تصوف اور پیر ی مریدی کا موجودہ ڈھانچہ

(Prof Masood Akhtar Hazarvi, )

مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران خبر ملی کہ ’’ سرگودھا میں عبدالوحید نامی ایک شخص نے جو ایک آستانے کا متولی ہے ، ا پنے بیس عقیدت مندوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ ملزم نے بتایا کہ دو سال قبل ان لوگوں نے میرے پیر کو قتل کیا تھا اور اب خدشہ تھا کہ مجھے قتل کردیں گے۔ اس کا ایک یہ دعوی بھی سامنے آیا کہ یہ میرے روحانی بیٹے تھے جنہیں میں نے قتل کردیا ہے اور جب چاہوں ان کو دوبارہ زندہ کردوں گا (نعوز باﷲ)۔ حیرت انگیز بات یہ کہ جو لوگ قتل ہوئے ان میں پڑھے لکھے، بزنس مینجمنٹ میں ڈگری ہولڈر اور خوشحال گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی تھے جن کی عمریں تیس اور چالیس سال کے درمیان تھیں ‘‘۔ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ ایسے بیشمار واقعات اخباروں کی’’ سرخیاں‘‘ اور ٹیلیوژنزکی ’’نیوز الرٹ ‘‘بننے کے بعد آہستہ آہستہ دم توڑ جاتے ہیں لیکن معاشرے کے ذمہ داران کے کانوں پر جوں تک رینگتی ہے اور نہ ہی عوام الناس ان سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ ان شعبدہ بازوں اور جعلی عاملوں کے ہاتھوں ہر روز ہزارہا افراد لٹتے ہیں ۔ عورتوں کی عزتیں پامال اور نوجوانوں کی زندگیاں برباد ہوتی ہیں۔ جب کوئی ایسا واقع منظر عام پر آتا ہے تو اسباب کا جائزہ لیکر ان سانحات کاسد باب کرنے کی بجائے ہر ایک طبقہ کے اپنے سوئے ہوئے درد جاگ اٹھتے ہیں۔ کچھ دین بیزار اور عقلیت پسند قسم کے لوگ ان واقعات کے نتیجے میں مذہب اوردینی روایات کوہدف تنقید بنا کراپنی اندر کی آگ کو ٹھنڈا کر تے ہیں۔ ’’منکرین تصوف ‘‘کی تو ایسے مواقع پر چاندی ہوجاتی ہے کہ گویا ان کی تو لاٹری نکل آئی۔ ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں کہ ہم نہ کہتے تھے کہ’’ پیری مریدی‘‘ ایک فراڈ ہے ۔ کچھ مذہبی لوگ وہ بھی ہیں جو مصلحتوں کا شکار ہو کر جانتے بوجھتے ان ظالمانہ سانحات پر چشم پوشی اختیار کرتے ہیں۔ سیاسی بیان بازیاں اور الزام تراشیاں واقعات کو مسخ کرکے اصل ذمہ داران تک پہنچنے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے۔ مصلحتوں کی ضرورت ہے اور نہ مزید لاپرواہی کی گنجائش۔وقت آگیا ہے کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ انسانی جان بہت قیمتی ہے۔ یہ بیس افراد ہی قتل نہیں ہوئے بلکہ بیس گھر برباد ہوئے اور بیس ماؤں کی گودیں اجڑی ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ غلط فہمیوں کاا زالہ کرکے اس مسئلے کے مستقل حل کیلئے کچھ تجاویز پیش کی جائیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تصوف اسلامی ہمارے دین اسلام کا ایک بنیادی جزو ہے۔ جس طرح بدن کیلئے روح، الفاظ کیلئے معانی اور پھول کیلئے خوشبو ضروری ہے، اسی طرح اسلام میں شریعت کی پاکیزہ تعلیمات کے ساتھ ساتھ طریقت کے ذریعے اخلاقی، روحانی ا و ر قلبی طہارت ضروری ہے۔ اس پر دلائل کے انبار اور بحث مباحثہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ صوفیائے کرام کے زریں کارنامے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ہر مکتب فکر کے لوگوں نے صوفیائے کرام کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، حضرت مجدد الف ثانی، حضرت بہاوالدین ذکریا ملتانی، حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی اور حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمہم اﷲ علیہم جیسی ہستیوں نے اپنے دور کے مشکل ترین حالات میں بھی طاغوت کے سامنے جھکنے کی بجائے حالات کا رخ موڑ کے رکھ دیا۔ ہر مشکل برداشت کی لیکن اسلام کے جھنڈے کو جھکنے نہیں دیا۔ لہذاا خداکیلئے ایسے واقعات کے نتیجے میں حقیقی تصوف اسلامی اور دین اسلام کے اہم ترین جزو، بالفاظ قرآنی نبی کریم ﷺ کے فرائض نبوت کے اہم رکن ’ ’ تزکیہ نفس‘‘ کا انکار کرکے دین میں بگاڑ کے مرتکب مت ٹھہرو۔ اصل بات یہ ہے کہ جب کوئی قوم زوال پزیر ہوتی ہے تو اس کے سارے شعبے ہی تنزلی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ طب کے مقدس پیشے سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں کیا چند ٹکوں کی خاطرانسانی گردوں کا کاروبار کرنے والے موجود نہیں؟ سیاست کے میدان میں ’’صادق و امین‘‘ وہی ہے جس کے امی ابو نے نام ’’محمد صادق‘‘ یا ’’محمد امین‘‘ رکھا ہو۔ ورنہ تو ان کلین شیووں کی کرپشن اور بد کرداریوں کی داستانیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ کیا وکالت کے پیشے میں ایمان فروش موجود نہیں؟ ڈاکٹر عاصم، ایان علی، شرجیل میمن اور عزیر بلوچ کو ججوں نے ضمانت پر رہا نہیں کیا؟ کیا پولیس میں رشوت اور سفارش کا بازار گرم نہیں؟ یقینا یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ لیکن پھر بھی کیا ہم نے کبھی سوچا کہ بچے بچیوں کو ڈاکٹر، وکیل ، جج ،بیوروکریٹ یا سیاستدان نہیں بنانا چاہیے کیونکہ ان میں کرپٹ لوگ موجود ہیں۔ اسی طرح ’’پیری مریدی‘‘ بھی اسی کرپٹ معاشرے کا حصہ ہے۔ جس طرح اسی ماحول میں خدا ترس ڈاکٹر، ایماندار وکیل، فکر آخرت رکھنے والے سیاستدان و جج اور انسان دوست پولیس افسرڈھونڈنے کو مل ہی جاتے ہیں۔ اسی طرح تھوڑی سی کوشش سے آپ کو پرہیزگار، ذکر و فکر کرنے والے، مخلوق خدا کے خدمتگار، فلاح انسانیت کے ضامن آستانے اور بزرگان دین بھی مل جائیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تلاش کے دوران دل تعصب،ضدبازی اور مذہبی منافرت سے پاک ہو اور مقصد حق تک رسائی ہو۔جہاں تک ان واقعات کے اسباب اور ذمہ داران کا تعلق ہے ہم سمجھتے ہیں کہ حکمران، علمائے کرام و مشائخ عظام، میڈیا ہاؤسز اور عوام الناس اس میں برابر کے شریک ہیں۔ہم ہر روز اخبارات اور ٹی وی چینلز پر جعلی عاملوں کے یہ اشتہارات دیکھتے ہیں ’’ جادو کا توڑ، کالے جادو کی کاٹ، بنگالی بابا، اصلی کالے جادو کے ذریعے محبوب آپ کے قدموں میں وغیرہ وغیرہ‘‘۔سرگودھا جیسے افسوسناک واقعات ہونے کے بعد حقیقی تصوف اسلامی کو مورد الزام ٹھہرانے والوں سے میرا سوال ہے کہ وہ ہرروز کی ایسی بیہودہ تشہیر کے خلاف کیوں صدائے احتجاج بلند نہیں کرتے؟ حکومتی عدم توجہی اور عوام کی جہالت بھی اس کے اسباب ہے۔ معاشی اور معاشرتی حالات کی خرابی کی وجہ سے ضعیف الاعتقاد لوگ ان جعلی عاملوں کے پاس مسائل کے حل کیلئے جاتے ہیں۔ اب تک نہ جانے کتنے لوگ اپنی جان، مال اور عزت و آبرو گنوا بیٹھے ہیں۔ حکومت کا کام صرف اتنا ہی نہیں ہوتا کہ مزاروں کوصرف چندے جمع کرنے کیلئے رجسٹرڈ کرلیا جائے بلکہ وہاں ہونے والی سرگرمیوں سے آگاہی امن و امان کے مسائل کیلئے بھی ضروری ہے۔ بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر ’’اجیت ڈوول‘‘ (Ajit Doval ) نے کہا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے چھپنے( Camouflage )کیلئے بہترین جگہیں مزارات ہیں۔حکومت کو چاہیے کہ علماء کی مشاورت سے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں درباروں اور خانقاہوں کیلئے ایک ضابطہ اخلاق تشکیل دے کر اس پر سختی سے عمل درآمد کرائے تاکہ آئے روز کے ان روح فرسا واقعات سے چھٹکارہ مل سکے۔ علمائے کرام کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ قرآن و حدیث کے علوم سے لوگوں کو روشناس کراکے ان قباحتوں کا ازالہ کریں۔ ان کوہتاہیوں کے نتیجے میں دن بدن شعبدہ بازوں اور جعلی عاملوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے جو سماجی خلفشار اور دین کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Masood Akhtar Hazarvi

Read More Articles by Prof Masood Akhtar Hazarvi: 197 Articles with 123814 views »
Director of Al-Hira Educational and Cultural Centre Luton U.K., with many years’ experience as an Imam of Luton Central Mosque. Professor Hazarvi were.. View More
16 Apr, 2017 Views: 534

Comments

آپ کی رائے