رحمتوں، عظمتوں، برکتوں، نعمتوں کے بھرپور برساؤ کا مہینہ

(Prof Akbar Hashmi, Rawalpindi)

جس کا لمحہ لمحہ اﷲ خالق و رب العالمین کی محبت کا پیغام دیتاہے۔ رمضان المبار ک کے چاند کے طلوع ہوتے ہی کائنات کی فضا میں روح پرور تبدیلی کاسما ں غیرمعمولی انداز میں چھا جاتا ہے۔ جب خاتم النبیین سیدالانبیا والمرسلین ﷺ تاج ختم نبوت سجائے تشریف لے آئے۔ تو اﷲ کے کنبہ(نوع انسانی ) کی رہنمائی کے لیئے مزید کسی ھادی کی ضرورت نہ رہی یعنی نبوت و رسالت کا منصب عروج کی انتہا کو پہنچ گیا۔نوع انسانی کی رہنمائی کے لیئے علما، غوث، قطب اور مجدد تو آتے رہیں گے لیکن انسانی کامیابیوں کے لیئے کوئی نیا نسخہ یا ضابطہ کوئی نہ لاسکے گا۔ اﷲ کا قرب ہی مقصود ہے اور وہ بغیر تقوی کے حاصل نہیں ہوسکتا ۔ جس کے لیئے اﷲ تعالی نے پورا نصاب دیا ہے دیا ہے۔ یو ں توتقوی سے مزین ہونے کے کئی ابواب ہیں لیکن ان میں اہم ترین باب صوم یعنی روزہ قرار دیا۔ چونکہ روزے کا مقصد حصول تقوی ہے اور تقوی کے لیئے ضابطہ کائینات کی ضرورت ہے۔ اﷲ تبارک وتعالی نے ضابطہ کائنات جسے ہم دستور کائنات بھی کہتے ہیں جس ماہ مبارک میں آسمان دنیا پر نازل فرمایا وہ رمضان المبارک ہے۔اسی ماہ مبارک میں جس رات قرآن کریم کا نزول ہوا اسے شب قدر کا درجہ دیدیا گیا۔ لوح محفوظ سے قرآن کریم آسمان دنیا پر ایک مقام بیت العزت میں رکھا گیا جہاں سے بحکم الہی حضرت جبریل علیہ السلام وقتا فوقتا حسب اقتضائے الہی حضرت جبریل علیہ السلام حضور سیدالمرسلین ﷺ کے پاس لاتے رہے ۔تنزیل کا عمل تیئیس سال میں پورا ہوا۔ یوں اس مبارک مہینے کی عظمت قائم ہوئی۔ جب حصول تقوی کے لیئے روزے کا حکم دیا تو روزے رکھنے کے لیئیاسی ماہ مبارک کا انتخاب فرمایا کہ جس میں قرآن عظیم کا نزول فرمایا۔ احکامات صوم قرآن کریم کی سورۃ البقرہ میں ارشاد فرمائے:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم۔ یایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ط ایاما معدودات ط فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر ط و علی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین ط فمن تطوع خیرا فھو خیرلہ ط وان تصوموا خیرلکم ان کنتم تعلمون ط شھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس و بینت من الھدی والفرقان فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ط ومن کان مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر ط یریداﷲ بکم الیسرولا یرید بکم العسر ولتکملوا العدۃ ولتکبراﷲ علی ما ھدکم ولعلکم تشکرون 0 (البقرۃ آیت نمبر ۱۸۳ تا۱۸۵ )

مفہوم آیات مبارکہ:اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے۔ گنتی کے دن ہیں تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہوتو اتنے روزے اور دنوں میں، اور جنہیں اسکی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا، پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے تو وہ اس کے لیئے بہتر ہے، اور روزہ رکھنا تمہارے زیادہ بھلا ہے اگر تم جانو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآ ن اترا ، لوگوں کے لیئے ہدائت اور رہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اسکے روزے رکھے اور جو بیمار اور سفر میں ہوتو اتنے روزے اور دنوں میں ، اﷲ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتااور اس لیئے کہ تم گنتی پوری کرو اور اﷲ کی بڑائی بولواس پر کہ اس نے تمہیں ہدائت کی اور کہیں تم حق گذار ہو(کنزالایمان ترجمہ اعلی حضرت)

رمضان المبارک کی شان و عظمت نزول قرآن سے قائم ہوئی اور جس رات کو نزول پاک ہوا اس رات کی عظمت کا ذکر سورۃ القدر میں بیان فرمایا گیا۔ بیان کردہ آیات کے بعد کی آیات میں دعا، اپنی بیویوں کے پاس رمضان المبارک میں جانے اور احکامات اعتکاف کا بیان ہے۔

اس ماہ مبارک کی فضیلت وہی بتا سکتا ہے جو ماکان و ما یکون کے رازوں سے مطلع ہے اور وہ صرف ایک ذات اقدس ہے کہ رب تعالیٰ نے ان پر اپنا پاک کلام بڑی شان کے ساتھ اتارا۔ آپ ﷺ ہی اﷲ پاک کی رحمتوں کے تفصیلی حالات کے بارے فرماتے ہیں۔

صحیح بخاری شریف و صحیح مسلم شریف میں حدیث بروائت حضرت ابو ہریرہ رضی عنہ۔ حضور اقدس ﷺ فرماتے ہیں جب رمضان آتا ہے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ایک روائت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں ۔ امام احمد و ترمذی اور ابن ماجہ کی روائت میں ہے جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن قید کردیئے ہیں اورجنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور منادی پکارتا ہے اے خیر طلب کرنے والے متوجہ ہو اور شر کے چاہنے والے باز رہ اور کچھ لوگ جہنم سے آزاد ہوتے ہیں اور یہ عمل ہر رات میں ہوتا ہے۔ امام احمد اور امام نسائی کی روائت میں ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا رمضان آیا یہ برکت کا مہینہ ہے اﷲ تعالی نے اسکے روزے تم پر فرض کیئے ۔ اس میں آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور سرکش شیطان کے طوق ڈال دیئے جاتے ہیں اور اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو اسکی بھلائی سے محروم رہا وہ بے شک محروم رہا۔ حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہمافرماتے ہیں کہ جب رمضان کا مہینہ آتا رسول اﷲ ﷺ سب قیدیوں کو رہا فرمادیتے اور ہر سائل کو عطا فرماتے(بیہقی)

بہیقی شعب الایمان میں سیدنا حضرت سلیمان فارسی رضی اﷲ عنہ سے روائت کی گئی کہ رسول اﷲ ﷺ نے شعبان کے آخر دن وعظ فرمایا اے لوگو تمہارے پاس عظمت والا برکت والا مہینہ آیا وہ مہینہ جس میں ایک رات میں قیام (نما پڑھنا) تطوع (سنت) ہے جو اس میں نیکی کا کوئی کام کرے تو ایسا ہے جیسے اور کسی مہنیے میں فرض ادا کیااور اس میں جس نے فرض ادا کیا تو ایسا ہے جیسے اور دنوں میں ستر فرض ادا کیئے۔یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے اور یہ مہینہ مواسات (باہمی محبت و تعلقات کو فروغ دینا)کا ہے اور اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھایا جاتا ہے۔ جو اس میں روزہ دار کو روزہ افطار کرائے اسکے گناہوں کے لیئے مغفرت ہے اور اسکی گردان آگ سے آزاد کردی جائے گی اور اس افطار کرانے والے کو ویسا ہی ثواب ملے گا جیسا روزہ رکھنے والے کو ملے گا بغیر اسکے کہ اس کے اجر میں کچھ کم ہو۔ہم نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم ہم میں کا ہر شخص وہ چیز نہیں پاتا جس سے روزہ افطار کرائے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالی یہ ثواب اس شخص کو دے گا جو ایک گھونٹ دودھ یا ایک خرما یا ایک گھونٹ پانی سے روزہ افطار کرائے اور جس نے روزہ دار کو بھر پیٹ کھانا کھلایا اس کو اﷲ تعالی میرے حوض سے پلائے گا کہ کبھی پیاسا نہیں ہوگایہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے ۔ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس کا اول رحمت ہے اور اس کا اوسط مغفرت ہے اور آخر جہنم سے سے آزادی ہے۔ جو اپنے غلام(آجکل غلام نہیں ملازم ہیں) پر اس مہینے میں تخفیف کرے یعنی کام میں کمی کرے اﷲ تعالی اسے بخش دے گا اور جہنم سے آزاد فرمادے گا۔

ایک اور حدیث میں حضرت سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں ایک دروازے کا نام ریان ہے اس دروازے سے وہی جائیں گے جو روزہ رکھتے ہیں (صحیحین،ترمذی و نسائی) بخاری و مسلم شریف میں حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے رسول اﷲ ﷺ فرماتے ہیں جو ایمان کی وجہ اور ثواب کے لیئے رمضان کی راتوں کا قیام کرے گا اس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جو ایمان کی وجہ سے اور ثواب کے لیئے شب قدر کا قیام کرے گا اسکے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔صادق المصدوق سیدالکونین ﷺ کے بے شما رفرامین رمضان المبار ک میں اعمال صالحہ اداکرنے اور رمضان المبارک کی رحمتوں و برکتوں کے حصول کے بارے کتب احادیث میں موجود ہیں۔ ان تمام کا یہاں ذکر کرنا مشکل ہے۔ البتہ ایک حدیث شریف ذکر کرکے کے مسائل کے بارے لکھا جائے گا۔ ابن خزیمہ نے ابومسعود رضی اﷲ عنہ سے ایک طویل حدیث روائت کی اس میں یہ بھی ہیکہ حضور سیدالمرسلین ﷺ نے فرمایا کہ اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت تمنا کرتی کہ پورا سال رمضان ہی ہوتا۔

مسائل رمضان المبارک:مسلمان کا صبح صادق سے غروب آفتاب تک بقصد عبادت اﷲ رب العالمین کی خوشنودی کے حصول کے لیئے قصدا کھانے پینے اور جماع دور رہنا۔ خواتین ماہانہ بیماری اور پیدائش اطفال کے بعد پاک ہونے تک روزہ نہ رکھیں بعد میں اور دنوں میں گنتی پوری کرنی ہوگی۔ بیمار اور مسافر اور دنوں میں گنتی پوری کریں۔ اﷲ کی عبادت کرنے والے خود جانتے ہیں کہ بیماری کی کیا نوعیت ہے ۔ ممکنہ حد تک روزہ رکھا جائے کیونکہ رمضان کے روزے کا بدل نہیں۔ آجکل سفر آسان ہیں نہ ہی اتنی مشقت کہ بھوک پیاس ستائے اور سحری افطاری کے اوقات میں کھانے پینے کی کوئی قلت نہیں ہوتی۔ ان حالات میں مسافر روزہ رکھے اور اگر نہیں رکھا تو سر عام دوسروں کے سامنے کھانے پینے سے اجتناب کرنا احترام رمضان کے لیئے ضروری ہے۔ روزہ کی نیت بس یہی ہے کہ دلی ارادہ روزہ رکھنے کا ہو۔ روزہ کی قبولیت کے لیے سحری کھانے اور افطاری کیسامان کا حلال ہونا شرط ہے ۔ اگر ناجائز منافع حاصل کردہ، رشوت اور چوری ڈاکہ کے مال سے کھانا حرام ہے کوئی عبادت قبول نہیں ہوتی۔ اس ماہ مبارک میں کیئے کرائے پر پانی نہ پھیرنا چاہیئے۔ اﷲ حلال خوری کی توفیق دے آمین۔ چھوٹے بچوں کو روزہ رکھنے کا بڑا شوق ہوتا ہے خاص کر سحری میں شرکت کہ بڑے جو کھا رہے ہیں وہ ہم بھی کھائیں۔ بڑی اچھی سوچ ہے۔ اگر بچے پورا دن روزہ رکھ سکتے ہیں تو رکھنے دیں بلکہ انکی حوصلہ افزائی کریں۔ اگر آدھا دن رکھ سکتے ہیں رکھنے دیں عادت پڑے گی۔

سحری:پیارے آقا کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کا ارشاد مبار ک ہے تسحروا فان فی السحور برکۃ تم سحری کھاؤ کیونکہ سحری میں برکت ہے۔ ابتدا میں روزہ رات کو سونے سے شروع ہوجاتا تھا۔ اس میں صحابہ کرام علیھم الصلوۃ والسلام کو مشکلات پیش آئیں تو امت کے لیئے آسانی پیدا ہوگئی۔ اب روزہ افطار کرنے کے بعد صبح صادق تک کھانا پینا اور بیویوں کے پاس جانے کی اجازت مل گئی۔ سحری کو اٹھنے کا عین اﷲ کی خصوصی نظر کرم کا وقت ہوتا ہے یعنی نماز تہجد کا وقت۔ خواتین تو اٹھنے میں سبقت کرتی ہی ہیں مردوں کو بھی جلدی اٹھ کر وضوکرکے نماز تہجد ادا کرنی چاہیئے ۔ جتنی رکعتیں پڑھ سکیں پڑھ لیں۔ پیارو محبت سے سب کا مل بیٹھ کر کھانا اﷲ کی جانب سے رحمت ہے۔ اختتام سحر پر روزہ رکھنے کی نیت نویت ان اصوم غدا ﷲ تعالی من فرض رمضان میں نے رمضان کے کل کے فرض روزہ کی نیت کی۔ اب روزہ شروع ہوگیا۔ کھانے پینے سے تو دور رہے مگر آنکھ ، کان، زبان ، ہاتھ اور پاؤں کا روزہ بھی رکھنا ہے ورنہ صرف بھوک پیاس سے اﷲ خوش نہیں ہوتا۔ آنکھ وہ کچھ نہ دیکھے جس کا دیکھنا شرعا ممنوع ہے۔ کان سے گندی اور غیر شرعی باتیں یعنی فحش کلام یا فحش گانے ہرگز نہ سنے۔ زبان سے کسی کو برا بھلا نہ کہے، گالی دینا اور غیبت کرنا ویسے بھی گناہ ہیں مگر روزہ میں بھی زیادہ گناہ ہیں کہ روزہ کا ثواب چلا جاتا ہے۔ روزہ مکروہ ہوجاتا ہے۔نیک باتیں کریں۔ نعتیں سنیں اور کلام الہی کی تلاوت کریں اور تلاوت سنیں۔ ہاتھ سے کسی کو نہ ماریں اور نہ کسی کی کوئی چیز بلا اجازت اٹھائیں۔ پاؤں کا گناہ یہ ہے کہ غیر شرعی سفر نہ کریں یعنی کسی گناہ کی محفل یا کسی مسلمان کو تکلیف دینے کیلیئے سفر نہ کریں۔ بحالت روزہ سونا بھی عبادت ہے۔ بحالت روزہ مسواک کرنا خواہ میٹھی ہو یا کڑوی سنت رسول ہے اور ثواب کا کام ہے۔بحالت روزہ سرمہ لگانا ،خود بخود قے آنا ، احتلام سوتے میں یا پچھنا لگوانا(خون نکلوانا)سے روزہ میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ بھولے سے کھانا پینا خواہ پیٹ بھر ہو روزہ نہیں ٹوٹا۔ البتہ کھاتے پیتے روزہ دار ہونا یاد آگیا تو فورا ترک کردے اور جو منہ میں ہو اسے باہر نکال دے۔ گردو غبار ، آٹا چکی سے آٹے کے غبار سے روزہ میں کوئی خلل نہیں آتا۔اگربتی کا دھواں اگر ناک قریب کرکے دھواں ناک سے اندر کھینچا تو روزہ چلا گیاتو روزہ فاسد ہوگیا۔ ویسے خوشبو آتی رہی تو اس سے روزہ میں کوئی خلل نہیں آتا۔ سر میں تیل لگانے ، مالش کرنے سے روزہ میں کوئی خلل نہیں۔ کان میں تیل ٹپکانے سے روزہ جاتا رہا قضا ہوگی کفارہ نہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ الٹے لٹکائے گئے ہیں اور انکی باچھیں چیری جارہی ہیں جس سے خون بہتا ہے میں نے کہا کہ یہ کون لوگ ہیں کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ وقت سے پہلے روزہ افطار کردیتے ہیں۔لھذا روزہ غروب آفتاب کے بعد افطار کریں۔ مسلمانوں میں کچھ لوگ سورج کے مکمل غروب سے قبل ہی افطار کرتے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو اندھیرا چھاجانے پر افطار کرتے ہیں ۔ وہ دیر کرتے ہیں۔ مناسب نہیں۔ حکومت کی جانب سے سائرن بجائے جاتے ہیں، مساجد سے صلاۃ و سلام کے ساتھ اذان یا وقت افطار کا اعلان کیا جاتا ہے۔یہی درست طریقہ ہے۔ جان بوجھ کر روزہ نہ رکھنا کفر ہے۔ روزہ رکھا اور جان بوجھ کر روزہ توڑا تو قضا مع کفارہ ہے اور کفارہ مسلسل بلاناغہ ساٹھ روزے رکھنا ہے۔ خوشبو سونگھنے،عطر وغیر لگا نے سے روزہ میں کوئی خلل نہیں۔ بلکہ ثواب ہے۔بیماری کا انجکشن لگوانے سے روزہ میں کوئی خلل نہیں آتا۔

شب قدر: یہی وہ رات ہے کہ جس میں کتاب اﷲ کا نزول ہوا۔ اس رات کی عبادت کو اﷲ پاک نے ہزارمہینوں کی عبادت سے افضل قراردیا۔ سرور کون و مکاں ﷺ سے پوچھا گیا کہ یہ رات کب آتی ہے فرمایا کہ اس سارا سال تلاش کرو۔ پھر رمضان المبار ک میں اور پھر رمضان کے آخری عشرے میں خاص کر طاق راتوں میں۔ جب قرآن کریم کا نزول ہوا اس وقت یہ رمضان المبار کی ستائیسویں رات تھی۔ اس نسبت سے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب کو خوب اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس رات رحمت الہی بے انتہا جوش میں ہوتی ہے۔ اس رات میں ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ ہر چیز اﷲ پاک کے حضور سربسجود ہوجاتی ہے اور یہ کیفیت کئی لوگوں نے دیکھی اور بتائی۔ اس رات جاگنا اور ذکر الہی میں مصروف رہنا ، قراآن کریم کی تلاوت کرنا اور سنناعمدہ افعال ہیں۔ یہ دعا پڑھی جائے۔ اللھم انک عفو تحب العفو فاعف عنی یا غفور یا غفور یا غفور۔ اللھم اجرنا من الناریا مجیر یا مجیر یا مجیر۔

نماز تراویح اور تلاوت قرآن:حضور اکرم ﷺ نے بیس رکعت نماز ادافرمائیں مگر کبھی کبھی ترک فرمائیں اگر آپ ﷺ مداوت فرماتے توآپکا یہ عمل امت پر فرض ہوجاتا اور آپ ﷺ امت پرعبادات کا بوجھ ہلکا رکھنا پسند فرماتے ہیں۔ آپکے ﷺ کے پردہ فرمانے کے بعدخلیفۃ المسلمین امیرالمؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے اس کا باقاعدہ اہتمام فرمایااور بیس رکعت نماز تراویح پر پابندی کی گئی ۔آپ رضی اﷲ عنہ نے حافظ قرآن حضرت ابی بن کعب رضی اﷲ عنہ کی امامت میں اس عمل خیر کو جاری فرمایااور روشنی کا خصوصی اہتمام فرمایا۔حضرت علی کرم اﷲ تعالی وجھہ نے دیکھا تو فرمایا کہ اﷲ تعالی حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کی قبر مبارک کو اس طرح منور فرمائے جس طرح انہوں نے اﷲ کے گھر کو روشن کیا۔ آج بھی حرمین شریفین میں بیس رکعت ہی ادا کرائی جارہی ہیں۔آٹھ تراویح پڑھنا تو خلاف سنت ہے اور عبادت میں کنجوسی کرکے عبد بخیل ہونا ہے۔ تراویح کی ادائیگی مرودوں اور عورتوں دونوں پر لازم ہے۔ قرآن کریم کو ترویح میں کم از کم تین رات میں ختم کیا جائے۔ اس سے کم میں ایک رات میں بھی پڑھا جاتا ہے مگر حفاظ کرام اس قدر تیز پڑھتے ہیں کہ الفاظ سمجھ نہیں آتے۔ایسا پڑھنا گناہ ہے۔ قرآن سنانے پر اجرت لینا جائز نہیں اگر لوگ از خود محبت سے قرآن پاک کی قدر کرتے ہوئے ہدیہ دیں تو مذائقہ نہیں لیکن اکثر حفاظ رقم طے کرتے ہیں جو حرام ہے۔

تسبیح تراویح:
چار رکعت تراویح پڑھ کر توقف کیا جاتا ہے اور یہ تسبیح پڑھنا مسنون ہے درود شریف پڑھیں اور پھر تسبیح پڑھیں: سبحان ذی الملک والملکوت سبحان ذی العزۃ والعظمۃ والھیبۃ والقدرۃ والکبریاء والجبروت سبحان الملک الحی الذی لا ینام ولا یموت سبوح قدوس ربنا ورب ملئکۃ والروح لا الہ الااﷲ نستغفراﷲ نسئلک الجنۃ ونعوذ بک من النار (غنیۃ وردالمختار)

اعتکاف:مساجد میں نیت اعتکاف سے ٹہرناکھانے پینے اور سونے کا جواز ہے۔ یہ ایسا عمل ہے کہ مالک و خالق کائنات کے دروازے فقیرانہ ہیئت بنائے پڑے رہنا اﷲ پاک کی خوشنودی کا سبب ہے۔رمضان المبار ک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنت موکدہ ہے۔ ابوداود شریف میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے ہے معتکف پر سنت یہ ہے کہ نہ مریض کی عیادت کو جائے،نہ جنازے میں حاضر ہو نہ عورت کو ہاتھ لگائے اور نہ اس سے مباشر ت کرے ۔نہ حاجت کے لیئے جائے مگر اس حاجت کے لیئے جاسکتا ہے جو ضروری ہے اور اعتکاف بغیر روزے کے نہیں اور اعتکاف جماعت والی مسجد میں کرے۔ ابن ماجہ میں سیدنا حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہماسے روائت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے معتکف کے بارے میں فرمایا وہ گناہوں سے باز رہتا ہے اورنیکیوں سے اسے اس قدر ثواب ملتا ہے جیسے اس نے تمام نیکیا ں کیں۔بہیقی میں سیدناامام حسین رضی اﷲ عنہ سے روائت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا جس نے رمضان میں دس دنوں کا اعتکاف کر لیا تو ایسا ہے جیسے اس نے دو حج اور دو عمرے کیئے۔ ۔ بیسویں روزے کو غروب آفتاب سے قبل مسجد میں اپنی جگہ بنالے۔ اور اعتکاف تا اختتام رمضان کی نیت کرلے۔ اعتکاف محض اﷲ کی رضا کے لیئے ہو کسی قسم کی لالچ یا ناموری کا ارادہ نہ ہو۔ آجکل مساجد کے ساتھ بیت الخلا ہیں اگر کہیں یہ سہولت نہ ہوتو قریب ترین جگہ تک جانے کی نیت کرے۔ دوران اعتکاف تلاوت قرآن پاک، دینی کتب کا مطالعہ ، طالب علم اپنے سلیبس کی کتب کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ فضول گپ شپ منع ہے، معتکف کا سونا بھی عبادت ہے۔ زیادہ سے زیادہ ذکر الہی میں مصروف رہے۔اﷲ پاک کے در پر پڑا ہے وہ سخی اپنے در پر پڑے فقیر کو محروم نہیں کرتا۔ اپنے، اپنے ماں باپ، اور تمام امت کی دنیوی اور اخروی بھلائی کی دعائیں کریں۔خواتین گھر میں کسی جگہ کا انتخاب کرکیاعتکاف میں بیٹھ جائیں اگر ضروری ہوتو باورچی خانہ میں جانے کی نیت پہلے کرلیں۔ گھر میں قریب کے غسل خانہ کو استعمال کریں۔ ملنے والیوں سے دنیاداری کی یا فضول گفتگو نہ کریں۔ دینی کتب کا مطالعہ کریں ۔ ذکر الہی میں مصروف رہیں۔ اعتکاف میں سونا بھی عبادت ہے۔ شوال کا چاند نظر آنے پر اعتکاف خود بخود ختم ہوجائے گا۔ اگر دس دن کا اعتکاف کوئی نہ کرسکے تو تین دن کا یا ایک دن کا بھی کرلیں۔ بعض مرد عورتیں اعتکاف کے دوران منہ سر کپڑے سے لپیٹ لیتے ہیں ۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں عام حالت میں رہنا چاہیئے۔سونے اور مصروف عبادت ہونے کے لیئے تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیئے چادر وغیر ہ یا کسی کپڑے سے اعتکاف کی جگہ کا پردہ بنا لیں۔

خصوصی طور پر اس تحفہ کو مرتب کرنے والے حقیر پروفیسر اکبر حسین ھاشمی اور اسکے والدین کے لیئے دنیا و آخرت کی نعمتوں کے حصول کی دعا فرمائیں۔ اﷲ پاک ساری امت پر رمضان المبارک میں بے حساب رحمتیں نازل فرمائے۔آمین ثم آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: AKBAR HUSAIN HASHMI

Read More Articles by AKBAR HUSAIN HASHMI: 146 Articles with 83791 views »
BELONG TO HASHMI FAMILY.. View More
18 May, 2017 Views: 771

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ