غربت امارت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے

(Syed Anis Bukhari, Karachi)

پاکستان میں غربت ان 3فیصد امارت زدہ لٹیروں کی غریبوں کے خلاف وہ گھناؤنی سازش ہے جسکے ذریعے انہوں نے اپنی امار ت کا جال پھیلا کر انہیں غلاموں کی طرح زندگی بسر کرنے کیلئے پھنسا رکھا ہے۔ دولت کی غیر مساوایانہ تقسیم غربت کی سے بڑی وجہ ہے مگر ہمارے مذہبی ٹھیکیدار جو ہمارے سیاستدانوں ، جاگیر دارو، سرمایہ داروں اور امراء کے گماشتوں کا کردار ادا کرتے ہوئے غربت کو مذہبی رنگ دے کر اسے قسمت کا لکھا قرار دیتے ہیں۔دولت کا چند ہاتھوں میں مرکوز ہونا ہی غربت کا سب سے بڑا عنصر ہے ۔ اگر دولت کی تقسیم مساویا نا اور منصفانہ ہو تو ہمیں فلاحی اور ان خیراتی اداروں کی ضرورت ہی نہ پڑے جہاں انسان کی عزت نفس کو پامال کیا جاتا ہے۔انتہائی مخدوش حالات میں کچرے کے ڈھیر پر زندگی بسر کرنے والے ننگ دھڑنگ بھوک کے ستائے ہوئے اور ہڈیوں کے ڈھانچہ نما لاغر یہ بچے جو بھوک اور سرکش موسموں سے لڑتے ہوئے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں مگر ہمارے حکمرانوں نے تا حال انکی بے بسی کے بارے میں کوئی ایسا پروگرام تشکیل نہیں دیا جس سے یہ بھی اپنی زندگیوں میں آسودگی پیدا کر سکیں۔ہماری سرمایہ دارانہ پالیسیاں ہمیشہ اپنے طبقے کیلئے ہوتی ہیں جبکہ غربت کی شرح مذید ان غریب کش پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ سرمایا دارانہ پالیسیاں عوام دوست نہیں بلکہ عوام دشمن ہوتی ہیں جن کا فائدہ ہمیشہ سرمایا دارانہ طبقے کو ہوتا ہے اور وہ روز بروز امیر سے امیرتر اور غریب غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ہے۔دولت کی منصفانہ اور مساویانہ تقسیم کیلئے تمام محنت کشوں، غریبوں اور عام لوگوں کو میدان عمل میں اتر کر باہمی تعاون کے ذریعے غربت کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھانا ہونگے اور امارت کو ہر قدم پر رد کرنا ہوگا۔ پاکستان کی 45فیصد آبادی کے پاس اپنی شکم کی آگ بجھانے کیلئے کھانا نہیں ہے ، بیماریوں سے لڑنے اور نبرد آزما ہونے کیلئے نہ ہی ادویات ہیں اور نہ ہی ایسے ہسپتال ہیں جہاں وہ اپنا علاج کروا سکیں جو سرکاری ہسپتال ہیں وہاں کے حالات انتہائی مخدوش ہیں نہ ادویات نہ ہی صفائی کا نظام جس سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ حکومت کے 2016ء میں پولیو کے خاتمے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں بلکہ بہت سی متعدی بیماریاں واپس لوٹ کر آ رہی ہیں ، بچے مر رہے ہیں مگر انکی ادویات ہسپتالوں میسر نہیں ہیں ۔، تعلیم کی روشنی سے منور ہونے کیلئے وہ مواقع نہیں ہیں جنہیں استعمال کرکے غریب طبقہ بھی جہالت کے اندھیروں سے باہر نکل سکیں اور یہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے معمور ہو سکیں ، قانون اور انصاف جو ان امارت زدہ لٹیروں کے گھر کی لونڈی ہیں غحربت سے لڑتے ہوئے یہ لوگ اسے حاصل کرنے کیلئے ترستے ہیں مگر ان کی توقیر کا یہ عالم ہے کہ انہیں کوئی گھا س ہی نہیں ڈالتا یہ لوگ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے چھوٹے موٹے جرائم کرتے ہیں اور جیلوں میں ایسے لوگوں کی بھرمار ہے، ملازمتیں نا پید ہو چکی ہیں اور غریب لوگ اپنے حالات سے تنگ آ کر خود کشیاں کر رہے ہیں وہ اپنے معصوم بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہیں، غریب خواتین دو وقت کی روٹی کیلئے جسم فروشی پر مجبور ہیں ۔ معاشرے کے یہ ٹھکرائے ہوئے لوگ جرائم کرنے پر مجبور ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں دہشت گردی کا بڑھتا ہوا عفریت بھی غربت کا شاخسانہ ہے ۔ یہ غریب لوگ اپنے غموں کے مداوے کیلئے نشے کا سہارا لیتے ہیں اور چرس، افیون، ہیروئن، مارفیا اور پیتھاڈین جیسے خطرناک نشوں کے عادی ہو چکے ہیں۔غربت ہمیشہ امارت کی کوکھ سے جنم لیتی ہے کیونکہ جاگیر دار اور سرمایا دار دو ایسے لازمی اور گھناونے عنصر ہیں جو غربت کو بڑھانے میں انتہائی ظالمانہ کردا ر اداکرتے ہیں کیونکہ غربت کا خاتمہ انکی ترجیحات میں شامل نہیں ہے اور یہ دونوں طبقات نہ صرف عام زندگی میں غریبوں پر حاوی ہوتے ہیں بلکہ یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے حکمرانوں کی شکل میں نہ صرف غریبوں کی لوٹ مار میں مصروف ہیں بلکہ یہ ہمارے ملک کے قومی خزانے کو بھی مختلف طریقوں سے لوٹ کر یہاں سے لوٹی ہوئی دولت کو بیرونی ممالک کے بینکوں میں رکھتے ہیں اور وہاں پر جائیدادیں بناتے ہیں اور اپنا تمام کاروبار بھی بیرونی ممالک میں رکھتے ہیں ۔ انکا علاج بھی بیرونی ممالک میں ہوتا ہے اور انکے بچے بھی بیرونی ممالک میں پڑھتے ہیں سا را بچپن اور جوانی عیاشیوں میں یورپ ، امریکہ ، اور مغربی ممالک میں گزارتے ہیں انہیں ہمارے معاشرے کے عام لوگوں کے مسائل کے بارے میں نہ ہی کوئی علم ہے اور نہ یہ ہمارے مسائل کا ادراک رکھتے ہیں اور یہ صرف ہم پر راج کرنے آتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی طرح اپنی مرضی سے اس ملک کے غریب عوام کو ہانکتے ہیں اور لوٹتے ہیں۔ غربت کے خاتمے کیلئے ہر سال ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اور اسکے لئے اربوں کے فنڈات مختص کئے جاتے ہیں مگر یہ سب کے سب بد دیانت اور بے ایمان سیاستدان، بیوروکریٹ اور حکمران کھا جاتے ہیں اور غربت کا پھن پھیلاتا ہو ا یہ اژدہا انتہائی تیزی سے غریبوں کو ہڑپ کر رہا ہے اور آنے والے وقت میں پاکستان میں 5-6 کروڑ انسان ایسے ہونگے جو غربت کی بھینٹ چڑھ جائینگے اور بیماریوں میں مبتلا ہوکر ، بھوک اور ننگ سے مر رہے ہونگے۔ پاکستان میں ہر سال صرف 47فیصد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں جبکہ35لاکھ بچے وٹامن اے اور ڈی کی کمی کا شکار ہیں ۔ ہر سال موسم گرما اور موسم سرما میں 14فیصد بچے موسموں کی نا قابل برداشت مشکلات کا شکار ہو کر مر جاتے ہیں کیونکہ انکے گھروں میں موسم سے لڑنے کیلئے معقول انتظامات نہیں ہیں نہ ہی موسم کے مطابق پہہننے کیلئے کپڑے اور خوراک جو انہیں موسموں سے محفوظ رکھ سکیں۔ اسی طرح پینے کا گندہ پانی اور صفائی کے نا قص انتظامات اور سینٹری کا نظام انتہائی مخدوش ہیں جس سے ہر سال غربت زدہ علاقوں میں پینے کے پانی میں گٹروں کا پانی مل جانے سے اموات میں 20 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور یہ انتہائی مایوس کن اور تشویشناک صورت حال ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی چشم پوشی کا یہ حال ہے کہ وہ قومی خزانے کی لوٹ مار میں تو مشغول ہیں مگر غربت کے خاتمے کیلئے انکے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ٹھوس اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ غریب لوگوں کیلئے پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں ہے۔ دولت مند اشرافیہ جس کا اشیائے خوردو نوش پر مکمل اختیار ہے غریبوں کو ملاوٹ شدہ اشیائے خوردو نو ش کھلا کر نہ صرف بیمار کررہی ہے بلکہ ْغریب طبقے کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے اسکے پا س نہ ہی بیماریوں سے نبر د آزما ہونے کیلئے ادویات ہیں اور نہ ہی اچھی خوراک ہے جسکے نتیجے میں ایک عام آدمی کی زندگی اوسطاً 45-50 سال رہ گئی ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان امارت نے فاصلے کو انتہائی کم کرکے رکھ دیا ہے جس کی وجہ سے غریب کی زندگی کے دن کم سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔اسکی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ غربت روز بروز بڑھ رہی ہے جبکہ اشرافیہ ہر قسم کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ ہر سال غربت ، بھوک، ننگ ، بیماریوں، اور ملاوٹ شدہ اشیائے خوردو نوش اور خوراک کی کمی کی وجہ سے پیدائش سے لیکر 17سال کی عمر کے ڈھائی لاکھ بچے ہر سال موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں مگر کوئی ٹھوس اقداما ت نہیں اٹھائے جا رہے کیونکہ اشرافیہ نہیں چاہتی کہ غربت سے نمٹا جائے غربت اسکا موضوع ہی نہیں ہے۔

حکومت نے ایک عام مزدور کی کم از کم تنخواہ 14000روپے مقرر کی ہے مگر صنعت کار، سرمایا دار اور جاگیر دار انہیں مقرر کردہ اجرت دینے کو ہر گز ہر گز تیار نہیں ہیں اور وہ غربت کا فائدہ اٹھا کر انہیں 3000-5000روپے پر ٹرخار کر اپنا کام چلا رہا ہے مگر حکومت انکے خلاف کسی قسم کی کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایک سرورے کے مطابق حکمرانوں کی کرپشن نے پاکستان میں غربت کی شرح میں 8.5 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح اشیائے خور دو نوش کی اشیاء میں ہوش ربا مہنگائی نے جہاں غریبو ں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہیں غریب بھوک سے اور فاقوں سے مر رہے ہیں۔ پاکستان میں املاک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں امراء کے وارے نیارے کئے ہیں وہیں ایک غریب آدمی کیلئے یہ مشکل نہیں بلکہ نا ممکن ہو گیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے بچوں کے سر چھپانے کیلئے انہیں چھت فراہم کر سکے۔ مگر تا حال حکومت نے کوئی ایسے پروگرام شروع نہیں کئے جن سے ایک غریب آدمی کو سر چھپانے کیلئے چھت فراہم ہو سکے۔ اسی طرح حکومت کو چاہئیے کہ وہ غیر معیاری اشائے خور دو نو ش کی فروخت پر سخت اقدا مات اٹھاتے ہوئے ایسے لوگوں کو سخت سے سخت سزائیں دے جو نہ صرف اشیائے خور دو نوش میں ملاوٹ کررہے ہیں بلکہ ادویات میں بھی ملاوٹ کرکے غریبوں کو مارنے کے درپے ہیں اس صورت حال سے نبٹنے کیلئے جتنی جلد ہو سکے ایسے پروگرام تشکیل دئے جائیں اور ان پر فور ی عملدرامد کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی کو صحت مندغذا اور ماحول فراہم کیا جا سکے۔غریبوں کیلئے ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے صاف شفاف پروگرام شروع کئے جائیں اور ملازمتوں میں کرپشن کے خاتمے کیلئے سخت ترین پروگرام تشکیل دیئے جائیں اور ملازمتوں میں کرپٹ عناصر کیلئے سخت سے سخت سزائیں تجویز کرکے انہیں انکے عبرت ناک انجام تک پہنچایا جائے تاکہ غریب بھی ملازمتیں حاصل کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

ہمارے ملک میں 8 کروڑ لوگوں میں سے 80فیصد وہ لوگ جو کم از کم اجرت پر کام کرتے ہیں ایسے ہیں جو اپنی بیماریوں سے نہیں لڑ سکتے کیونکہ انکے علاج کیلئے نہ ہی انکی ملازمتوں میں انکے آجر حضرات نے کوئی ایسا پروگرام تشکیل دے رکھا ہے اور نہ ہی گورنمنٹ کی طرف سے کوئی ایسا پروگرام ہے جس سے یہ لوگ فائدہ اٹھا سکیں اور ان حالات میں یہ غریب لو گ ادویات کے حصول میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں۔

غریبوں کیلئے انتہائی آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کا پروگرام تشکیل دیا جائے جو کسی بھی سیاسی دباؤ سے آزاد ہو اور ہر ایک اسے آسانی سے حاصل کرسکے۔ ہمارے یہاں جتنے بھی پروگرام بنائے گئے ہیں وہ سب کے سب سیاسی بنیادوں پر چلائے جاتے ہیں جس سے عام آدمی مستفید نہیں ہوتا اور اندھا بانٹے روڑیاں اپنوں میں کے مصداق یہ قرض صرف ان لوگوں کو ملتا ہے جو غریب نہیں ہوتے اور سیاستدانوں کے رشتے دار یا پھر انکے چہیتے ہوتے ہیں۔

کم آمدنی والوں کیلئے حکومت کو ایسے پروگرام تشکیل دینے چاہئیں جس سے غریب لوگ فائدہ اٹھا سکیں انکے لئے راشن کارڈ مہیا کئے جائیں اور انہیں کھانے پینے کی اشیاء انتہائی کم نرخوں پر دی جائیں اسی طرح انہیں بجلی کے بلوں میں بھی رعایت دی جائے ، اور انہیں مکانات بنا کر دئے جائیں تاکہ یہ لوگ اپنی زندگی کو آسودہ بنا سکیں۔ بوڑھوں ، ناداروں اور اپاہج لوگوں کی بہتری کے پرو گرام تشکیل دئے جائیں تاکہ وہ ان سے استفادہ کر سکیں اور غربت میں کمی واقع ہو سکے۔

ہمیں سرمایا داروں، جاگیر داروں، سیاستدانوں اورانہیں مذہبی معاونت فراہم کرنے والے ان مذہبی ٹھیکییدارو ں کے خلاف نبرد آزما ہونا ہے جو افراط زر کے سب سے بڑے ذمہ دار ہیں اور غربت کو بڑھانے میں اپنا گھناؤنا کردار ادا کرتے ہوئے ایک بار پھر اس معاشرے میں غلامانہ روش کو دوبارہ قائم کرنے کے درپے ہیں۔ ہمیں موجودہ استحصالی نظام کے سامنے ڈٹ کر اس نظام کو جوتے کی نوک پر رکھے کر اسے ٹھکرانے کی ازحد ضرورت ہے تاکہ ہم اس غیر انسانی نظام سے نجات حاصل کر سکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Anis Bukhari

Read More Articles by Syed Anis Bukhari: 93 Articles with 65145 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 May, 2017 Views: 508

Comments

آپ کی رائے