تخلیقی تعلیم کا فقدان

(Prof Jamil Chohdury, Lahore)

ہمارے ملک میں اب اعلیٰ تعلیمی اداروں کی کمی نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ تعداد میں اضافہ ہونا ضروری بھی تھا۔مجھے یاد ہے کہ ساٹھ کی دہائی کے آخر تک متحدہ پاکستان میں صرف22۔یونیورسٹیاں تھیں۔اور اب موجودہ پاکستان میں ایسے اداروں کی تعداد 183۔ ہوچکی ہے۔ان میں یونیورسٹیوں کے ساتھ ساتھ ایسے ادارے بھی ہیں جنہیں ڈگری جاری کرنے کا اختیار ہے۔قومی اور صوبائی حکومتوں کے پاس بہت سی نئی یونیورسٹیوں کی منظوری کی درخواستیں بھی موجود رہتی ہیں۔لیکن پاکستانی اعلیٰ تعلیمی ادارے تحقیق و تخلیق میں بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوسکے۔ایک عالمی ادارے Global innovation indexکی تازہ رپورٹ نے تو ہمیں مایوسیوں میں دھکیل دیا ہے۔ادارے کے مطابق141۔ملکی فہرست میں پاکستان131۔ویں نمبر ہے۔بھوٹان اور بنگلہ دیش کو بھی ہم سے بہتر دکھایا گیا ہے۔جودرجہ ہمیں دیاگیا ہے۔اس کے مطابق تو ہم اپنے اور دوسروں کے لئے کچھ بھی تخلیق نہیں کررہے۔جب یہ مایوس کن رپورٹ اراکین پارلیمنٹ کے سامنے آئی تو سوال پوچھنے پر وزارت سائنس اور ٹیکنالوجی نے اس کا 2۔ نقاطی جواب دیا۔یہ کہ ہم ریسرچ پر اپنی قومی پیداوار کا بہت ہی معمولی حصہ صرف کررہے ہیں۔دوسرا جواب ان کی طرف سے یہ دیا گیا کہ نچلی سطح کے تعلیمی اداروں میں سائنس کی تعلیم کا معیار اونچا نہیں ہوسکا۔نتیجتاً اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی تخلیق میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔لیکن متعلقہ وزارت یہ نہیں بتا سکی کہ61000ریسرچ سکالرز ملک کو کچھ دے کیوں نہیں رہے۔HECنے 2002ء میں یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کی جگہ لی تھی۔اس ادارے نے تحقیق کاروں کے لئے شروع میں ہی ایک بڑی ڈیجیٹل لائبریری قائم کردی تھی۔اور25000ریسرچ جرنل تک رسائی بھی پیدا کردی تھی۔مشرف نے اس خصوصی کام کی طرف بڑی توجہ دی تھی۔وسائل کے دروازے اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لئے کھول دیئے تھے۔51۔نئی یونیورسٹیاں بن چکی تھیں۔اور طلباء کی تعداداعلیٰ تعلیمی اداروں میں 2008ء تک بڑھ کر 4۔لاکھ تک ہوگئی تھی۔تب ایسا لگتا تھا کہ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق میں انقلاب واقع ہوگیا ہے۔اس دور کے بارے جرمنی کے ایک پروفیسر کا تبصرہ بڑا معروف ہوا۔"ایک معجزہ ہواسائنس وٹیکنالوجی بدل گئے ایسا پاکستان میں پہلے کبھی نہ ہواتھا"۔بہت سے ذہین اور حق دار طلباء کو دنیا کی معروف یونیورسٹیوں میں بھیجا گیا۔کافی بڑی تعداد میں لوگ واپس آئے اور"نیاعلم" پاکستان جیسے ترقی پزیر ملک میں پیداہونا شروع ہوگیا ۔پیپلز پارٹی کادور جو تعلیم وتحقیق کے راستے میں رکاوٹ بن گیا تھا۔اسے گزرے بھی عرصہ ہوگیا۔گزشتہ بجٹ کے اعدادوشمار میرے سامنے پڑے ہیں۔مرکزی حکومت نے تعلیم کے لئے 98۔ارب روپے مختص کئے تھے۔اور اس کا78فیصد صرف اور صرف HECکے لئے تھا۔76.44۔ارب روپے بڑی رقم ہے۔انتظامی اخراجات نکال کر بھی خالص ریسرچ کے لئے بڑی رقم ضرور بنی ہوگی۔محمد نواز شریف نے آتے ہی تحقیقی بجٹ میں کافی اضافہ کردیاتھا۔اتنی رقومات کے بعد بھی ہم بھوٹان اور بنگلہ دیش سے پیچھے ہی رہیں۔ تحقیقی اداروں سے باہر بیٹھے ہوئے لوگوں کو آخر غصہ تو آئے گا۔کہاجاتا ہے کہ ایچ۔ای۔سی نے پی۔ایچ۔ڈی ۔ریسرچ سکالرز کے لئےTenure Track salaryپیکج متعارف کرایا تھا۔اس سے تنخواہوں اور مراعات میں کافی اضافہ ہواتھا۔لیکن اکثر پی۔ایچ۔ڈی حضرات نے پیکج تو لیا۔لیکن وہ انتظامی پوسٹوں پر جاکر بیٹھ گئے۔تحقیق وتخلیق تو پتہ ماری کا کام ہے۔انتظامی عہدوں کی چمک دمک اور پروٹوکولز نے ریسرچ سکالروں کو محنت مشقت سے دور کردیا۔ہمیں یاد ہے کہ سرکاری کالجوں میں بھی کافی عرصہ پہلے کئی حضرات سرکاری اخراجات پر پی۔ایچ۔ڈی کرکے آئے اور آتے ہی وہ پرنسپلز بن گئے اور انہوں نے ساری عمر اسی کام میں گزار دی۔کلاسوں میں جاکر سینئر طلباء کو پڑھانا بھی انہیں نصیب نہیں ہواتھا۔لاہور میں ایک پرنسپل کے زمانے میں ان کے اپنے مضمون میں پوسٹ گریجوایٹ سطح کی کلاس شروع ہوئی۔اعلان ان کا یہی تھاکہ میں بھی کلاس پڑھاونگا۔لیکن وہ صرف ایک ہی دن کلا س میں جاسکے۔انتظامی پوسٹوں پر PHDاساتذہ کی تقرری متعلقہ شخص کی صلاحیتیں ضائع کرنے کے مترادف ہوتی ہے۔جو بھی شخص واقعی ریسرچ کی ڈگری لیکر آئے اسے تحقیق وتخلیق کے کاموں میں اپنی صلاحیتیں صرف کرنی چاہئے۔صرف اسی صورت میں پاکستان میں تعلیم کے نتائج تخلیق کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔انتظامی عہدوں کے لئے یونیورسٹیوں اور کالجوں میں بالکل علیحدہ Cadreہونا چاہئے۔ایسے لوگ انتظامیات کی تعلیم وتربیت لیکر آئیں۔یوں اداروں کا انتظام و انصرام بھی درست ہوسکے گا۔پی۔ایچ۔ڈی حضرات کو خصوصی سکیل یعنی TTSملے لیکن صرف تخلیق کرنے والوں کواور ایسے لوگوں کو ملے جنکی ریسرچ واقعی Originalہو۔یہ بات تو ضروری ہے۔کہ سائنسی تعلیم کا معیار سکول اور کالج سطح پر بلند ہونا ضروری ہے۔آجکل ہمارے نظام تعلیم میں خاص طورپر ثانوی اور ہائر ثانوی میں زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے والوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔اس سسٹم کو تبدیل ہونا ضروری ہے۔دنیا میں ایسے ممالک بھی ہیں جو اپنی G.D.Pکا25فیصد تک تعلیم وتحقیق پر خرچ کرتے ہیں۔اپنے اداروں میں تعلیم کے جدید ترین طریقے اپناتے ہیں۔تعلیم کے لئے ہرطرح کی سہولتیں دیتے ہیں۔ان کا تعلیم نظام معاشرے کو بہت کچھ دیتا ہے۔لیکن ہماری حکومتیں اب تک مجموعی طورپر G.D.Pکا صرف اور صرف2%ہی خرچ کرتی آرہی ہیں۔موجودہ حکومت نے بھی4% کے وعدے کئے۔لیکن وفاق اور صوبائی بجٹ کوملا کر بھی بات2فیصد سالانہ کی ہی رہتی ہے۔یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیم وتحقیق مارکیٹ کی ضرورتوں کے مطابق ہو۔اعلیٰ تعلیمی اداروں کو مختلف صنعتوں اور سروسز فراہم کرنے والے اداروں سے وابستہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔ہمارے پاکستانی معاشرے کے کیا مسائل ہیں۔انہیں مسائل پر یونیورسٹیاں تحقیق کریں۔تحقیق کرکے طریقے اور تجاویز بتائی جائیں کہ معاشرے کو درپیش ان مسائل کو کیسے حل کیاجاسکے۔پاکستان کے نظام میں بدانتظامی اور لوٹ مارعام ہے۔تحقیق کاروں کو اس مسٔلہ کے حل کے لئے قابل عمل تجاویز دینی چاہئے۔ہم ابھی تک مغرب کے پیداکردہ مارکیٹ اکانومی کے نظام سے ہی وابستہ ہیں۔منصفانہ معاشی نظام سے متعلق پاکستانی یونیورسٹیوں میں کوئی بڑاکام نہیں ہوا۔ نیچرل سائنس میں بھی ڈاکٹر عبدالسلام کے معیار کاکام کسی اور نے نہیں کیا۔البتہ ہمارے کچھ دوستوں کی محنت سے پاکستان عالمی سطح کی Cern labortaryکا ممبر ضرور بنا ہے۔ابھی ایک سال پہلے2۔پاکستانی سائنسدانوں ڈاکٹر نرگس اور کوئـٹہ کے عمران خان کا نام اس گروپ میں شامل بتایا گیا جنہوں نے ثقل کی طاقت پر امریکہ میں کام کیا۔کبھی کبھار زرعی یونیورسٹیوں سے کوئی اچھی تخلیقی خبر ضرور مل جاتی ہے۔لیکن پاکستان جیسے بڑے ملک کے20۔کروڑ لوگوں کو بہت کچھ تخلیق کرنا ضروری ہے۔نئی ٹیکنالوجیز اشیاء اور مشینیں بنانے والی اقوام کانام معتبر ہوتا ہے۔جناب وزیراعظم کو ہم موٹرویز کا سنگ بنیاد رکھتے اور افتتاح کرتے تو دیکھتے رہتے ہیں۔لیکن میری یادداشت کے مطابق وہ گزشتہ 4سالوں میں کبھی کسی اعلیٰ تعلیم کے ادارے میں نہیں گئے۔ان اداروں کے مسائل جاننا اور یہ سمجھنا کہ یہ ادارے قوم کے لئے کچھDeliverکیوں نہیں کررہے؟۔76ارب روپے الاٹ کرکے آخر ہمارا درجہ جدت و اختراع کرنے والے 141ممالک میں سے131واں کیوں ہے؟۔جناب وزیراعظم یہ بھی ایک اہم شعبہ ہے۔آپ کو پورے ملک کی یونیورسٹیوں کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ تعلیم کو تخلیقی ہونا چاہئے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Jamil Chohdury

Read More Articles by Prof Jamil Chohdury: 72 Articles with 31918 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Apr, 2017 Views: 594

Comments

آپ کی رائے