وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ

(Amna yousaf, Lahore)
اسلام میں عورت کا مقام

میرا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں "اسلام" کا "نام" تو لیا جاتا ہے لیکن وہاں "اسلام" کا "نفاذ" نہیں-
اسلام محض "عورت کا پردہ" ہے یا پھر "عورت تک محدود ہے"
میرے گھر و خاندان کی مثال بھی کچھ اسی جیسی ہےجہاں پر "اسلام" کے نام پر ہر وہ بات کی جائےجسکا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں -

آپس میں ماں ، باپ ، بہنوں بھائیوں اور دیگر رشتوں کی قدر نہیں ہے۔جہاں بات بات پر "دین" کا نام لیا جاتا ہے لیکن اسکا" عمل" نہیں -
جہاں دین کو بس اپنے مفاد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے-

دور نہ جاؤں تو میرے چاچے( اللہ انہیں ہدایت دے ) ایک کے بعد ایک بیوی کرتے چلے گئے کسی کے "جسم"کو "جوتی" کی نظر
کیا تو کسی کی "زندگی" کو "جہنم" کی نظر-
کسے کو "بچے" نہ پیدا ہونے پر چھوڑ دیا تو کسی کو اس لئے کہ "وہ مرد ہے اور شادی اسکا حق ہے"-
خوب سے "خوب تر" کی تلاش میں عورتوں کی "زندگیاں" داؤ پر لگاتے گئے -
اور آج تک "نکاح "میں موجود عورتوں کو "بیوی" ہونے کا "حق "ادا نہ کیا "جوان بیٹیاں "جو بیاہنے کے قابل ہیں وہ کسی بیماری میں مبتلا ہیں یا کسی مسئلہ کا شکار "ان نام کے باپوں "کو اس سے غرض نہیں کیونکہ وہ اپنی زندگی میں اسقدر مگن ہیں کہ "آخرت"کی فکر بھول گئے-

"بیویاں"جو بیچاری بوڑھی ہو چکی جنہیں سہارے کی شدید ضرورت ہے جنہوں نے اپنا سب"تن،من،دھن"شوہروں کے لئےقربان کر دیا اور اس "محرم"نے ایسی "انجانئیت"اپنائی معلوم نہیں کب "وہ" محرم سے "نا محرم"لگنے لگا اور" نئی بیویوں" کے ساتھ اسطرح رہنے لگے جیسے پیچھے کوئی گھرانا
ہی نہیں-

لیکن بیچارے اس بات سے ناواقف ہیں کہ اللہ قرآن میں ارشاد فرماتا ہے
سورہ نساء
ترجمہ!

" اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں "انصاف" نہ کر سکو گے تو "انکے" سوا جو "عورتیں " تم کو پسند ہوں "دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو" اور اگر اس بات کا "اندیشہ "ہو کہ "کئی عورتوں" سے "انصاف"نہ کرسکو گے تو "ایک ہی عورت" سے "نکاح"کرو یا"باندی"سےتعلق رکھو جسکے تم "مالک"ہو اس طرح تم "نا انصافی"سے بچ جاؤ گے ۔"
یہاں " ناانصافی" جو آجکل کی جارہی ہے ، قابلِ غور ہے۔
اللہ نے مرد کو "چار شادیوں" کا حکم دیا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ بتا دیا ہے کہ" اگر "برابری نہ کرنےکا خدشہ ہو تو "ایک ہی کافی ہے" ۔
اللہ یقینً "نا انصافی نہیں کرتا" اور "ناانصافی" کو پسند بھی نہیں فرماتا -

ایک حدیث کا ترجمعہ ہے کہ (مفہوم) " جو مرد بیویوں میں حقوق کی برابری نہیں کرتے وہ قیامت کے روز اللہ کے سامنے ایسے پیش کئے جائیں گے کہ انکا آدھا جسم مفلوج ہوگا اور وہ زمین کے ساتھ گھسیٹ کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے"

اللہ نے مرد کو "ایک رتبہ بلند" رکھا
تاکہ وہ "کمائے اور گھر والوں کا خرچہ اٹھائے" اور عورت کا "نان نفقہ" پوراکرے
کیونکہ حدیث ہے (مفہوم)
" عورت مرد کی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی ٹیرہی ہوتی ہے اگر اسے سیدھا کیا جائے تو وہ ٹوٹ جائے گی اور توڑنا طلاق دینا ہے اس لئے عورتوں سے محبت سے پیش آنے کا حکم ہے "
اس حدیث سے صاف واضح ہے کہ عورت اس لئے پیدا نہیں کی گئی کہ اس سے بچے پیدا کرنے کے بعد چھوڑ دیا جائےیا اس پر "مرد" ہونے کا "رعب" جمایا جائے اور بعد میں دوسری شادی "مرد کا حق ہے"کے نظریے کے تحت کر کے پہلی بیوی کو حقیر ، لاچار، بے بس اور دوسروں کا محتاج کر دیا جائے جو دوسروں کے رحم و کرم پر ہی رہے اور "شوہر" نامی رشتے کو ساری عمر روتی رہے
بلکہ اس لئے پیدا کی گئی ہے کہ وہ تربیت کر کے سات نسلیں چلانے والی ہے

"دینِ اسلام" اللہ اور رسول اللہ کا دین ہے اسمیں "میں"اور"آپ" اپنی مرضی سے نہ کچھ "اضافی ڈال"سکتے ہیں اور نہ "پسند سے نکال سکتے ہیں"

اللہ سورہ نساء میں ارشاد فرماتا ہے

لوگوں اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا یعنی اول اس سے اسکا "جوڑا" بنایا پھر ان دونوں سے کثرت سے "مردوعورت"پیدا کر کے روئے زمین پر پھیلا دئےاور "اللہ"سے ڈرو جس کے واسطے سے "تم ایک دوسرے سے حقوق کا مطالبہ کرتے ہو " اور "قطعہ رحمی سے بچو" کچھ شک نہیں "اللہ" تمہیں دیکھ رہا ہے"

اس آیت میں "اللہ"کہ رہےہیں "اللہ"سے ڈرو "جس کے "واسطے" تم اپنے حقوق" یعنی "مرد عورت سے" "عورت مرد سے" طلب کرتی ہے -
اسکا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے صرف"مرد" کا کہا ہے ۔ عورت و مرد کے برابر "حقوق" کی بات ہے ۔
تو معاشرے میں مرد ہی کیوں
حقوق جتاتا ہے؟
عورت کے حقوق سے تو "دینِ اسلام"بھرا پڑا ہے ۔
پھر ہمارے گھروں میں "لڑکیوں" کو ہی تمیز کیوں سکھائی جاتی ہے ؟
"لڑکوں" کو کیوں نہیں بتایا جاتا ہے وہ ایک "عورت" سے پیدا ہوئےہیں"عورت" سے نکاح کریں گےاور "عورت" کے ہی "باپ" بنے گے؟ کیوں نہیں ایک"بیٹے"کو اپنی آنے والی"بیوی"اور "بننے والے گھرانے "کے "اسلامی آداب اور تمیز"سکھائی جاتی؟
آخر کیوں؟
معاشرہ تو مرد وعورت دونوں کا ہے
گھرانے "مردوعورت" کے "باہمی ملاپ" سے بنتے ہیں تو کیوں آخر عورت ؟

وجودِزن سے ہے
تصویرِ کائنات میں رنگ

عورت ہی ہے جو اصل اس زندگی کی پیداوار اور اسکی بڑھوتری کا حق رکھتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد بھی اس میں برابر کا حقدار ہے لیکن مرد کو "رحمت "نہیں کہا گیا "بیٹی"کو کہا گیا ہے مرد کے پیروں تلے"جنت "نہیں بلکہ "ماں"کے پیروں تلے ہے
بچے کی درسگاہ باپ نہیں بلکہ "ماں کی گود ہے
" نو ماہ "مرد بچے کو "کوکھ"میں نہیں رکھتا بلکہ عورت اسکا" درد" سہتی ہے اور اگر اسکی پیدائش کے دوران وہ "مر" جائے تو وہ"شہید"ہے مرد ہ نہیں-

"تین درجہ" ماں کا حق ہے "باپ" کا نہیں ۔
"پہلی بیٹی" کی پیدائش پرمرد کو "خوش نصیب"کہا گیا ہے "بیٹے" کی پیدائش پر نہیں اور جو باپ اسکی پرورش اور حقوق پورے پورے نبھائے گا وہ "نبی اللہ" کے ساتھ "جنت" میں ایسے ہوگا جیسے "شہادت والی انگلی اور بیچ کی انگلی ساتھ ہوتی ہے بلکل اسطرح۔

میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں "دین" کے نام پر بس "عورت" کا پردہ ہے مرد کا نہیں -
مرد فیس بک ، ٹویٹر، انسٹاگرام اور دیگر ایپس پر اپنی تصویریں لگا سکتا ہے ،غیر محرم عورتوں کو ایڈ کر سکتا ہے ان"غیر محرم" عورتوں سے انکی تصویریں مانگ سکتا ہے کیونکہ وہ "مرد"ہے پھر اس کے بعد وہ ہر اس لڑکی کو "فولو" کر سکتا ہے جو اسکے لئے "غیر محرم" ہے جسے اسکی "سات" تو کیا "سو نسلیں" نہیں جانتی -
کچھ اپنی پرکشش "تصاویر" بھی دیگر عورتوں کی نظر کر سکتا ہے جو دوسروں کو "دین سے پھیر یں" یا اس "مرد" کی طرف راغب کریں یہ سب مرد کر رہا ہے کیونکہ وہ " مرد " ہے ۔
کون سی "حدیث " یا "قرآنی آیت" میں ہے کہ مرد کو جائز ہے کہ وہ سوشل میڈیا یا ویسے ہی کہیں "غیر محرم" عورت کی طرف نگاہ بھی اٹھائے؟ جبکہ مردوں کے لئے بھی "پردے"کا حکم ہے اور وہ نگاہیں نیچی کرنے کا ہے اسکا مطلب مرد غیر محرم عورت دیکھے تو یہ نہیں کہ وہ اس عورت کو "تاڑتا" رہے بلکہ اسکی "شرافت"اس میں ہے کہ وہ اپنے لئے قرآن میں موجود "پردے" کا حکم مانے-

میں ایک ایسے معاشرے سے ہوں جہاں بد قسمتی سے عورت کی "حق تلفی" مرد اپنا "حقِ اول" سمجھتا ہے یہ بات تب ذہن میں آئی جب میرے والد صاحب نے بھی "دوسری شادی "کر لی اور بعد میں قسمیں کھائیں کہ ایسا تو میں نے کیا نہیں لوگ جھوٹ کہ رہے ہیں ۔ لیکن بیوی جو بس اپنے شوہر کو ہی "دنیا"سمجتی ہے جو شوہر کی ایک ایک سانس سے واقف ہوتی ہے بھانپ جاتی ہے شوہر کا بدلہ رویہ میری ماں بھی جان گئی اور بھانپ گئی کہ میرے والد نے دوسری شادی کی ہے اور وہ کوئی "پاکستا نی"
نہ تھی بلکہ "عرب"سے تھی-
میں تب شائد "انیس" سال کی تھی تب میں نے پہلی دفعہ اپنی ماں کی "بے بسی اور لاچاری" دیکھی اس بات پر نہیں کہ میرے والد نے شادی کر لی تھی بللکہ اس بات پر کہ وہ شادی میری ماں کے لئے "ایک دھوکہ" ثابت ہوئی
جب ایک جاننے والے نے میری والدہ سے کہا کہ "آپ دوسری شادی کے دستخط کرنے سے پہلے ہم سے تو پوچھتی " حلانکہ میری والدہ نے تو کوئی "دستخط" نہیں کئے تھے ۔ تب انہیں لگا کہ جو میرے والد میری والدہ کا "شناختی کارڈ" مانگ رہے تھے دوسرے ملک کے "ویزے " کے لئے وہ دراصل "دوسری شادی"کے لئے ہی تھے جو پہلی بیوی کا "اجازت نامہ" تھا "دوسری شادی" کے لئے ۔
اور اس کے لئے "دستخط" لازم تھے

اب تک وہ"حقوق"پینڈنگ ہیں جو میرے ایک "بیٹی" ہونے کے ناطے ہیں اورمیری ماں کے "بیوی "ہونے کے ہیں یا ہم جیسے بہت سی "عورتوں بیٹیوں"کے جنہیں بس اس لئے چپ کروا دیا جاتا ہے
کہ وہ "عورتیں" ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں جیسے کوئی "بھیڑ یا بکری" ہو بس "قربان" کی جائے باقی کسی بھائی،باپ اور شوہر کا فرض نہیں کہ وہ انہیں بھی عزت دیں

ہاں ! میرا تعلق ایک ایسے معاشرے سے ہے جہاں عورت کو حق نہیں وہ پڑھے - میرے معاشرے میں بیٹی کو تعلیم کی اجازت نہیں صرف اس لئے کہ وہ پڑھ لکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑی نہ ہو جائے اور اپنے ذاتی مفادات کا نہ سوچنے لگے - حالانکہ نبی اللہ کا فرمان ہے کہ" علم ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے"
بیٹی کو پڑھائیں گے نہیں تو وہ نسل کیسے چلائے گی ؟-
یہاں پر ایک اور حدیث بھی بتاتی چلوں کہ
(مفہوم)
"بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے"
تو کیسے نہ آپ بچی کو پڑھائیں گے؟
جسنے آپکی اولاد کو معاشرے کی نظر کرناہے؟

میں یہ نہیں کہتی کہ عورتوں کو بے حیائی اور بے غیرتی کی اجازت دی جائے مگر میرا نہیں خیال کے جو ماں باپ اولاد کو شروع سے ہی "دین" کو سیکھنے پر لگاتے ہیں وہ اولاد کبھی انکا "سر "نیچا کرے گی-
دین کی تعلیم ہی وہ "تعلیم" ہے جو ہر مسلمان"مرد اور عورت" پر فرض ہے جو آج کل ہمارے معاشرے میں بلکل بھی نہیں -

لوگوں کا اعتراض ایک اور بات پر ہے کہ چلو پڑھا لکھا کر وہ "نوکری" نہ کرے تو پھر میرا ایک سوال ان "مرد حضرات " سے ہے
کہ وہ اپنی "بیویاں" بچوں کی "پیدائش" کے لئے "غیرت "کی وجہ سے آخر "لیڈی ڈاکٹر کے پاس ہی کیوں لے کر جاتے ہیں؟ کیوں " گائناکولوجسٹ" ڈھونڈتے ہیں ؟
وہ بھی تو کسی کی "بیٹیاں،مائیں،بہنیں"ہیں

"اسلامی تعلیمات"حقیقتً "انسانیت"کا درس دیتی ہے اور جو بیٹی پڑھ لکھ کر "ڈاکٹر" بنے گی وہ "دین میں موجود انسانیت" کو فروغ دے گی -
آپ ہی جیسے کسی پرشان حال کے مسائل حل کرےگی-
اسلام "جدید مذہب" ہے اسکو "جہالت" کی نظر نہ کریں ۔
آج "اسلام" کو "سائنس" مان رہی ہے -
انگریز ہمارے "قرآن" سے مستفید ہورے ہیں اور "مسلمان" اپنی کتاب "قرآن کو غلافوں میں لپیٹ کر عقیدت سے کئی سالوں ایسے رکھتے ہیں کہ اسکو ہاتھ بھی نہیں لگاتے"
افسوس!
جہالت کی اس انتہا نے ہمارے اندر اسقدر اپنی جڑیں گاڑ لیں ہیں کہ ہم اب "انسانیت" کے رشتے کو بھی بھول چکے ہیں -

ہم نے ایسے "رشتوں "کو جنم دیا ہے جو "مردوعورت"میں "تفرق" پیدا کرتا ہے جسے "غیر مسلم نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں" ہمارے بہت سے "ناخواندہ علاقہ جات "جس میں "کاروکاری" اور "ونی" کی رسمیں اب "قانون"بنتی جا رہیں ہیں اور اس میں "کمی"کی بجائے "شدت" آچکی ہے اور کسی صورت اب ہم اس سے انکار نہیں کر سکتے جس کی پہنچائت کا سربراہ "مرد"ہی ہے پھر وہ چاہے کسی بھی قیمت پر عورت "بیچ" دے اور وہ عورت درندوں کی حوس کا نشانہ بن جائے - اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اسکا فیصلہ اٹل ہے -

1400سال پہلے نبی اللہ نے جس دین میں "عورتوں کے حقوق" دے کر عورتوں کو "عزت" بخشی تھی آج وہ بہت سی عورتیں کھو چکیں ہیں ۔
"عورتیں" اب یا تو "بچوں کی ماں" سے جانی جاتی ہے یا پھر "پہلی بیوی" کے نام سے یا "بدکار اور منہوس" کےنام سے-
اللہ نے "مردوں"کوعورتوں کا"محافظ"بنایا ہے مگر عورتیں سڑکوں پر اور عدالتوں میں اپنے حقوق کی خاطر ذلیل ہوتی نظر آتی ہیں کیونکہ وہی "جلائی "جاتی ہیں "ماری "جاتی ہیں گھروں سے "نکالی "جاتی ہیں جائیداد سے "بے دخل " کی جاتی ہیں
مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کے" دین" میں "نیا دین "پیدا کرنے والوں نے آخر یہ فیصلہ کیسے کرلیا کیوں بس دین عورت تک محدود کر دیا ؟ کیوں ہم "صلہ رحمی،جھوٹ،بغض،کینہ،مارکٹائی،زنا،شراب نوشی،دھوکہ دھی،حرام وحلال کے فرق،زکوٰت،حج،نماز،روزہ اخلاقیات "ان سب کا درس کیوں نہیں دیتے ؟ کیوں ہم نے بس عورت تک دین کا خاتمہ کر دیا ؟ آخر کیوں ؟؟ کیوں یہ دین"میرے خونی رشتوں پر لاگو نہیں " ؟ دین تو "مرد و عورت کا برابر حق دینے والا ہے " پھر کیوں آخر اس دنیا میں عورت کی ہی "حق تلفی" ہے آخر کیوں؟
آخر کب تک "بعض مرد حضرات" اس دین کو اپنے مطابق چلاتے رہیں گے ؟
کب تک "حوا کی بیٹی " اس دنیا کے ظلم برداشت کرے گی ؟
آخر کب تک؟
اپنی پیدائش سے لےکر شوہر کے گھر تک (وہ گھر جو اسکا اصل ہے جہاں آجکل اسی کو اس کے گھر سے نکال دیا جاتا ہے) وہ زندگی کی منزلیں طے کرتی ہے -
بچے پیدا کرتی ہے -
ساس سسر جیسے اور دیگر رشتے نبھاتی ہے -
اور پورے گھر کا خیال رکھتی ہے-
پھر آخر میں کیوں اسکا خیال نہیں رکھا جاتا ؟
میرا "دین " تو عورتوں کو "عزت "اور "پورے حقوق" دیتا ہے پھر کیوں ذرا سی غلطی پر اسے اسکے "شوہر" کی جانب سے "طلاق" کی دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے . کیا عورت انسان نہیں؟ یا وہ مردوں کے جیسا "دل" نہیں رکھتی ؟
یا پھر کیا اس نے "قربانیاں "دینے کا ٹھیکا اٹھا رکھا ؟

طلاق والیاں اور بیواؤں پر برے برے الزامات لگائے جاتے ہیں - انکو "بری نگاہ" سے دیکھا جاتا ہے انکے ساتھ بہت برا رویہ رکھا جاتا ہے ۔ میرے اپنے محلے میں ایک دوست ایک چھوٹی سی بچی کے ساتھ طلاق لے کر آئی ہے اور کسطرح وہ اپنے بھائیوں اور باپ کے رحم و کرم ہر ہے یہ یا تو "وہ" جانتی ہے یا اسکا "رب" ۔

"چار شادیاں" کسی "طلاق والی" یا "بیوہ سے بھی ہو سکتی ہے پھر مرد کو "کنواری " ہی کیوں چائیے؟ "دینِ اسلام" تو محبت کا درس دیتا ہے ، "امن کا پیغام" ہے "مساوات" کا درس دیتا ہے پھر ہم کس دین کو مانتے چلے جا رہے ہیں ؟
ہم نے کیسے سوچ لیا کہ "طلاق والی یا بیوہ" برے کردار کی ہے ؟
ہم نے کیسے سو چا کہ "بغیر پردہ" والی "بری" یا "بدکردار" ہے ؟
اسلام تو "بدگمانیوں سے بچاتا ہے پھر ہم نے کس دین کو پکڑ لیا؟

ہم نے کیسے سوچ لیا کہ ہماری "نمازیں" قبول ہونگی حلانکہ ہم نے "بہنوں بیویوں" سے "قطہ تعلقی" کر دی ۔
اللہ تو قرآن میں کہتا ہے
" قطعہ رحمی سے بچو"

پھرانکا کہیں کسی بھی طریقے سے نہ حق ادا کیا نہ زمہ داری اٹھائی۔
پھر سجدوں میں کیا تلاش کرتے ہیں جب "حق تلفی" کا وتیرہ اپنا لیا ؟
یہ "عورت" ہی ہے جو مرد کو جنم دیتی ہے اور یہ "عورت" ہی ہے جو اسی کے ہاتھوں ذلیل ہوتی ہے -
اللہ اپنےحقوق معاف کرے گا مگر "حقوق العباد" کبھی معاف
نہ کرے گا جب تک وہ بندہ آپکو معاف نہ کرےگا -
یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنی من مستی میں اسقدر کھوئے ہیں کسی کو "الفاظوں کی مار " مارتے ہیں تو کسی کو "رویؤں کی مار" -
اللہ تعالٰی یا اسکے نبی اللہ کو زیب دیتا ہے وہ جس کو چاہے اچھا یا برا کہیں یہ حق "انسانوں" کو کیسے حاصل ہوا ؟
شائد لوگ بھول گئے ہیں کہ "گناہ کبیرہ" میں سے ایک گناہ "بھولی بھالی معصوم عورتوں پر الزام لگانا ہے" اسکی معافی نہیں - پھر وہ "طلاق والی ہو یا بیوہ" اللہ کے سوا کون جانتا ہے پسِ پردہ کیا ہے؟
عورت "مرد کی راحت کے لئے ہے"
اسکی جوتی کے لئے نہیں ۔
عورت مرد کی "نسل چلانے کے لئے ہے" مرد کے گھر والوں کےلئے نہیں-
عورت "بچوں کی پرورش "کے لئے ہے اور آج کل جن عورتوں کو ذہنی مریض بنا دیا طعنہ زنی کر کے وہ آپکی اولاد کی نہ پرورش کر سکتی ہیں نہ آپکی اچھی دوست بن سکتی ہیں -

مرد اولاد کو تو دیکھتا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ "بیوی" کی "عزت" بھی اسی کے ہاتھ ہے جو آجکل مرد حضرات کے لئے کرنا دراصل انکی"بے عزتی" کا باعث بن گیا ہے
میاں بیوی کا رشتہ اللہ نے سب سے زیادہ مضبوط بنایا ہے مگر آجکل "اسی رشتے" کی عزت پامال ہو رہی ہے -
"بیوی" بیوی نہیں شوہر کی "ماں " کی نوکرانی ہے .
اور ان کی زندگی کی ڈور نعوذباللہ شوہروں کی "ماں " کے ہاتھ میں ہے -
عورت کو وہ حق دیں جسکی وہ "حقدار" ہے -
وہ آپکو "زمین " سے اٹھا کر "آسمان" پر نہ بیٹھا دے تو گلہ کرنا -
عورت اللہ نے "مضبوط" بنائی ہے اسے توڑ کر "نامرد "ہونے کا ثبوت نہ دیں بلکہ "دینِ اسلام" جو حقوق بتاتا ہے وہ پورے کریں-
اور بیوی سے محبت اور وفاداری کا ثبوت "سنتِ نبوی"کے ذریعے دیں -
اللہ آپکا ضرور ساتھ دےگا - ورنہ اللہ "دماغ سے پھرے" کو ایسا "پھیرتا" ہے وہ "در کا راستہ"بھول جاتا ہے -

اللہ سے اچھے کی امید جو رکھتے ہیں وہ "اسکے بندوں" کی "حق تلفی"نہیں کرتے
کوئی بھی "مکمل" نہیں -

ایک بہن ہونے کے ناطے میری التجا ہے
وہ بہنیں جن سے آپ راضی نہیں انسے راضی ہوجائیں صرف"اللہ کی رضا" کے لئے
آپ نہیں جانتے
جن وجوہات کی بنا پر آپ نے "قطعہ تعلقی "کی وہ حقیقت میں واقعی "وجوہات" ہیں یا آپکے دماغ کا فطور-
بیویوں کو انکا "حق"دیں تاکہ رزق میں "برکت "ہو اور "اولاد"بھی آپکے سامنے آواز نہ اٹھائے-
اپکا "کل" آپ کے اپنے "آج" پر ہے
آج جو آپ ماں،بیٹی،بیوی بہن کے ساتھ کریں گے کل کو وہ "آپکے" سامنے آئے گا -
دین کو سمجھیں اسکو سخت نہ بنائیں نہ یہ آپکے بگاڑنے سے بگڑے گا -
اپنی اولاد کی پرورش میں اپنی عورتوں کا ساتھ دیں ۔ بیٹیوں سے خاص "محبت"رکھیں
کیونکہ "نبی اللہ کے دل کا ٹکڑا فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ تھی" محبت کو قائم رکھیں تاکہ آپ کے اچھے اخلاق انکے لئے رول موڈل ہوں اور وہ آگے اپنے "شوہروں"میں باپ کا کردار ڈھونڈیں۔

انہیں "دوسری شادیاں" کر کے
انکی "ماؤں کی حق تلفی" کر کے
اور "بیٹیوں کے حقوق نظر انداز" کر کے "دماغی باغی" نہ بنائیں اور نہ "بد اخلاقی" کی اور "نفرتوں "کی مثال قائم کریں
آپ نے "دوسری شادی" کر بھی لی تو" باپ "ہونے کے ناطے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ بیٹیوں کے "مسائل "سمجھیں -
انہیں "احساسِ کمتری "میں مبتلا نہ کریں-
اللہ نے "آپکو" اولاد کے لئے "شفقت"بنایا ہے "شفقت"برقرار رہنے دیں آپ"باپ"کی صورت "جنت کا دروازہ" ہیں ۔
اپنے گھر کی بنیادیں دوسری شادی کر کے نہ ہلائیں اور اگر کرنے کا اتنا ہی دل ہے تو بیوی اور اولاد کو "اعتماد"میں لیں اور "برابری"کریں .
اپنے "بیٹوں" کو "عورتوں کی عزت کرنا سکھائیں" کل کو وہ کسی "عورت"کے "شوہر اور باپ" ہونگے -

کل کو کہیں وہ بھی کسی "حوا کی بیٹی" کو کھلونا نہ سمجھیں اور دنیاوآخرت تباہ نہ کرلیں-

اپنے اندر"صبر"اور"تحمل"پیدا کریں-
آپکو دنیا میں لانے والی بھی "عورت"تھی ۔
گھر میں"رحمت" لانے والی بھی عورت ہے -
اور یقینً" جنت میں لے جانے والی بھی "عورت"ہی ہے -
ذرا سوچیں !
جو آپکی راحت کے لئےہے اسکی"راحت"بھی آپ سے ہے بشرطیکہ اگر آپ سمجھیں تو-

اور جس کے دل کا "سکون و راحت" ہی "آپ "سے ہے اسکا "سکون وراحت" گنوا کے آپکو کیا ملے گا ؟
پیار کریں ان سے جو اللہ نے آپ کے لئے "محرم" بنائیں ہیں-
اور ایک سے زائد بیوی ہے تو "برابری"کریں
زندگی خوبصورت ہے اسے عزت اور محبت سے گزار لیں-
آخرت میں "اللہ کو جوابدہ" بھی آپ ہی ہیں -
کسی کا اعتبار توڑ کر اور کسی کی زندگی سے کھیل کر آپکو کچھ نہیں ملے گا-

اللہ آپکا اور میرا حامی و ناصر ہے
طالبِ دعا
آمنہ
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Amna yousaf

Read More Articles by Amna yousaf: 16 Articles with 10499 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 May, 2017 Views: 1523

Comments

آپ کی رائے
dosri ahm bat ye hai k hum har qanoon ko aurat k hawaly se hi dekhty hain k aurat aisa kary aurat pe ye farz hai wo faraz hai magar kia sary qanoon aurat k lia hi hain ... me ne bhut kuch guzarishat likhi hain is pe apny ek column me
http://www.hamariweb.com/articles/article.aspx?id=77441
By: Hamid Raza, Islamabad on Jun, 14 2017
Reply Reply
1 Like
bat apki bilkul drust hai ... mujhy khud ek buzurg chachy ne kaha tha betaa aurat paoon ki jooti hai jaisy hi shadi ho auraat ko dabaa k rakhna ... me ne kaha g han chacha ge aurat insan to hoti hi nhe hai bus ek ghoosht ka jism hai jo tumhari khuwahish pori karny k lia hai
By: Hamid Raza, Islamabad on Jun, 14 2017
Reply Reply
0 Like
میرے خیال سے اسی کو جہالت کہیں گے کہ ہم دین کا نام لگا کر اپنی من مرضی کے فوائد اور حقوق حاصل کرنا چاہیں اور فرائض بھول جائیں یہ نہ تو صرف مرد کرتے ہیں بلکہ عورتیں خود بھی اس میں پیش پیش ہیں جس کی مثال خود ان نے ایک ساس کے طور پہ بھی دی ہے اللہ ہم سب کو اپنی اپنی منزل اور اپنا اپنا کردار سمجھنے اور نبھانے توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین
By: عمران مبارک احمد, لاہور on May, 18 2017
Reply Reply
0 Like
Well great thoughts Allah pak sab ko smjhany ki tofiq ata kre ameen
By: Asif, Dubai on May, 17 2017
Reply Reply
1 Like
Very nice
By: Sumera, Lahore on May, 17 2017
Reply Reply
1 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ