قرآن صرف ذ ہنی مشق اور نظریاتی بحثوں کے لئے نہیں

(Rao Anil Ur Rehman, Lahore)
انسان کی حقیقی کامیابی وکامرانی قرآن کی تعلیمات پر عمل میں مضمر ہے۔ تعلیمات قرانی پر غور وفکر اورتحقیق سے ہم علم کے بحر ذخار تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج کے انسان نے حرص و ہوس میں پڑکر جس طرح کی برائیوں کو فروغ دیا ہے ان کی بدولت انسانیت انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے

قرآن صرف ذ ہنی مشق اور نظریاتی بحثوں کے لئے نہیں

انسان کی حقیقی کامیابی وکامرانی قرآن کی تعلیمات پر عمل میں مضمر ہے۔ تعلیمات قرانی پر غور وفکر اورتحقیق سے ہم علم کے بحر ذخار تک پہنچ سکتے ہیں۔ آج کے انسان نے حرص و ہوس میں پڑکر جس طرح کی برائیوں کو فروغ دیا ہے ان کی بدولت انسانیت انتہائی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔

قرآن ہی وہ نجات دہندہ کتاب ہے جس سے ہم تمام برائیوں پرنجات پا سکتے ہیں قرآن کتاب ہدایت ہے ، جو خیر کو پھیلانے اور شر کو مٹانے کی دعوت دیتی ہے اور یہی اس کے نزول کا مقصد ہے۔ معاشرے میں بھلائیوں کو فروغ دینے اوربرائیوں کے انسداد کی کوشش اور اس کے ذریعہ ہم برادران وطن کے ساتھ بھی تعاون و اشتراک کی راہیں ہموار کر سکتے ہیں۔

قرآن مجید کی روشنی میں ہم اپنی زندگیوں کو ڈھالنے کی کوشش کریں۔اسی سے قوم کی کامیابی ممکن ہے۔ قرآن میں غور و فکر اور تدبر بھی اسی لئے ہے کہ اس کے ذریعہ ایمان و یقین کی بنیادیں راسخ ہوں اور عمل کی راہیں کھلیں۔

آئیڈیل معاشرہ وہ ہے جس میں بے غرض خیر خواہی کا جذبہ ہو۔ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم برائیوں کو روکنے اور بھلائیوں کو پھیلانے میں قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں آگے بڑھیں۔ دائمی زندگی کا تصور قرآنی تعلیمات کے حصول میں ہی ممکن ہے اور ہم اسی کے ذریعہ اپنی زندگی کو خوبصورت اور بہتر بنا سکتے ہیں۔

آج ہم نے قرآن کی تعلیمات کو بھلا دیا ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ جو کتاب ہماری ہدایت کے لئے آئی تھی ہم نے اس کو پس پشت ڈال دیا۔ قرآن پاک غلط کاریوں سے بچنے اور ان سے باہر نکلنے کے لئے سچی راہ دکھاتی ہے۔ ہر نسل کی ذمہ داری ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میںاپنے لئے راہ نکالے، جو لوگ عربی زبان سے نا واقف ہیں ان کے ترجمہ قرآن کے نہ پڑھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم محض اس کی تلاوت کو ثواب کا ذریعہ سمجھ بیٹھے۔قرآن مجید کو غور وفکر اور ریسرچ وتحقیق کا موضوع بننا چاہئے۔ تحقیق کے لئے عصر حاضر کے مسائل وموضوعات کا انتخاب کرنا چاہئے۔

قرآن شریف تما م انسانیت کو ایک ڈائریکشن دیتا ہے۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ روزمرہ کی زندگی میںجو غلط طریقے رائج ہوگئے ہیں ان کے انسداد کے لئے آگے آئیں۔ قرآن کی روشنی میں اپنی زندگی استوار کریں اور قرآنی تعلیمات کو دوسروں تک بہتر انداز میں پیش کرنے کے لئے کوشش کریں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Anil Ur Rehman

Read More Articles by Rao Anil Ur Rehman: 88 Articles with 132250 views »
Learn-Earn-Return.. View More
09 Mar, 2017 Views: 386

Comments

آپ کی رائے