عظمت ِپیغمبرؐ سے اِنکارجہالت

(MUHAMMAD Nasir Iqbal Khan, Lahore)

میں سمجھتاہوں ''اَن پڑھ''ہونا نہیں بلکہ خالق ِکائنات اﷲ تعالیٰ کی وحدانیت ، سرو رکونین حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وسلم کی ر سالت ،آپ ؐ کی رِحمت و صداقت ،آپ ؐ کے پا س حق ِشفاعت اورختم نبوت ؐ پرایمان نہ رکھنا درحقیقت جہالت ہے جبکہ رِسالت حق پرحملے کرنا اس سے بھی بڑی جہالت ہے اوراسی جہالت کی کوکھ سے دنیا بھرمیں دہشت اوروحشت نے جنم لیا ۔ختم نبوت ؐ کے انکاری یہودوہنود سے بھی بدتر ہیں،انہیں کافرقراردینا ذوالفقارعلی بھٹو کی شفاعت کیلئے کافی ہے۔اگردوہری شہریت والے منتخب ایوانوں میں نہیں آسکتے جودرحقیقت ناانصافی ہے ان کی بجائے وہ نادان طبقہ جو ختم نبوت ؐپرایمان نہیں رکھتاریاست کو اس کی اسمبلیوں اوراعلیٰ سرکاری عہدوں تک رسائی کاراستہ روکناہوگا ۔جوکوئی ان مرتدوں کے ساتھ نرمی کامظاہرہ کرے ،راقم کی بددعا ہے وہ روزمحشر جام ِکوثر سے محروم رہے۔اِسلام کومٹانے کیلئے نام نہاد مسلمان جودرحقیقت خوارج ہیں انہیں استعمال اوراس آڑ میں اسلام کوبدنام کیا جارہا ہے جبکہ مسلم حکمران ہاتھ پرہاتھ دھرے بلکہ اپنا اپنا تخت مضبوطی سے تھام کربیٹھے ہیں۔پاناما لیک پرحکمران خاندان کے دفاع سے لے کر عمران خان کی طرف سے آف دی ریکارڈ گفتگو میں کسی غیرملکی کھلاڑی کو پھٹیچرقراردینے پرپوائنٹ سکورنگ تک وفاقی وصوبائی وزیروں کاگرجنا برسنا ہم دن میں دس بار دیکھتے اورسنتے ہیں مگر پاکستان کے اندرسوشل میڈیا پرجو''پیجز''مسلمانوں کی اِسلامی حمیت کاجنازہ نکال رہے ہیں ان پرکوئی وزیر صدائے احتجاج بلندکرتا ہے اورنہ پی ایس ایل فائنل سمیت ہرپھٹیچر ایشوپرٹوئیٹ کرنیوالی مریم صفدر کاکوئی ٹوئیٹ آتا ہے۔کسی حکمران یااس کے خاندان کے کسی فرد کیخلاف کوئی بیان آجائے توان کے حامی مرنے مارنے پراترآتے ہیں لیکن ہمارے پیغمبر محمد صلی اﷲ علیہ وسلم جوہرمسلمان کواپنے ماں باپ اوربیوی بچوں سے بڑھ کرعزیز ہیں ان کی شان میں گستاخی کرنیوالے ''اسلامی جمہوریہ پاکستان ''میں دندناتے پھررہے ہیں۔پاکستان جمہوریت یاموروثیت نہیں'' اِسلامیت ''کیلئے معرض وجودمیں آیا تھا ، بابائے قوم ؒ سمیت ہمارے باپ دادا نے جس پاکستان کواسلام کاقلعہ بنانے کاخواب دیکھا تھاوہاں چند گمراہ لوگ اِسلامی شعار کامذاق اڑا رہے ہیں جبکہ اسلامی ریاست بے بس کھڑے ہے۔پاکستانیوں سے درخواست ہے اس قسم کے زہریلے موادکواپنے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئرنہ کیاکریں کیونکہ یہ بھی توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ اگراس قسم کے پیجز بنائے جاسکتے ہیں تومٹائے بھی جاسکتے ہیں،مگرارباب اقتدارکویہ بات کون سمجھائے۔آئی ٹی کی وزارت کس مرض کی دوا ہے،عدالت سوشل میڈیا پربنے توہین آمیز پیجزوالے معاملے میں وزیرداخلہ کے ساتھ ساتھ آئی ٹی منسٹر کوبھی کٹہرے میں کھڑا کرے ۔راقم کی تجویز ہے ریاستی سطح پر سوشل میڈیا کے بانیان سے رابطہ کرکے ان پر کچھ ضروری اِصلاحات کیلئے زوردیاجائے۔کرنٹ اورپرنٹ میڈیا ہوسوشل میڈیا ان میں سے کسی کوشتربے مہار بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،ہرکوئی ضابطہ اخلاق کی پاسداری یقینی بنائے ۔ سوشل میڈیا پراکاؤنٹ بنانے والے افراد کیلئے ان کے اپنے اپنے قومی شناختی کارڈزکانمبر دیناناگزیر قراردے دیاجائے یعنی کوئی اپنی شناخت اورشہریت چھپانے میں کامیاب نہ ہو ۔

پھٹیچرپرمزید کچھ بات کرتے ہیں، پاکستان کے منتخب ایوانوں ،سیاسی اجتماعات ،چوراہوں اورٹاک شوزمیں ایک دوسرے کوگندی گالیاں دی جاسکتی ہیں ،پارلیمنٹ میں ایک دوسرے کو''پھینٹی ''لگائی جاسکتی ہے ،اِنتخابات میں پری پول اورپوسٹ پول رگنگ کی جاسکتی ہے، الیکشن میں پنکچرلگائے جاسکتے ہیں مگر کسی غیر ملکی کھلاڑی کوپھٹیچر نہیں کہا جاسکتا۔چوری اورسینہ زوری سے مقروض پاکستان کاپیسہ بیرون ملک منتقل کرکے آف شورکمپنیاں بنائی جاسکتی ہیں اور عدالت میں قطری مکتوب پیش کئے جاسکتے ہیں۔آف شورکمپنی بنانانہیں مگران آف شورکمپنیوں کیخلاف شورمچانا گناہ ہے۔دوران ِسفرسگنل توڑنے پرفوری چالان کردیاجاتا ہے لیکن بڑے پیمانے پربدعنوانی بے نقاب ہونے کے باوجود مقدمات انصاف کے ایوانوں میں ایڑیا ں رگڑتے رگڑتے قصہ پارینہ بن جاتے ہیں۔ اگر کوئی سرکاری یاپرائیویٹ اہلکار اپنے دفتر میں دس منٹ تاخیر سے پہنچتا ہے تواس کے ہاتھوں میں معطلی کے احکامات تھمادیے جاتے ہیں ،ہمارے مستقبل کے معمارطلبہ وطالبات کودیر سے آنے پرکلاس روم میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی اُلٹاان سے نقد جرمانہ بھی وصول کیا جاتا ہے مگر اِنصاف میں تاخیر کاسدباب نہیں کیا جاتا۔مقدمات کوبروقت نمٹانے کیلئے ٹائم فریم طے کیا جائے۔پاکستان میں اس قدر موضوعات ہیں اوران پربہت کچھ لکھاجاسکتا ہے مگر سچائی تک رسائی کے حامی ناپیدہوتے جارہے ہیں۔ہمارے لوگ جاگتی آنکھوں کے ساتھ منتخب حکمرانوں اورسررکاری عہدیداروں کا بڑ ی بڑی مالی بدعنوانیوں میں نام آنے کے باوجود ان کامحاسبہ یامحاصرہ نہیں کرتے مگر اپنے ملازم کو سوداسلف میں سے بچے دس روپے نہیں چھوڑتے۔ٹاک شوز میں بیٹھ کرکسی بھی قومی مجرم کی وکالت کرنے یاووٹ کی صورت اس کی شہادت دینے والے سیاستدان اورووٹرز روزمحشر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں جوابدہ ہوں گے۔

دوسرے ملکوں میں ہمارے کامل پیغمبر حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی شان پرمذموم حملے ہوتے ہیں توایٹمی پاکستان کے حکمرانوں کوچپ لگ جاتی ہے لیکن اگرعمران خان نے کسی غیرملکی کھلاڑی کوپھٹیچر کہا تواس پرہمارے حکمران پیالی میں طوفان برپاکر دیتے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ عمران خان کویہ کہنا چاہئے تھامگر اس بیان پرسیاست چمکانے اورغیر ملکی کھلاڑیوں تک یہ بات پہنچانے والے کس قسم کی قومی خدمت انجام دے رہے ہیں۔اگرانہیں قومی وقاراورمفادعزیزہوتا تویہ عمران خان کے بیان کودباتے مگر اس بات کواچھالناپھٹیچر پن کی بدترین صورت ہے۔پاکستان میں آج تک ریاستی سطح پرکسی توہین رسالت ؐ کے مجرم کوتختہ دارپرنہیں لٹکایا گیا لیکن غازی ملک ممتازحسین قادری شہید ؒ کوعجلت میں تختہ دارپرلٹکادیا گیا ۔پی ایس ایل فائنل کومسلسل کئی گھنٹوں تک براہ راست نشرکیا جاسکتا ہے اورنوازشریف کے حکم پراس دن لوڈشیڈنگ بھی نہیں کی جاتی لیکن غازی ملک ممتازحسین قادری شہیدؒ کی نمازِجنازہ کوبراہ راست نشر کرنے سے روک دیاجاتا ہے ۔ہمارے ہاں اشرافیہ اورعوام کے سٹینڈرڈزتبدیل ہوتے جارہے ہیں۔سکیورٹی خدشات کے باوجودلوگ جس بڑی تعداد میں اوربھاری رقم صرف کرکے پی ایس ایل کافائنل دیکھنے گئے اُس طرح شہیدوں کے جنازوں میں نہیں جاتے ۔

پاکستان کا''طاقتور''حکمران طبقہ جو خود کو''لوہے کاچنا''کہتا ہے،اس کی ان شیطان نما گستاخان کیخلاف مجرمانہ خاموشی پر پاکستان کے سنجیدہ عوام ماتم نہ کر یں تواورکیا کریں۔اگرکوئی سوشل میڈیا پرحکومت کوتنقید کانشانہ بنائے تواگلے پل اس کی گردن ایف آئی اے کے شکنجے میں ہوتی ہے توپھراﷲ تعالیٰ کے محبوب کی شان میں گستاخی کرنیوالے مرتداورمردُود کیوں اب تک قانون کی گرفت میں نہیں آئے ۔ آزاد عدلیہ کے باضمیر جسٹس شوکت صدیقی نے جوکہا وہ سوفیصد درست ہے ۔ان کے حالیہ ریمارکس ارباب اقتدار کے ساتھ ساتھ عوام کوبھی جھنجوڑنے اورجگانے کیلئے کافی ہیں، اطلاعات کے مطابق اسلامی معاشرے کاایک مخصوص مرتد طبقہ جسٹس شوکت صدیقی کیخلاف سرگرم ہوگیا ہے مگر وہ تنہا نہیں ہیں ۔ پاکستان کے عوام ملک میں جاری بدعنوانی ،بدانتظامی اورحکمرانوں کی بدزبانی پرخاموش رہ سکتے ہیں مگر وہ سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی ناموس کیخلاف ناپاک جسارت کرنیوالے کرداروں کوکیفرکردارتک پہنچانے کیلئے سردھڑ کی بازی لگادیں گے۔

ہمارے قادروکارساز اﷲ تعالیٰ نے اپنے محبوب اور محسن انسانیت حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے اعلیٰ وارفعٰ مقام کواستحکام اوردوام بخشا ہے،تاحشراُن کی شان پرانگلی اٹھانے والے جاہل ناکام ونامرادرہیں گے۔اِسلامی تعلیمات کامذاق اڑانا یاپیغمبر اسلام کی عزت وعظمت کومیلی آنکھ سے دیکھنا بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔جواِسلام ناحق درخت کاٹنے سے روکتا ہو وہ انسانوں کے گلے کاٹنے کی اجازت کس طرح دے سکتا ہے۔جواِسلام دوسروں کے باطل خداؤں کی تضحیک سے روکتا ہووہ اپنے سچے اﷲ تعالیٰ اورسچے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی ناموس پرحملے کس طرح برداشت کرسکتا ہے ۔جوبدبخت انسان اپنی قسمت پرقادر نہیں وہ قادرمطلق کی حکمت کوکس طرح سمجھ سکتا ہے۔امیر ، نادار، آزاد، اسیر، طاقتوراورکمزورہم سب انسان امتحان سے گزررہے ہیں،اس امتحان میں کامیابی یا ناکامی کااعلان روزمحشر ہوگا ۔اِسلام ایک زندہ حقیقت ہے جس کومٹایا نہیں جاسکتا ،دنیا پراِسلام کاغلبہ اٹل ہے ۔زمین پرانسان ہزاروں برس سے ہیں مگرانسانیت کاتصور ظہور اِسلام کے بعد اُبھرا ۔اِنسانیت کی بنیاداسلامی تعلیمات پراستوارہوئی ۔جس طرح کہا جاتا ہے گنہگار کوپتھر وہ مارے جس نے خودکوئی گناہ نہ کیا ہو،اِس طرح میں کہتاہوں اِسلام پروہ تنقید کرے جس نے اس کامطالعہ کیا ہو۔جواِسلام کی زیرزبر کونہ سمجھتا ہووہ اس پرتنقید نہیں کرسکتا۔دنیا بھر میں جس کسی نے قرآن مجید فرقان حمید اوراسلامی تعلیمات یاتاریخ کامطالعہ کیا وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا ،اس سلسلہ میں عالمی ہیرو محمدعلی مرحوم سمیت ہزاروں نام گنوائے جاسکتے ہیں،ڈونلڈ ٹرمپ کے اسلام دشمن اقدامات سے مقامی مسیحی افراد کی اسلام میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔جس کسی نے اِسلام پرمناظرہ کرنا ہے اس کیلئے اِسلام کوپڑھنااورسمجھنا ہوگا۔اِسلام میں تشدد اورتعصب کی تعلیم یاترغیب تودرکناراس کا تصورتک نہیں ہے ۔ اِسلام کے پھیلنے میں'' تلوار'' نہیں ہمارے اسلاف کے ''افکاراورکردار''کادخل ہے۔طاقت سے اِنسان کوغلام بنایاجاسکتا ہے ''امام '' نہیں،آج تک کسی نے طاقت سے مرعوب کراسلام کی طرف رجوع نہیں کیابلکہ سیرت محمدصلی اﷲ علیہ وسلم سے متاثرہوکر لوگ جوق درجوق دائرہ اسلام میں داخل ہورہے ہیں اورہوتے رہیں گے ۔سرورکونین حضرت محمدصلی اﷲ علیہ وسلم معراج پرگئے اورا س کی تصدیق نے حضر ت ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو''صدیق اکبر'' بنادیا ۔مرُادِ پیغمبرحضرت عمرفاروق رضی اﷲ عنہ نے حق وباطل میں فرق کیا توآج بھی انہیں ''فاروق اعظم '' کے نام سے یادکیاجاتا ہے۔فرعون رہا اورنہ ابوجہل باقی رہا مگر ان کے پیروکار آج بھی دنیا پربوجھ اورانسانیت کیلئے روگ بنے ہوئے ہیں۔اہل سائنس نے قرآن مجید کی کئی آیات کی تصدیق کردی مگرعہدحاضر کے ابوجہل آج بھی حق کاانکارکررہے ہیں۔

اﷲ تعالیٰ جوقادروکارساز ہے ،جس کاوہ ذکر بلندفرمائے، جس پروہ شب وروز درودوسلام بھیجے اورجس سراپارحمت کی شفاعت پروہ ہم گنہگاروں کی بخشش کا مژداسنائے اس عالی شان والے کامل پیغبر کی شان میں کوئی ''کمی ''انسان کمی ہرگز نہیں کرسکتا۔دیہات میں ''کمی ّ''اس کوکہا جاتا جس کی شخصیت میں کوئی'' کمی '' رہ گئی ہو،برادری اورقبیلے کے اعتبار سے کوئی ''کمی ّ '' نہیں ہوتا ۔ جس کی شخصیت میں کوئی'' کمی ّ '' ہو اس کا کمینہ پن اورخبث باطن باہرآجاتا ہے مگر گندے نطفہ سے پیداکیا گیا کوئی حقیر انسان اﷲ تعالیٰ کے محبوب تودرکناراس کے عام بندے کی تحقیر نہیں کرسکتا۔اﷲ تعالیٰ اپنے بنائے ہوئے انسان کی جبلت اورفطرت سے واقف ہے اسلئے اسے عزت اورذلت پرقدرت نہیں دی ۔مدینہ منورہ والے ایک ابوجہل سے عہدحاضر کے کروڑوں ابوجہل تک کوئی سرورکونین حضرت محمد صلی اﷲ وعلیہ وسلم کی ناموس میں کمی کرنا کسی انسا ن کی اوقات نہیں۔زمین پرکھڑا کوئی انسان یاحیوان چاندپرنہیں تھوک سکتا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by MUHAMMAD Nasir Iqbal Khan: 71 Articles with 22092 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Mar, 2017 Views: 302

Comments

آپ کی رائے