آسان تفسیر سورۃ النجم

(Mehboob Hassan, Faisalabad)
سورۃ النجم 62آیات پر مشتمل مکی سورت ہے۔یہ پہلی سورت ہے جس کا نبی ﷺ نے اعلان کیا ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرم شریف میں اس کو پڑھ کر سنایا اور مشرکین اس کو سن رہے تھے۔اور یہی سب سے پہلی سورت ہے جس میں آیتِ سجدہ نازل ہوئی۔اس موقع کی عجیب بات یہ تھی کہ جب نبی کریمﷺ نے آیتِ سجدہ پر سجدہ کیا تو آپﷺ کے ساتھ نہ صرف مسلمان بلکہ کفار اور مشرکین بھی سجدہ میں گر گئے ۔بخاری شریف میں حدیث شریف ہے کہ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے سورۃ النجم کا سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں،مشرکوں اور جن و انس نے بھی سجدہ کیا۔اسی سورت میں معراج شریف کا ذکر کیا گیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفیﷺ کو عالم بالا کی سیر کرائی اور اپنا دیدار کرایا۔

اگر حصول حاجت کیلئے کوئی شخص اس سورت کو اکیس بار پڑھے اسکے دل کی مراد پوری ہو گی۔
ترجمہ:
اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔
اس پیارے چمکتے ستارے( روشن ستارے)محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی قسم!جب وہ(چشمِ زدن میں شبِ معراج اوپر جا کر)نیچے اترے۔(نجم سے مراد ہے ذاتِ گرامی ہادی برحق سید عالمینﷺ کی ۔)(۱)تمہیں اپنی صحبت سے نوازنے والے(یعنی تمہیں اپنے فیضِ صحبت سے صحابی بنانے والے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نہ(کبھی)راہ بھولے اور نہ(کبھی)راہ سے بھٹکے۔(۲)اور وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتے۔(۳)ان کا ارشاد سراسر وحی ہوتا ہے جو انہیں کی جاتی ہے۔(۴) ان کو بڑی قوتوں والے(رب)نے(براہِ راست)علمِ (کامل)سے نوازا۔(۵)جو حسنِ مطلق ہے،پھراس (جلوہ حسن)نے(اپنے)ظہور کا ارادہ فرمایا۔(۶)اور وہ(محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معراج کی شب عالمِ مکاں کے)سب سے اونچے کنارے پر تھے(یعنی عالم خلق کی انتہا پر تھے)۔(۷)پھر وہ (رب العزت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے)قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہو گیا(یہ معنی امام بخاری نے حضرت انسؓ سے الجامع الصیح میں روایت کیا ہے،مزیدحضرت عبداللہ بن عباسؓ،امام حسن بصری،امام جعفر صادق،محمد بن کعب القرضی التابعی،ضحاک رضی اللہ عنہم اور دیگر کئی آئمہ تفسیرکا قول بھی یہی ہے۔)۔(۸)پھر(جلوہ حق اور حبیب مکرمﷺ میں صرف)دو کمانوں کی مقدارفاصلہ رہ گیا یا(انتہائے قرب میں)اس سے بھی کم(ہو گیا)۔(۹)پس(اس خاص مقام قرب و وصال پر)اس (اللہ)نے اپنے عبد(محبوب)کی طرف وحی فرمائی جو (بھی)وحی فرمائی۔(قرب خاص میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے کو اپنا دیدار کرایااور براہ راست وحی کی۔اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ ان آیات میں جبریل امین ؑ اور نبی کریمﷺ کا ذکر ہے تو پھر اس آیت کی تفسیر میں مشکل پیش آجائے گی کیونکہ حضرت محمد مصطفیﷺ جبریل امین ؑ کے بندے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دیدار کیلئے ہی ان کو معراج کرائی گئی تھی۔حضرت عبداللہ بن شقیق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوذرؓ سے پوچھا کہ اگر میں رسولﷺ کو دیکھتاتو میں ان سے ضرور سوال کرتا۔حضرت ابوذرؓ نے کہا :تو رسولﷺ سے کس چیز کے بارے میں سوال کرتا؟اس نے کہا کہ میں آپﷺ سے سوال کرتا کہ کیا آپﷺ نے اپنے رب کو دیکھا؟حضرت ابوذرؓ نے کہا کہ میں نے پوچھا تھا اور رسولﷺ نے فرمایا:میں نے نور(یعنی اپنے رب )کو دیکھا(مسلم)حضرت عکرمہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا کہ حضرت محمدﷺ نے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا ہے۔میں نے کہا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا؟آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کر سکتیں اور وہ سب آنکھوں کو محیط ہے۔حضرت ابن عباسؓ نے فرمایاکہ یہ اس وقت ہو گا جب وہ اپنے اس نور سے تجلی فرمائے گا جو اس کا خاص نور ہے(یعنی غیر متناہی نور)اور بیشک نبیﷺ نے اپنے رب تعالیٰکو دو مرتبہ دیکھا ہے۔(ترمذی)حضرت ابوذرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسولﷺ سے سوال کیا کہ کیا آپ ﷺ نے اپنے رب تعالیٰ کو دیکھا ہے؟آپﷺ نے فرمایا:وہ نور ہے میں نے اس کو جہاں سے بھی دیکھا وہ نور ہی نور ہے۔(مسلم)حضرت حسن بصریؓ اس بات پر قسم کھاتے تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب کا دیدار کیا۔حضرت امام احمد بن حنبل سے جب دریافت کیا جاتا کہ نبی کریمﷺ نے اپنے رب کا دیدار کیاتو آپ جواب میں فرماتے:ہاں!نبی کریمﷺ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے یہ جملہ اتنی بار دہراتے کہ آپ کا سانس ٹوٹ جاتا(تفسیر روح المعانی)سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں:پھر شاہد مستور ازل نے چہرہ سے پردہ اٹھایا اور خلوت گاہ راز میں ناز ونیاز کے وہ پیغام ادا ہوئے جن کی لطافت و نزاکت بار الفاظ کی متحمل نہیں ہو سکتی۔پس اللہ تعالیٰ نے اپنے (خاص)بندہ کی طرف وحی فرمائی جو وحی فرمائی۔)(۱۰)انہوں( رسول مکرمﷺ)نے جو دیکھا (ان کے)دل نے اسکی تکذیب نہیں کی۔(۱۱)کیا تم ان سے اس پر جھگڑتے ہو جو انہوں نے دیکھا؟(۱۲)اور بیشک انہوں نے تو اس(جلوہ حق)کو دوسری مرتبہ(پھر) دیکھا(اور تم ایک بار دیکھنے پر ہی جھگڑ رہے ہو۔اس آیت کی تفسیر میں مفتی احمد یار خان نعیمی لکھتے ہیں کہ یہاں دو بار سے مراد بار بار دیکھنا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی درخواست پر نمازیں کم کرانے کیلئے نبی کریمﷺ بار بار بارگاہِ الہٰی میں حاضر ہوئے)۔( ۱۳)سدرۃ المنتہٰی کے پاس۔(۱۴)اسی کے پاس جنت الماویٰ(Everlasting Paradise ) ہے(حضرت آدم ؑ اسی جنت میں قیام پذیر تھے جہاں سے انہیں زمین پر اتارا گیا)۔(۱۵)جب نورِ حق کی تجلیات سدرۃ(المنتہٰی)کو(بھی)ڈھانپ رہی تھیں جو کہ(اس پر)سایہ فگن تھیں۔(۱۶)اور ان کی آنکھ نہ کسی اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے بڑھی(جس کو تکنا تھا اسی پر جمی رہی۔یعنی نبی کریمﷺ کی چشمانِ مبارک صرف اللہ تعالیٰ کے دیدار میں مستغرق رہیں کسی اور طرف متوجہ نہیں ہوئیں)۔(۱۷) بیشک انہوں نے(معراج کی شب)اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں۔(۱۸)کیا تم نے لات اورعزیٰ(دیویوں)پر غور کیا ہے؟(۱۹)اور اس تیسری ایک اور(دیوی)منات کو بھی غور سے دیکھا ہے؟( تم نے انہیں اللہ کی بیٹیاں بنا رکھا ہے؟)(۲۰)(اے مشرکو!)کیا تمہارے لئے بیٹے ہیں اور اس(اللہ )کیلئے بیٹیاں ہیں؟(۲۱)یہ تقسیم تو بہت بے انصافی کی ہے۔(۲۲)مگر(حقیقت یہ ہے کہ)وہ( بت)تو صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گھڑ لئے ہیں،اللہ نے تو ان کی کوئی سند نازل نہیں کی،وہ لوگ محض وہم وگمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشاتِ نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔(۲۳)پھر کیا انسان کو وہی مل جاتا ہے جس کی تمنا کرتا ہے؟(۲۴)پس آخرت اور دنیا کا مالک تو اللہ ہی ہے۔(۲۵)اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کیلئے چاہے اجازت دیدے۔(۲۶)بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ ملائکہ کے عورتوں کے سے نام رکھتے ہیں۔(۲۷)اور انہیں اس کا کچھ بھی علم نہیں ہے،وہ صرف گمان کے پیچھے چلتے ہیں اور بیشک گمان یقین کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔(۲۸)سو(اے رسولﷺ) آپ اپنی توجہ اس سے ہٹا لیں جو ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے اور سوائے دنیا کی زندگی کے اور کوئی مقصد نہیں رکھتا۔(۲۹)یہاں تک ان (لوگوں)کے علم کی پہنچ ہے(کہ دنیا ہی سب کچھ ہے اسکے بعد کچھ نہیں)،بیشک آپ کا رب اس کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بہک گیا ہے اور اس کو بھی خوب جانتا ہے جس نے ہدایت پا لی ہے۔(۳۰)اور زمین و آسمان کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے تاکہ جن لوگوں نے برائیاں کیں انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے اور جن لوگوں نے نیکیاں کیں انہیں اچھا اجر عطا فرمائے۔(۳۱)جو لوگ صغیرہ گناہوں (اور لغزشوں)کے سوا بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں ،بیشک آپ کا رب بخشش کی بڑی گنجائش رکھنے والا ہے، وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اس نے تمہاری زندگی کی ابتداء اور نشوونما زمین(یعنی مٹی)سے کی تھی اور جبکہ تماپنی ماؤں کے پیٹ میں جنین(یعنی حمل)کی صورت میں تھے،پس تم اپنے آپ کو بڑا پاک و صاف مت جتایا کرو،وہ خوب جانتا ہے کہ(اصل)پرہیزگار کون ہے۔(۳۲)کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے(حق سے)منہ پھیر لیا؟(۳۳)اور تھوڑا سا(مال راہِ حق میں)دے کر رک گیا۔(مروی ہے ولید بن مغیرہ نبیﷺ کے پاس آیا،ان کا وعظ سن کر اس کا دل متاثر ہوا اور قریب تھا کہ وہ اسلام قبول کر لیتا ایک مشرک نے اس کو عار دلائی اور کہا کہ تو نے اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیااور ان کو گمراہ قرار دیا اور تو نے گمان کیا کہ وہ جہنم میں ہوں گے۔ولید نے کہا کہ مجھے اللہ کے عذاب کا خطرہ ہے۔اس مشرک نے کہا کہ اگر تو مجھے اپنے مال سے کچھ دے تو میں تیرا عذاب برداشت کروں گا ۔اس وعدہ پر ولید اپنے شرک پر برقرار رہا،جتنا مال دینے کا وعدہ کیا تھا اس میں سے کچھ مال دیا مگر بعد میں بخل کیا اور باقی مال دینے سے رک گیا ۔اس وقت یہ آیات ناز ل ہوئیں۔)(۳۴)کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے؟(ولید بن مغیرہ نے اسلام اسلئے قبول نہ کیا کیونکہ اسکے مشرک ساتھی نے اس سے کہا تھا کہ قیامت کے دن اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ سے اگر ولید کیلئے عذاب کا فیصلہ کیا گیا تو وہ عذاب کو اپنے سر لے کر ولید کو بچا لے گا ۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ کیا ولید کو علم غیب حاصل تھا جس سے اس نے دیکھ لیا کہ بروز قیامت کوئی دوسرا آدمی اس کا عذاب اپنے سر لے کر اسے بچا لے گا؟حالانکہ یہ سراسر دھوکہ ہے مگر نامعلوم ولید نے کس بنا پر اس کو تسلیم کر لیا)(۳۵) کیا اسے ان باتوں کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ(علیہ السلام)کے صحیفوں میں تھیں؟(۳۶)یا ابراہیم ؑ کے صحیفوں میں تھیں؟جنہوں نے(حق طاعت و رسالت)پورا کیا۔(۳۷)کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے(کے گناہوں)کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ۔(۳۸)اور یہ کہ انسان کو(عدل میں)وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے کوشش کی ہوگی(رہا فضل تو اس پر کسی کا حق نہیں وہ محض اللہ تعالیٰ کی عطا ء ورضا ہے جس پر جتنا چاہے کر دے)۔(۳۹)اور یہ کہ اسکی کوشش جلد دکھا دی جائے گی۔(۴۰)پھر اسے(اسکی ہر کوشش کا)پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔(۴۱)اور یہ کہ آخرکار سب کو آپ کے رب ہی کی طرف پہنچنا ہے۔(۴۲)اور یہ کہ وہی ہنساتا ہے اور وہی رلاتا ہے۔(۴۳)اور یہ کہ وہی مارتا اور زندہ کرتا ہے۔(۴۴)اور یہ کہ اسی نے نراور مادہ کے جوڑے پیدا کئے۔(۴۵)نطفہ(ایک تولیدی قطرہ)سے جبکہ وہ(رحمِ مادہ میں)ٹپکایا جاتا ہے۔( ۴۶ )اور یہ کہ دوسری بار زندہ کر کے اٹھانا اسی کے ذمہ ہے۔(۴۷)اور یہ کہ وہی(بقدرِ ضرورت دے کر) غنی کردیتا ہے اور وہی(ضرورت سے زائد دے کر)خزانے بھر دیتا ہے۔(۴۸)اور یہ کہ وہی ستارہ شِعریٰ کا رب ہے(جس کی دورِ جاہلیت میں پوجا کی جاتی تھی)۔(۴۹)اور یہ کہ اسی نے عادِ اول کو ہلاک کیا۔(۵۰)اور ثمود میں سے بھی کسی کو باقی نہ چھوڑا۔(۵۱)اور ان سے پہلے قومِ نو ح کو بھی ہلاک کیا،بیشک وہ بڑے ہی ظالم اور بڑے ہی سرکش تھے۔(۵۲)اور (قوم لوط ؑ کی)الٹی ہوئی بستیوں کو(اوپر اٹھا کر)اسی نے نیچے دے پٹکا۔(۵۳)تو اس پر چھایا جو کچھ چھایا(یعنی پھر ان پر پتھروں کی بارش کر دی گئی)۔(۵۴)پس(اے انسان!)تو اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں شک کرے گا؟( ۵۵)یہ(رسول اکرمﷺ بھی)اگلے ڈر سنانے والوں میں سے ایک ڈر سنانے والے ہیں۔(۵۶) پاس آئی پاس آنے والی(یعنی قیامت)۔(۵۷)اللہ کے سوا اسے کوئی ظاہر (اور قائم)کرنے والا نہیں ہے۔(۵۸)پس کیا تم اس کلام سے تعجب کرتے ہو؟(۵۹)اور تم ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو۔ (۶۰)اور تم(غفلت کی)کھیل میں پڑے ہو۔(۶۱)پس اللہ کیلئے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔ (۶۲)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mehboob Hassan

Read More Articles by Mehboob Hassan: 36 Articles with 29583 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Apr, 2017 Views: 394

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ