ذرا ایک لمحے کے لیے سوچیے !!

(Muhammad Saghir Qamar, )

بھارت اورمسلمان

اگر پاکستان نہ بنتا تو ہم کہاں ہوتے؟بھارت میں گاؤ ماتا کو ہاتھ لگانا تو برا تھا ہی ، اس ہندو بنیے کے ساتھ مسلمان کس مشکل سے گزارا کر رہے ہیں ۔ان کا محض جرم تو یہی ہے کہ وہ مسلمان ہیں ۔ اس جرم کی سزا وہ ستر سال سے پا رہے ہیں ۔

بھارت میں آبادی کے تناسب میں سب سے زیادہ جموں و کشمیر میں 68.31 فیصد مسلمان آباد ہیں، اس کے برعکس سب سے کم میزورم میں1.35 فیصد مسلمان ہیں۔ دوسری جانب آسام، مغربی بنگال اور کیرالہ میں ۵۲فیصد سے زائد مسلمان موجود ہیں۔ وہیں 10سے 15فیصد والی ریاستیں بہار اور اترپردیش ہیں، وہ ریاستیں جن میں دس سے پندرہ فیصد مسلمان رہتے ہیں، اْن میں جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، کرناٹک، دہلی اور مہاراشٹر شامل ہیں۔ لکش دیپ جو بھارت کا حصہ ہے وہاں آبادی کے تناسب سے سب سے زیادہ مسلمان رہتے ہیں۔ بلکہ کہا جائے کہ لکش دیپ، بھارت کا مکمل طور پر مسلم اکثریتی علاقہ ہے تو غلط نہیں ہوگا، جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 96.58ہے۔ مزید آٹھ ریاستیں ایسی ہیں جہاں آبادی کے تناسب سے مسلمان دس فیصد کے درمیان رہتے ہیں۔ اگر ان اعداد و شمار کا جائزہ اس لحاظ سے لیا جائے کہ بھارت میں موجود مسلمانوں کی کل آبادی کا حصہ کون سی ریاست میں کس حیثیت میں موجود ہے، تو تصویر کا دوسرا رْخ یہ ہے کہ مسلم اکثریتی علاقہ لکش دیپ بھارت میں مسلمانوں کی کل آبادی کا آدھا فیصد بھی نہیں، بلکہ یہ تعداد 0.04ہی شمار کی جاتی ہے۔ کیونکہ لکش دیپ میں کل آبادی 47364ہے، جس میں 26862مسلمان ہیں۔ یعنی یہاں گرچہ مسلمان اکثریت میں ہیں، اس کے باوجود بھارتی وسائل میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ اس کی بڑی وجہ کل آبادی کے تناسب میں ان کی حقیقی تعداد بھی ہے۔ وہیں 68.31فیصد مسلمانوں کی آبادی جموں و کشمیر میں موجود ہے، وہ بھی مسلمانوں کی کل آبادی کے اعتبار سے 4.67ہے۔ مزید یہ کہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کے مسائل جس قدر بڑی تعداد میں موجود ہیں، وہ انہیں اس بات کا موقع ہی نہیں فراہم کرتے کہ وہ مرکزی دھارے سے وابستہ مسائل میں دلچسپی لیں یا اس میں حصہ دار بنیں۔ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی بڑی تعداد علیحدگی پسند ہے۔ لہٰذا ستّر سالہ دورِ آزادی کے باوجود جموں وکشمیر کے مسلمان بھارتی مسلمانوں کے مسائل اور درپیش چیلنجوں میں کسی بھی حیثیت میں کوئی کردار ادا نہیں کرپائے اور یہ صورتحال آج بھی برقرار ہے۔ اس کے باوجود کہ وہاں بے شمار جانیں ا ٓزادی کے لیے قربان کی جاچکی ہیں۔ دہلی میں ریاستی سطح پر موجود آبادی کا 12.68فیصد حصہ مسلمان ہیں، وہیں دہلی سے متصل ریاست ہریانہ میں7.03فیصد مسلمان رہتے ہیں لیکن اگر ان آبادیوں کو ملکی سطح پر موجود مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں دیکھا جائے تو یہ دونوں ہی ریاستیں ایسی ہیں جہاں 1.5فیصد مسلمان رہتے ہیں۔ ریاست ہریانہ میں مسلمانوں کی آبادی کو ریاستی سطح پر حد درجہ کم تصور کیا جاتا ہے، اس کی ایک بڑی وجہ ایک زمانے میں یہاں مسلمانوں کا قتل عام تھا، تو وہیں ان کا مرتد ہونا اْس سے بھی ایک بڑی وجہ ہے۔ اس کے باوجود ہریانہ میں ۷۱لاکھ ۱۸ہزار مسلمان رہتے ہیں۔

دو سے پانچ فیصد والی مسلم آبادی کا تناسب رکھنے والی ریاستیں ا ٓٹھ ہیں، ان میں ریاست جموں و کشمیر، جھارکھنڈ، کرناٹک، گجرات، آندھرا پردیش (2011ء کی مردم شماری کی روشنی میں) راجستھان، مدھیہ پردیش اور تمل ناڈو شمار کی جاتی ہیں۔بھارت کی تین ریاستیں ایسی ہیں جہاں کل مسلم آبادی کا تناسب پانچ سے دس فیصد موجود ہے۔ یہ ریاستیں آسام، کیرالہ اور مہاراشٹر ہیں۔ دوسری جانب دوریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں مسلمان اپنی کْل آبادی کے تناسب میں سب سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں ریاست مغربی بنگال اور بہار شمار کی جاتی ہیں، یہاں مسلمان اپنی کل آبادی کے لحاظ سے 10سے 15فیصد موجود ہیں۔ دیگر وہ ریاستیں ہیں جہاں مسلمان اپنی کْل آبادی کے لحاظ سے ایک فیصد سے بھی کم تعداد میں موجود ہیں۔ ان میں اتراکھنڈ بھی آتا ہے۔ منی پور، ہماچل پردیش، پنجاب اور گوا بھی۔ اس پورے تجزے میں ریاست اترپردیش کا تذکرہ نہ کیا جائے تو یہ بات عجیب ہوگی۔ ریاست اترپردیش بھارت کی وہ واحد ریاست ہے، جہاں مسلمانوں کی کل آبادی کا 22.34 فیصد حصہ ہے۔3کروڑ 84لاکھ 83ہزار 927 مسلمانوں کی آبادی والی ریاست نہ صرف بھارت کے تناظر میں سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے بلکہ ریاست کی آبادی کو دنیا میں موجود مسلمانوں کی کل آبادی کے تناسب میں دیکھا جائے تو بھی اس کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ پوری دنیا میں فی الوقت ایک سو پانچ کروڑ مسلمان موجود ہیں، اِن میں تقریباً 4کروڑ مسلمان بھارت کی ریاست اترپردیش میں رہتے ہیں، یہ دنیا کی کل مسلم آبادی کا 2.53فیصد حصہ ہیں۔

بھارت کی سوا ارب کی اس آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۱۴ فیصد ہے، لیکن ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق ملک میں بھیک مانگنے والا ہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔یہ انکشاف بھی 2011ء میں کی جانے والی مردم شماری کی رپورٹ کی بنیاد پر تیارکردہ اعداد و شمار میں ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 72.79 کروڑ افراد ایسے ہیں جو بے روزگار ہیں یا کام نہیں کرتے، ان میں سے 3.7 لاکھ بھیک مانگ کر گزر بسر کرتے ہیں۔ ان بھکاریوں میں سے مسلمانوں کی تعداد بھیک مانگنے والوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً پچیس فیصد بنتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہندو، بھارت کی آبادی کا 8.97 فیصد ہیں لیکن ان میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد 2.28 لاکھ ہے۔ واضح رہے کہ ہندوؤں کی مردم شماری میں قبائلیوں اورانتہائی پسماندہ ذات کے دلتوں نیز دیگر کئی ایسے فرقوں کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے جو خود کو ہندو قرار نہیں دیتے۔ عیسائی جن کا تناسب مجموعی آبادی میں2.3 فیصد ہے ان میں بھیک مانگنے والوں کی شرح0.88 فیصد، بدھ مت کے ماننے والوں میں 0.25 فیصد، سکھوں میں0.54 فیصد، جین دھرم کے ماننے والوں میں0.60 فیصد اور دیگر فرقے کے بھیک مانگنے والوں کی شرح 0.30 فیصد ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں مردوں کے مقابلے میں بھیک مانگنے والی خواتین کی تعداد زیادہ ہے، جو بقیہ تمام فرقوں میں پائے جانے والے رجحان سے یکسر مختلف ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر بھیک مانگنے والے مردوں کا قومی اوسط 53.13فیصد اور خواتین کا46.87فیصد ہے جبکہ مسلمانوں میں یہ تناسب مردوں میں 43.61فیصد اور خواتین میں 56.38فیصد ہے۔یوں تو بھارت میں بھیک مانگنا غیر قانونی ہے اور اس جرم کے لیے تین سے دس سال تک کی سزا ہے، تاہم حقوقِ انسانی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ قانون کافی مبہم ہے اور اس میں بھیک مانگنے والوں اور بے گھر اور بے زمین مزدوروں میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے اور اپنی روزی روٹی کے لیے گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہروں میں نقل مکانی کرنے والوں کو بھی بھیک مانگنے والوں کے زمرے میں ہی رکھ دیا گیا ہے۔۔خیال رہے کہ بھارت میں مسلمانوں کی اقتصادی، سماجی اور تعلیمی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے سابقہ متحدہ ترقی پسند اتحاد حکومت نے جسٹس راجندر سچر کی قیادت میں 2005ء میں ایک کمیٹی قائم کی تھی۔ جس نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ملک میں مسلمانوں کی حالت سب سے پسماندہ سمجھے جانے والے دلت فرقے سے بھی بدتر ہے۔ سچر کمیٹی نے اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے بعض سفارشات بھی کی تھیں۔ ان سفارشات پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے کنڈو کمیٹی بنائی گئی تھی۔ کمیٹی کے سربراہ ماہر اقتصادیات پروفیسر امیتابھ کنڈوکا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی اقتصادی، تعلیمی اور سماجی صورت حال اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا تناسب پچھلے دس برسوں میں پانچ فیصد سے بڑھ کر 8.5 فیصد تو ہوگیا ہے، تاہم یہ ان کی آبادی کے تناسب سے اب بھی کافی کم ہے۔ سرکاری ادارہ نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن نے 2013ء میں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ اعلیٰ تعلیم میں قومی شرح 23.6 فیصد ہے جب کہ مسلمانوں میں یہ شرح 13.8فیصد ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کی شرح خواندگی سب سے کم 81 فیصد ہے جب کہ ہندوؤں میں یہ شرح 91فیصد، سِکھوں میں 84فیصد اور عیسائیوں میں سب سے زیادہ یعنی 94فیصد ہے، سچر کمیٹی کی ہی رپورٹ نے پہلی بار اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ بھارت کی جیلوں میں مسلمانوں کی تعدادملک میں ان کی آبادی کے تناسب سے بہت زیادہ ہے، یعنی پورے ملک میں مسلمانوں کی آبادی جہاں تقریباً 12 فیصد ہے، وہیں جیلوں میں ان کی آبادی تقریباً 22 فیصد ہے۔ سب سے زیادہ مسلم قیدی مہاراشٹر میں ہیں، لیکن موجودہ اعداد و شمار کے مطابق مسلم قیدیوں کے معاملے میں پہلے نمبر پر مغربی بنگال ہے، جب کہ مہاراشٹر اب دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق، سب سے زیادہ 47 فیصد مسلم قیدی مغربی بنگال میں، 32 فیصد مسلم قیدی مہاراشٹر میں، 26 فیصد اتر پردیش میں اور 23 فیصد مسلم قیدی بہار میں ہیں۔ یہی وہ چار ریاستیں ہیں جہاں پر زیر سماعت مسلم قیدیوں کی تعداد سزایافتہ مسلم قیدیوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اس سے مسلمانوں کے ساتھ پولس کا متعصبانہ رویہ صاف طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز نے پچھلے سال مہاراشٹر کی متعدد جیلوں کا سروے کیا تھا اور ان میں قیدمسلم قیدیوں کی صورتِ حال کو جاننے کی کوشش کی تھی جس کے دوران مسلم قیدیوں سے متعلق حقائق سامنے ٓائے کہ ممبئی سنٹرل تھانے اورسنٹرل جیل میں مسلم قیدیوں کی کل تعداد 52 فیصد ہے اور یہ تمام قیدی انڈر ٹرائل ہیں۔ پورے مہاراشٹر میں 18 سے 30 سال کی عمر کے جتنے بھی قیدی ہیں، ان میں مسلم قیدی 65.5 فیصد ہیں۔ یہ مسلم قیدی یا تو اَن پڑھ ہیں یا پھر انہوں نے صرف پرائمری اسکول تک تعلیم حاصل کی ہے۔ گرفتاری کے وقت بہت کم مسلم ایسے تھے جو بے روزگار رہے ہوں، بلکہ زیادہ تر کچھ نہ کما ضرور رہے تھے اور ان کی ماہانہ آمدنی 2000 روپے سے لے کر 5000 روپے تک تھی۔ تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا کہ جو مسلم نوجوان گرفتار کیے گئے وہ اپنی فیملی میں کمانے والے واحد فرد تھے۔ جن مسلم قیدیوں کا انٹرویو کیا گیا ان میں سے 75.5 فیصد ایسے تھے، جنہیں پہلی بار گرفتار کیا گیا تھا، یعنی وہ کرمنل بیک گراؤنڈ کے نہیں تھے۔

یہ ہیں وہ حقائق جو ہمیں رب کی شکر گزار کرنے کی جانب متوجہ کرتے ہیں ۔جو قومیں نعمت کی قدر نہیں کرتیں ، اﷲ ان سے نعمتیں چھین لیتا ہے ۔خاکم بدہن پاکستان جیسی نعمت کی قدر نہ کی گئی تو بھارتی مسلمانوں سے بد تر انجام ہمارا منتظر ہوگا۔اﷲ نہ کرے۔(عداد و شمار کے لیے ادارہ معارف کا شکریہ)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Saghir Qamar

Read More Articles by Muhammad Saghir Qamar: 51 Articles with 22099 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Apr, 2017 Views: 297

Comments

آپ کی رائے