شعبان کا مہینہ اور اس کے اعمال

(Nadeem Ahmed Ansari, India)

 ’ شعبان ‘کے پانچ حروف
’شعبان‘اسلامی سال کا آٹھواں قمری مہینہ ہے،جس کا تلفظ’ شَعْبَانْ‘ہے اور ہمیشہ مذکر استعمال ہوتا ہے۔شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں:لفظ شعبان میں پانچ حروف ہیں:ش - ع-ب-الف-ن۔ان میں سے ہر حرف ایک خاص معنی ظاہر کرتا ہے؛’ش‘سے شرف، ’ع‘ سے علو یعنی بلندی، ’ب‘سے برّیعنی نیکی، ’الف‘ سے الفت، ’ن‘ سے نورمراد ہے۔یہ سب اﷲ تعالیٰ کی طرف بندوں کے لیے خصوصی انعامات ہیں۔(الغنیہ)

شعبان کی اہمیت
حضرت اسامہ بن زید رضی اﷲ عنہماسے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم! میں نے آپ کو شعبان کے مہینے سے زیادہ کسی مہینے میں(نفلی )روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ماہِ شعبان ، رجب اور رمضان کا درمیانی مہینہ ہے ، جس سے لوگ غافل ہوتے ہیں، جب کہ اس مہینے میں لوگوں کے اعمال اﷲ رب العالمین کے سامنے پیش ہوتے ہیں۔میں پسند کرتاہوں کہ جب میرے اعمال(اﷲ کے حضورپیش)ہوں تو میں روزے دار ہوں۔(نسائی)

سب سے افضل روزہ
حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا گیاکہ رمضان کے بعد سب سے افضل روزہ کون ساہے ؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شعبان کا (روزہ)رمضان کی تعظیم کے لیے۔(ترمذی)نیز حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:میں نے حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کو (رمضان کے علاوہ) شعبان سے زیادہ کسی ماہ میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ شعبان کے اکثر حصّے میں آپ روزے رکھتے تھے، بلکہ (قریب قریب )تمام مہینہ کے روزے رکھتے تھے۔(بخاری)یہ ترقی کر کے حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کاتمام ماہِ شعبان کے روزوں کاذکر صاف بتلاتاہے کہ اس سے مبالغہ مقصود ہے۔ (خصائلِ نبوی)

شبِ برأت
شبِ برأت اسلام میں ایک مبارک رات ہے،جس کی فضیلت بہت سی احادیث سے ثابت ہے۔شبِ براأت کے بارے میں مسلمانوں کے مختلف طبقات پاے جاتے ہیں،بعض لوگ سرے سے اس مبارک رات کی کسی قسم کی فضیلت کے ہی قائل نہیں اور بعض اسے شبِ قدر کے ہم پلہ شب سمجھتے ہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ یہ دونوں ہی موقف نا درست ہیں۔ احا دیث میں اس رات کی فضیلت پر متعدد روایتیں وارد ہوئی ہیں گو کہ قرآن میں اس رات کا ذکر موجود نہیں۔ حدیث کے مطابق چوں کہ اس رات میں بے شمار گناہ گار وں کی مغفرت اور مجرموں کی بخشش ہوتی ہے اور عذابِ جہنم سے چھٹکارا اور نجات ملتی ہے، اس لیے عرف میں اس رات کا نام ’ شبِ برأ ت‘مشہور ہوگیا۔ البتہ! حدیث شریف میں اس رات کا کوئی مخصوص نام نہیں آیابلکہ لیلۃ النصف من شعبان، یعنی شعبان کی درمیانی شب کہہ کر اس کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔

شبِ برأت کی حقیقت
اﷲ سبحانہ وتقدس کا ارشاد ہے:(مفہوم) قسم ہے اس کتابِ واضح کی۔ہم نے اس کو اتارا،ایک برکت والی رات میں ، ہم ہیں کہہ سنانے والے۔ اسی میں جداہوتاہے ہرکام جانچاہوا، حکم ہو کر ہمارے پاس سے، ہم ہیں بھیجنے والے۔(الدخان)

جمہور مفسرین کے نزدیک اس رات (جس کا یہاں ذکر ہوا)شبِ قدر ہے، البتہ عکرمہ ؒ اور مفسرین کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ اس سے مراد شبِ برأت ہے۔ خیر مذکورہ آیت میں لیلۃ المبارکہ سے مراد جو بھی ہو لیکن احادیث سے تواس رات کا مبارک ومحمود ہونا ثابت ہوتاہی ہے، جیسا کہ آگے آرہاہے۔

شبِ برأت کی فضیلت
حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اﷲ سبحانہ وتقدس، شعبان کی پندرھویں رات (یعنی چودہ اور پندرہ شعبان کی درمیانی رات )میں اپنی تمام مخلوق پر خصوصی توجہ فرماتے ہیں ، پس سب کی مغفرت فر مادیتے ہیں، سوائے مشرک اورکینہ رکھنے والے کے۔(صحیح ابن حبان)ایک روایت میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اﷲ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات میں ا پنی مخلوق کی طرف خصوصی توجہ فرماتے ہیں اور اپنے بندوں کی مغفرت فرما دیتے ہیں ، سوائے دو کے اور وہ دویہ ہیں؛(۱)کینہ رکھنے والا اور(۲)ناحق کسی کا قتل کرنے والا۔(مسند احمد)

شبِ برأت میں صیام و قیام
حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا : جب شعبان کی پندرھویں رات ہوتواس میں قیام کرواور اس کے دن میں روزہ رکھو ، اس لیے کہ اﷲ تعالیٰ اس رات میں غروبِ آفتاب ہی سے آسمانِ دنیا پر( اپنی شان کے موافق )نزول فرماتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ ہے کوئی مغفرت طلب کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کردوں ؟ ہے کوئی رزق طلب کرنے والا کہ میں اس کو روزی دوں؟ ہے کوئی مصیبت میں مبتلاکہ میں اس کو عافیت دوں ؟ اسی طرح اور بھی ندائیں جاری رہتی ہیں ، یہاں تک کہ صبحِ صادق ہو۔(ابن ماجہ)اسی لیے علماء نے پندرھویں شعبان کے قیام و صیام کو سنت ومستحب لکھا ہے۔

نصف شعبان کے بعد نفلی روزہ
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب نصف شعبان ہو جائے تو روزہ نہ رکھو۔(ابو داود)اس حدیث کے مطابق نصف شعبان کے بعد نفلی روزے رکھنا منع ہے،جب کہ دیگر روایات میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اس مہینے میں کثرت سے روزے رکھتے تھے اور کثرت کا مفہوم تب ہی صادق آئے گا جب کہ نصف سے زیادہ روزے رکھے جائیں۔اس لیے اہلِ علم نے ان احادیث میں تطبیق دی اور بتایا ہے کہ نصف شعبان کے بعد روزے رکھنے کی ممانعت اس شخص کے لیے ہے جو عمداً رمضان المبارک کی خاطر ان دنوں میں روزے رکھے اور پھر کمزور ہو جائے۔

یومِ شک کا روزہ
یومِ شک سے مراد تیس شعبان ہے،حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلمنے فرمایا:تم میں سے کوئی رمضان سے ایک دو دن پہلے روزے نہ رکھے،البتہ اگر کسی کو ان دنوں میں روزہ رکھنے کا معمول ہوتو وہ شخص روزہ رکھ سکتا ہے۔(بخاری)

اس کے متعلق بھی فقہاے کرام کی مختلف آراء ہیں کہ اس دن روزہ رکھنا افضل ہے یا نہ رکھنا۔صحیح بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے شعبان میں روزے رکھے یا وہ مسلسل روزے رکھتا ہے تو اس کے لیے یہ روزہ رکھنا افضل ہے،ورنہ نہ رکھناافضل ہے۔( فقہ الحنفی و ادلتہ)

چاند کی تلاش
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رمضان کے لیے شعبان کے چاند کے دن گنتے رہو۔(ترمذی)اسی لیے ماہِ شعبان کی۲۹؍ تاریخ کو غروبِ آفتاب کے وقت رمضان المبارک کا چاند دیکھنا یعنی دیکھنے کی کوشش کرنا اور مطلع پر تلاش کرنا ضروری ہے تاکہ شعبان کی ۲۹؍ تاریخ کو رمضان المبارک کا چاند نظر آجائے تو اگلے دن سے رمضان کا روزہ رکھا جاسکے ،لیکن اگراس دن چاند نظر نہ آئے جب کہ مطلع صاف ہو، تو صبح کو روزہ نہیں رکھا جائے گا۔ ہاں اگر مطلع پر ابر یا غبار تھا تو اگلے روز صبح کو دس گیارہ بجے تک کچھ کھانا- پینا نہیں چاہیے اور اگر تب تک کہیں سے چاند نظر آنے کی خبر معتبر طریقے سے آجائے تو روزہ کی نیت کرلی جائے، ورنہ کھا پی سکتے ہیں لیکن ۲۹؍ شعبان کو چاند نظر نہ آنے کی صورت میں اگلی صبح کے روزہ کی اس طرح نیت کرنا کہ چاند ہوگیا تو رمضان کا روزہ ورنہ نفل، یہ طریقہ مکروہ ہے۔(عالمگیری) رسول اﷲ حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے :چاند دیکھ کر روزے رکھنے کا آغاز کرو اور چاند دیکھ روزے رکھنا موقوف کرو، پھر اگر مطلع ابر آلود ہو اور چاند نظر نہ آئے ، تو شعبان کے تیس دن پورے کرو۔(نسائی)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maulana Nadeem Ahmed Ansari

Read More Articles by Maulana Nadeem Ahmed Ansari: 238 Articles with 145533 views »
(M.A., Journalist).. View More
03 May, 2017 Views: 538

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ