تعلیم، ہنراور روزگار

(Zahid Abbasi, )

بیروزگاری پاکستان کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے ۔اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارا حصول روزگارکا فلسفہ ہی غلط ہے ۔ہم نے تعلیم کوروزگار کا ذریعہ سمجھ لیا ہے اور ہنر کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔درحقیقت روزگار کا تعلق تعلیم سے نہیں بلکہ ہنر سے ہے ۔ تعلیم کا حصول شعور اور آگہی کیلئے ہوتا ہے جبکہ روزگارہنر سے کمایا جاتا ہے۔ لیکن ہم بے مقصد اور روائیتی تعلیم اس امید پر حاصل کرتے جا رہے ہیں کہ اس سے بیروزگاری ختم ہوگی۔ ہر کوئی سوچتا ہے کہ اگر وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرلے گا اچھے گریڈز لے گا تو اچھا روزگار ملے گا مگر ہرکسی کے ساتھ ایسا نہیں ہوتااکثر اس وقت شدید مایوسی ہوتی ہے جب اعلیٰ تعلیم اور اچھے گریڈز بھی روزگار کے حصول میں مددگار ثابت نہیں ہوتے ۔ دوسری طرف وہ لوگ جو ہنر مند ہوتے ہیں اپنے ہنر کو استعمال میں لاکراعلیٰ تعلیم یافتہ اور اچھے گریڈز لینے والوں کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں ۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہم محض شرح تعلیم کا تناسب بڑھانے کے چکر میں ہر سال لاکھوں ماسٹرز ڈگری ہولڈرز بیروزگار کیوں پیدا کرتے جا رہے ہیں، کیا پہلے سے موجود لاکھوں تعلیم یافتہ بیروزگار ہمارے دل کی تسکین کیلئے کافی نہیں ؟

دوسری وجہ ہے بھیڑ چال ۔ماضی میں اکثریت میڈیکل اور انجینئرنگ کی طرف بھاگتی تھی اور اب اکثریت MBA/BBA یا پھرcomputer studies کے پیچھے دیوانی ہوئی جا رہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ان فیلڈز میں جتنے گریجویٹس ہر سال ہماری یونیورسٹیاں پیدا کر رہی ہیں کیا اتنی ہی ان شعبوں میںjobs بھی createہو رہی ہیں؟ کیا supply and demandکاتناسب برابر ہے ؟

اس سارے معاملے میں جہاں قصور ارباب اختیار کا ہے وہاں تھوڑی سی غلطی ہمارے نوجوانوں کی بھی ہے۔ آج کے نوجوان اپنے والدین اوربزرگوں سے نہ صرف زیادہ معلومات رکھتے ہیں بلکہ ملک کے حالات پر بھی ان کی گہری نظر ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اپنی فیلڈ میں اپنے تعلیمی معیار کے مطابق نوکری کا حصول کتنا مشکل ہے اسکے باوجودوہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر سیکھنے کی طرف توجہ نہیں دیتے تاکہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد ڈھنگ کی نوکری ملنے تک کم از کم موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانے کے پیسے تو کما سکیں ۔ جہاں تک سوال ارباب اختیار کا ہے توان کی کوتاہیوں کی ایک لمبی فہرست ہے لیکن جو غلطی عوام کی اپنی ہو اسے حکومتوں کے سر ڈالنا مناسب عمل نہیں ۔ ہمیں خود احتسابی کی عادت ڈالنی چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کوتاہی کہاں ہو رہی ہے ۔ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ اسکے بچے بڑھ لکھ جائیں جو کہ جائز ہے اور تعلیم سب کا حق اور ضرورت ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہنر سیکھنے کی بھی کوشش کی جانی چاہیے ۔ پاکستان سمیت پوری دنیا کو آج تعلیم یافتہ لوگوں سے زیادہ ہنر مندوں کی ضرورت ہے ۔ چھوٹے سے ہنر سے اچھی خاصی آمدن ہو سکتی ہے مثلا موبائل unlockingیا repairingآسان سا ہنر ہے ۔ سیکھ لیں تو معقول آمدن کمائی جا سکتی ہے ۔ اسطرح کے چھوٹے چھوٹے ہنرروائیتی تعلیم کے ساتھ باآسانی سیکھے جا سکتے ہیں اوراگر پارٹ ٹائم بھی کام کر لیا جائے تو کم از کم ہمارے نوجوان اپنی تعلیم کا خرچہ نکال سکتے ہیں ۔ بہت سے نوجوان ایسا کر بھی رہے ہیں لیکن ایک بڑی تعداد اب بھی صرف روائیتی تعلیم حاصل کر رہی ہے ۔

اس ضمن میں ایک اور تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ ملک میں تعلیم روشنی پھیلانے کا ذریعہ کم اور مال بنانے کا ذریعہ زیادہ بن گئی ہے ۔ جہاں کسی شہر میں ایک بھی یونیورسٹی مشکل سے نظر آتی تھی اب وہاں درجنوں کے حساب سے یونیورسٹیاں اور کالجز کھل گئے ہیں جہاں من مانی فیسیں تو وصول کی جا رہی ہیں لیکن طالبعلموں کی career counselingاور guidenceنہ ہونے کے برابر ہے ۔ طالبعلموں کو یہ رہنمائی ہی نہیں مل رہی کہ وہ کس شعبہ میں جائیں اور کیا راستہ اختیار کریں ۔ پاکستان کی کسی سرکاری یا غیر سرکاری یونیورسٹی میں طالبعلموں کو پیشہ ورانہ رہنمائی مہیاکرنے کیلئے کوئی باقاعدہ تجربہ کار سٹاف موجود نہیں البتہ ریسیپشن پر ایک خوبصورت لڑکی ضرور بیٹھی نظر آتی ہے جو کہ خود ایک تجربے سے گزر رہی ہوتی ہے ۔ایسے ادارے طالبعلموں کا وقت اور پیسہ دونوں برباد کررہے ہیں ۔جہاں نوجوانوں کو تعلیمی اداروں سے کوئی پیشہ ورانہ رہنمائی نہیں مل رہی وہاں انہیں گھر سے بھی کوئی خاص مدد حاصل نہیں ہورہی ۔ پہلے والدین پیشہ کے انتخاب میں بچوں پر اپنی مرضی مسلط کیا کرتے تھے اب بھی کسی حد تک ایسا ہوتا ہے لیکن زیادہ تر اب والدین نے بچوں کو انکے حال پر چھوڑ دیا ہے کہ جو کرنا چاہتے ہیں کریں۔ یہ عمل کسی حد تک درست ہے لیکن بچوں کی ناتجربہ کاری کو مد نظر رکھتے ہوئے والدین کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے تجربہ کی روشنی میں بچوں کو بھر پور رہنمائی مہیا کریں تاکہ محض شوق کی بنیاد پر بچہ کسی ایسی فیلڈ کا انتخاب نہ کرئے جس میں اسکی ترقی کا کوئی امکان ہی نہ ہو۔

ہمیں اس نکتے کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ایک جدید مشینی اور روبوٹ دور کا آغاز ہو چکا ہے جس میں روزگار کی ضمانت تعلیم نہیں بلکہ ہنر ہے کیونکہ روزگار کا تعلق ہنر سے ہے تعلیم سے نہیں۔ لیکن اگر ہم نے خوامخواہ تعلیم ہی حاصل کرنی ہے تو پھر supply and demandکے اصو ل کو سامنے رکھتے ہوئے industry based qualificationحاصل کریں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Zahid Abbasi

Read More Articles by Zahid Abbasi: 24 Articles with 11567 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Apr, 2017 Views: 402

Comments

آپ کی رائے