روشن خیالی کا موجودہ تصور اور اسلام

(Aitazaz Hassan, Islamabad)

کہا جاتا ہے کہ دنیا کو روشن خیالی یورپ نے دی ۔ میرے خیال میں اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر ہم چند صدیاں پیچھے جائیں جب امریکہ میں فقط چند و حشی قبائل (Red indians )آباد تھے اس وقت یورپ بھی تاریکیوں یعنی (dark ages) میں تھا ۔ پھر یہ روشن خیالی آئی کہاں سے؟ اس کے متعلق مہند ر ناتھ رائے (M.N Roy ) جوکہ کمیونسٹ انٹر نیشنل کا رکن تھا سے سنتے ہیں ۔ اس نے 1920 ء میں لاہور کے اندر ایک خطبے میں کہا کہ جو لوگ مسلمان عربوں کی فتوحات کوسکندر اعظم یا چنگینز خان کی فتوحات پر قیاس کرتے ہیں وہ بہت بڑے مغالطے میں ہیں ۔ان کی فتوحات سے دنیا میں تاریکی کے علاوہ کچھ نہیں آیا ۔ لیکن مسلمانوں کی فتوحات نے دنیا میں جو طوفان بر پا کیا اس سے دنیامیں نئی روشنی آئی۔ ٔ تہذیب و تمدن آیا ۔ مغرب میں جو روشن خیالی آئی وہ تمام قرطبہ ، غر ناطہ اور تلیتوا کی یو نیورسٹیوں کا فیص تھا ۔ اسی لئے اب بھی یورپ کا انر کو رقر آنی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ یورپ کا انر کور قرآنی کیسے ؟ اس بات کو ذرایوں سمجھتے کہ اسلام سے پہلے دنیا تو ہم پر ستی میں پڑی ہوئی تھی ۔ اور فلسفہ میں صرف استخراجی منطق تھا ۔ یعنی (Deductive Knowledge) ۔ اور حکم حمت کا یہی واحد ذریعہ تھا۔ اسلام نے آکر دنیا کو تتو ہم پرستی سے نکالا ، جیساکہ قرآن میں ہے کہ اس چیز کے پیچھے مت چلو جس کا تمہارے پاس علم نہیں ۔

اسی طرح اسلام نے دنیا میں استقرائی منطق یعنی (Inductive Knowledge) کو متعارف کر ایا۔ قرآن نے لوگوں کو اس چیز پر ابھارا کہ اﷲ کی تحقیقات کو دیکھو اس پر غور و فکر کر و اور پھر اس سے نتا ئج نکالو۔ یہ علم جدید سائنس کی بنیاد بنا اور یہ سائنس ہی دراصل مغرب کا انر کورہے ۔

لیکن آج کل جو واحیات تہذیب اور نظریات پیش کئے جا رہے ہیں ۔ یہ کہاں سے آئے ؟ اس کا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ ہی نہیں۔ اسکی تاریخ کچھ یوں ہے کہ ایک وقت تھا جب یہودی یورپ میں بہت قابل نفرت سمجھے جاتے تھے۔ یہ شہروں دور گھیٹوز (Ghettos) میں رہتے تھے۔ عیسائی ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرتے تھے کیونکہ وہ جنہیں خدا کا بیٹا کہتے تھے۔ یہودی اسے ناجائز اولاد کہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا یہ کامز مر تد تھا اسلئے ہم نے اسے سو لی پر چڑھا دیا ۔یہی وجہ تھی کہ اسپین کو فتح کر نے میں یہودیوں نے مسلمانوں کی مدد کی ۔ اور بعد میں مسلمانوں نے بھی انہیں تکریم دی۔ اب جب یہاں پر قرطبہ اور غر ناطہ و غیرہ میں بڑی بڑی یو نیورسٹیاں قائم ہوئیں ۔ تو فرانس اور اٹلی وغیرہ سے لوگ علم حاصل کرنے آنے لگے۔ اب یہودیوں کو ان سے اپنی ذلت کا بدلہ لینے کی سوجھی اور یہودیوں نے ان نوجوانوں کو زہر کے انجیکشن لگانے شروع کر دیئے ۔

انہوں نے روشن خیالی کے نام پر تین چیزیں ان میں انجیکٹ کیں ۔ آزادی ایسی کہ خدا سے بھی آزاد ہو جا ؤ۔ حاکم اعلیٰ اﷲ نہیں عوام ہیں ۔ دوسرا یہ کہ مساوات مردوزن کی آڑ میں کہا کہ عورت کو بھی مرد بنا دو ۔ گھر سے نکالو اور معاشی نظام میں لے ا ٓؤ۔ اسی طرح جسم کی پیا س کے لئے شادی کی کیا ضرورت ۔ جس سے چاہیے بجھا لو ۔ اس سے خاندانی نظام تباہ و بر باد ہو گیا اب دیکھ لیں مغرب کی اکثر نئی نسل کو باپ کا علم ہی نہیں ۔

تیسری چیز معیشیت میں یہ نکاری کا نظام بھی ۔ یہودی سوچ کی پیداوار ہے۔ علامہ اقبال نے بھی کہا
؂ ایں بنوک ، ایں فکر حالاک یہود

اس سودی نظام نے معاشرتی طور پر دنیا کو تباہ کر دیا ۔ اس نظام کو بھی سب سے پہلے بر طانیہ نے قبول کیا اور لینک آف انگلینڈ بنا یا۔

آج کے دور کی تہذیب میں بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ اور بھی ہے ۔ وہ یہ کہ اﷲ نے انسان کو علم کیلئے دو آنکھیں دیں ۔ ایک آنکھ حاصل شدہ علم (Acquired Knowledge) کے لئے جو کہ اﷲ نے روز اؤل ہی آدم کو عطا کر دیا تھا ۔ اور دوسری آنکھ وحی کے علم Revealed Knowledge) ( کیلئے دی جو کہ آج قرآن اور باقی صحائف کی شکل میں موجود ہے۔ اب انسان نے علم وحی سے آنکھ بند کر دی اور حاصل شدہ علم سے ترقی کر تا گیا ہے۔ اس ترقی کی وجہ سے جوروشن خیالی آئی اس نے انسانیت کو یک چشم د جالیت کی طرف دھکیل دیا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان کی ساری توجہ آخر ت کے بجائے دنیا پر ہو گئی ۔ اﷲ کے بجائے کائنات پر ہو گئی۔ روح کی بجائے جسم پر ہو گئی۔ اور انسان نے اپنا سارا زور جسم کی ضروریات پورا کرنے میں لگا دیا۔ اﷲ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فر مایا ۔

"ان لوگوں جیسے نہ ہو جانا جن لو گوں نے اﷲ کو بھلا دیا تو اﷲ نے انہیں اپنے آپ سے ہی غافل کر دیا ۔ یہی لوگ فاسق ہیں۔"

لیکن اگر انسان کی دونوں انکھیں کھلی رہتیں تو دنیامیں وہ روشن خیالی آتی جو محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے پیش کی۔ اس سے انسان ترقی کی منزلیں بھی عبور کر تا اور یہ گمراہی بھی نہ آتی۔ آج بھی انسان اگر فلاح چاہتا ہے تو اسے محمد عربی صلی اﷲ وآلہ وسلم کے قوانین کو اپنی زندگیوں پر نا فظ کر نا ہو گا ۔ کیونکہ یہی واحد راستہ فلاح و ہدایت کا راستہ ہے۔

(جزاک اﷲ )
ـ ْؐ؁ٍُِّؑ تحریر : اعتزاز حسن

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aitazaz Hassan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2017 Views: 1038

Comments

آپ کی رائے