عطائے اجر بحساب صبر (گرمی کا روزہ روایات کی روشنی میں) قسط-2-

(Irfan raza misbahi, Malegaon Maharastara India)

امام احمد وابوداود سے روایت کرتے ہیں عن رجل من اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان رسول صلی اللہ علیہ وسلم صام فی سفر عام الفتح وامر اصحابہ بالافطار وقال : انکم تلقون عدوا لکم فتقووا فقیل یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمؐ ان الناس قد صاموا لصیامک فلما اتی الکدید افطر قال الذی حدثنی فلقد رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصب الماء علی راسہ من الحر وھو صائم (احمد،٦٣،٤۔ابوداود،٢٣٦٥) صحابی رسول بیان کرتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کےلیے غزوہ کے سفر میں روزہ رکھااور صحابۂ کرام کو نا رکھنے کا حکم دیافرمایا تم لوگ عنقریب اپنے دشمن کا سامنا کروگے تو اپنی قوت بچا کر رکھو،عرض کیا گیا یا رسول اللہ لوگوں نے آپ کی اتباع میں روزہ رکھا ہے،جب حضور مقام کدید پر پہنچے تو افطار کیاراوی جنھوں نے حدیث بیان کیا، کہتے ہیں میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ وہ روزے کی حالت میں گرمی کی شدّت کے سبب سے سر پر پانی چھڑکتے تھے ان روایتوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام عبادتوں میں سبقت کرنے کےلیے بہت زیادہ مستعد تھے اور رسول پاک کی اتباع ان کی زندگی کا لازمہ جزو بن گیا تھا اور اس تعلق سے وہ بڑی سے بڑی سختیوں کو خاطر میں نا لاتے تھے، ایک رویت حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے عن انس رضی اللہ عنہ قال:کنا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم اکثرنا ظلاالذی یستظل بکسائہ واما الذین صامو فلم یعملو شیأواما الذین افطرو فبعثوا الرکاب وامتھنوا وعالجوا فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم''ذھب المفطرون الیوم بالاجر''(بخاری،٢٧٣٣مسلم١١١٩)حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ہم حضورصلی علیہ وسلم کے ساتھ تھے(سفر میں)اور وہ سایہ جس کوہم سے اکثر لوگ اختیار کیے ہوئے تھے وہ ان کے کپڑے تھے،تو جو روزہ دار تھے انھوں نے کچھ کام نا کیا(کپڑا سر پر اٹھائے ہونے اور اضمحلال کے سبب)اور وہ جو روزہ دار نا تھے انھوں نے سواریوں کا انتظام کیا(ان کے لیے چارے وغیرہ)اور دوسروں کے لیے ٹھہرنے وغیرہ کےلیے زمین درست کی خیمہ وغیرہ لگایا،تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آج روزہ نا رکھنے والے روزہ داروں پر سبقت لے گئے( کیونکہ انھوں نے دوسروں کی ضروریات کو پورا کرنے اور مدد کرنے کے ثواب کو حاصل کیا تھا) عن ابی الدرداء رضی اللہ عنہ قال:خرجنا مع النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی بعض اسفارہ فی یوم حار(وفی لفظ مسلم:فی شھر رمضان) حتی یضع الرجل یدہ علی رأسہ من شدۃ الحر، ومافینا صائم الاماکان من النبی صلی اللہ علیہ وسلم وابن رواحۃ(بخاری،١٨٤٣مسلم١١٢٢) حضرت ابو درداء کہتے ہیں ہم حضور علیہ السلام کے ساتھ ایک سفر میں روانہ ہوئے گرمی کا دن تھا( مسلم کی روایت۔ماہ رمضان میں) حتی کہ آدمی سخت گرمی کے سبب سے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھ لیتا تھا ۔ہم میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی روزے سے نا تھا۔ ا بو یعلی حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں قال: قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی نھر من ماء السماء والناس صیام فی یوم صائف وھم مشاۃ ،ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی بغلتہ ، فقال:اشربوا ایھاالناس،قالوا؛نشرب یا رسول اللہ،فقال:انی لست مثلکم،انی ایسر منکم ،انی راکب،قال: فابوا:قال:فثنی نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فخذہ فنزل،فشرب وشرب الناس،وماکان یرید ان یشربہ( ابویعلی٤٢٠۔٢،ابن حبان،ابن خزیمہ)حضور صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے پانی کی ایک نہر پر ٹھہرے اور حالت یہ تھی کہ لوگ گرمی کے دن میں روزہ سے تھے اور پیدل چل رہے تھے جب کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے (تو لوگوں کی تکلیف کودیکھتے ہوئے ) حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے لوگو،پانی پی لو(کیونکہ تم مشقت میں ہو اور حالت سفر میں ہو)لوگوں نے تعجب سے کہا: ہم پانی پی لیں!تو حضور نے فرمایا: میں تمھارے جیسا نہیں ہوں (مجھ پر خود کوقیاس مت کرو،میں روزے کی پیاس کو برداست کر سکتا ہوں)میں تم سے زیادہ آرام سے ہوں،میں سوار ہوں ،راوی کہتے ہیں: لوگوں نے انکار کیا(اس لیے کے وہ مشقت فی العبادت کے دلدادہ تھے)راوی کہتے ہیں : پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم اپنی پنڈلیوں کو موڑکر خچر سے اترے (اور لوگوں کی ہچکچاہٹ کو سمجھتے ہوئے ) پہلے آپ نے پانی پیا تو لوگوں نے بھی پانی پیا حالانکہ ان کا ارادہ نہیں تھا،، حضور علیہ السلام کی انھی اداؤں کے لوگ دلدادہ تھے کہ آپ پہلے خود عمل کرتے تھے پھر افادۂ عامہ کےلیے دوسروں کو حکم دیا کرتے تھے عبادتوں میں آپ کی جدو جہد ،کثرت ارتکاز نے صحابۂ کرام کو بھی ان مشقتوں کا عادی بنادیا تھا لیکن جہاں اجازت ہوتی صاحب شرع علیہ السلام صحابۂ کرام پر شفقت فرماتے ہوئے انھیں رخصت بھی عطا فرماتے تھے لیکن وہ خوئے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوانے اسوۂ رسول کو یہاں بھی مقدم رکھتے ہوئے عزیمت کو اپنے لیے راہ عمل قرار دیا کرتے تھے ،

کہیں مشقت بہت زیادہ بڑھ جاتی دھوپ وپیاس کی شدت برداشت کے باہر ہونے لگتی تب یہ عاشقان مصطفی شرعی رخصتوں پر بھی عمل کیا کرتے اور اگر کسی ترکیب سے روزہ ترک کیے بغیر تقویت فراہم ہوتی تو اس پر بھی عمل پیرا ہوتے جیسا کہ علامہ ابن رجب حنبلی لطائف المعارف ص؛٥٥٣ پر لکھتے ہیں امام احمد بن رضی اللہ عنہ روزہ رکھتے تھے(گرمی میں)یہانتک کہ وہ بیہوش ہونے لگتے تو اپنے چہرے کو پانی سے پوچھتے تھے،ان سے مسئلہ پوچھا گیا کہ روزہ رکھیں اور گرمی کی شدّت بڑھ جائے تو کیا کریں آپ نے جواب دیا کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کپڑے کو بھگا کر ٹھنڈک حاصل کی جائے اور اس پر پانی چھڑکا جائے۔ابن ابی شیبۃنے ابن عون سے روایت کیا وہ کہتے ہیں :ابن سیرین (روزے میں کپڑا بھگا کر چہرے پر لپیٹنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ،حسن بن عبید اللہ سے روایت ہیکہ کہتے ہیں میں نے عبدالرحمن بن الاسود کو دیکھا کے وہ روزہ کی حالت میں (گرمی کی شدّت کو برداشت کرنے کیلے ) اپنے پاؤں کو پانی میں ڈالے ہوئے تھے (ابن ابی شیبۃ ،٢٩٩'٢) امام بخاری تاریخ کبیر میں روایت کرتے ہیں عن یحی ٰ بن سعید عن عبداللہ بن ابی عثمان رای ابن عمر رضی اللہ عنہما یبل ثوبا فیلقی علیہ وھو صائم (التاریخ الکبیر ،١٤٧،٥،ابن ابی شیبۃ،٢٩٩،٢)ابو عثمان نے حضرت عبداللہ ابن عمر کو دیکھا:انھوں نے کپڑے کو بھگایا اور اور اسے لپیٹ لیا جب کے وہ روزہ سے تھے (پیاس کی شدّت کو برداشت کرنے کےلیے) انھیں حضرات کے عمل سے یہ مسئلہ ماخوذ ہوا کہ"وضو و غسل کے علاوہ ٹھنڈپہنچانے کی غرض سے کلی کرنا یا ناک میں پانی چڑھانا یا ٹھنڈکے لیے نہانا۔ بلکہ بدن پر بھیگا کپڑا لپیٹنا مکروہ نہیں۔ ہاں اگر پریشانی ظاہر کرنے کے لیے بھیگا کپڑا لپیٹا تو مکروہ ہے کہ عبادت میں دل تنگ ہونا اچھی بات نہیں۔ (عالمگیری،ردالمحتار وغیرہ) اسی لیے یہ حضرات حتی الامکان اس طرح کےعمل سے بھی پرہیز کرتے تھے کیونکہ تقوی کے اعلی معیار پر فائز تھے چنانچہ مذکور ہے۔ عن معاویۃ الکندی قال : کان عطاء صائما فدخل الماء فی یوم صائف فسکن عنہ العطش فقال : یا نفس انماطلبت لک الراحۃ ،لا دخلت بعد ھذالیوم الماء ابدا(حلیۃالاولیائ،٢٢٢،٦)حضرت معاویہ کندی کہتے ہیں حضرت عطاء گرمی کے دن روزہ سے تھے تو پانی کے اندر داخل ہوگئے اس وجہ سے آپ کی پیاس کو سکون آگیا تو آپ نے فرمایا: اے نفس تو اپنے لیے راحت طلب کرتا ہے آج کے بعد میں کبھی پانی میں (روزہ کی حالت میں)داخل نا ہوں گا۔ اور آج تو لوگوں کا یہ حال ہے کہ تھوڑی سی تکلیف پر منہ سوکھائے ہوئے پھرتے ہیں کہ دیکھ لو روزے سے ہیں ان حضرات کی ان مشقتوں کو برداشت کرنے اور ہمیشہ روزہ رکھنے اور عبادتوں میں مصروف رہنے کا ثمرہ کل بروز حشر یوں ملے گا ۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Irfan raza misbahi

Read More Articles by Irfan raza misbahi: 15 Articles with 15600 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 May, 2017 Views: 505

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ