رمضان اور ہم

(Kainat Bashir, Karachi)
مجھے روزے کی حالت میں دیکھ کر اردگرد جرمن لوگ پہلے حیران ہوتے ہیں۔ پھر متاثر ہو کر ان کے سوالات شروع ہو جاتے ہیں۔
او مائی گاڈ، آپ صبح سے شام تک انیس گھنٹے کچھ نہیں کھاؤ گی۔؟
پانی، جوسز تو پی سکتی ہیں نا۔ ؟
کمزوری اور چکر تو بہت آتے ہوں گے نا ؟
نہ کے جواب پر ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹ جاتی ہیں اور وہ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں۔
ویری سٹرینج، ٹو مچ ہارڈ۔۔
پھر کہتے ہیں کہ روزہ تو ہمارے مذہب میں بھی ہے مگر یہ ہمارا کام تھوڑی ہے۔ اسے تو گرجا میں نن اورپادری وغیرہ رکھتے ہیں۔

رمضان المبارک اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔ اس کے آغاز کے لیے ضروری ہے کہ چاند نظر آ جائے۔ ورنہ شعبان کے تیس دن پورے ہونے پر رمضان شروع ہوتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمضان المبارک کو اپنی امت کا مہینہ قرار دیا ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنی حاکمیت کا سب سے بڑا انعام اپنے بندوں کو عطا کیا ہے۔ اور اسے ہدایت و رہنمائی کے اس پاک دستور اور ضابطہ حیات سے نوازا ہے جس کا نام قرآن پاک ہے۔

رمضان المبارک میں بارگاہ الہی سے رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہوتی ہے۔ اللہ تعالی کے خزانے مومنوں کے لیے کھل جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالی اپنی خاص رحمتیں نازل کرتے ہیں۔ خطائیں معاف کر دیتے ہیں اور دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ عبادات کے درجات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اس ماہ جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیطان کو باندھ دیا جاتا ہے۔

اس ماہ کے روزے اللہ نے فرض کیے ہیں اور ایک فرض ادا کرنے کا ثواب ستر فرض ادا کرنے کے برابر ہے۔ پورے سال میں رمضان کا مہینہ خیر و برکت کا مہینہ ہے۔ سات سو بیس گھنٹوں کا پروگرام بظاہر بھوک پیاس اور دوسری عادتوں پر قابو پانے تک محدود نظر آتا ہےمگر اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ یہ باقی گیارہ ماہ کے لیے بھی ایک طرح سے انسان کی ٹریننگ کرتا ہے کہ انسان بھلائی کرے، برائی سے بچے اور اپنی خواہشات کو حدود کے اندر رکھے۔ روزے فرض کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ انسان کے اندر تقوی پیدا ہو۔ جھوٹ، فریب، دھوکہ دہی، حق تلفی اور دوسری تمام برائیوں سے وہ بچے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں اللہ تعالی نے میری امت کو بخش دی ہیں۔
1۔۔ یکم رمضان شروع ہوتے ہی اللہ میری امت پر نظر کرم فرماتا ہے۔
2۔۔ اللہ کے نزدیک روزہ دار کے منہ کی خوشبو عنبر و کستوری سے بہتر ہے۔
3۔۔ فرشتے ہر روز، روزہ دار کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
4۔۔ اللہ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ روزہ داروں کے لیے جنت کے دروازے کھول دئیے جائیں۔
5۔۔ رمضان کی آخری شب اللہ تمام روزہ داروں کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔

روزے پہلی امتوں پر بھی فرض تھے۔ ارشاد بار تعالی ہے۔ ” اے ایمان والو، تم پر روزے فرض کیے گئے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تا کہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔“

یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا ثواب جنت ہے۔ اس ماہ مبارک مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ اور جو روزہ دار کو افطار کرائے اسے بہت ثواب ہے۔ اس کے لیے گناہوں کی مغفرت ہے اور جہنم سے آزادی۔
اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے۔
دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے۔
تیسرا عشرہ دوزخ سے نجات کا ہے۔
اس ماہ میں پہلے سے بھی زیادہ اللہ کی راہ میں صدقہ و خیرات کرنا چاہیئے۔ اور اگر کسی کو اس مہینے میں عمرہ کی سعادت حاصل ہو جائے تو سونے پہ سہاگہ ہے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”رمضان میں عمرہ کرنا میرے ہمراہ حج کرنے کے برابر ہے۔“
روزہ رکھنے کے بہت سے فوائد ہیں۔
— ۔۔روزہ رکھنے سے ظاہرو باطن کی غلاظتیں دور ہوتی ہیں۔
— ۔۔یہ روحانی امراض کا علاج ہے۔ یہ روح کو پاک اور صاف کرتا ہے۔
— ۔۔روزے سے جسمانی بیماریاں بھی دور ہوتی ہیں۔ یہ حکمت بھی اس میں شامل ہے۔
— ۔۔روزہ گناہوں اور بیماریوں کو روکتا ہے۔
— ۔۔دل میں سکون اور اطمینان بھی اس کی بدولت پیدا ہوتا ہے۔
— ۔۔روزہ میں صبر کی عادت، برداشت انسانی نفس کی تربیت کرتی ہے۔
— اس سے قوت برداشت بڑھتی ہے اور سختیاں سہنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔ روزہ رکھتے اور کھولتے وقت جہاں لاکھوں برکات حاصل ہوتی ہیں وہیں ہماری آخری زندگی بہتر ہوتی ہے۔
تو بہنوں اور بھائیو، روزہ رکھنے سے جہاں گناہوں کی بخشش ہوتی ہے، اللہ کی رحمت کا حصول اور آخرت کے لیے ڈھیروں زاد راہ ملتا ہے۔ وہیں روزے سے بہت سے طبی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں جس کا اعتراف ڈاکٹر بھی کرتے ہیں۔ کیونکہ مذہبی فریضے کے علاوہ روزہ بظاہر فاقہ کی ایک صورت نظر آتی ہے مگر انسانی جسم کی مشینری کے لیے اور بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے اس کی ویسے بھی ضرورت پڑتی ہے۔ ڈاکٹر اپنے مریضوں کو اکثر فاقہ کروا کر انکی باڈی کو ڈی ٹاکس کرواتے ہیں۔ میں کبھی کبھی مسکرا دیتی ہوں، جب مجھے روزے کی حالت میں دیکھ کر اردگرد جرمن لوگ پہلے حیران ہوتے ہیں۔ پھر متاثر ہو کر ان کے سوالات شروع ہو جاتے ہیں۔
او مائی گاڈ، آپ صبح سے شام تک انیس گھنٹے کچھ نہیں کھاؤ گی۔؟
پانی، جوسز تو پی سکتی ہیں نا۔ ؟
کمزوری اور چکر تو بہت آتے ہوں گے نا ؟
نہ کے جواب پر ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹ جاتی ہیں اور وہ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں۔ ویری سٹرینج، ٹو مچ ہارڈ، پھر کہتے ہیں کہ روزہ تو ہمارے مذہب میں بھی ہے۔ مگر یہ ہمارا کام تھوڑی ہے۔ یہ تو گرجا میں نن اورپادری وغیرہ رکھتے ہیں۔ اس پر میرے اندر اک پھلجڑی چھوٹتی ہے۔
کبھی کبھی روزے میں بھی مزے کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ دو سال پہلے کی بات ہے کہ ایک نئے سٹور کا افتتاح ہو تو میں بھی روزے کی حالت میں چلی گئی۔ یقیناآپ جانتے ہوں گے کہ افتتاح کا پہلا دن خاصا مزے کا ہوتا ہے۔ سٹور چمچما رہا ہوتا ہے۔ سیلز کی آفرز پرکشش ہوتی ہیں۔ فری کھانے پینے کی آئیٹمز بھی کہیں کہیں رکھی جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ تب میرے آگے ایک جرمن لیڈی نے مسکراتے ہوئے کیک، پیسٹری کی پلیٹ کر دی تھی۔ تو جوابا مجھے مسکراتے ہوئے اسے بتانا پڑا کہ میں مسلم ہوں اور روزے کی حالت میں ہوں۔ تب اس نے معذرت کی تو میرے اندر ایک اور پھلجڑی چھوٹی کہ ایک اچھے کام کے لیے بھی اسے سوری کرنا پڑ رہا ہے۔
ویسے اچھی بات یہ دیکھی کی کہ اگر آپکے گرد انڈرسٹینڈنگ جرمن لوگ ہیں تو پھر وہ آپ کے اس صبر کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اپنے طور بھی روزہ دار کے سامنے کچھ کھانے پینے سے احتراز کرتے ہیں۔ یہاں جرمن میں ترکی لوگوں کی زیادتی ہے اور پھر عربی لوگوں کی۔ سو ہمیں ان میں سے ہی کسی کے ساتھ رمضان کے پلان کی شیئرنگ کرنی پڑتی ہے۔ روزہ کے اوقات میں چند منٹ کا ہی فرق ہوتا ہے یا کبھی کبھی عید کا دن فرق ہو جاتا ہے۔ یہاں بھی لوگ بہت زورو شور اور اک اہتمام سے روزہ رکھتے ہیں۔ جرمنی میں پاکستانی کمیونٹی بھی خوب اہتمام سے رمضان کا مہینہ گزارتی ہے۔ البتہ کبھی کبھی ضرورت سے زیادہ پراہتمام افطاریاں کسی پارٹی یا دعوت سی لگنے لگتی ہیں۔
جرمنی میں روزہ کا ٹائم بہت طویل ہوتا ہے۔ گرمیوں میں ساڑھے انیس گھنٹے کا روزہ۔۔۔۔ گونہ تو زیادہ بھوک محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی پیاس۔۔ بس روزے کی اپنی کیفیت اور کمزوری محسوس ہونے لگتی ہے۔پچھلے سال صبح تین بجے سحری اور رات دس بجے افطار کا وقت ہوا تو کچھ کھایا ہی نہیں جا رہا تھا۔ باڈی جیسے بار بار الارم دے رہی تھی کہ ڈنر ٹائم سات بجے گزر گیا ہے۔ اور کئی دن ایسا ہوتا رہا کہ سحری کھائی نہ جاتی اور افطاری کے وقت بھوک چلی جاتی۔ کمزوری اور تیزابیت کی شکایت ہونے لگی۔ تب میں نے اپنے کھانے پینے کے مینو پر دوبارہ نظر کی اور اپنی باڈی کی آواز سننا چاہی۔ تو کچھ کارآمد ٹپس ہاتھ لگےکہ رمضان میں کیسے تروتازہ رہا جا سکتا ہے۔
1۔۔ پھلوں کا استعمال ضروری ہے کیونکہ یہ جسم میں نمی برقرار رکھتے ہیں۔ لیکن لوگ ان کا استعمال ہمیشہ افطاری میں فروٹ چاٹ کی شکل میں کرتے ہیں۔ جبکہ ان کا استعمال سحری میں اور طرح کا فائدہ دیتا ہے۔ سو سحری میں حتی الممکن ایک پھل ضرور کھانا چاہیئے۔ چاہے وہ سیب ہو کیلا یا کچھ اور۔
2۔۔ پانی کا استعمال سحری بہت مفید اور بہت ضروری ہے۔ کیونکہ آپ کی باڈی نے اسکے ساتھ پورا دن گزارنا ہے۔نمکین یا میٹھی لسّی اورسادہ پانی کو ترجیح دیں۔
3۔۔ چائے اور کافی سے اجتناب کریں خاص طور پر سحری میں۔ کیونکہ یہ جسم میں نمی کو کم کر دیتے ہیں۔
4۔۔ رمضان میں مٹن اور چکنائی سے ہاتھ ہلکا رکھنا چاہیئے۔ جبکہ ایسا ہوتا نہیں ہے اور خصوصا افطاری میں تو ان کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ پکوڑے، سموسے، کباب، رولز، پیٹیز، نہاری، بریانی، کڑاہی گوشت وغیرہ۔ حالانکہ جسم پورے دن کی مشقت کے بعد اس کا متقاضی نہیں ہے۔ میری ایک دوست کی فیملی تو افطاری کا آغاز سوپ سے کرتی ہے اور آہستہ آہستہ اپنی باڈی کو کچھ کھانے کے لیے تیار کرتی ہے۔ ویسے بھی مرغن تربتر اور بھاری بھر کم کھانوں کی بجائے سبزیاں، دالیں، سادے چاول بہترین متبادل ہیں۔سحری میں دلیہ کھانا بہت مفید ہے۔
5۔۔ نشاستہ یعنی کاربوہائیڈریٹ رمضان کے لیے اہم غذائی جزو ہیں۔ بغیر چھنے آٹے کی روٹی، دالیں،آلو، براؤن چاول یہ سب نشاستے کا حصول ہے اور تمام دن توانائی بھی فراہم کرتا ہےجس سے کمزوری نہیں ہوتی۔
6۔۔ دودھ اور دودھ سے تیار کی گئی اشیاء کی اہمیت رمضان میں اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کے مریض بغیر چکنائی والا دودھ استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے استعمال سے دن بھر پیاس اور بھوک کی شدت محسوس نہیں ہوتی اور جسم کیلشیم کی کمی سے بھی محفوظ رہتا ہے۔
7۔۔ صبح سحری میں لازمی کوئی میٹھی چیز جیسےدلیہ، کھیر، کسٹرڈ یا دہی ضرور لیں۔ اس سے باڈی کی اندرونی نمی برقرار ہ رہتی ہے تو طبیعت میں تروتازگی قائم رہتی ہے۔
8۔۔ رمضان ایک عبادت کا مہینہ ہے۔ جس کی وجہ سے روزمرہ کا اپنا ایک نظام، طریق کار بن جاتا ہے ۔ بہت سے کام رمضان کے مہینے کے آگے پیچھے کرنے پڑتے ہیں۔ تا کہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت کو دیا جا سکے۔ افطاری کے اہتمام میں ہی لوگوں کا کتنا وقت نکل جاتا ہے۔ پھر بھی کچھ ضروری کاموں کی ترجیح اپنی جگہ باقی ہے۔جیسے رمضان کے مہینے میں بھی ایکسرسائز یا چہل قدمی کی اہمیت اپنی جگہ رہتی ہے۔ البتہ سخت ایکسرسائز نہ کریں اور بالکل ترک کر دینے سے جسم میں سستی اور تھکن کی شکایات پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس لیے سحری کے بعد یا افطار کے بعد واک یا کچھ چہل قدمی ضروری ہے۔ اس وقت بھی اگر ممکن ہو تو ایک تسبیح ہاتھ میں رکھ کر پڑھتے ہوئے اپنے وقت کا اور بھی بہترین مصرف کیا جا سکتا ہے۔
٭٭کائنات بشیر(جرمنی)٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kainat Bashir

Read More Articles by Kainat Bashir: 27 Articles with 28795 views »
میرا نام کائنات بشیر ہے۔ میں کالم، انشائیہ، آرٹیکل، مزاح نگاری، افسانہ اور ہلکے پھلکے مضامین لکھتی ہوں۔ اس کے علاوہ وجد کے کچھ لمحات شاعری کی نذر کرنا.. View More
29 May, 2017 Views: 677

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ