مسلم امہ میں اتحاد ……!

(Rana Aijaz Hussain, Multan)

 دورہ پاکستان کے دوران امام کعبہ الشیخ صالح بن محمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا بھر میں مسلمان دہشت گردی کا شکار ہیں ، جبکہ اسلام کادہشت گردی سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں، اسلام ہر قسم کی جارحیت کے خلاف ہے چاہے وہ کسی مسلمان پر ہو یا غیر مسلم پر۔ دنیا کے مشرق و مغرب اور شمال جنوب میں رہنے والے اہل ایمان اﷲ کے گھر کی طرف رجوع کرتے ہیں اگر اﷲ کے گھر کو خدانخواستہ کوئی خطرہ ہوتا ہے تو وہ امت کو خطرہ ہوگا۔دشمن امت کو نقصان پہنچانے اور ہمارے اتحاد اور یکجہتی کو ختم کرنے کیلئے مقامات مقدسہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمان پاکستان کی طرف امیدبھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور امت کے اجتماعی مسائل کے حل کیلئے پاکستان سے توقعات باندھتے ہیں۔ جبکہ سعودی عرب اور پاکستان دونوں ممالک کی عوام اسلام کی سربلندی چاہتی ہیں، پاکستان اور سعودی عرب دوقالب یک جان ہیں۔ امام کعبہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت ہمارے ایمان اورعقیدے کا تقاضا ہے ۔ اسلام دشمن قوتوں نے عالم اسلام پر جنگ مسلط کررکھی ہے اور ان کی سازش ہے کہ امت کے درمیان رنگ و نسل اور علاقوں کی بنیاد پر تفرقہ ڈال کر مسلم امہ کو تقسیم کر دے ، مگر دشمن کی یہ سازشیں ناکامی سے دوچار ہونگی۔طاغوت دنیا بھر میں گمراہی اور تاریکی پھیلانا چاہتا ہے جبکہ ہم امت محمدی ( صلی اﷲ علیہ وسلم ) دنیا کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لانا چاہتے ہیں۔ طاغوت سن لے! دین اسلام کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی اس لئے کہ دین کی حفاظت کا ذمہ اﷲ تعالی نے اٹھارکھا ہے۔ شیطان مسلمانوں میں انتشار، فتنہ اورباہمی عداوت پیدا کررہا ہے مگر ہم سب مسلمان قرآن وحدیث کے پرچم تلے متحدہو کر ان سازشوں اور شیطانی حربوں کا مقابلہ کریں گے اور انہیں ناکام بنائیں گے ۔

بے شک امام کعبہ نے درست فرمایا ، اسلام دشمن قوتوں نے عالم اسلام پر جنگ مسلط کررکھی ہے ، جوکہ ہمیں تفرقہ ڈال کر تقسیم کر نا چاہتے ہیں ۔ خوش قسمتی سے پوری دنیا میں مسلمان سب سے زیادہ تعداد میں ہیں ، دنیا بھر کے تقریباً 192 ممالک میں سے ساٹھ کے قریب مسلمان ممالک ہیں ، اوردنیا بھر کے تقریباً چھ ارب سے زائد انسانوں میں سے تقریباً دو ارب مسلمان ہیں۔ جو کہ دنیا کے معدنی ذخائر میں 75 فیصد کے مالک ہیں۔ مگر بدقسمتی سے مسلم اکثریت کے پاس کچھ نہیں ہے تو دور اندیش، نڈر اور بہادر قیادت نہیں ہے۔ اگر نہیں ہے تو اتحاد نہیں ہے۔ جبکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سامراجی ذہنیت کی عالمی طاقتیں ان کے وسائل پر قبضہ کرکے پوری دنیا پر حکمرانی کرنے کا منصوبہ بنائے بیٹھی ہیں، مگر اس کے باوجود عالم اسلام کے مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کا فقدان ہے۔ ایک طرف سامراج اور اس کے پالیسی ساز ادارے عالم اسلام کو کسی صورت متحد نہیں دیکھنا چاہتے، وہ ایک ایجنڈے کے تحت عالم اسلام کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے آرہے ہیں۔ دوسری طرف عالم اسلام کے ممالک اور ان کے حکمرانوں میں اتحاد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک کی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی حریف ہیں ،حزب اقتدار اور اختلاف میں ذاتی دشمنیاں اور عناد ہیں، دینی اور مذہبی جماعتوں ، اداروں اور رہنماؤں میں اتنا اختلاف ہے کہ بغیر کسی دلیل کے ایک دوسرے کو مفافق ، ملحد اور ایجنٹ ہونے کے القاب دیتے نظر آتے ہیں، تو کہیں صوبائیت ، لسانیت، قومیت اور وطنیت کے جھگڑے ہیں۔ آج مسلمانوں کو کہیں دہشت گرد کا لقب دیا جارہا ہے تو کہیں مسلمان ملکوں میں ہی بے گناہ مسلمان بھائیوں پر خودکش حملے کرکے شہید ، اور ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کیا جارہاہے ۔ ایک اﷲ ، ایک نبیؐ اور ایک قرآن کے ماننے والوں کو ایک دوسرے کا جانی اور ازلی دشمن بنادیا گیاہے۔ جبکہ اسلامی تعلیمات میں سب سے زیادہ زور اتفاق و اتحاد پر دیا گیا ہے، آپس میں محبت ،اخوت، بھائی چارہ، ایمان واتحاداور یقین مسلمانوں کا موٹو ہوتا ہے۔آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے حجتہ الوداع میں حکم فرمایا تھا ’’ دیکھو ! باہمی اختلاف میں نہ پڑنا۔‘‘ قرآن کریم میں اﷲ رب العزت کا حکم ہے ’’ ولاتفرقوا‘‘ ’’اختلاف ہرگز ہرگز نہ کرو۔‘‘ تاریخ اٹھا کر دیکھیں اختلاف ہی کی وجہ سے قوموں اور ملکوں کو بڑے بڑے نقصان اٹھانا پڑے ہیں۔ اختلاف ہی کی وجہ سے آج بھی مسلمان ممالک پستی اور ذلت کا شکار ہیں۔ غربت، مہنگائی، بدامنی، لاقانونیت ، بے روز گاری، جہالت، انتقام، لوٹ مار، ڈاکے، اغوا، قتل و غارت جیسے موذی امراض اختلاف ہی کا نتیجہ ہیں۔ آج مسلم امہ میں اتفاق اور اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ہم ساٹھ کے قریب اسلامی ممالک ،دو ارب مسلمان، بہت طاقتور ہوسکتے ہیں، بشرطیہ اختلاف کے ناسور سے نکل آئیں۔ایک نقطے پر متفق ہوجائیں۔ مسلمانوں کے لیے اس وقت سب سے آہم اور مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب مل کر وقت کے طاغوت سے نجات حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔اس وقت سب سے آہم کام استعمار کو نکیل ڈالنے کا ہے اور یہ تمام مسلم ممالک کے اتحاد و اتفاق کے بغیر ناممکن ہے، اس ضمن میں اسلامی عسکری اتحاد کا قیام خوش آئند ہے، جس کی کمانڈ بھی دنیا کی بہترین فوج کے سابق سپاہ سالار جنرل (ر) راحیل شریف کو سونپی گئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ برادر ہمسایہ ملک ایران اور سعودی عربیہ کے درمیان کشیدگی کو ختم کرتے ہوئے اسلامی ممالک کے اس اتحاد کو اور مضبوط کیا جائے ، کیونکہ اتفاق و اتحاد میں ہی تمام عالم اسلام کی فلاح و کامیابی کا راز مضمر ہے۔ اگر علمائے کرام فرقہ وارانہ، گروہی و لسانی تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر امت مسلمہ کے قلوب کو اسلام کی روشن تعلیمات اور قرآنی احکامات کی پر نور روشنی سے منور کرنے اورمسلمانوں میں اتحاد ، اتفاق اور باہمی خیر خواہی کا جزبہ پیدا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں تو پوری مسلمان قوم ایک جسم و جان کی مانند متحد ہوسکتی ہے ۔آج امت مسلمہ کو اغیار کی اندھی تقلید سے نکال کر اسلام کی راہ پر گامزن کرنا انتہائی ضروری ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی تمام تعلیمات انصاف اور عدل پر مبنی ہیں، اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ دورہ پاکستان کے اختتامی سیشن سے خطاب میں امام کعبہ نے کہا مجھے پاکستانی عوام، علمائے کرام اور حکومت کی طرف سے بے پناہ محبت ملی جسے میں کبھی نہیں بھلا سکوں گا۔ امام کعبہ کے خطاب کے دوران جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے، جبکہ لوگ دیوانہ وار ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب نظر آئے۔
٭……٭……٭

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 781 Articles with 336083 views »
Journalist and Columnist.. View More
14 Apr, 2017 Views: 139

Comments

آپ کی رائے