کہا نہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شیطان تھا ۔
(صحیح بخاری،نمبر: 2311)

مگر سیدنا ابو ہریرۃ اسکو نہیں پہچان سکے.

محترم قارئین، اللہ کا یہ پیارا دین کبھی بھی جلد بازی سے نہیں سیکھا جاتا بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے سیکھا جاتا ہے اور دلائل کو ذہن نشین کیا جاتا ہے۔ ان شاء اللہ اس کی مزید تفصیل قرآن والسنۃ کے دلائل کے ساتھ جاری ہے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: manhaj-as-salaf

Read More Articles by manhaj-as-salaf: 286 Articles with 217320 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2017 Views: 1651

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ