اللہ کے گھر حاضری۔ وہیل چئر پر طواف کرنے والوں کے لیے بہتر سہولت

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

اللہ کے گھر خانہ کعبہ میں حاضری اور روضہ رسول ﷺ پر سلام عقیدت پیش کرنے کی سعادت اور امنگ کس مسلمان کے دل میں نہیں ہوتی۔ ہر مسلمان کی یہی آرزو اور تمنا ہوتی ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک بار اسے یہ سعادت ضرور نصیب ہو، وہ تو یہ تمنا لے کر مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ جاتا ہے کہ اس کا دم آخر وہی ہوجائے اور اسے جنت المعلیٰ یا جنت البقیع میں خاک ہوجانے کا موقع میسر آجائے۔ بے شمار خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جن کی یہ خواہش پوری بھی ہوتی ہے۔ الحمد اللہ مجھے عمرہ کی ادائیگی کی سعادت مئی 2011سے نصیب ہورہی ہے اور ان چھ سالوں میں مَیں چھٹی بار سعودی عرب آیا اور عمرہ کی سعادت حاصل ہوئی، یہ پہلی بار ہے کہ میں عمرہ وزہ پر سعودی عرب آیا ہوں اس سے قبل میں وزٹ ویزہ پر آیا سعودی عرب آتا رہا اور عمرہ کی سعادت حاصل ہوتی رہی۔ اس کی وجہ پہلے میرے دونوں بیٹوں عدیل اور نبیل کا سعودع عرب میں بہ سلسلہ ملازمت قیام ہے اب صرف میرا بڑا بیٹا عدیل بہ سلسلہ ملازمت جدہ میں اپنے بچوں کے ہمرہ گزشتہ کئی سال سے مقیم ہے۔

حج اور عمرہ اﷲ تعالیٰ کی ایسی عبادات ہیں جنہیں ادا کرنے کا حکم قرآن مجید میں دیا گیا۔ سورۃ البقرۃ ۲، آیت ۱۹۵ میں ارشاد فرمایا گیا۔’’حج اور عمرے کو اﷲ کے لیے پورا کرو اور اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو‘‘۔حیو ۃالمسلمین میں ہے کہ’’ عمرہ سنتِ مؤکدہ ہے، یہ حج کی طرز کی ایک عبادت ہے، جس کی حقیقت حج ہی کے بعضے عاشقانہ افعال ہیں اس لیے اس کا لقب حج اصغر ہے‘‘۔ حج اکبر کا لفظ حج اصغر کے مقابلے میں ہے اہل عرب عمرے کو چھوٹا حج کہتے ہیں اس کے مقابلے میں جو حج ذی الحجہ کی مقرہ تاریخوں میں ہوتا ہے حج اکبر کہلاتا ہے۔

معارف الحدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ حج اور عمرہ کے لیے جانے والے خدا کے خصو صی مہمان ہیں وہ خدا سے دعا کریں تو خدا قبول فرماتا ہے اور مغفرت طلب کریں تو بخش دیتا ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث ہے کہ ’’نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ جس نے پچاس بار بیت اﷲ کا طواف کرلیا وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک جیسے اس کی ماں نے اس کو آج ہی جنم دیا ہے‘‘۔ رایت کے مطابق نبی محمد ﷺ نے ہجرت سے قبل دو حج کیے بعض موررخین کے مطابق تین حج کیے اور آپ ﷺ کے عمروں کی تعداد چار بتائی جاتی ہے۔

خانہ کعبہ میں حاضری، مکہ المکرمہ کے متعدد متبرک مقامات پر حاضری، مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺپر حاضری اور سلام احترام پیش کرنا، مدینہ کی گلیوں ، محلوں اور متبرک جگہوں پر جانا اوروہاں کی زیارت کرنا ہر زائر اپنے لیے باعث بر کت اور باعث رحمت تصور کرتا ہے۔ میں جب بھی آیا ان مقامات پر حاضری کی کوشش کی ، وہاں کی زیارت کی اور اس جگہ کا مطالعہ بھی کیا اور اس پر تفصیلی مضمون بھی تحریر کیے جیسے جنت المعلیٰ ، بنی پاک کا وہ مکان جس میں آپﷺ کی ولادت با سعادت ہوئی ، جو اب ایک عوامی لائبریری ہے، جبل ثور ، جبل رحمت اسی طرح مدینہ منورہ میں حضرت عثمانؓ کا کنواں، مسجد جن، مسجد عائشہ، جنت البقیع،مسجد قباء،مسجد جمعہ،مسجد قبلتین،خاک شفا (وادیِ خاک شفا)، بدر کا میدان،حضرت سلمان فارسی کا باغ،جبل احد، جدہ میں مقبرہ امان حوا، طائف کے بارے میں الگ الگ مضامین تحریر کر چکا ہوں جو میرے سفر نامے کا حصہ ہوں گے۔

صحیح بخاری و مسلم شریف کی حدیث ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’ایک عمرہ سے دوسرے عمرے تک کفارہ ہوجاتا ہے اس کے درمیان کے گناہوں کا اور حج مبرور (پاک اور مخلصانہ حج) کا بدلہ تو بس جنت ہے‘‘۔طبرانی نے بیان کیا ہے کہ’’ آپ ﷺکی نظر مبارک کعبہ شریف پر پڑی تو آپ ﷺ نے فرمایا ۔ ترجمہ’’ اے اﷲ اپنے اس گھر کی عزمت،حرمت و عظمت و بزرگی اور زیادہ بڑھا دے‘‘۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ ہاتھ اٹھا تے اور تکبیر کہتے تھے اور فرماتے تھے ۔ تر جمہ ’’اے اﷲ جو تیرے اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس کی بھی بزرگی، عزت ، بڑائی اور عظمت اورنیکو کاری میں زیادہ اضافہ فرما‘‘۔ حضور اکرم ﷺ کے حج اور عمروں کی تعداد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ نے ہجرت سے قبل دو حج کیے، بعض کہتے ہیں کہ تین حج کیے۔ آپ ﷺ کے عمروں کی تعداد چار بتائی جاتی ہے۔ الحمد اللہ اگر یہ روایت صحیح ہے اور یقیناًدرست ہی ہے تو میں نے حضور ﷺ کی اس سنت پر عمل کر چکا یعنی میں چار سے زیادہ عمرہ کرنے کی سعادت حاصل کر ل ہے۔ اللہ پاک حج کے فریضے کی سعادت بھی نصیب فرمائے۔آمین۔ اسی سال ہی ارادہ، خواہش اور کوشش ہے کہ پروردگار عالم حج کی سعادت نصیب فرمادیں ۔

میَں متعدد بار خانہ کعبہ گیا اور جارہا ہوں، بہت بہت دیر سامنے رہا ، کئی فرض نمازیں اس طرح ادا کیں کہ میرے اور خانہ کعبہ کے بیچ کچھ نہیں ہوتا تھا اور فاصلہ مشکل سے دو گز، یعنی اول صف میں، کعبہ شریف کو بالکل قریب سے دیکھا، چھوا،چمٹا،لپٹا،التجائیں کیں، حرم کی چوکھٹ کو پکٹر کر روتا رہا ،گِریَہ و زاری کرتا رہا، اﷲ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا رہا،حرم کی چوکھٹ کے بالکل نیچے کھڑے ہوکر مسلسل آنکھیں ٹھنڈی کرنے کی سعادت نصیب ہوئی، حجرِاسود کے کئی بوسے لینے کی سعادت ملی، لیکن پہلی نظر کا منظر بھلائے نہیں بھولتا، جب بھی کعبہ شریف کا خیال آتا ہے وہی پہلی نظر کا منظر نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے، رہی بات مانگنے اور دعا کی، تو اپنی اس کیفیت کو اشعار میں میَں نے اس طرح بیان کیا ہے ؂
مانگنے تو بہت کچھ گیا تھا ، پر ہوا عجب حال
تھے اشک جاری ، اندر تھا ایک تلاطم بر پا
سوچتا ہی رہا کروں پیش اپنی سیاہ کاریاں
نہ دل نے دیا ساتھ نہ زباں پہ ہی کچھ آسکا

یہ بات حقیقت ہے کہ خانہ کعبہ پر جب پہلی نظر پڑتی ہے تو انسان کے ہوش و خرد مفلوج ہوجاتے ہیں، اول تو یہ یقین ہی نہیں آتا کہ ہم جیسا گناہ گاراوریہ سعادت، صرف اور صرف آنکھوں سے ندامت اور توبہ کے آنسو رواں ہوتے ہیں۔اﷲ ہماری توبہ قبول کرنے والا ہے، اپنی اس کیفیت کو میَں نے اس طرح بیان کیا ہے ؂
کچھ ایسی تصویر بس گئی ہے دل میں کعبہ شریف کی
آنکھوں میں ہر دم رہتی ہے تصویر کعبہ شریف کی
پیاس بجھی ہے ، نہ بجھے گی یہ تو ہے مجھے معلوم
پھر بھی اک چاہت سی لگی رہتی ہے کعبہ شریف کی
ایک باراور جاؤں ، پھرجاؤں اور جاکرواپس نہ آؤں
بس یہی اک تدبیر سی لگی رہتی ہے کعبہ شریف کی

اس تحریر میں اس سہولت کی تفصیل بیان کرنا چاہتاہوں جو مجھے اس بارمجھے میسر آئی۔ اس سے قبل مختصر طور پر خانہ کعبہ کی تعمیر و ترقی اور توسیع کے بارے میں اظہار کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔میں نے دو روز قبل جمعرات ۸ مارچ ۲۰۱۷ء کو عمرہ کی سعادت حاصل ہے۔ اس وقت میں جدہ میں اپنے بیٹے عدیل کے پاس مقیم ہوں انشاء اللہ چند روز میں مدینہ منورہ روضہ رسول ﷺ پر حاضری کی سعادت کے لیے جانا ہوگا۔

دنیا کی اولین عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے معرض وجود میں آئی خانہ کعبہ تھی۔ یہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کا پہلا گھر ہے ۔کلام مجید کی سورۃ آلِ عِمران آیت ۹۶، ۹۷ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے (ترجمہ) ’’بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے۔اس کو خیر و برکت دی گئی اور تمام جہاں والوں کے لیے مرکز ہدایت بنا یا گیا۔ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ‘ ابراہیم علیہ السلام کا مقامِ عبادت ہے ‘ اور اس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون ہوگیا‘‘۔کعبہ کے معنی بلندی کے ہیں ۔ جس جگہ کعبتہ اﷲ ہیں یہ جگہ بلند تھی جب زمین کو اﷲ تعالیٰ نے پیدا کیا تو پہلا نقطہ وہی جگہ قرار پائی جہاں کعبہ ہے۔حضرت آدم علیہ السلام اور اماں حواکے زمین پر اتارے جانے سے قبل ہی اﷲ کا گھر خانہ کعبہ وجود میں آچکا تھا۔ ایک روایت کے مطابق خانہ کعبہ کو سب سے پہلے فرشتوں نے تعمیرکیااور وہ اس کے طواف میں ہر دم مصروف رہا کرتے ۔ لبیک کی صداؤں سے فرشتے اﷲ کے گھر کو آباد رکھا کرتے۔ فرشتوں کے بعد خانہ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام نے کی اُن کے بعد ان کے تیسرے بیٹے حضرت شیث علیہ والسلام نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی۔ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانے میں طوفان آیا، طوفانی بارش چالیس دن اور چالیس رات جاری رہی۔اُس طوفان سے خانہ خدا بھی محفو ظ نہ رہ سکا ، اس کے ظاہری آثارو نقوش خاک نشیں ہوگے ۔ اب مالکِ کائینات نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو خانہ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا۔آپ کے فرزندحضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے تعمیرکعبہ میں آپ کی مدد کی۔حضرت ابرہیم علیہ السلام نبی آخرالزماں حضرت محمد ﷺ کے جدِ امجد ہیں۔حضرت ابرہیم علیہ السلام حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے ’سام‘ کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت ادریس علیہ السلام حضرت آدم علیہ السلام کی چھٹی پشت میں تھے۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام کا تعلق بابل کے شہر ’’اُر‘‘ سے تھا جب کہ اماں حاجر علیہا السلام مصر سے تعلق رکھتی تھیں۔

تعمیر مکہ سے قبل اﷲ تعا لیٰ نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیوی حاجر (حاجرہ) اور اپنے شیر خوار بیٹے اسمٰعیل ؑ کو اس مکہ کی وادی میں چھوڑ آئیں۔ اس وقت یہ جگہ پہاڑوں کے درمیان ، سنسان اور ویران تھی جہان دور دور پانی اور سایہ کا نام و نشان بھی نہ تھا ۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی بیوی حاجر اور بیٹے اسمٰعیل ؑ کو اس وادی میں چھوڑ کر واپسی پر یہ دعا کی۔ قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ ، آیت ۱۲۶ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ۔’’اور جس وقت ابرہیم ؐ نے (دعا میں) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اس کو ایک (آباد) شہر بنادیجئے ،امن و مان والا اور اس کے باشندوں میں سے جو اﷲ اور آخرت کو مانیں انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے ‘‘۔

حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ہا تھوں خانہ کعبہ کی تعمیر کی تفصیل سے قبل اس واقعہ کو یاد کرلیا جائے جس میں حضرت ابرہیم علیہ و السلام اپنے شیر خوار بیٹے اسمٰعیل ؑ اور اپنی بیوی اماں حاجر کو اﷲ کے حکم پر مکہ کی بے آب و گیا وادی میں چھوڑ آتے ہیں، مکہ کی بے آب و گیا وادی کا آپ زمزم زمزم کی برکت سے با رونق وادی میں بدل جانا، حضرت ابرہیم علیہ و السلام کا اپنے بیٹے اسمٰعیل ؑ کی غیر موجودگی میں خیرت دریافت کرنے مکہ آنا اور ان کی بیویوں کا پیغام دے کر جانے کا واقعہ کا علم ہوتا ہے۔ اماں حاجرہ حضرت ابرہیم علیہ السلام کی دوسری شریک حیات تھیں۔ آپ کا تعلق مصر سے تھا، گویا آپ مصری تھیں۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی حضرت سارہ تھیں، حضرت سارہ بانجھ تھیں ، سفر مصر کے دس سال بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت حاجرہ سے نکا ح کیا تھا۔حضرت ابرہیم علیہ السلام کی دعا قبول ہوئی اور وہ مقام جہاں اماں حاجر اور ننھے اسمٰعیل ؑ موجود تھے زم زم کا چشمہ جاری ہوگیا۔ زم زم نے اس بے آب و گیا وادی کی صورت بدل کر رکھ دی، دور دراز حصوں میں آباد لوگوں کو زم زم کا علم ہوا تو وہ جوق در جوق اس مبارک چشمے کے پاس آکر آباد ہونے لگے ۔ اس وقت یہاں قبیلہ جرہم آباد تھے، لیکن جب پانی کی فراوانی دیکھی تو قبیلہ عمالقہ نے بھی پانی کے نذدیک رہائش اختیا ر کرنے کی خواہش کی جسے اماں حاجر نے فراغ دلی سے کام لیتے ہوئے لوگوں کو یہاں آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ سنسان وادی میں رونق آگئی۔ وقت تیزی سے گزرہا تھا، حضرت اسمٰعیل ؑ جوانی کے دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔بعض مورخین نے اس وقت ان کی عمرِ مبارک ۱۵ برس لکھی ہے۔ سیدہ حاجرہ رضی اﷲ عنہا نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ حضرت اسمٰعیل ؑ نے اپنی پیاری ماں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت کیا۔ان کی قبر مبارک مقامِ حجر حطیم کے اندر میزابِ کعبہ کے نیچے بنائی گئی۔ ماں کی جدائی سے پریشان ہوکر حضرت اسمٰعیل ؑ نے مکہ کو خیر باد کہہ کر اپنے والد بزرگوار کے پاس شام جاکر آباد ہوجانے کا ارادہ کیا۔کیوں کہ آپ اپنے والد کی قربت سے پہلے دور تھے اب والدہ کا سایہ بھی جاتا رہا ۔ اس صورت حال نے حضرت اسمٰعیل ؑ کو مکہ کی سرزمین سے دل برداشتہ کردہ لیکن اﷲ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ان کی نسل کو اسی مقام پر پروان چڑھنا تھا۔جلد ہی مکہ کے قبیلہ ’ جرہم ‘کے سردار’ مضاض ‘ کی بیٹی ’عمارہ بنتِ مضاض بن سعید بن اسامہ بن اکیل ‘ سے حضرت اسمٰعیل ؑ کی شادی ہوگئی۔ایک مورخ نے ان کانام ’الجداء بنتِ سعد‘ لکھا ہے ۔اس وقت مضاض حجاز کا فرماروا تھا۔ چند سال بعد اﷲ تعالیٰ نے حضرت ابرہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس مبارک وادی میں جہاں اپنی بیوی اور بیٹے کو چھوڑا تھا جائیں ، اس وادی کی زیارت کریں اوراپنی بیوی اور بیٹے کی خبر گیری کریں۔ حضرت ابرہیم علیہ السلام مکہ کی اس وادی میں تشریف لائے اس وقت حضرت اسمٰعیل ؑ گھر پر موجود نہیں تھے اور نہ ہی ان کی بیوی حاجر ہی اس دنیا میں تھیں، اپنی بہو سے بیٹے کی خیریت دریافت کی پوچھا کہ اسمعیل کہا ہیں، جواب ملا کہ شکار پر مکہ سے باہر گئے ہیں، حضرت ابرہیم علیہ السلام نے دریافت کیا کہ گزر بسر کیسے ہوئی ہے؟ بہو نے جواب دیا کہ برا حال ہے، تنگی اور تکلیف سے وقت پورا ہوتا ہے اور اسی طرح کی باتیں اپنے سسر سے کیں۔پھر آپ نے فرمایا مہمان نوازی کے لیے گھر میں کھانے پینے کی کوئی چیز ہے؟ بہو نے صاف انکار کردی۔آپ نے ایک پیغام حضرت اسمٰعیل ؑ کے لیے دیا، آپ نے فرمایا’’ اسمٰعیل جب آئیں تو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ اپنے دروازہ کی چوکھٹ بدل دیں‘‘۔ ان کی بہو یعنی عمارا کو یہ احساس بھی نہ ہوا کہ یہ بزرگ کون شخصیت ہیں اور کیا پیغام دے کر جارہے ہیں۔ حضرت اسمٰعیل ؑ جب گھر تشریف لائے تو کچھ مانوس سی کیفیت محسوس ہونے لگی۔ آپ نے پوچھا کہ کوئی صاحب تشریف لائے تھے؟ بیوی نے جواب دیا کہ جی ہاں ایسی شکل و صورت کے ایک عمر رسیدہ بزرگ آئے تھے اور آپ کے لیے یہ پیغام دے گئے ہیں۔حضرت اسمٰعیل پیغام کا مطلب سمجھ گئے کہ ابا جان کا حکم ہے کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دے دوں۔ حضرت اسمٰعیل ؑ نے اپنی بیوی کو اسی وقت طلاق دے دی۔ یہ خبر وادی میں آباد قبیلہ ’جنو‘ کو ملی کہ حضرت اسمٰعیل ؑ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے انہوں نے اسی وقت حضرت اسمٰعیل ؑ کی شادی اپنے قبیلے میں ’سیدہ بنت مضاض بن عمرو جرہمی‘سے کردی اور اﷲ کے برگزیدہ نبی کی قربت کا شرف حاصل کر لیا۔ ایک روایت کے مطابق سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام کی دوسری بیوی کا نام ’’سامہ بنتِ مہلہل بن سعد بن عوف بن ہینی بن نبث‘‘ تھا۔

حضرت اسمٰعیل ؑ کی دوسری بیوی بہت سمجھدار اور مہمان نواز، بزرگوں کی بے انتہا تعزیم کرنے والی تھیں۔ کچھ عرصہ بعد حضرت ابرہیم علیہ السلام بحکم خدا وندی دوسری بار اپنے بیٹے سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام سے ملاقات کرنے مکہ تشریف لائے ، گھر پر دستک دی ، لیکن اس بار بھی سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام گھر پر نہیں تھے۔ ان کی اہلیہ نے بتا یا کہ وہ روزی کی تلاش میں شکار کے گئے ہیں اور ابھی آیا چاہتے ہیں۔ آپ نے بڑی خندہ پیشانی سے آنے والے مہمان کو خوش آمدید کہا، پانی گرم کر کے وضوع کرایا، سر دھویا اور دودھ ، گوشت وغیرہ کو کچھ بھی گھر میں تھا خوشی خوشی پیش کیااور معذرت بھی چہی کہ یہاں گندم وغیرہ تو پیدا ہی نہیں ہوئی ۔ ہم لوگ بھی دودھ، خرما اور شکار کا گوشت ہی کھایا کرتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام براق پر سوار تھے ، آپ نے براق بیٹھے بیٹھے اپنی بہو سے کلام کیا، اور ان کی بہو نے براق پر ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سر مبارک دھونے کی سعادت حاصل کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ، اپنے بیٹے کی بیوی کے اچھے اخلاق پر بہت محظوظ ہوئے ، آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہاری گزر بسر کیسے ہوئی ہے ؟ بہو نے جواب میں عرض کیا ، خدا کا بے حد شکر ہے کہ ہم بڑی راحت اور آرام سے ہیں۔ اﷲ پاک نے رزق میں بھی فراوانی اور کشادگی مرحمت فرمارکھی ہے اور ہر اعتبار سے اطمینان ہے۔ آپ نے پوچھا کہ تمہاری خوراک کیا ہے؟ جواب ملا، ہماری خوراک گوشت ہے۔ پھر دریافت فرمایا پینے کیا ملتا ہے؟ تو عرض کیا ’ ’ آبِ زم زم‘‘جو آب کوثر کا ہمسر ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بہو کو خیر و برکت کی دعا سے نوازا، آپ کہا کہ پروردگار عالم ان کے گوشت اور پانی کو اپنی برکتوں سے معمور فرمادے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پرور دگا ر سے مکہ شہر کو امن و سلامتی کا شہر بنانے اور اس کے مکینوں کو پھل جیسی نعمت سے سر فراز کرنے کی دعا کی۔ قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ ، آیت ۱۲۶ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ۔’’اور جس وقت ابرہیم ؐ نے (دعا میں) عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اس کو ایک (آباد) شہر بنادیجئے ،امن و مان والا اور اس کے باشندوں میں سے جو اﷲ اور آخرت کو مانیں انہیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے ‘‘۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی ہی برکت ہے کہ کعبتہ اﷲ میں گوشت، پانی اور پھلوں کے رزق وافر مقدار میں موجود رہتا ہے۔ وہاں کے لوگ اور اس شہر میں پہنچے ہوئے اﷲ کے مہمان بڑی عمدگی سے رہتے ہیں، کھاتے ہیں اور پیتے ہیں۔ آب زم زم ایک مقدس پانی تصور کیا جاتا ہے اور دور دراز سے آئے ہوہے لوگ اس پانی کو مقدص تصور کرکے نہ صرف خود استعمال کرے ہیں بلکہ اپنے ہمرہ تبرک کے طور پر اپنے ملک لے کر بھی جاتے ہیں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام گھر سے واپس لوٹنے لگے تو اپنی بہو سے مخاطب ہوئے اور فرمایا ’’ جب تمہارے خاوند گھر لوٹیں تو انہیں میرا سلام کہنا اور کہہ دینا کہ اپنی چوکھٹ قائم اور آباد رکھیں، اسے بدلیں نہیں‘‘۔جب اسمٰعیل علیہ السلام گھر تشریف لائے تو بیوی نے تمام سرگزشت لفظ بہ لفط کہہ سنائی۔ صحیح بخاری اور دیگر مستند کتابوں میں بیان کیا گیا ہے کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی بیوی نے آنے والے مہمان جو حضرت ابرہیم علیہ السلام اور ان کے سسر تھے کا پیغام تو اپنے شوہر کو پہنچایا ساتھ ہی حضرت ابرہیم علیہ السلام کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ’’آپ کے بعد ایک بزرگ تشریف لائے جن کا چہرہ بے مثال حسین و جمیل تھا اور جن سے مشک عنبر کو شرما دینے والی روح پرور خوشبو آتی تھی ‘‘۔ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیغام سن کر سمجھ گئے کے آنے والے محترم بزرگ کوئی اور نہیں تھے بلکہ ان کے والد بزرگوار ہی تھے۔

حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت ابراہیم علیہ السلام تک خانہ کعبہ مختلف حوادث سے گزرا، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ طون نوح نے کعبہ کو زمین میں چھپا دیا تھا۔ اس کے ظاہر نشانات و آثار معدوم ہوگئے تھے۔یہاں تک کے اس کی جگہ کومٹی کے ڈھیر نے اپنی حفاظت میں لے لیا تھا۔ حضرت ابرہیمؐ کے زمانے میں اس جگہ جہاں اب کعبتہ اﷲ ہے مٹی کا ٹیلہ رہ گیا تھا اور اس کے ابتدائی آثار بھی مخدوش ہوگئے تھے۔ زمانے کے حالات نے اس جگہ کو بے نشان ضرور کردیا تھا لیکن مالکِ کائینات کی نظروں سے یہ جگہ بے نشان نہیں ہوسکتی تھی۔اﷲ تبارک و تعالیٰ کی مشیت میں یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ اس کا گھر خانہ کعبہ پھر سے آباد ہو۔اس نے اپنے پیارے نبی حضرت ابرہیم علیہ و السلام کو اپنے فرشتوں کے ذریعہ بیت اﷲ شریف کی جگہ کی نشاندھی فرمائی اور اس کی بنیادوں سے بہ خبر کیا۔ قرآن مجید میں کعبہ شریف کی تعمیر کی تفصیل حضرت ابرہیم علیہ السلام سے شروع ہوتی ہے اور اس سے پہلے کی صورت کا حال کا تذکرہ نہیں البتہ حضرت ابرہیمؐ کو اپنے گھر (خانہ کعبہ) کی تعمیر کی جگہ اﷲ تعالیٰ نے ہی تجویز کی تھی اس کا ثبوت قرآن مجید کی سورۃ الحج کی آیت ۲۶، ۲۷ میں ملتا ہیجس میں اﷲ تعالیٰ ارشاد فرمایا۔’’یاد کرووہ وقت جب کہ ہم نے ابراہیمؐ کے لیے( خانہ کعبہ)کی جگہ تجویز کی تھی (اس ہدایت کے ساتھ ) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو ‘ اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو ‘ اور لوگوں کو حج کے لیے اذانِ عام دے دو کہ وہ تمہار ے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور دبلے پتلے اونٹوں پر سوار آئیں ‘‘۔

حضرت ابرہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کوساتھ لے کر کعبہ شریف کی تعمیر نو کے لیے بتائی ہوئی جگہ پہنچے اور اس کے حدود کو نمایاں کیا اور تعمیر کا کام شروع کردی جگہ کو پاک صاف کیا ۔ اس واقعہ کا ذکر کلام مجید کی ’’سورۃ البقرۃ‘‘ کی آیت ۱۲۷ میں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ترجمہ ’’اور یاد کرو جب ابرہیمؐ اور اسمٰعیل خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھا رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے ’اے ہمارے رب ہم سے یہ (خدمت )قبول فرمالے ‘بلا شبہ تو سب کی سنے اور سب کچھ جاننے والا ہے‘‘۔ خانہ کعبہ کی تعمیر میں مدد کے لیے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل کو لیا اور مقررہ جگہ تعمیر کا آغاز کیا گیا۔ بنیادیں کھو دی جارہی تھیں، دوران کھدائی خانہ کعبہ کی سابقہ تعمیر کے آثار نمایاں طو ر پر ظاہر ہوئے ، اﷲ کے پیغمبر حضرت ابرہیمؐ اور حضرت اسعٰیل نے انہی بنیادوں پر اﷲ کے گھر خانہ کعبہ کی بنیادوں کو مرکز بنا کر بیت اﷲ کی تعمیر کرکی۔ خانہ کعبہ حجرہ اسود سے شمالی رکن تک طول کی ۳۲ ہاتھ رکھی گئی اور رکن یمانی سے حجرِ اسود تک طول ۲۰ ہاتھ متعین کیا، اس کی اونچائی سات ہاتھ رکھی، پھر حجرِ ا سود کو اس کی جگہ پر نصب کیا ۔اس کے بعد سات چکر خانہ کعبہ کے لگائے یعنی طوافِ کعبہ کیا اور پھر لوگوں کو اس مقدص گھر ینعی کعبتہ الﷲ کی زیارت کی دعوت دینا شروع کی تاکہ ایک اﷲ کی عبادت ہو، بُت پرستی کی دنیا سے انسانیت کو چھٹکارا ملے۔ جیسے جیسے یہ مبارک خبر عام ہوئی کہ اﷲ کے گھر خانہ کی زیارت کی جاسکتی ہے تو لوگ جوق در جوق طوافِ کعبہ کی جانب کشاں کشاں آنے لگے ساتھ ہی حج کے لیے بھی ذوق شوق سے آنے لگے۔کیونکہ اس کا حکیم اﷲ تعالیٰ نے دیا قرآن مجید کی سورۃ الحج، آیت ۲۷، ترجمہ’’اور(ابرہیم ؑ سے یہ بھی کہا گیا) لوگوں میں حج (کے فرض ہونے ) کا اعلان کر وو لوگ تمہارے پاس (حج کو) چلے آئیں گے ، پیدل بھی اور دُبلی اونٹنیوں پر بھی جو کہ دور دراز راستوں سے پہنچی ہوں گی‘‘۔اﷲ کے گھر خانہ کعبہ کی دیکھ بھال اور انتظامی امور کی نگرانی حضرت اسمٰعیل ؑ نے تا حیات نبھائی اور اپنے انتقال پر ملال تک مکہ کی وادی کو ہی آباد کیے رکھا۔ آپ کثیر الااولاد تھے جب آپ کی عمر مبارک ۱۳۶ یا ۱۳۷ سال کی ہوئی تو آپ کا وصال ہوگیا۔آپ کی قبر مبارک آپ کی والدہ کے پہلو میں میزابِ کعبہ کے نیچے حطیم کے اندر بنائی گئی۔

حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے وصال کے بعد ان کے بڑے بیٹے ’نابت خانہ کعبہ کے متولی ہوئے۔ جب ان کا انتقال ہو گیا تو ان کی جگہ اماں حا جر ہ کے والد اور حضرت اسمٰعیل ؑ کے نانا مضاض بن عمرو جرہمی کو بیت اﷲ کا متولی بنا گیا اور مکہ کی سلطنت بھی ان کے سپرد ہوئی۔ جرہم کی حکرانی کئی سالوں پر محیط رہی، مورخین نے لکھا ہے کہ مضاض بن عمر نے سو سال حکومت کی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا عموبن مضاض نے سو سال سے زیادہ ، پھر اس کے بیٹے حارث بن عمرو نے دو سو سال حکرانی کی ۔ اس کے بعد اس کے بیٹے مضاض بن عمر و بن الا صغر بن الحارث نے چالیس سال حکومت کی۔ اس کے بعد خانہ کعبہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری قبیلے ’جنو‘ نے بھی انجام دی یہاں تک کہ تیسری صدی عیسوی میں یمن میں قوم ’سباء‘ کی بے اعتدالیوں، ستم ظریفیوں کا دور دورہ ہوا تو اﷲ کا گھر بھی محفوظ نہ رہ سکا۔ قبیلہ اسد و غزاعہ وادیِ مکہ کے شمال کی جانب حجرت کرگئے۔قبیلہ غزاعہ نے مکہ آکر قبیلہ جنو پر غلبہ حاصل کر کے انہیں مکہ سے باہر جانے پر مجبور کردیااور مکہ پر قبصہ کر لیا۔عمرو بن لحی کی اولاد نے پانچ سو سال مکہ کی تولیت کے فرائض انجام دئے۔ ان کا آخری حکران خلیل بن حبشیہ بن سلول بن کعب تھا۔ اس دوران کعبہ دوبارہ بارشوں اور طوفان سے تباہ ہوا اور قصی بن کلاب نے اسے دوبارہ تعمیر کیا۔ امر بن نہی نامی ایک سردار نے اﷲ کے دین کو بت پرستی میں تبدیل کردیا۔ حاجیوں کو بتوں کے لیے قربانی کرنا ، ان کے نام پر نذر و نیاز اور کلاوے چڑھانا فرض ٹہرا دیا گیا۔ طواف بیت اﷲ کے اردگرد تالی بجانے اور سیٹی بجانے کا نام رہ گیا ۔عمرو بن لحی نے بت پرستی کی بنیاد ڈالی ۔ اس نے ملک شام سے ایک بت ہبل نامی خرید لایا جسے کعبتہ اﷲ میں نصب کرکے اس کی عبادت شروع کردی۔صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ میں نے اسے جہنم کی آگ میں دیکھا‘‘۔ بنی قصی سے کعبہ کی تولیت قبیلہ قریش کو منقل ہوئی ۔

ظہور اسلام سے سات سو سال قبل یمن کا بادشاہ ’تبع‘ مکہ پر فوج کشی کے ارادے سے عازم مکہ ہوا۔ راستے میں اس نے کئی ساتھیوں سے مکہ مکرمہ کے بارے میں معلومات اور گفتگو کی۔ اس کے ارادے میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ جب اسے حقیقت کا علم ہوا تو اس نے ان ساتھیوں کو جنہوں نے کعبہ پر لشکر کشی کا مشورہ دیا تھا ہلاک کردیا۔ انہی دنوں بادشاہ کو خواب میں کعبتہ اﷲ پر غلاف چڑھانے کا حکم ہوا۔ اس نے موٹا یمنی کپڑا جسے عربی میں خصف کہا جاتا تھا کا غلاف چڑھایا۔ کعبہ کی تاریخ کا یہ پہلا غلاف تھاجو بادشاہ تبع نے چڑھایا۔اس سے پہلے کعبتہ اﷲ پر گلاف نہیں ہوا کرتا تھا۔ آداب بیت اﷲ کے بعد بادشاہ اپنے ملک یمن واپس لوٹ گیا۔ایک زمانے تک یہی صورت حال رہی۔ یہاں تک کہ قبیلہ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ’’ اَ سیب بن علاب بن مرا‘‘ طوابِ کعبہ کے تشریف لائے ۔ یہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی نسل میں سے تھے۔یہ پانچویں صدی عیسوی کی پانچویں دہائی کا واقعہ ہے۔ انہیں مکہ مکرمہ کے امور کی سرداری نصیب ہوگئی۔ یہ گویا تسلسل تھا مکہ کی وادی میں قریش کا عہد دوبارہ شروع ہونے کا۔ اب قبیلہ قریش کے لوگوں کا عمل دخل آہستہ آہستہ مکہ کے انتطامی امور میں بڑھنے لگا۔ کعبتہ اﷲ کی جانب خصوصی توجہ دی گئی۔ مطافِ کعبہ کی حدود کو وسیع کیا گیااس کے آس پاس کی خالی جگہ کو صحن کعبہ کا حصہ بنا دیا گیا۔مکہ کے انتطامی امور کے سلسلے میں ہونے والے اجلاسوں کے لیے خاص شعبے قائم کیے گئے۔بیت اﷲ کے اردگرد مکہ کے رہائشییوں کو مکانات تعمیر کرنے اور بہتر زندگی گزارنے کے لیے ہر ممکن سہولتیں فراہم کا جانے لگیں۔قبیلہ جرہم نے چاہِ م زم کو بند کر دیا تھا۔ اس عمل میں عمر بن حارث جرہمی پیش پیش تھا۔ لوگوں کو معلوم ہی نہ تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے کعبتہ اﷲ کے نذدیک ایک چشمہ ’زم زم ‘ جاری کردیاہے۔ یہاں پانی کی دوبارہ سے قلت ہوچکی تھی۔ جب کہ حجاج اکرم کو پانی پلانا عزت و شرف کی بات تھی لیکن پانی کی قلت کے باعث اس پر عمل مشکل ہو گیا تھا۔یکے بعد دیگر مکہ کے ہر سردار کو مکہ میں پانی کی قلت کا سامنا رہا۔ وقت گزتا رہا ۔اور پھر وہ وقت آ پہنچا جب مکہ کی سرداری کا تاج قبیلہ قریش سے تعلق رکھنے والے ہاشم بن عبد مناف کے فرزنداور حضرت محمد ﷺکے دادا عبد المطلب جن کا اصل نام ’شیبہ‘ تھا کے حصے میں آیا۔ عبدالمطلب صا لح اوصاف کے حامل حلیم الطبع قریش قبیلے کے نامور سردار تھے۔ وہ ظلم و سر کشی کے خلاف بھی خلاف تھے۔ آپ دانش ، فصاحت و بلاغت میں مشہور تھے ۔مالی طور پر خوشحال تھے، آپ کا ذریعہ معاش تجارت تھا ۔ اس کے علاوہ عبد المطلب کو طوافِ کعبہ کے لیے آنے والے زائرین کو پانی پلانے اور کھانا کھلانے کا امتیازی حق بھی حاصل تھا جو انہیں اپنے والد ہاشم سے وراثت میں ملا تھا۔ سردار مکہ کی ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ پانی کی قلت کا تھا۔ چاہ زم زم کو بند ہوئے عرصہ بیت گیا تھا لوگ یہ بھی بھول گئے تھے کہ یہ کنواں کہا تھا۔ لیکن چاہ زم زم کے بارے میں معلومات اور روایات سینہ بہ سینہ چلی آرہی تھیں۔عبد المطلب پانی کی قلت کے باعث پریشان رہا کرتے ۔ اسی اثناء میں آپ نے تین راتیں مسلسل خواب دیکھا کہ کوئی پکارنے والا ان کو چاہِ زم زم کے لیے پکار تا ہے اور مقام معین کو کھودنے کے کہہ رہا ہے ۔ گویا عبد المطلب کو خواب میں چاہِ زم زم کی جگہ دکھائی گئی۔ انہوں نے اس جگہ کھدائی شروع کردی جس جگہ کو خواب میں دیکھا تھا۔ کامیابی کے آثار نظر آنے لگے، حتیٰ کہ کھدائی کرتے کرتے چاہِ زم زم پھوٹ پڑا۔ جسے باقاعدہ چشمے کی شکل دی گئی اور اس پانی کو عوام الناس کے لیے عام کردیا گیا۔ حجاج اکرام اور تجارت کی غرض سےّ نے والے قافلوں کو آبِ زم زم استعمال کرنے کی عما اجازت تھی۔ اب مکہ میں حاجیوں اور تجارتی قافلوں میں اضافہ ہوا ، اﷲ نے برکت عطا فرمائی اور مکہ بہت جلد بڑا تجارتی مرکز بھی بن گیا۔

کفار نے کعبہ شریف کو نقصان پہنچانے کی بہت کوششیں کیں لیکن وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب کبھی نہ ہوئے۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ ہمیں کلام مجید میں ملتا ہے جس میں ابرہہ نامی یمن کا حاکم (۵۷۰ء ۔۵۷۱ء ) کعبے کو ڈھانے کے لیے مکہّ کی مقدص سرزمین پر اپنے بے شمار لشکر کے ساتھ جس میں ہاتھیوں کی ایک بہت بڑی فوج بھی تھی مکہ پر حملہ آور ہوا۔اس نے منصوبہ بنا یا تھا کہ کعبہ کے ستونوں میں لمبی اور مضبوط زنجیریں باندھ کر ہاتھیوں کے گلے سے باندھی جائیں اور پھر تمام ہاتھیوں کو ایک ساتھ ہنکا کر کعبہ کو ایک ہی ساتھ منہدم کردے گا۔ ادھر ابراہہ کعبہ کو منہدم کرنے کی منصوبہ بندی کرکے نکلا ادھر کعبے کے مالک نے اپنے گھر کو اس ملعون کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھنے کی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ابراہہ نے اپنی فوج کے کارندوں کو حکم دیا مکہ والوں کی بھیڑ بکریاں اور اونٹ جو نظر آئے ان پر قبضہ کرلو۔ چنانچہ عبد المطلب کے دو سواونٹ بھی ابراہہ کی فوج نے اپنے قبضہ میں لے لیے۔ عبد المطلب اپنے اونٹوں کی واپسی کے لیے ابراہہ کے پاس گئے اور اس سے اپنے اونٹ واپس کرنے کے لیے کہا ۔ ابراہہ نے جواب دیا کہ میں تو تمہارے دین کے کعبہ کو نیست و نابود کرنے آیاہوں اور تمہیں کعبہ کی فکر نہیں اپنے اونٹوں کی زیادہ فکر ہے۔اﷲ کے محبوب بندے نے کیا خوب جواب دیا۔ آپ نے کہا کہ اونٹ میرے ہیں اس لیے مجھے انکی فکرہے اور جس کا کعبہ ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔ ابرہہ بولا ، تمہارا خدا کعبہ کو میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکتا۔ عبد المطلب نے کہا پھر تمہیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔ عبد المطلب نے کعبہ شریف کا پردہ پکڑ کڑ گڑا کر گریا و زاری سے اﷲ سے دعا کہ کہ اے پروردگار تو اپنے گھر خانہ کعبہ کی حفاظت کا خود انتظام فرما ہم توبے بس ہیں۔اس کے بعد اپنی قوم کو لے کر مکہ کے پہاڑ پر چڑھ گئے۔ انہیں یقین تھا کہ اﷲ اپنے گھر کی حفاظت کرے گا اور دشمن پر عذاب خدا وندی نازل ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔

ابرہہ کا غرور کس طرح خاک میں ملا ، اس کی طاقت ور فوج اور بے شمار ہاتھیوں کا کیا انجام ہوا ، وہ جو ہاتھی والے کہلاتے تھے ان کی بے پناہ قوت کو اﷲ تعالیٰ نے بہت معمولی معمولی پرندوں کے ذریعہ لہیم شہیم ہاتھیوں کابھوسا بنا دیا۔ اس کی تفصیل ہمیں قرآن مجید کی ’سورۃ الفیل‘ میں ملتی ہے۔ ترجمہ ۔’’ تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے ربّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ کیا اُ س نے اُ ن کی تدبیر کو اکارت نہیں کردی ؟ اور ان پر ندوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ بھیج دیے جو اُ ن کے اوپر پکّی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے۔پھر اُن کا یہ حال کر دیا جیسے (جانوروں کا) کھایا ہوا بھوسا‘‘۔اس واقع کی مناسبت سے اہل عرب اس سال کو ’عام الفیل کہتے ہیں۔پرندوں کی کنکریوں سے ابرہہ کی فوج نیست و نابود ہوگئی۔ خود ابرہہ کا حال یہ ہوا کہ اس کا جسم چھلنی ہوگیا، انگلیاں ایک ایک کرکے گر گئیں، مرنے سے پہلے اس کا سینہ پھٹ گیا اور دل باہر آگیا تھا۔

جس سال یہ واقع پیش آیا اسی سال نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کی ولادت بہ سعادت موسم بہار میں، بروز پیر ۱۲ ربیع الا وّل اھ عام الفیل مطابق ۲۲ اپریل ۵۷۱ء شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔ بعض جگہ ۱۷ اور ۹ ربیع الاول بھی درج ہے۔مولد النبی ﷺ یعنی وہ گھر جس گھر میں نبی آخری الزماں تشریف لائے بیت اﷲ کے نذدیک ہی ہے ۔راقم الحروف نے اس گھر کا تفصیلی مطالعہ کیا ، اب اس گھر میں ایک لائبریری قائم کر دگئی ہے، مدیر مکتبہ سے ملاقات کی ، ان سے جو معلومات حاصل ہوئیں ان کی بنیا د پر ایک مضمون روزنامہ جنگ کی اشاعت ۲۰ جنوری ۲۰۱۳ء( جنگ سنڈے میگزین ۲۶ جنوری ۲۰۱۳ء)میں شائع ہو چکا ہے۔حضور کی پیدائش کے زمانے میں کفار مکہ کی کفارانہ سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ لوگ مٹی کے بُتوں کو اپنا معبود سمجھ کر ان کے آگے سجدہ ریز ہوتے، گویا بُت ان کے خدا تھے۔ صرف کعبہ میں ۳۶۰ بُت تھے۔ کعبہ کا طواف اس وقت بھی کیا جاتا تھا لیکن بُتوں کو اپنا معبود سمجھ کر، جس کا جس طرح چاہتا طواف کرتا، بعض بعض تو اس بات کا بھی خیال نہ رکھتے تھے کہ ان کے بدن پر کپڑے بھی ہیں یا نہیں۔ بے راہ روی عام تھی، حضور اکرم محمد ﷺ سے پہلے جتنے نبی آئے ان کی تعلیمات کو لوگوں نے یکسر بھلادیا تھا۔ بنوت سے قبل ہی آنحضرت اپنے حسن اخلاق اور نیک طبیعت کی وجہ سے لوگوں کے محبوب بن گئے۔ صادق اور امین کے لقب سے پہچانے جانے لگے۔ ابھی آپ چھ برس کے تھے کہ اپنی والدہ ماجدہ سیدہ آمنہ کے ہمراہ مدینہ کا سفر اختیار کیا۔ آپﷺ کے والد حضرت عبد اﷲ مدینہ میں مدفن تھے۔ شاید مدینہ جانے کا ایک مقصد آنحضرت ﷺ کو ان کے والد محترم کی قبر اطہر پر حاضری ہو، آپ نے اپنی والدہ کے ہمراہ ایک ماہ قیام کیا اورواپسی کا سفر شروع ہوا، ابھی آپ’ ابوا‘ کے مقام پر ہی پہنچے تھے کہ سیدہ آمنہ بیمار ہوگئیں اور اسی جگہ ان کا وصال ہوگیا۔ بعض روایات میں یہ لکھا ہے کہ سیدہ آمنہ کو ’ابوا‘ کے مقام پر ہی دفن کردیا گیا بعض مورخین نے لکھا ہے کہ سیدہ آمنہ مکہ کے جنت المعلیٰ قبرستان میں ابدی نیند سو رہی ہیں۔ آنحضرت محمد ﷺ سن رشد کو پہنچے تو کسب حلال کی فکر دامن گیر ہوئی ۔ تجارت کو اپنے ذریعہ معاش کے طور پر منتخب کیا ۔ اپنے چچا ابو طالب کے ہمرہ تجارتی سفر کا تجربہ ہوچکا تھا، رفتہ رفتہ تجارت کے حوالے سے آپ کی ایماندار، سچائی، امانت داری کا چرچا عام ہوا ، اس کی خبر مکہ کی ایک خاتون جن تعلق قریش قبیلہ سے تھا تک پہنچی ، یہ نیک سیرت، پاکیزہ اخلاق خاتون حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا تھیں انہوں نے اپنا مال تجارت انہیں دے کر بھیجا۔ جس میں غیر معمولی برکت ہوئی۔ بہت جلد حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا نے آپ ﷺ سے شادی کی استدعا کی جسے آپ نے قبول فرمالیا اس وقت حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا کی عمر ۴۰ سال اور آپ ﷺ کی عمر ۲۵ سال تھی۔حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہاعمر میں ہی بڑی نہیں تھیں بلکہ وہ دو خاوندوں سے بیوہ بھی تھیں۔ اﷲ کے پیارے نبی ایک ایسی مثال قائم کی جس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ اور یہ بھی کہ جب تک حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا حیات رہیں آپ ﷺ نے دوسری شادی نہیں کی۔ان کے وصال کے تین سال بعد حضرت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے عقد فرمایا۔ نبی محمد ﷺ کی یہ زندگی بنوت سے پہلے کی تھی۔ آپﷺ بنوت سے پہلے ہی لوگوں میں صادق اور امین کی حیثیت سے جانے لگے تھے۔ نبووت سے پہلے خانہ کعبہ کی از سرِ نو تعمیر مکہ کے تمام قابل ذکر قبائل نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، کعبہ کی دیوار میں حجرِ اسود کی تنصیب کے مرحلے پر اہل قریش میں اتفاق نہ ہوسکا اور آپس میں شدید اختلافات ہوگئے۔ہر قبیلہ یہ سعادت حاصل کرنے کا خواہش مند تھا۔ آخر میں طے یہ پایا کہ کل صبح جو شخص کعبہ شریف میں سب سے پہلے پہنچے گا اس کا فیصلہ سب کے لیے قابل قبول ہوگا۔ صبح ہوئی مسجد میں سب سے پہلے آنے والی ہستی آنحضرت محمد ﷺ کی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے حجرِاسود کو از خود کعبہ کی دیوار میں تنصیب نہیں فرمائی بلکہ آپ ﷺ نے قریش کے تمام سرکردہ لوگوں کو بلا یا اپنی چا؂در مبارک زمین پر بچھائی ، اس پر حجرِ اسود کو رکھا اور پھر ہر قبیلے کے سردارسے کہا کہ وہ چادر کا کونہ پکڑ لے، سب نے چارد کو پکڑ کر حجرِ اسود کو اوپر کیا آپ ﷺ نے حجرِ اسود کو اٹھا کر متعلقہ جگہ نصب کردیا۔ تمام لو گ آپ ﷺ کی فراست و دانش پر حیران اور خوش تھے۔ کہ آپ ﷺ نے ایک انتہائی گھمبیر مسئلہ کو خوش اسلوبی سے حل فرماکر قریش کے قبیلوں کو باہم دست و گریباں ہونے اور ایک بڑی جنگ سے بچا لیا۔جیسے جیسے اعلان نبوت قریب آرہا تھا ۔ عبادت، ریاضت اور مراقبہ میں آپ کی مصروفیات بڑھتی جارہی تھیں۔ اب آپ مکہ سے تین میل شمال میں جبل ثور پر واقع غارِ حرا میں طویل وقت عبادت کرنے لگے، نوبت یہاں تک پہنچی کے آپ کئی کئی وقت کا کھانا اپنے ہمراہ لے جایا کرتے ، کبھی حضرت خدیجہ رضی اﷲ عنہا یہ ذمہ داری انجام دیا کرتیں۔ایک روز آپ ﷺ غارِ حرا میں عبادت میں مشغول تھے کہ جبرائیلِ امین تشریف لائے اور بنی کریم سے مخاطب ہوئے اورپرور دگار دو عالم کی جاب سے آپ ﷺ کو نبوت کے درجہ پر فائز کرنے کا پیغام پہنچایا۔ وحی الہی کا آغاز کلام مجید کی اس ’سورۃ العلق ‘سے ہوا۔ جس کے ابتدائی کلمات یہ تھے اِقْراْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ترجمہ۔ پڑھو( اے نبی ؑ )اپنے رب کا نام لے کر کس نے پیدا کیا )کلام مجید کی سورۃ النساء، آیت ۱۶۳ میں اﷲ تبارک و تعالیٰ نے نبی محمد ﷺ کو وہی بھیجنے کے بارے میں بتا یا ہے۔ ’’(اے محمد ) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نُوح اور اُن سے پچھلے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی‘‘۔
غارِ حرا سے شروع ہونے والے روشنی مکہ کی وادی سے نکل کر پوری دنیا میں پہنچی۔ ابتدائی ۱۳ سال مکہ میں دعوت اسلام کا عمل جاری رہا۔ یہ دور انتہائی مشکل اور کٹھن تھا۔ آپ ﷺ کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ طرح طرح کی سازشوں کے جال بنے گئے، حتیٰ کے آپ ﷺ کو قتل کرنے کی سازش بھی ہوئی۔ ظلم و زیادتی صرف آپ ﷺ کے ساتھ ہی نہیں کی جارہی تھی بلکہ آپ کے خاندان اور صحابہ کرام کے ساتھ بھی کفار مکہ کا یہی رویہ تھا۔ ظلم انتہا کو پہنچا تو حکم خدا وندہ ہوا کہ اس شہر مکہ سے ہجرت کرجائیں۔ کفار مکہ کو جب آپ کی ہجرت کا علم ہوا تو طرح طرح کے طریقے استعمال کیے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے گھر کا محاصرہ تک کر لیا گیا لیکن اﷲ تبارک و تعالیٰ نے کفار کی ناکامی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ آپ ﷺ اپنے رفیق حجرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے ساتھ مدینہ کے لیے روانہ ہوگئے اﷲ نے آپ کی حفاظت کی اور آپ ﷺ مکہ کی جنوبی سمت سے ہوتے ہوئے جبل طور کے غار میں کفار سے بچنے اور آرام کی غرض سے قیام فرمایا۔ آپ ﷺ مدینہ تشریف لے آئے لیکن آپ کا دل خانہ کعبہ کی زیارت کا مستاق رہا۔ چھ سال آپ نے ۵۰۰ صحابہ اکرم کے ہمراہ عمرہ کرنے کا قصد کیا ، مکہ پہنچنے سے پہلے ہی جنگ کی صورت پیدا ہوئی ، پھر صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان اس شرط پر واپس ہوئے کہ وہ اب اگلے سال عمرہ کے لیے آئیں گے ۔ کفار نے عہد و پیما توڑا تو جنگ کے لیے لشکروں کی تیاری کا حکم صادر ہوا، لیکن جنگ کی نوبت نہ آئی رسول اﷲ ﷺ کو بغیر جنگ کے فتح نصیب ہوئی ۔ مکہ مکرمہ توحید کی سداؤں سے گونج اٹھا۔خانہ کعبہ کی حدود جن کو حضرت جبرائیل کی نشاندھی پر حضرت ابرہیم علیہ السلام نے متعین کیا تھا عرصہ دراز سے انہیں پامال کیا جارہا تھاان کی حرمت لوٹ آئی۔ غیر مسلموں کا داخلہ حدود حرم میں ممنوع قرار دے دیا گیا۔ اس کے بعد بیت اﷲ کی تعمیر و توسیع تو ہوتی رہی ، اس کی آرائش و ذیبائش ، بہتر سے بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے کام ہوتا رہا جو آج بھی جاری و ساری ہے۔ اسلامی انسائیکلو پیڈیا مرتبہ قاسم محمود کے مطابق ۱۹۴۰ ء تک کعبے کی دس بار تعمیر ہوئی ۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں مکہ میں بے شمار اصلاحات کیں ۔ خاص طور پر مکہ میں آنے والے سیلاب کے سدِ باب کے لیے ’’المدعا‘‘ میں (مروہ کے قریب) ایک بند تعمیر کرایا جس کے باعث کئی سال تک حرم شریف اور ایل مکہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہے۔ حرم شریف کی اولین توسیع حضرت عمر فاروق رضی اﷲ عنہ کے دور۱۷ ھ میں ہی ہوئی۔اس کے بعد ۱۸ ہجری میں خلیفہ سوم حضرت عثمان رضی اﷲ عنہ نے توسیع کا کام کرایا۔ اموی خلیفہ امیر معاویہ نے مکہ کی ترقی اور فلاح و بہبو د پر خصو صی توجہ دی۔ خلیفہ ولید بن عبد الملک نے کعبتہ اﷲ کی حفاظت کے لیے حرم شریف کے چاروں طرف ایک مضبود پشتہ تعمیر کرایا ۔ گورنر مکہ خالد بن عبداﷲ نے کعبہ میں کئی ترقیاتی کام کیے۔ عقبہ بن الارزق نے کعبہ میں سب سے پہلے روشنی کا انتظام کیا۔ عہد عباسی میں مکہ کی تعمیرمیں بہت کام ہوئے، نہر زبیدہ ان میں ایک ہے، خلافت عثمانیہ کے ہر حاکم نے مکہ کو ترقی دینے کے ساتھ ساتھ حرف شریف کی توسیع کا کام بھی کرایا۔

سعودی فرماں رواؤں سعودی عرب کی ترقی اورتوسیع کے ایک نہ رکنے والے منصوبے پر عمل پیرا رہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کا ہر شہر تیزی سے ترقی کی جانب رواں دواں ہے۔ سعودی حکمران شاہ عبد لعزیزّ آلِ سعود نے ۱۳۶۸ھ میں حرف شریف کی توسیع کا اعلان کیا ۔ یہ منصوبہ حرم شریف کی تاریخِ توسیع کا اہم ترین منصوبہ تھا۔ اس منصوبے پر بیس سال مسلسل کام ہوتا رہا۔ حرم شریف کی خارجی سمت کی توسیع نہایت اہم تھی اس کا کل رقبہ ساٹھ ہزار مربع میٹر تھا مسجد حرام کی دونوں منزلوں کے اندرونی اور بیرونی حصوں میں ٹائل لگا ئے گئے۔ ساتھ ہی عثمانی دور کی تعمیرات کی بھی اصلاح و ترمیم سے سنوارو گیا اور سعودی دور کی توسیع کو عثمانی دور کی توسیع سے باہم ملا دیا گیا۔مطاف کو بھی وسیع کیا گیا۔ اس میں سفید سنگِ مر مر کا استعمال کیا گیاجس کی خوبی یہ ہے کہ یہ گرامی کی تپش سے گرم نہیں ہوتا۔ زم زم کے کنوے تک پہنچنے کے لیے دروازے لگائے گئے کعبہ شریف کا دروازہ تبدیل کیا گیا جس میں خالص سونے کی پلیٹیں جڑی گئیں جن کا وزن ۲۸۶ کلو گرام ہے۔ اس عظیم توسیع میں صفا و مروا کے درمیانی جگہ بھی شامل تھی۔دوسری منزل پر بھی سعی کی سہولت فراہم کی گئی۔شاہ فہد بن عبد لعزیز نے بھی حرم شریف کی توسیع میں ذاتی دلچسپی لی۔ ماہِ سفر۱۴۰۹ھ مزید توسیع کا فوری طور پر حکم دیا۔ ان کے دور میں بھی توسیع کا کام جاری رہا۔ اس کے دورِ حکمرانی میں ’’مسعا‘‘ کے درمیانی حصے میں پل نما چھ گزرگاہیں بنائی گئیں۔ نمازیوں کی سہولت کے لیے دوسری منزل پر چڑھنے کے لیے خود کار زینے نصب کیے گئے۔ مسجد حرام کی چھت کو نماز کے قابل بنا یا گیا تاکہ وقت ضرورت یہ چھت نماز کے لیے استعمال ہوسکے۔ خادمِ حر مین شریفین شاہ عبد اﷲ بن عبد العزیز کے دور حکمرانی میں مسجد الحرام اور مسجد بنوی کے عظیم الشان توسعی منصوبوں کا آغاز ہوا۔ اس منصوبے پر اخرجات کا تخمینہ 10.7بلین ہے۔اس کا افتتاح شاہ عبداﷲ نے ۱۹ اگست ۲۰۱۱ء کو کیا۔ حرم شریف کے شمالی و جنوبی صحنوں میں انتہائی توسیع کے منصوبے پر دن رات کام ہورہا ہے۔سڑکوں کو نیا جال بچھا یا جارہا ہے۔اس کے تحت گاڑیوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے برقی زینو، خود کار راستوں اور ٹنل کی تعمیر شامل ہے۔ ہیلی پیڈ بھی منصوبے کا حصہ ہے تاکہ حرف شریف سے مریضوں کو تیزی کے ساتھ اسپتال منتقل کیا جا سکے۔اس منصوبے علاوہ مکہ المکرمہ کو جدہ کے راستے مدینہ منورہ سے ملانے کے لیے ہائی اسپیڈ ٹرین کے منصوبے پر پہلے ہی کام جاری ہے۔ اس توسیعی منصوبے کی تکمیل کے نتیجے میں مسجد حرام میں 2.5ملین لوگ ایک وقت میں نماز ادا کرسکیں گے اور حرم شریف کے شمال اور مغربی صحنوں میں آمد و رفت آسان ہوجائے گی، زائرین ٹریفک کے ازدھام سے متاثر ہوئے بغیر حرم شریف آجاسکیں گے۔مسجد الحرام اور مسجد بنوی کے عظیم الشان توسعی منصوبوں پر عمل درآمد موجودہ شاہ سلمان بن عبد العزیز جو ریاض کے تیس سال گورنر رہے کے دور میں بھی جاری و ساری ہیں۔ان میں اضافہ ہورہا ہے ،منصوبے مکمل ہوچکے بعض تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

جس سہولت کا میں نے اوپر ذکر کیا وہ ایسے زائرین عمرہ و حج کے لیے ہیں جو از خود پیروں پر چل کر طواف کعبہ اور سعئ کے سات چکر نہیں کر سکتے ۔ انہیں وہاں موجود وھیل چئر والوں کی خدمات لینا پڑتی تھیں یا پھر عمرہ یا حج کرنے والوں کے لواحیقین ان کی ویل چئر چلا یا کرتے تھے۔ اب خود کار چھوٹی گاڑیاں جو تعداد میں بے شمار ہیں عمرہ اور حاجیوں کے لیے فراہم کردی گئیں ہیں جنہیں بہت آسانی سے ایک لیور کی مدد سے آگے اور پیچھے چلا یا جاسکتا ہے۔ یہ خود کار گاڑیاں چار ویلوں پر مشتمل ہیں، ان کارنگ ہراہے دیکھنے میں ویسپا اورلمریٹا اسکو ٹر جیسی لگتی ہیں، نہایت آرام دے ، اور پرسکوں۔ ویل چئر چلانے والے عام طور پر گھوڑے پر سوار رہا کرتے اور تیزی کے ساتھ سات چکر کراکر رقم کھری کر لیا کرتے تھے۔ ان ن گاڑیوں کے ذریعے طواف کرنے والے بہت آرام اور سکون سے جب چاہیں اور جہاں چاہیں گاڑی کو روک کر دعا ئیں پڑھ سکتے ہیں، نماز کی ادائیگی کرسکتے ہیں، سعئ کے دوران پابندی نہیں کہ انہیں کس رفتار سے گاڑی کو چلانا ہے ۔ گاڑی کی زیادہ سے زیادہ رفتار مقرر ہے اس سے زیادہ تیز گاڑی نہیں چلائی جاسکتی البتہ آہستہ چلائی جاسکتی ہے۔یہ سہولت نہ صرف ضعیف ، اور معذور،کمر کی تکلیف زدہ افراد یا کسی وجہ سے چل نہ سکنے والوں کے علاوہ ایسی خواتین جن کے ساتھ دو دو تین تین بچے ہوتے ہیں ان گاڑیوں پر اپنے بچوں کے ہمراہ آسانی کے ساتھ خانہ کعبہ کے ساتھ چکر اور سعی یعنی صفااور مروا کے سات چکر لگالیتی ہیں۔ یہ گاڑیاں مسجد کی چوتھی منزل پر دستیاب ہوتی ہیں چوتھی منزل پر پہنچنے کے لیے لفٹ اور خود کار ذینہ میسر ہے ۔ گاڑیاں دو طرح کی ہیں ایک وہ جس میں صرف ایک فرد بیٹھ سکتا ہے، دوسری وہ جس میں دو افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ ان گاڑیوں کا کرایہ ایک سو ریال فی فرد ہے۔ یعنی اگر آپ تنہا ہیں تو آپ کو چھوٹی گاڑی لینا ہوگی اس کا کرایہ سو ریال ، اگر آپ دو افراد ہیں جیسے ہم دوں لوگ تھے یعنی میری شریک حیات شہناز بھی تھیں ہم نے بڑی گاڑی لی جس کرایہ دو سو ریال تھا۔ اس سہولت سے یقیناًویل چئر چلانے والوں کی روزی پر اثر پڑا ہوگا لیکن عمرہ یا حج کرنے والوں کو طواف کے دوران عبادب کا صحیح لطف میسر ہو جاتا ہے ورنہ ویل چئر پر بیٹھنے والے چلانے والوں کے رحم و کرم پرہوا کرتے تھے، بسا اوقات تو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا تھا کہ طواف کا آغاز جہاں سے کیا جاتا ہے وہ جگہ کب آئی اور کب میں چلی گئی۔ اب جہاں ہری لائٹ آتی ہے گاڑی پر موجود افراد بہت اطمینان سے رک کر دعا کرتے ہیں، اختتام طواف اور اختتام عمرہ بہت اطمینان سے نماز اور دعائیں مانگتے ہیں۔ (13مارچ2017جدہ)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 656626 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
12 Mar, 2017 Views: 969

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ