نیکی کے دو فرشتے

(Aslam Lodhi, Lahore)

 بڑھاپا سب سے بڑی بیماری ہے ٗ جب انسانی اعضا آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تب احساس ہوتا ہے کہ پلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ گیا ہے اور عمر رفتہ کا ایک بڑا حصہ گزر چکا ہے ۔ دل تو اب بھی جوان ہی ہے لیکن پے درپے بیماریوں کی یلغار نے جسم کونڈھال کر دیا ہے۔ اب مجھے یہ بات تسلیم کرنی ہی پڑی کہ میں اب بوڑھا ہوچکا ہوں ۔بارہ سال پہلے اچانک دونوں کان بند ہوگئے ۔ ناک کے آپریشن اور مسلسل علاج کے باوجود سماعت واپس نہ لوٹی ۔ لاہور کا شاید ہی کوئی ای این ٹی سپیشلسٹ ہو جسے کان چیک نہ کروائے ہوں ۔ سب کا ایک ہی جواب تھا کہ کانوں پر فالج ہوچکا ہے اب سماعت کو دوبارہ بحال نہیں کیاجاسکتا ۔ باامر مجبوری زندگی سے سمجھوتہ کر نا پڑا ۔ قدرت کا انسان پرکتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اربوں روپے کی جدید اور مستعد مشینری انسان کومفت فراہم کر رکھی ہے ۔ان میں سے اگر کسی میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے تب اس کی قیمت کا احساس ہوتاہے ۔

قوت سماعت کے ساتھ ساتھ گھٹنوں کے درد نے مجھے بے حال رکھا ہے۔ آسانی سے چلنا پھرنا مشکل سے مشکل ہوتاجارہا ہے۔ بنک ملازمت کے آخری ایام میں دائیں گھٹنے کا آپریشن تو کروالیا جس سے کچھ افاقہ ہوا لیکن بایاں گھٹنا چلنے پھرنے میں اب بھی رکاوٹ کا باعث بن رہا ہے ۔معالجین اس کا علاج صرف آپریشن ہی بتاتے ہیں جبکہ آپریشن پر چار لاکھ روپے خرچ کااندازہ ہے ۔ جیسے لوگوں کے لیے اتنی رقم کاانتظام کرنا ناممکنات میں شامل ہے ۔

تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ قوت سماعت میں شدید کمی اور گھٹنوں میں مسلسل درد کی وجہ سے اکیلے کہیں آنا جانا بہت مشکل ہوچکا ہے ۔اﷲ تعالی نے مجھے پاکستان کے سب سے بڑے اخبار نوائے وقت میں کالم اور ہفت روزہ مارگلہ نیوز انٹرنیشنل اسلام آباد کے میگزین میں آرٹیکل لکھنے کی ہمت اور توفیق عطا کررکھی ہے اس وجہ سے مجھے اکثر و بیشتر گھر سے باہرکسی فنکشن یا دفتر میں جانا پڑتا ہے ۔لیکن اکیلا جانے کی ہمت خود میں نہیں پاتا ۔مجھے ایک ایسے مددگار کی ضرورت ہوتی ہے جو مجھ سے نہ صرف ذہنی مطابقت رکھتا ہو بلکہ رہتے میرے لیے مدد گار بھی بنے ۔ اﷲ تعالی نے مجھے دو جوان بیٹوں کی دولت سے تو نوازا ہے لیکن دونوں ہی اپنے اپنے پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ میرے ساتھ جانے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں ہوتا ۔اسے مجبوری کہہ لیں یا بہانہ ۔ سب کچھ چلتا ہے۔

یہ جنوری 2015ء کی بات ہے کہ مجھے ایک شام تحریک رحمت کے دفتر جانا پڑا جہاں کسی موضوع پر ایک مذاکرہ ہورہا تھا ۔وہاں میری ملاقات ایک نوجوان ( طاہر شریف ) سے ہوئی ۔ جو حویلی لکھا کا رہنے والے نہایت پروقار اور نیک سیرت نوجوان تھا۔ وہ ڈیفنس روڈ پرکسی کمپنی میں ملازم تھا ۔رات کی ڈیوٹی کی وجہ سے وہ دن کے وقت فارغ ہی ہوتا ۔ جب اس کا ساتھ میسر آیاتو دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ صحافتی تجربے کو بروئے کار لاکر ایک ایسا میگزین نکالا جائے جو مقبول عام اور ہردلعزیز بھی ہو۔ جب میں نے اپنے اس ارادے سے طاہر شریف کو آگاہ کیا تو اس نوجوان نے کسی معاوضے کے بغیر اپنی خدمات نہ صرف مجھے پیش کردیں بلکہ اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کردیاکہ وہ میرا وفا دار ساتھی ہے اور اس کا ساتھ یقینا میرے لیے حوصلے کا باعث ہوگا ۔گویا قدرت نے اس کی شکل میں ایک اچھا اور باوقار ساتھی عطا کردیا ۔ میگزین کا نام الاٹ کروانا اور ڈیکلریشن حاصل کرنا بہت مشکل کام تھا ۔اس مقصد کے لیے ہم کتنی بار ہی اکٹھے ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلشنز کے دفتر گئے پھر بنک میں فیس جمع کروا فائل کو پاکستان انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID)لاہور میں جمع کروا دیا۔ میگزین کا نام الاٹ ہونے میں کافی وقت صرف ہوا سوچا کہ پہلے میگزین کا ٹائیٹل تیار کرکے کیوں نہ لاہور کی ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں سے تعارفی ملاقاتیں بھی ہوجائے اور اشتہارات کے حصول کاایک مضبوط نٹ ورک پہلے سے ہی تیار کرلیا جائے۔ اس مقصد کے لیے میں اور طاہر شریف بیس پچیس ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں میں بالمشافہ گئے اور وہاں کے ذمہ داران کے ساتھ نہایت خوشگوار ملاقاتیں کرکے یہ یقین دہانی حاصل کرلی کہ میگزین کو جاری رکھنے کے لیے اشتہارات کا مسلسل حصول ممکن ہوسکے گا ۔ اس دوران طاہرشریف کا انداز گفتگو اور بہترین کردار ابھرکر سامنے آیا ۔ جوں جوں وقت گزرتا رہا وہ میرے نہایت بااعتماد ساتھیوں میں شامل ہونے لگا۔قصہ مختصر یہ کہ میگزین کا نام "رخ زیبا " تو ہمیں الاٹ ہوگیا لیکن ڈیکلریشن کا حصول اس قدر پیچیدگی اختیار کرتا گیا کہ ہم نے میگزین نکالنے کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔

اس دوران ہماری کئی ملاقاتیں ائیر وائس مارشل (ر) فاروق عمر صاحب سے ان کے بنگلے پر ہوئیں ۔وہ نہایت شفیق اور ہمدرد انسان ہیں انہوں نے سماعت میں کمی کا یہ حل نکالا کہ وہ بات کرنے کے بعد طاہر شریف کو کہتے کہ اپنے باس کو بتاؤ ۔ طاہر شریف میرے کان کے قریب آکر مجھے انکی بات بتاتا اور جواب حاصل کرکے مجھے آگاہ کرتا ۔فاروق عمر صاحب اس خدمت کے عوض اسے میرا ADC کہنے لگے ۔ یہ سلسلہ کچھ اس قدر درازہوگیا کہ طاہر کو لوگ میرا سایہ ہی تصور کرنے لگے ۔ لوگ میرے بیٹوں کو کم جانتے لیکن طاہر کو بیٹے کی حیثیت سے ہر شخص جاننے لگا ۔ اس دوران ہم ایک صبح ڈاکٹر آصف محمود جاہ کلکٹر کسٹم کے دفتر مبارک باد دینے کے لیے جاپہنچے جنہیں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ امتیاز ملا تھا۔ وہاں کچھ یادگاری تصویریں بھی بنیں اور انٹرویو بھی کیاگیا ۔ انٹرویو کے پوائنٹ لکھنے کا کام بھی طاہر شریف نے ہی انجام دیا جسے بعد میں ٗ ایک انٹرویو کی شکل میں نے دی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب فاروق عمر صاحب نے ہمیں مانسہرہ سے 54 کلومیٹر آگے ایک پہاڑی مقام پر( جہاں ان کی بارہ سو کینال اراضی تھی ) جانے کی مفت پیشکش کی ۔ میری حتی المقدور کوشش تھی کہ طاہر شریف میرے ساتھ چلے لیکن فاروق عمر صاحب کی سفارش کے باوجود اسے دفتر سے چھٹی نہ ملی ۔ خوبصورت وادیوں کے اس یادگار سفر میں طاہر کے نہ جانے کا جہاں مجھے بے حد افسوس تھا وہاں طاہر بہت عرصے تک خودکو اوراپنے باس کو بھی کوستا رہا جس نے چھٹی دینے سے انکار کردیاتھا ۔یہ بھی ذکر کرتاچلوں کہ ہم نے اسلام آباد میں قیام کے دوران ممتازایٹمی سائنس دان اور پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کے بانی ڈاکٹر ثمر مبارک کا ایک تفصیلی انٹرویو کیا تھا جس کو موبائل میں ریکارڈ کرلیا ۔ جب ہم واپس لاہورپہنچے تو میرے پیش نظر سب سے پہلا کام ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے انٹرویو کو سن کر کاغذ پر منتقل کرنا تھا لیکن یہا ں بھی قوت سماعت کی کمی آڑے آئی اور میں کوشش کے باوجود یہ اہم کام نہ کرسکا ۔ میں نے اپنے دونوں بیٹوں کو یہ کام کرنے کی ہدایت کی تو دونوں نے یہ کہہ کر انکار کردیاکہ یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ اب میرے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ میں یہ کام کے سپرد کروں ۔ میں نے جب طاہر سے یہ کام کرنے کی درخواست کی تو اس نے فوری طور نہ صرف میری درخواست قبول کر لی بلکہ یہ کہہ کر دل خوش کردیا کہ سر آپ بے فکر ہوجائیں یہ کام ہوجائے گا ۔ اس لمحے میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے کہ جس نوجوان سے میرا خونی رشتہ بھی نہیں ہے اس نے میری بات کا اس قدر بھرم رکھا کہ دل خوش ہوگیا ۔دل سے دعا نکلی کہ کاش طاہر ہی میرا بیٹا ہوتا ۔

پھر وہ ہر صبح دس گیارہ بجے میرے گھر آجاتا ۔ کانوں میں ہیڈ فون لگاکر پہلے گفتگو سنتا پھر ہاتھ سے اس کو کاغذ پر منتقل کرتا ۔ دو تین ہفتوں کی مسلسل محنت کے بعد تقریبا اٹھارہ صفحات پر مشتمل انٹرویو طاہر نے لکھ ڈالا۔ جسے بعدمیں ٗ میں نے نوک پلک درست کرکے انٹرویو کی شکل میں تیار کرکے جناب شہزاد احمد چوہدری کی ادارت میں شائع ہونے والے جریدے ہفت روزہ مارگلہ نیوز انٹرنیشنل اسلام آباد میں اشاعت کے لیے بھیج دیا جنہوں نے نہایت محبت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس انٹرویو کو چار قسطوں میں شائع کر دیا۔ یہ انٹرویوڈاکٹر ثمر مبارک مند کو اس قدر پسند آیا کہ انہوں نے اپنی پسندیدگی کااظہار میرے نام لکھے ہوئے ایک خط میں کیا ۔ اس انٹرویو کی تیاری میں طاھر شریف کا کردار سب سے نمایاں تھا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔

جس لمحے میں طاہر شریف کی رفاقت ملنے پر بے حدخوش اور مطمئن تھا ۔ اچانک ایک صبح حویلی لکھا سے کال موصول ہوئی کہ ایک حادثے کا شکار ہوکر طاہر کے والد محمد شریف کاانتقال ہوگیا ہے ۔یہ خبر یقینا جہاں طاہر شریف کے لیے قیامت سے کم نہ تھی وہاں مجھ پر بھی بجلی بن کر گری کیونکہ طاہر کی فرماں برداری اور چاہت بھرے رویے سے میں اس قدر محو ہوگیا تھا کہ اس کی جدائی کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ انسان سوچتا کچھ ہے اور ٗ ہوتا کچھ اور ہے ۔ طاہر نہ چاہتے ہوئے بھی نہ صرف لاہور چھوڑ گیا بلکہ اس کے جانے کے بعد میرے لیے گوناگوں مسائل پیدا ہوگئے ۔

سچی بات تو یہ ہے کہ میں ایک متحرک زندگی کا قائل ہوں جس کی وجہ سے مجھے گلبرگ ہائی سکول تو کبھی والٹن کنٹونمنٹ بورڈ توکبھی کسی ادبی صحافتی فنکشن میں جانا پڑتا ہے لیکن ہر اس موقع پر مجھے طاہر کی یاد نے بے حال کیے رکھا ۔ چند ایک میٹنگ میں قاری محمداقبال صاحب بھی شریک سفر رہے لیکن ان کا مرتبہ اور مقام اس قدر بلند ہے کہ ان سے وہ کام نہیں لے سکتا جو پہلے طاہر انجام دیاکرتا تھا۔پھر انہیں ہر نماز کی امامت مسجد میں پہنچ کرنی پڑتی ہے درمیانی وقفے میں وہ قرآن پڑھانے کے لیے مختلف جگہوں پر جاتے ہیں اس لیے ان کی شفقت اور محبت تو مجھے حاصل تھی لیکن طاہر کی طرح نہ ان کے پاس وقت تھااور ہی فرصت ۔

روزانہ میں اپنے رب کے حضور یہی دعا مانگتا ۔اے اﷲ تو نے ہی طاہر بیٹے کو مجھ سے جدا کیا ہے کوئی ویسی ہی خوبیوں والا نوجوان بیٹے کی شکل میں ایک بار پھر مجھے عطا کرجو میرا سہارا بھی بنے اور میرے ساتھ چلنے میں اسے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ وہ سعادت مند بھی ہو اور سلیقہ مند بھی ۔ یہ دعاکرتے ہوئے کئی مہینے گزر گئے۔ ایک دن میں یونہی فیس بک پر مجھے ایک نوجوان کی فرینڈشپ ریکوئسٹ موصول ہوئی ۔جب میں نے اسے غور سے دیکھا تو حیرت ہوئی کہ یہ نوجوان تو گزشتہ اڑھائی سالوں سے میرے ساتھ مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے کبھی اس کے ساتھ اطمینان سے بیٹھنے ٗ گپ شپ کرنے یا اس کے جذبات و احساسات شناسائی حاصل کرنے کا موقعہ نہیں ملا۔ ایک اچھے انسان کے روپ میں وہ میری گڈ بک میں پہلے سے ہی شامل تھا۔ وہ نوجوان نہایت سنجیدہ مزاج کا مالک تھا ۔ ہر نماز میں دکھائی تو دیتا لیکن نماز پڑھتے ہوئے اٹھ کر مسجد سے باہر نکل جاتا ۔ بازار میں کبھی کبھاراس حالت میں چلتا پھرتا دکھائی دیتا کہ اس کی نگاہیں ہمیشہ زمین پر ہی ٹکی رہتیں ۔یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ایک نیک سیرت اور مہذب خاندان کا فرد ہے ۔وہ کہاں رہتا ہے اور اس کے والد کا نام کیا ہے میں مکمل طور پر بے بہرہ تھا ۔لیکن اس شخصیت میں چھپی ہوئی خوبیوں کو دیکھ کر مجھے یہ احسا س بار بار ہورہا تھاکہ یہ نوجوان سیرت اور کردار کے حوالے سے بے مثال ہے ۔ ریکوئسٹ کو میں نے فوری طورپر قبول کرلی ۔ اس طرح اڑھائی سال ایک ہی مسجد میں نماز پڑھنے والے دو انسان ایک دوسرے کے دوست اور ساتھی بن گئے ۔اب دوستی کی بنیادیں آہستہ آہستہ مضبوط سے مضبوط تر ہونے لگی ۔ میری ہر پوسٹ اور کمنٹس اسے اچھے لگتے اور مجھے اس کی مزاحیہ اور سنجیدہ شاعری خوب بھاتی ۔

فیس بک پر بھی اس کا انداز نہایت شگفتہ ہوتا اس نے بات کرتے ہوئے کبھی شائستگی کا دامن نہیں چھوڑا ۔ وہ دھیمے لہجے میں بات کرنے والا کی سلجھا ہوا نوجوان ہے جسے زمانے کی ہوا ابھی نہیں لگی ۔ باہمی محبتوں کا سلسلہ جو فیس بک سے شروع ہوا تھاوہ مسجدتک جا پہنچاپہلے وہ نماز پڑھتے ہی اٹھ کر چلا جاتا تھا اب وہ میرے انتظار میں مسجدمیں بیٹھنے لگا اس کا یہ رویہ یقینا میرے دل میں اس کے بارے میں احترام کے جذبات پیدا کرگیا اور میں اسے ایک بااعتماد ساتھی اور دوست کی شکل میں دیکھنے لگا ۔ مجھے دو دن کے لیے پتوکی جانا پڑا اس دوران اس نے مسجد سے میری غیر حاضری کو شدت سے محسوس کیا جب میں تیسر ے دن میں واپس لاہور پہنچا تواس نے بتایا کہ میں مسجد میں آپ کو تلاش کررہا تھااور سوچ رہا تھا کہ خدا خیر کرے کہیں بیمار نہ ہوگئے ہوں ۔یہ جذبات اور احساسات یقیناایک دوست کے ہی ہوسکتے ہیں جودل میں محبت کرنے لگا ہو ۔

ایک دن اچانک میری طبعیت خراب ہوگئی ۔مجھے جس ڈاکٹر کو چیک کروانے کے لیے جانا تھا اس کا کلینک مکہ کالونی گلبرگ تھرڈ میں تھا۔وہ ہمارا فیملی ڈاکٹر ہی بن چکا ہے ۔میرے گھر کے سبھی افراد بیمار ي کی حالت میں اسی ڈاکٹرکے پاس علاج کی غرض سے جاتے ہیں۔ میں نے ریاض ملک سے درخواست کی کہ اگراس کے پاس وقت ہو تو وہ میرے ساتھ چل سکتا ہے ۔ مجھے اس وقت خوشی ہوئی جب بخوشی رضامندی کا اظہار کیا ۔ دو تین بار مجھے وہاں جانا پڑا ہرنماز مغرب کے بعد وہ مجھے پہلے سے تیار ملتا ۔ دوران سفر اور کلینک پر موجودگی کے دوران میں نے یہ بات محسوس کی کہ وہ بہت صاف ذہن کاایک نیک سیرت نوجوان ہے ٗ جس پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کیاجاسکتاہے ۔ پھر اس کے ساتھ نوائے وقت اور مارگلہ نیوز انٹرنیشنل کے دفتر جانے کا بھی اتفاق ہوا ۔ ملک ریاض ہر جگہ بہترین ساتھی اور اچھے مددگار کے روپ میں سامنے آیا ۔

بچپن میں جب استاد انگریزی کا مضمون پڑھانے لگتے تو اس بات پر زور دیتے تھے کہ انگلش میں فقرہ بناتے وقت ہیلپنگ ورب پر خصوصی توجہ دیں ۔تاکہ فقرہ صحیح بن سکے ۔اگر یہ کہاجائے توغلط نہ ہوگاکہ ملک ریاض کی شکل میں مجھے ہیلپنگ ورب( بہترین مددگار ) مل گیا ہے جو ہر مشکل اور ضرورت کی گھڑی میرا ہم رکاب ہوتا ہے ۔ اب ہم کیولری پارک واک کے دوران کسی سے بات کرنے میں معاون اور ترجمان کے فرائض انجام دیتا ہے ۔

کئی بار واک کے دوران چلتے چلتے میرا پاؤں ڈگمگا جاتاہے تو وہ اپنے مضبوط سہارے سے مجھے گرنے سے بچا لیتا ہے ۔ یہ ایسی خوبیاں ہیں جو صرف اور صرف حقیقی بیٹے ہی انجام دے سکتے ہیں لیکن حقیقی بیٹوں کو اتنی فرصت نہیں کہ باپ کا سہارا بن جائیں۔اس کے باوجود کہ ریاض ملک میرا حقیقی بیٹا نہیں ہے لیکن مشفقانہ کردار دیکھ کر اسے میں حقیقی بیٹوں سے بھی زیادہ پیارا بیٹا کہہ سکتا ہوں ۔وہ ملک حبیب اﷲ کا بیٹا تو ہے ہی ٗ لیکن اپنے خوش دلانہ رویے سے میرا بھی بیٹا بن چکا ہے ۔ دوران گفتگو میں نے کئی مرتبہ اس بات کا احساس کیا کہ وہ اپنے والدہ سے بہت پیار کرتا ہے جس کی بیماری اکثر اسے پریشان رکھتی ہے جب ماں کی طبیعت ٹھیک ہوجاتی ہے تو اس کا چہرہ ہی بتادیتا ۔ وہ والد حبیب اﷲ ملک کو اپنا آئیڈیل قرار دیتا ہے ۔اس نے ایک دن بتایا کہ ماں مجھے سب سے پیاری لگتی ہے اور باپ کا حکم میں ٹالنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ ماں اور باپ دونوں میری اچھی زندگی کے وارث ہیں۔

اچانک ایک دن ملک ریاض کا موبائل پر پیغام ملا کہ اس کے پاؤں کی ایڑھی کو کانچ کے ٹکڑے نے زخمی کردیا ہے جس کی وجہ سے وہ نہ نماز فجرپڑھنے مسجد نہیں آسکتا اور نہ ہی واک کے لیے جاسکتاہے ۔ پہلے مجھے اس کی اہمیت کا اس قدر احساس نہیں تھا جیسے ہی اس کے زخمی ہونے کی اطلاع ملی تو میرے دل نے بالکل الٹ سمت دھڑکنا شروع کردیا ۔ دل سے دعا نکلی خدایا اس بچے کو اپنی حفاظت میں رکھنا ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ میرے دونوں بیٹوں کو ڈینگی بخار ہوگیا ۔اس وقت اولاد کی محبت میں میری آنکھ سے آنسو نکل رہے تھے اور جو کیفیت اس وقت مجھ پر طاری تھی وہی کیفیت ریاض ملک کے زخمی ہونے کی اطلاع کے بعد مجھ پر طاری ہوگئی ۔ اس کی تمام اچھائیاں ایک فلم کی میرے آنکھوں کے سامنے چلنے لگی ۔ وہ میرے لیے کس قدر اہم ہوچکا ہے اس کا تو مجھے اندازہ ہی نہیں تھا ۔ دوپہر کو جب اس سے ملاقات ہوئی تو اسے باکل ٹھیک حالت میں دیکھ کر رب کا شکر ادا کیا ۔

کہاجاتاہے کہ ڈوبتے ہوئے شخص کو تنکے کا سہارا ہی کافی ہوتا ہے ۔ہو بہو یہی کیفیت مجھ پر طاری ہے ۔ ہر وہ شخص اچھا لگتا ہے جو میری مدد کے لیے اپنا وقت اور توانائیاں صرف کرتا ہے ۔پہلے یہ کارنامہ برادرم طاہر شریف نے سنبھال رکھا تھا۔ اب اس سے بھی زیادہ وفاداری کا اظہار کرنے والا ملک ریاض ہے۔ جو سایہ بن کے میرے ساتھ ہی رہتا ہے ۔ شاید یہ میری ان دعاؤں کانتیجہ ہے جو میں طاہر شریف کے اچانک بچھڑ نے کے بعد اپنے رب کے حضورکیاکرتا تھا ۔ اﷲ تعالی نے طاہر سے بھی زیادہ وفادار اور محبت کرنے والا فرماں بردار بیٹا عطا کرکے یقینا مجھ پر احسان عظیم کیا ہے۔مجھے ملک حبیب اﷲ جیسے خوش نصیب شخص پر رشک آرہا ہے جس کے گھر میں ریاض جیسا اچھی سوچ کا مالک اور پانچ وقت کا نمازی بیٹا پرواں چڑھ رہا ہے ۔میرے لیے وہ عظیم ماں بھی قابل احترام ہے جس کی آغوش میں ریاض جیسا فرماں بردار اور مقدس رشتوں سے محبت کرنے والا نوجوان پرورش پاتا رہا ۔چاول خریدنے سے پہلے ایک مٹھ چاول ہی دیکھے جاتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چاولوں کی بوری میں اچھے چاول ہیں یاخراب ۔ مجھے نہیں علم کہ حبیب اﷲ ملک کے گھرمیں اور کون کون رہتا ہے لیکن ملک ریاض کو دیکھ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ اگر وہ اس قدر محبت اور احترام کرنے والا نوجوان ہے تو باقی بھی ایسے ہی ہوں گے ۔ مجھے اس لمحے خوشی ہوتی ہے جب وہ میرے انتظا ر میں کچھ مزید وقت مسجد میں بیٹھ کر قرآن پاک اور درود پاک پڑھتا ہے ۔ اﷲ تعالی نے اس نوجوان کو اس قدر صلاحیتوں سے نواز رکھاہے جسے دیکھ کر یقین سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں یہ نوجوان زندگی کے ہر شعبے اور راستے پر کامیابی سے گامزن رہے گا ۔ یہ بات میری آزمودہ ہے کہ جو شخص پانچ وقت نماز پڑھتا ہے اﷲ تعالی اس کو کبھی خسارے میں نہیں رہنے دیتا ۔ میری نظر میں ریاض بھی ایک فرشتہ کی مانند ہے جو ہر مشکل اور ضروت کے وقت مجھے اپنی رفاقت سے نوازتا ہے ۔ دل سے دعا ہے کہ اﷲ تعالی ان دونوں فرشتوں طاہر شریف اور ریاض ملک کو زندگی کی ہر خوشیاں عطا فرمائیں جس طرح بے لوث ہوکر مجھ جیسے عمررسیدہ شخص کی مدد کرتے ہیں ٗاﷲ تعالی بڑھاپے میں ان کی مدد کے لیے بھی ایسے ہی فرشتے آسمان سے اتارے ۔آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 559 Articles with 280260 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
18 Apr, 2017 Views: 330

Comments

آپ کی رائے