بے بسی اور بے حسی

(Muhammad Imran Khan, Peshawar)
بہت سے توجہ طلب مسائل ہیں ۔۔ کون دیکھے گا ان کو ؟؟؟
امن و امان، قومی سلامتی، تعلم، صحت، نوکریوں کے مواقع، مہنگائی، زراعت ؟؟ ، توانائی، ماحولیات، تجارت، صنعت و حرفت، تہذیب و تمدن، اخلاقیات، ذخائر کا صحیح استعمال، سب دائو پہ لگا ہے، ہم اپنی پہچان اور شان کھو بیٹھے ہیں۔

میری وابستگی کسی سیاسی جماعت سے نہیں، اور نہ ہی میں کوئی سیاست پر گہری نظر رکھنے والا انسان ہوں، میں اک عام آدمی ہوں۔

وطن عزیز میں کرپشن، لُوٹ مار، اور بد امنی، مہنگائی، عوام کی بے بسی اور بے حسی دیکھ کر خون جلتا ہے۔ چور، لُٹیرے، غدار اعلٰی منصبوں پہ فائز ہیں۔

اک وزیر اعظم ملک سے لُوٹی ہوئی رقم واپس لانے کے لئے اک خط نہ لکھ سکا، کیا یہ ملک و قوم سے غداری نہیں؟

دوسرا وزیراعظم پانامہ کیس اور نہ جانے کتنے کرپشن کیسیس میں نامزد ہے۔ اُس کے وزیر اور مشیر آئے روز کوئی نہ کوئی نیا کارنامہ انجام دے رہے ہیں، کیا یہ ملک اور قوم سے غداری نہیں ؟

کوئی را کا ایجنت ہے تو کوئی سی آئی اے کا، کوئی دہشت پھلا رہا ہے تو کوئی قومیت کے نام پر تقسیم کر رہا ہے، کوئی وزیر خزانہ لوٹ رہا ہے تو کوئی مملکت کو۔

ادارے اور اُس کے سربراہان یا تو انتہائی نا اہل ہیں یا کسی سیاسی شخصیت کے زیرِ اثر۔ ہر کوئی چاہے کسی بھی شہبہ سے تعلق ہے ملک کا نام مٹی میں ملا رہا ہے۔
چاہے وہ پی آئی اے ہو ، یا کرکٹ ہو، یا فارن آفس ہو اک افراتفری اور بے حسی ہے ہر جانب۔ ڈاکٹروں کو فیسیوں سے مطلب، مریض چاہے مر جائیں، اساتذہ کو تنخواہوں سے مطلب، طالبِ علم چاہے رُل جائیں، پولیس کو رشوت سے مطلب، چاہے کوئی کُچھ بھی کرے آپ ان کی مٹھی گرم کر دیں کام ہو جائے گا۔

عالم دین، دین کو استعمال کر رہے ہیں، دین کو پھیلا نہیں رہے۔ نہ ہی دین کی تعلم دے رہے، اور کچھ کر رہے تو یا پھر حکومت کی حمایت یا پھر مخالفت۔

اور جو حضرات دین کی خدمت کر رہے ہیں وہ اپنے آپ کو کسی قسم کے حکومتی اختلاف سے دُور رکھے ہے، نہ ہی وہ کسی غلطی کی نشاندہی کرتے اور نہ اصلاح۔

وکلا، میڈیا اور لبرل تنظیمیں اسلام دُشمنی اور ملک دُشمنی میں کسیطور کم نہیں۔ نان ایشوز کو ایشو بنانا اور کور ایشوز کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا۔ غرض یہ کہ جس کا جتنا بس چلتا ہے اس ملک اور قوم کو نقصان پہنچانے میں پیچھے نہیں۔

بہت سے توجہ طلب مسائل ہیں ۔۔ کون دیکھے گا ان کو ؟؟؟
امن و امان، قومی سلامتی، تعلم، صحت، نوکریوں کے مواقع، مہنگائی، زراعت ؟؟ ، توانائی، ماحولیات، تجارت، صنعت و حرفت، تہذیب و تمدن، اخلاقیات، ذخائر کا صحیح استعمال، سب دائو پہ لگا ہے، ہم اپنی پہچان اور شان کھو بیٹھے ہیں۔

ایسے میں اپنی بے بسی اور اپنی ہی بے حسی پہ رونا آتا ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Imran Khan

Read More Articles by Muhammad Imran Khan: 10 Articles with 5320 views »
I am Muhammad Imran Khan, from Peshawar.

I am a very simple, God fearing, caring, talented, understanding, trustworthy and kind hearted human bein
.. View More
27 Mar, 2017 Views: 359

Comments

آپ کی رائے