ٹھگ بھوکا نہیں مر سکتا

(Dr B.A Khurram, Karachi)

’’کہا جاتا ہے کہ جب تک لالچی زندہ ہے ٹھگ بھوکا نہیں مر سکتا‘‘جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ سیاستدان بڑے بڑے گینگسٹرز کی سرپرستی کرتے نظر آتے ہیں، عوام سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں ،عوام کے لئے شروع ہونے والے بڑے بڑے منصوبوں میں ٹھگی کرتے ہیں ،عوام کو سنہرے خواب دکھا کر ان سے مینڈیٹ چھین لیتے ہیں اور پھر اسی مینڈیٹ سے ملنے والے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر یہ لوگ عوام کا سارا سرمایہ اس قدر لوٹتے ہیں کہ وہ بس پیٹ کے پیچھے بھاگنے جوگا رہ جاتا ہے او ر اگر کسی صورت قسمت عوام کا ساتھ دے بھی جائے اور ایک ٹھگ کا راز افشاں ہو بھی جائے تو دوسرا آجاتا ہے جو اس سے بھی بڑے خوابوں ککی رعنائیوں کے پیچھے عوام کو لگا دیتا ہے اسی طرح یہ کڑی چلتی رہتی ہے۔ اس سب کے پیچھے حقیقت یہ ہے کہ جب تک ایک فراڈیے کو سزا نہیں ملے گی تب تک قانون کی پاسداری ممکن نہیں۔ملک کی خوشحالی ممکن نہیں جیسا کہ ہم پٹواری کی ہی ایک مثال لیتے ہیں کہ وہ ایک فرد ملکیت بنانے کے 100روپے رشوت لیتا تھا جو بڑھتے بڑھتے ہزاروں میں چلی گئی اس کا بھی حساب نہ ہوا تو اس نے لاوارث زمینوں پر قبضہ شروع کر دیا اور جب اس پر بھی اس سے اس پر پوچھ گچھ نہ ہوئی تو اس نے ملکیتی زمینوں میں ہر پھیر شروع کر دیاجسکی وجہ سے نہ صرف ملکی خزانے کو بلکہ عام لوگوں کو بھی کافی حد تک مالی نقصان پہنچا اور لوگ آج بھی کورٹ کچہریوں کے چکر لگا کر ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ایک پولیس والا جو 50روپے سے شروع کرتا ہے اور پھر ناجائز عوام کا اغواء کرکے تاوان وصول کرنے لگتا ہے اور جب اس صورت میں بھی اس کی کوئی پکڑ نہیں ہوتی تو وہ پیسے لے کر جعلی پولیس مقابلے کرنے لگ جاتا ہے۔ اسی طرح نادرا آفس میں چھوٹی چھوٹی کرپشن کرنے والا ایک دن دہشت گردوں اور غیر ملکیوں کے شناختی کارڈ بنانے لگ جاتا ہے اس طرح کی بہت سی مثالیں ہمیں دیکھنے ،سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں۔ پاکستان میں اتنی تعداد میں دہشت گرد اور غیر ملکی ایجنٹس کا ہونا اسی کرپشن کی بدولت ہے یہ ٹھگوں کا پورا ٹولہ ہر محکمے اور ہر ادارے میں چپڑاسی سے لے کر حکمرانوں تک ایک دوسرے سے کڑی ملی ہوئی ہے ۔یہ چھوٹے چھوٹے جرائم بڑے ہوتے جارہے ہیں حال ہی گزرا ہوا ایک واقع یاد آتا ہے کہ میرے پاس دوخواتین آئیں اور انہوں نے بتایا کہ شاہین ایئر لائنز کی ایک اقراء شرمین نامی کیبن کریو جو کہ پشاور ٹرمینل پر تعینات ہے انہیں ایئر ہوسٹس بھرتی کرانے کا لالچ دے کر ان سے پانچ لاکھ روپے بٹور کر لے اڑی لیکن نوکری نہ لگوائی میں نے ان کی باتوں کو خاص سنجیدہ نہ لیا اور الٹا سخت الفاظ میں کہا کہ اس طرح کے لالچ میں آکر پیسے دینے کی کیا ضرورت تھی!! میں اس سلسلے میں آپ کوئی مدد نہنہیں کر سکتا۔ایک دن گزرنے کے بعد ایک عمر رسیدہ خاتون میرے پاس آئیں اور مجھے بتایا کہ وہ ان دولڑکیوں کی ماں ہے، خاوندفوت ہوچکاہے!! گھر کے حالات سے مجبور ہو کر بچیوں کو نوکری تلاش کرنے کو کہا لیکن ان کی دوست نے ہمیں لوٹ لیا۔ وہ زارو قطار روتے ہوئے بتانے لگی کہ میں نے گھر کا کچھ سامان او رشتہ داروں سے پیسے ادھار لے کر وہ پانچ لاکھ دئیے تھے۔ مجھ سے اس برگزیدہ عورت کے آنسوں دیکھے نہ گئے اورمیں نے تفصیل لے کر اسے تسلی دے کر بھیج دیا ۔بعدازاں میں نے شاہیں ایئر لائنز کی ویب سائٹ پر دیئے گئے ای میل ایڈریس اور وٹس ایپ نمبر پر معاملے کے خلاف شکایت ارسال کی اور ایکشن لینے کی درخواست کی لیکن کوئی جواب نہ آیا ۔تب مجھے لگا کہسب ایک ہی تھالی کے چٹے وٹے ہیں کوئی کچھ نہیں کرے گا جو اس نے پانچ لاکھ لئے وہ ظاہر ہے اس اکیلی نے تو نہیں کھائے ہونگے افسران بالا تک بھی گئے ہوں گے آخر اس نے خود کو محفوظ بھی تو کرنا تھا۔خیر ابھی میرے پاس ایک راستہ اور بھی موجود تھا اور وہ یہ کہ میں اس بوڑھی عورت کے ساتھ مقامی پولیس سے رابطہ کروں ۔ تب میں نے مقامی پولیس سے رابطہ کیا تو چند نام نہاد معزز ین علاقہ میرے پاس آئے اور مذکورہ کیبن کریو کی حمایت کرنے لگے کہ وہ لڑکی ذات ہے پولیس کو معاملے میں نہ لائیں ان خواتین کے پیسے واپس کرتے ہیں اور کچھ دن کا وقت مانگا کچھ بعد 80فیصد رقم دے کر بقایا رقم کی معافی مانگ لی اور چلے گئے۔ اس واقع کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ مستقبل میں ایسی سوچ رکھنے والی کیبن کریو کس حد تک جا سکتی ہے؟؟ وہ اپنی ایئر لائنز اور ملکی سلامتی کو بھی پیسے کے لئے داؤ پر لگا سکتی ہے۔کیونکہ چھوٹے جرم سے ہی بڑ ے جرم تک رسائی ہوتی ہے عزیر بلوچ کا معاملہ سب کے سامنے ہے۔ایک گلی محلے کا چھوٹا سا بد معاش ملکی سلامتی کے لئے کتنا بڑا خطرہ بن گیا۔ بنیادی وجہ ہیں کہ جب چھوٹے جرائم سے بڑے جرائم کی ابتدا ہوتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 550 Articles with 234933 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Apr, 2017 Views: 277

Comments

آپ کی رائے