بیس رکعات تراویح کے دلائل پر اعتراضات کا علمی جائزہ

(Arsalan saeed, islamabad)

دلیل نمبر 1 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ حَمْزَۃُ بْنُ یُوْسُفَ السَّھْمِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْالْحَسَنِ عَلِّیُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ الْقَصْرِیُّ اَلشَّیْخُ الصَّالِحُ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤمِنِ اَلْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ؛ اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُوْنَ حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْحَنَّازِعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ.

(تاریخ جرجان لحافظ حمزۃ بن یوسف السھمی ص146)

ترجمہ: حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کی ایک رات تشریف لائے۔لوگوں کو چار رکعات فرض، بیس رکعات (تراویح)اور تین رکعات وتر پڑھائے۔

اعتراض نمبر1:
فرقہ غیر مقلدین نے اس روایت کے دو راویوں پر اعتراض کیا ہے:

1: محمد بن حمید الرازی پر محدثین نے جرح کی ہے۔

2: عمر بن ہارون البلخی بھی مجروح ہے۔

(ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون زبیر علیزئی)

جواب:
پہلی بات...... اصولِ حدیث کا قاعدہ ہے کہ جس روایت کے مضمون پر اجماع ہو چکا ہو اور جمہور ائمہ کا تعامل اس کے مطابق ہو تو بعض راویوں کا ضعف چنداں مضر نہیں ہوتا (اور خیر سے یہ راوی حسن درجہ کے ہیں) بلکہ روایت صحیح شمار ہوتی ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حزم فرماتے ہیں:

وإذا ورد حديث مرسل أو في أحد ناقليه ضعيف فوجدنا ذلك الحديث مجمعاً على أخذه والقول به علمنا يقيناً أنه حديث صحيح لا شك فيه•

(توجيه النظر إلى أصول الأثر:ج1 ص141)

کہ جب کوئی مرسل روایت آئے یا کوئی ایسی روایت ہو جس کے راویوں میں سے کسی میں کوئی ضعف ہو لیکن اس حدیث کو لینے اور اس پر عمل کرنے کے سلسلہ میں اجماع واقع ہو چکا ہو تو ہم یقینا یہ جان لیں گے کہ یہ حدیث ”صحیح“ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔

چونکہ بیس رکعت تراویح پر اجماع ہے (ملاحظہ ہو راقم کی کتاب ”فضائل و مسائل رمضان“) اس لیے اگر اس حدیث کے کسی راوی میں ضعف بھی ہو تب بھی کوئی مضائقہ نہیں بلکہ ایسی حدیث صحیح شمار ہو گی۔

دوسری بات...... محمد بن حمید الرازی (ت248ھ) اور عمر بن ہارون البلخی (ت294ھ) کے حالات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جہاں بعض حضرات سے جرح منقول ہے وہیں کئی جلیل القدر ائمہ محدثین نے ان کی تعدیل و توثیق اور مدح و ثناء بھی فرمائی ہے۔ دونوں کے متعلق ائمہ کی تعدیل و توثیق پیشِ خدمت ہے:

محمد بن حمید الرازی (ت248ھ)
آپ ابوداؤد ،ترمذی، ابن ماجہ کے را وی ہیں۔

( تہذیب التہذیب: ج5ص547)

درج ذیل جلیل القدر ائمہ محدثین نے آ پ کی تعدیل و تو ثیق اور مدح فر ما ئی ہے مثلاً:

1: امام احمدبن حنبل :وثقہ (ثقہ قراردیا )۔

(طبقات الحفاظ للسیوطی: ج1ص40)

اور ایک بار فر ما یا ”لایزال با لری علم مادام محمد بن حمید حیاً“۔(جب تک محمد بن حمید زند ہ ہیں مقام ری میں علم با قی رہے گا )

(تہذیب الکمال للمزی: ج8ص652)

2: امام یحی بن معین: ثقۃ ،لیس بہ باس، رازی کیس [ثقہ ہے اس احا دیث پر کو ئی کلام نہیں، سمجھ دار ہے] (ایضاً)

3: امام جعفر بن عثمان الطیالسی: ثقۃ۔

( تہذیب الکمال: ج8ص653)

4: علامہ ابن حجر :الحافظ [حافظ ہے]۔

( تہذیب التھذیب: ج5ص547)

5: علامہ ہیثمی ایک حدیث کے بارے میں لکھتے ہیں : ” وفی اسناد بزار محمد بن حمید الرازی وھو ثقۃ “[بزاز کی سند میں محمد بن حمید الرازی ہے اور وہ ثقہ ہے ]۔

(مجمع الزوائد: ج9ص475)

6: امام دار قطنی: محمد بن حمید الرازی سے مروی ایک روایت کی سند کو ”اسنادہ حسن“ کہا ہے۔ (سنن الدار قطنی: تحت حدیث 75)

٭ ناصر الدین الالبانی غیر مقلد: محمد بن حمید سے مروی روایت کو ”صحیح“ قرار دیا ہے۔

(سنن ابن ماجۃ باحکام الالبانی: تحت حدیث1301)

عمر بن ہارون البلخی (ت294ھ)
آپ ترمذی اور ابن ماجہ کے را وی ہیں۔
(تہذیب التہذیب ج:4ص315تا317)
آپ کی تعدیل و توثیق ان ائمہ نے فرمائی ہے۔

1: امام قتیبہ بن سعید: قد وثقہ قتیبۃ و غیرہ کہ امام قتیبہ وغیرہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔

(مجمع الزوائد: ج1 ص142)

وقال ایضاً:عمر بن ہارون کان صاحب حدیث کہ عمر بن ہارون محدث تھا۔

(سنن الترمذی: تحت حدیث 2762)

2: امام عبد الرحمٰن بن مہدی: ما قلت فیہ الا خیرا کہ میں اس کے بارے میں خیر ہی کی بات کہتا ہوں۔

(تاریخ بغداد: ج11 ص189)

اور ”وکان ابن مہدی حسن الرای فیہ“ کہ امام عبد الرحمٰن بن مہدی اس کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔

(سیر اعلام النبلاء ج:7ص148تا 152)

3: امام بخاری:” حسن الرای فیہ “کہ امام بخاری عمر بن ہارون کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے۔

(سنن الترمذی: تحت حدیث 2762)

4: امام ابو عاصم: عمر عندنا احسن اخذا للحدیث من ابن المبارک کہ ہمارے ہاں عمر بن ہارون حدیث کی طلب کے معاملے میں ابن المبارک سے زیادہ بہتر مہارت کے حامل تھے۔

(تذکرۃ الحفاظ للذہبی ج:1ص248، 249)

5: علامہ ذہبی: الحافظ،الامام ،المکثر، عالم خراسان ،من اوعیۃ العلم“[علم کا خزانہ تھے ]المحدث ، وارتحل و صنف و جمع [حصول علم کے اسفار کئے، کتب تصنیف کیں اور احادیث جمع کیں]

(تذکرۃ الحفاظ للذہبی ج:1ص:248،249،سیر اعلام النبلاء ج:7ص:148تا 152)

6: حافظ ابن حجر العسقلانی: كان حافظا من كبار التاسعة. کہ آپ نویں طبقہ کے حافظ ہیں۔

(تقریب التہذیب: ترجمۃ 4979)

7: امام ابن خزیمہ: اخرج عنہ فی صحیحہ، اپنی صحیح میں ان سے تخریج کی ہے۔

(صحیح ابن خزیمہ: حدیث نمبر493)

تنبیہہ:
اعتراض کرنے والے زبیر علی زئی کے نزدیک ابن خزیمہ کا کسی روایت کو تخریج کرنا اس کی تصحیح شمار ہوتا ہے۔

(دیکھیے: القول المتین: ص26 از علیزئی غیر مقلد)

اور عمر بن ہارون البلخی سے ابن خزیمہ نے روایت لی ہے۔

(حدیث نمبر493)

لہذا زئی اصول کے تحت بھی یہ راوی قابل احتجاج ہے۔

علی زئی صاحب پر یہ شعر صادق آتا ہے:

تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی ٭٭٭ وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں تھی

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ محمد بن حمید الرازی اور عمر بن ہارون البلخی پر جہاں کچھ حضرات کی جرح ملتی ہے وہاں کئی ائمہ محدثین کی تعدیل و توثیق بھی ملتی ہے، اور اصول حدیث کا قاعدہ ہے کہ جس راوی کی ثقاہت و ضعف میں اختلاف ہو تو اس کی روایت حسن درجہ کی ہوتی ہے، چنانچہ قواعد فی علوم الحدیث میں ہے:

اذا کان روات اسناد الحدیث ثقات وفیہم من اختلف فیہ: اسنادہ حسن، او مستقیم او لا باس بہ•

(قواعد فی علوم الحدیث: ص75)

ترجمہ:جب کسی حدیث کے راوی ثقہ ہوں لیکن ایک راوی ایسا ہو جس کی تعدیل و توثیق میں اختلاف ہو تو اس حدیث کی سند حسن ، مستقیم یا لا باس بہ [مقبول] درجہ کی ہو گی۔

اور یہ قاعدہ کئی محدثین کے ہاں ملتا ہے۔ مثلاً:

1: علامہ منذری

(مقدمۃ الترغیب و الترہیب: ج1 ص4)

2: علامہ زیلعی

(نصب الرایۃ: ج1 ص62)

3: امام ابن دقیق العید

(نصب الرایۃ: ج1ص18)

4: محقق ابن الہمام

(فتح القدیر: ج1 ص68)

5: علامہ جلال الدین سیوطی

(التعقبات للسیوطی: ص54)

6: حافظ ابن حجر عسقلانی

( تہذیب التہذیب: ج5 ص260 ترجمہ عبد اللہ بن صالح)

لہذا اصولی طور پر یہ روایت ”حسن“ درجہ کی ہے۔ مزید یہ کہ یہ روایت اس لحاظ سے بھی بے حد قوی اور ٹھوس ہے کہ عہد فاروقی اور عہد علوی میں مسلمانوں کاعمل اسی کے موافق رہا ہے (حوالہ جات آگے آ رہے ہیں)، ائمہ اربعہ کے اقوال بھی اسی کے موافق ہیں اور عہد فاروقی کے بعد پوری امت کا عمل بھی اسی کے موافق رہا ہے۔ ان باتوں کے بعد یہ حدیث اس قدر قوی ہو جاتی ہے کہ غیر مقلدین کا اسے ”ضعیف“ وغیرہ کہہ کر جان چھڑانا نا ممکن سی بات ہو جاتی ہے۔

اعتراض نمبر2:
بعض غیر مقلدین نے یہ اشکال کیا ہے:

”گھمن نے تر جمہ میں بددیا نتی کی ہے۔ چار رکعت فرض کا اپنی طرف سے اضا فہ کیا ہے کیونکہ ا س روایت سے چوبیس رکعات ترا ویح کا ثبوت ملتا تھا۔“ (الحدیث ش76ص33)

جواب:
راقم نے سہ ماہی مجلہ ” قافلہ حق “ج:4ش:3 میں ایک تحقیقی مضمون ”مسئلہ 20 ترا ویح... دلائل کی روشنی میں“ تحریر کیا تھا۔بعض آل حدیث نے الحدیث ش76میں با زاری زبان استعمال کرکے اس پر لا یعنی اعتراض کئے جن میں سے ایک اعترا ض یہی تھا جس کا جوا ب ادارہ کی جانب سے اگلے شمارہ میں دے دیاگیا، افادۃً پیش خدمت ہے :

”حدیث مبارک کے متن میں الفا ظ موجود ہیں [اربعۃ وعشرین رکعۃ واوتر بثلاثۃ] اس میں جماعت کے ساتھ ادا کی گئی مکمل نماز کا ذکر ہے اور یہ ہروہ شخص سمجھتا ہے جو عقل کی نعمت سے محرو م نہ کردیا گیا ہوکہ رمضا ن المبارک میں امام پہلے با جماعت چا ر فرض اور پھر بیس رکعات تراویح اور آخر میں تین رکعات وتر پڑھا تا ہے۔ رکعات کی ایسی توجیہہ اور وضاحت خود محدثین و شارحین کا طریقہ ہے جن سے غیرمقلدین نا آشنا ہیں۔ چند محدثین کی اس طرز کی وضاحت پیش خدمت ہے۔

1: امام ابن بطال م 449ھ نے حضرت عطاء بن ابی با ح سے ” یصلون ثلاثا وعشرین رکعۃ“ نقل کیا یعنی وہ حضرات 23 رکعات اد ا فر ما تے تھے اور پھر یوں وضاحت فر ما ئی ” الوتر منھا ثلاثا “کہ ان میں تین رکعات وتر ہے۔

(شرح البخا ری لابن بطال ج3ص146)

2: امام ابن عبد البر م 463ھ نے سائب بن یزید سے ”وکان القیا م علی عہدہ [یعنی علی عہد عمر] بثلاث وعشر ین رکعۃ “ یعنی حضرت عمر کے زمانہ مبارک میں 23 رکعت اداکی جا تی تھیں اور اس کے بعد فر ما تے ہیں کہ”وھذا محمول علی ان الثلاث للوتر “یہ اس با ت پر محمو ل ہے کہ تین رکعات وتر ہو تے تھے۔

(التمہید لابن عبد البر ج3ص519،الاستذکار لابن عبد البر ج2ص96

ومثلہ فی عمدۃ القاری علی البخا ری لحافظ العینی عن ابن عبد البرج8ص245 )

3: ا مام ابن عبد البر نے ہی سیدنا اب عبا س سے مرفوعا ً یہ الفاظ تخریج فر ما ئے ہیں کہ” کا ن یصلی فی رمضا ن عشرین رکعۃ“ کہ آپ رمضان میں بیس رکعات ادا فرماتے تھے اس کے بعد فرما تے ہیں کہ وھذا ایضا سوی الوتر اور یہ وتر کے علاوہ کی نما ز ہے ۔

( التمہید: ج4ص519)

4: امام ابن حجر ج852ھ نے سیدنا سائب بن یزید سے” عشرین رکعۃ “نقل فر ما یا اورپھر یو ں وضا حت فرمائی کہ وھذا محمو ل علی غیر الوتر اور یہ وتر کے علاوہ پر محمو ل ہے ۔

(فتح الباری ج4ص321)

غیر مقلدین کی خدمت میں ”عرض“ ہے کہ یہ بددیانتی راقم کے حصہ میں آتی ہے یا دیگر محدثین و شارحین کو بھی اس کا حصہ ملے گا؟! فوا اسفا...

دلیل نمبر 2 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ اَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مَقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ رَمْضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ.

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص286؛معجم کبیرطبرانی ج5 ص433 )

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں بیس رکعات نماز(تراویح)اور وتر پڑھاتے تھے۔

اعتراض:
علیزئی صاحب غیر مقلد نے لکھا:”ہذا حدیث ضعیف“

(تعدادِ رکعات قیام رمضان: ص28)

نیز اس کے ایک راوی ابراہیم بن عثمان پر جرح بھی کی ہے۔

(ماہنامہ ضرب حق سرگودھا: جولائی 2012ء)

یہی کچھ غلام مصطفی غیر مقلد نے لکھا ہے۔

(آٹھ رکعت نماز تراویح:ص6)

جواب نمبر 1:
اولاً:۔۔۔ ’’ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ العنبسی‘‘ جن پر غیر مقلدین نے نقل جرح کی ہے وہ اتنا بھی مجروح نہیں کہ اس کی روایت کورد کردیا جائے،بلکہ بعض محدثین سے اس کی تعدیل و توثیق اور مدح و ثناء بھی ثابت ہے۔

1: امام شعبہ بن الحجاج (م 160ھ) نے ابو شیبہ سے روایت لی ہے۔

(تہذیب الکمال للمزی: ج1 ص268، تہذیب التہذیب : ج1 ص136)

اور غیر مقلدین کے ہاں اصول ہےکہ امام شعبہ اس راوی سے روایت لیتے ہیں جو ثقہ ہو اور اس کی احادیث صحیح ہوں۔

(القول المقبول فی شرح صلوۃ الرسول از ابو عبد السلام: ص386، نیل الاوطار: ج1 ص16)

اگر ابو شیبہ اتنا ضعیف راوی ہوتا جتنا غیرمقلدین کہتے ہیں تو پھر امام شعبہ ان سے روایت نہ لیتے۔

2:امام بخاری رحمہ اللہ کے استاذ الاساتذہ حضرت یزید بن ہارون رحمہ اللہ، ابراہیم بن عثمان ابو شیبہ کے زمانۂ قضاۃ میں ان کے کاتب تھےاور ان کے بڑے مداح تھے، فرماتے ہیں:’’ماقضی علی الناس یعنی فی زمانہ اعدل فی قضاء منہ‘‘

( تہذیب الکمال ج1ص270)

ترجمہ:ابراہیم بن عثمان کے زمانۂ قضاء میں ان سے بڑھ کر کوئی قاضی نہیں ہوا۔

3:امام ابن عدی فرماتے ہیں: لہ احادیث صالحۃ

( تہذیب الکمال ج1ص270)

ترجمہ:ابوشیبہ کی احادیث درست ہیں۔

مزید فرماتے ہیں: وهو وإن نسبوه إلى الضعف خير من إبراهيم بن أبي حية۔

(تہذیب الکمال ج1ص270)

ترجمہ:لوگوں نے ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ کی طرف ضعیف ہونے کی نسبت کی ہے، لیکن یہ ابراہیم بن ابی حیہ سے بہتر ہے۔

اور ابراہیم بن ابی حیہ کے بارے میں امام یحیٰ بن معین فرماتے ہیں: ثقۃ کبیر۔

(لسان المیزان ج1ص52 رقم الترجمۃ 127 )

ترجمہ:یہ شیخ ہیں اور بڑے ثقہ ہیں۔

تو جب ابراہیم بن ابی حیہ امام یحییٰ بن معین کے ہاں ثقہ ہے تو ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ حد درجہ ضعیف کیوں؟اور اس کی حدیث ضعیف کیوں؟!

ثانیاً:۔۔۔ ابراہیم بن عثمان پر کی گئی جروح میں سے بعض جروح مبہم و غیرمفسر ہیں اور بعض جروح غیر مقبول اور مردود بھی ہیں۔ مثلاً زئی صاحب نے لکھا ہے:” اسے شعبہ نے جھوٹا کہاہے۔“

(تعدادِ رکعات قیام رمضان: ص29)

لیکن علامہ ذہبی اور حافظ ابن حجر کی پوری عبارت سامنے رکھنے سے واضح ہوجاتاہے کہ امام شعبہ کی یہ جرح ناقابل قبول ہے۔ خود علامہ ذہبی کے ہاں بھی یہ جرح غلط ثابت ہوتی ہے۔ عبارت یہ ہے:

کذبہ شعبۃ لکونہ روی عن الحکم عن ابن ابی لیلیٰ انہ قال شہد صفین من اہل بدرسبعون فقال شعبۃ کذب واللہ لقد ذاکرت الحکم فما وجدنا شہد صفین احدا من اہل بدر غیر خزیمۃ ۔قلت: سبحان اللہ! اما شہد ہا علی؟اما شہد ہا عمار؟

(میزان الاعتدال للذہبی: ج1ص84)

ترجمہ:امام شعبہ نے ابراہیم بن عثمان کو جھوٹا اس وجہ سے کہا ہے کہ اس نے حکم سے روایت کی کہ ابن ابی لیلیٰ نے کہا جنگ صفین میں ستر بدری صحابہ شامل تھے۔ شعبہ نے کہا واللہ! ابراہیم بن عثمان نے تو جھوٹی بات کہی ہے ۔میں نے خود امام حکم سے مذاکرہ کیا تو سوائے حضرت خزیمہ کے کسی کو اہل بدر سنے نہیں پایا۔ میں (ذہبی)کہتا ہوں: سبحان اللہ! کیا صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حاضر نہ تھے ؟کیا صفین حضرت عمار رضی اللہ عنہ حاضر نہ تھے؟

اس تفصیل سے امام شعبہ کی تکذیب کی حقیقت واضح ہوگئی کہ انہوں نے تکذیب صرف اس وجہ سے کی تھی کہ ابراہیم نے حکم کے واسطے سے ابن ابی لیلیٰ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ صفین میں ستر بدری صحابہ شریک تھے ۔تو اس سے ابراہیم کا جھوٹا ہونا کیسے ثابت ہوتاہے؟ بلکہ جھوٹ تو اس وقت ثابت ہوتا کہ جب شعبہ حکم کے پاس مذاکرہ کرنے گئے تو حکم سرے سے اس بیان کا انکار کردیتے لیکن حکم اس کا انکار نہیں کرتے، بلکہ مذاکرہ سے صرف ایک صحابی ثابت ہوا۔معلوم ہوا کہ امام حکم نے بیان کیا تھا لیکن اب وہ ستر کا عدد ثابت نہ کرسکے۔ تو اس میں ابراہیم کا کیا قصور ہے؟! علاوہ ازیں علامہ ذہبی نے بھی امام شعبہ کے اس بیان کو یوں رد کردیا کہ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمار رضی اللہ عنہ بھی تو یقیناً شریک تھے ۔تو پھر متعین ایک ہی کیسے ثابت ہوا کم سے کم تین کہیے۔ یعنی اس طرح اور تحقیق کرلیجیے ممکن ہے اور نکل آئیں۔معلوم ہوا کہ امام ذہبی کے نزدیک بھی شعبہ کی یہ جرح مردود ہے ،لیکن علی زئی صاحب کی ”دیانت“ کو بھی داد دیجیے۔

ثالثاً:۔۔۔ ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ پر کچھ کلام بھی کیا گیا ہے اور اسے ضعیف بھی بتلایا گیا ہے لیکن یہ اتنا بھی ضعیف نہیں کہ اس کی روایت کو مطلقاً ترک کردیا جائے بلکہ دیگر مؤیدات کی وجہ سے (جن کا بیان آگے آرہاہے)یہ روایت اس قدر مستحکم وقوی ہوجاتی ہے کہ ضعیف کہہ کر جان چھڑانا ناممکن سی بات ہے۔چنانچہ چنانچہ محدث شہیر حضرت مولانا حبیب الرحمن اعظمی فر ما تے ہیں :

’’ابو شیبہ کی یہ حدیث چا ہے اسناد کے لحا ظ سے ضعیف ہو مگر اس لحا ظ سے وہ بے حد قوی اور ٹھو س ہے کہ عہد فاروقی کے مسلمانو ں کا اعلانیہ عمل اس کے موافق تھایا کم از کم آخر میں وہ لو گ اسی پر جم گئے اور روایتو ں سے حضرت علی کے زمانہ کے مسلمانو ں کا عمل بھی اسی کے موافق ثا بت ہوتا ہے اور ہر چار ائمہ مجتہدین کے اقوال بھی اسی کے مطابق ہیں اور عہد فاروقی کے بعد سے ہمیشہ امت کا عمل بھی بلا اضا فہ یا اضا فہ کے ساتھ اس کے موافق رہا ہے ان باتو ں کے انضمام سے ابو شیبہ کی حدیث اس قدر کی قوی ومستحکم ہوجا تی ہے کہ اس کے بعد اس کو ضعیف کہہ کر جا ن چھڑا نا نا ممکن سی با ت ہو جا تی ہے‘‘

(رکعات تراویح ص60)

جواب نمبر2:
اس روایت کو تلقی بالقبول حاصل ہے (یعنی امت اس پر عمل کرتی چلی آ رہی ہے اور آج تک بیس رکعت پر عمل پیرا ہے۔ ملاحظہ ہو مسجد نبوی کے مشہور مدرس اور مدینہ منورہ کے سابق قاضی شیخ عطیہ سالم کی کتاب’’التراویح اکثر من الف عام‘‘ جس میں انہوں نے ثابت کیا ہے کہ مسجد نبوی میں چودہ سوسالہ مدت میں بیس رکعت تراویح متواتر عمل ہے اس سے کم ثابت نہیں) اور قاعدہ ہے کہ اگر کسی روایت کو تلقی بالقبول حاصل ہو جائے تو روایت صحت کا درجہ پا لیتی ہے۔

1: امام شافعی (204ھ)فرماتے ہیں:حديث لا وصيه لوارث إنه لا يثبته أهل الحديث ولكن العامه تلقته بالقبول وعملوا به حتى جعلوہ ناسخاً لآيۃ الوصيۃ له.

(فتح المغيث شرح ألفية الحديث للسخاوي ج 1 ص 289)

ترجمہ:محدثین اس حدیث کو [صحیح سند کے ساتھ] ثابت نہیں مانتے لیکن عامہ علماء نے اس کو قبول کر لیا ہے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے اس حدیث کو آیت وصیت کا ناسخ قرار دیا ہے۔

2:امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ(911ھ) فرماتے ہیں:

قال بعضھم یحکم للحدیث بالصحة اذا تلقاہ الناس بالقبول وان لم یکن لہ اسناد صحیح.

(تدریب الراوی ص29)

بعض محدثین فرماتے ہیں کہ حدیث پر صحیح ہونے کا حکم اس وقت بھی لگایا جائے گا جب امت اس کو قبول کر لے، اگرچہ اس کی سند صحیح نہ ہو۔

3:حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:و ذہب بعضہم الی ان الحدیث اذاتاید بالعمل ارتقی من حال الضعف الی مرتبۃ القبول۔ قلت: و ھو الاوجہ عندی۔

(فیض الباری شرح البخاری: ج3،ص:409 کتاب الوصایا، باب الوصیۃ لوارث)

ترجمہ: بعض محدثین کی رائے یہ ہےکہ حدیث کی تائید جب عمل کے ساتھ ہوتو درجہ ضعف سے درجہ قبولیت پا لیتی ہے۔ میں (علامہ کشمیری رحمہ اللہ) کہتا ہوں کہ یہی رائے میرے ہاں زیادہ پسندیدہ ہے۔

4:غیر مقلد عالم ثناء اللہ امرتسری نے اعتراف کیا:’’بعض ضعف ایسے ہیں جو امت کی تلقی بالقبول سے رفع ہو گئے ہیں‘‘

(اخبارِ اہل حدیث مورخہ 19 اپریل1907 بحولہ رسائلِ اعظمی ص331)

لہذا یہ روایت تلقی بالقبول ہونے کی وجہ سے یہ روایت صحیح و حجت ہے۔

جواب نمبر3:
اس حدیث کو ابرا ہیم بن عثمان ابوشیبہ سے روایت کرنے والے چار محدث ہیں ۔

1: یزید بن ہارون: (مصنف ابن ابی شیبۃ ج2 ص284 باب كم يصلي فِي رَمَضَانَ مِنْ رَكْعَةٍ)

2: علی بن جعد :(المعجم الکبیر للطبرانی ج5ص433 رقم 11934)

3: ابو نعیم فضل بن دکین :(المنتخب من مسند عبد بن حميد ص218 رقم 653،)

4: منصور بن ابی مزاحم :(السنن الكبرى للبیھقی ج2ص496 باب مَا رُوِىَ فِى عَدَدِ رَكَعَاتِ الْقِيَامِ فِى شَهْرِ رَمَضَانَ.)

اور یہ چا روں حضرات ثقہ ہیں ۔

1: یزید بن ہارون :ثقہ ، متقن ۔(تقریب التہذیب ص638)

2: علی بن جعد:ثقہ، صدوق ۔(سیر اعلا م النبلاءج10 ص466)

3: ابو نعیم فضل بن دکین :الحافظ الکبیر، ثقہ ثبت۔( تقریب التہذیب ص475)

4: منصور بن ابی مزاحم :ثقہ ۔( تقریب التہذیب ص576)

ان ثقہ وعظیم محدثین کا ابرا ہیم بن عثمان ابو شیبہ سے بیس رکعت نقل کرنے میں متفق ہونا قوی تا ئید ہے کہ یہ حدیث ثا بت وصحیح ہے ورنہ یہ ثقہ حضرات اس طرح متفق نہ ہو تے ۔

دلیل نمبر 3 :
عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ اَمَرَ اُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِاللَّیْلِ فِیْ رَمْضَانَ فَقَالَ اِنَّ النَّاسَ یَصُوْمُوْنَ النَّھَارَ لَایُحْسِنُوْنَ اَنْ یَّقْرَأُ وْا فَلَوْقَرَأتَ الْقُرْآنَ عَلَیْھِمْ بِاللَّیْلِ فَقَالَ: یَااَمِیْرَ الْمُؤمِنِیْنَ! ہٰذَا شَیْیٌٔ لَمْ یَکُنْ۔ فَقَالَ؛ قَدْعَلِمْتُ وَلٰکِنَّہٗ اَحْسَنُ۔ فَصَلّٰی بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً

(اتحاف الخیرۃ المہرۃ علی المطالب العالیہ ج2ص424)

ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ میں رمضان شریف کی رات میں نماز(تراویح) پڑھاؤں! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ’’لوگ دن کو روزہ رکھتے ہیں اور (رات) قرأت (قرآن) اچھی نہیں کرتے۔ تو قرآن مجید کی رات کو تلاوت کرے تو اچھا ہے۔‘‘ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے امیر المومنین! یہ تلاوت کا طریقہ پہلے نہیں تھا ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’ میں جانتا ہوں لیکن یہ طریقہ تلاوت اچھا ہے۔‘‘تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعات نماز (تروایح) پڑھائی۔

اعتراض نمبر1:
آ ل حدیث نے لکھا: ’’یہ روایت اتحا ف الخیرۃ المہرۃ للبوصیری میں بغیر کسی سند کے احمد بن منیع کے حوالے مذکور ہے۔ سرفرازصفدر ویوبندی لکھتے ہیں کہ ’’بے سند با ت حجت نہیں ہو سکتی ‘‘(مقدار رکعات قیا م رمضا ن ص74 از زئی غیر مقلد )

غلام مصطفی ظہیر نے با زاری زبان استعمال کرتے ہو ئے لکھا:’’بے سند روایات وہی پیش کرتے ہیں جنکی اپنی کوئی سند نہ ہو۔‘‘

(آٹھ رکعت نما ز تراویح ص8)

جواب:
اللہ تعا لی جنا ب کو اخلا ق حسنہ عطا فر ما ئے ، الاحادیث المختارہ للمقدسی میں یہ روایت سند کے ساتھ موجود ہے۔ جناب کی ’’تسلی‘‘ کےلئے سند پیشِ خدمت ہے :

أخبرنا أبو عبدالله محمود بن أحمد بن عبدالرحمن الثقفي بأصبهان أن سعيد بن أبي الرجاء الصيرفي أخبرهم قراءة عليه أنا عبدالواحد بن أحمد البقال أنا عبيدالله بن يعقوب بن إسحاق أنا جدي إسحاق بن إبراهيم بن محمد بن جميل أنا أحمد بن منيع أنا الحسن بن موسى نا أبو جعفر الرازي عن الربيع بن أنس عن أبي العالية عن أبي بن كعب أن عمر أمر أبيا أن يصلي بالناس في رمضان الحدیث

[الاحادیث المختارۃ للمقدسی ج3ص367 رقم 1161]

اعتراض نمبر2:
علی زئی غیر مقلد نے لکھا: ” اس گھمنی ”دلیل“ کے راوی ابوجعفر الرازی کی ربیع بن انس سے روایت میں بہت اضطراب ہوتا ہے... اور یہ بھی اسی سند سے ہے، لہٰذا ضعیف ہے۔ “

(ماہنامہ ضرب حق سرگودھا: جولائی 2012ء، انوار الصحیفہ ص15 از علی زئی)

جواب :
قارئین کرام! آپ غیر مقلدین کی ”تہذیب“ ملاحظہ فرمائیں اثر خلیفہ راشد کے لیے کس طرز کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، گھمنی دلیل کہہ کر اسے رد کررہے ہیں۔ کیا یہی اخلاق محمدی ہیں؟! اگر اسی کا نام ”عمل بالحدیث“ ہے تو یہ غیر مقلدین کو مبارک.... خیر جواب پیشِ خدمت ہے۔

اولاً:... ابو جعفر رازی صا لح الحدیث ،ثقہ اور صدوق ہیں ۔ ابن حبان نے ثقات میں شمار کیا ہے اور امام ذہلی فر ما تے ہیں کہ میں نے ان کی تضعیف کرتے کسی کو نہیں پایا ۔

(بذل المجہود ج2ص223)

اور ربیع بن انس کو امام عجلی اور ابو حا تم رازی نے ثقہ کہا ہے ۔ امام نسا ئی فر ما تے ہیں اس کی حدیث میں کوئی اعترا ض نہیں ۔

(السنن الکبریٰ للبیہقی: ج2ص201)

نیز خود زبیر علی زئی نے ایک مقام پر لکھا ہے: ”خالد بن یزید العتکی، ابو جعفر الرازی اور ربیع بن انس تینوں جمہور محدثین کی توثیق کی وجہ سے حسن الحدیث تھے۔ “

(الحدیث: شمارہ 72 ص5)

ثانیاً:... ابو جعفررازی عن الربیع بن انس کی سندکو محققین اور خود غیر مقلدوں کے ”بزرگوں“ نے صحیح قرار دیا ہے مثلاً:

1:علامہ سیوطی:حضرت ابی ابن کعب کے ایک نسخہ کا ذکر کر کے جس کی سند” أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِىُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ“ ہے، فرماتے ہیں:

وهذا إسناد صحيح.

(الاتقان فی علوم القرآن للسیوطی: ج2 ص498 طبقۃ التابعین)

2: محمد حسین الذہبی: ایک روایت جس کی سند” أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِىُّ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ“ ہے،نقل کر کے فرماتے ہیں:

وهذه طريق صحيحة.

( التفسير والمفسرون ج2ص24)

3:امام بیہقی ایک سند کے متعلق امام ابو عبد اللہ کا قول نقل کرتے ہیں جس میں ابو جعفر الرازی ربیع بن انس سے روایت کرتے ہیں:

هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.

(السنن الکبریٰ: ج2 ص201)

4: البانی صاحب اس جیسی سند کے متعلق لکھتے ہیں:”صحیح“.

(سنن ابی داؤد باحکام الالبانی: تحت ح2573)

5:حاشیۃ الاحادیث المختارۃ:کئی مقامات پر ایسی سند کو ”إسناده حسن“ لکھا جس میں ابو جعفر الرازی ربیع بن انس سے روایت کرتے ہیں۔

(حاشیۃ الاحادیث المختارۃ:إسناده حسن رقم الحدیث 2119 )

6: امام ابو عبد اللہ الحاکم اس جیسی سند کے متعلق لکھتے ہیں:

صحيح الإسناد.

(المستدرك: ج2/ص434 ح3510)

ثالثاً:... اعتراض کرنے والے جناب زبیر علی زئی صاحب کے نزدیک ضیاء مقدسی کا کسی روایت کو ”الاحادیث المختارۃ“ میں تخریج کرنا اس روایت کی تصحیح شمار ہوتا ہے۔

(دیکھیے: تعداد رکعت قیام رمضان: ص23)

اور یہی روایت ضیاء المقدسی نے الاحادیث المختارہ میں تخریج کی ہے۔

(حدیث نمبر1161)

لہذا زئی اصول کے تحت بھی یہ راویت صحیح ہے۔

علی زئی صاحب پر یہ شعر صادق آتا ہے:

الجھا ہے پاؤں یار کا زلفِ دراز میں ٭٭٭ لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

رابعاً:... غیر مقلدین کے ممدوح علامہ ابن تیمیہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بیس رکعت پڑھا نے کو ثا بت مانتے ہیں ،چنانچہ لکھتے ہیں:

قد ثبت ان ابی بن کعب کان یقوم بالناس عشرین رکعۃ ویوتر بثلاث فرأی اکثر من العلماء ان ذلک ھو السنۃ لانہ قام بین المہا جر ین والانصار ولم ینکرہ منکر.

(فتاویٰ ابن تیمیہ قدیم ص186/ج1،فتاویٰ ابن تیمیہ جدیدص112ج23)

ترجمہ: یہ بات ثا بت ہے کہ حضرت ابی بن کعب لوگو ں کو بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے تھے۔ اس لئے علماء کی اکثریت کی رائے میں بیس ہی سنت ہیں کیونکہ حضرت ابی بن کعب نے بیس رکعت مہاجرین اور انصار صحابہ کے سامنے پڑھائی ہیں اور کسی نےبھی(بیس ترا ویح کے سنت ہو نےکا ) انکار نہیں کیا۔

لہذا غیر مقلدین کا اعتراض باطل ہے۔

دلیل نمبر 4 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْھَرِیُّ اَنَا اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ مِنَ الْقُرْاٰنِ ۔

(مسند ابن الجعد ص413 ،معرفۃ السنن و الآثار للبیہقی: ج2 ص305)

ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان شریف کے مہینہ میں بیس رکعات (نماز تروایح ) پابندی سے پڑھتے اور قرآن مجید کی دو سوآیات پڑھتے تھے۔

تحقیق السند: اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

اعتراض:
آل حدیث نے لکھا:

1: یہ روایت شاذ ہے... شاذ روایت ضعیف ہوتی ہے۔

2: مو طا مالک کی محفوظ روایت میں آیا ہے کہ سیدنا عمر رضی الله عنہ نے سیدنا ابی بن کعب رضی الله عنہ اور سیدنا تمیم الداری رضی الله عنہ کو حکم دیا کہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائے۔

(ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی)

بعض الناس نے لکھا: یزید بن خصیفہ نے محمد بن یوسف کی مخالفت کی ہے۔

(الحدیث شمارہ 76 ص40، مضمون زبیر صادق آبادی)

جواب:
اس اعتراض کے جواب کے لیے تین باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

1: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تعداد رکعات تراویح

2: ”یزید بن خصیفۃ عن السائب بن یزید“ کے طریق کی اسنادی حیثیت

3: کیا یزید بن خصیفہ نے محمد بن یوسف کی مخالفت کی ہے؟

پہلی بات:
جہاں تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تراویح کی رکعات کا تعلق ہے تو وہ بلا شبہہ بیس ہیں (مضطرب اور ضعیف روایات کا کوئی اعتبار نہیں) تفصیل یہ ہے:

1: روایت حضرت ابی بن کعب... 20 رکعات

(ملاحظہ ہو دلیل نمبر3- اسنادہ صحیح)

2: روایت سائب بن یزید... 20 رکعات

(زیر نظر روایت- اسنادہ صحیح علی شرط البخاری)

3: روایت محمد بن کعب القرظی... 20 رکعات

(قیام اللیل للمروزی: ص157- قد احتج بہ المروزی و ھو صحیح عندہ)

4: روایت یزید بن رومان... 20 رکعات

(موطا امام مالک: ص98- اسنادہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم)

5: روایت یحیی بن سعید... 20 رکعات

(مصنف ابن ابی شیبہ: ج2 ص285- اسنادہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم)

6: روایت عبدالعزیز بن رفیع... 20 رکعات

(مصنف ابن ابی شیبہ: ج2 ص285- اسنادہ صحیح)

7: روایت حسن بصری... 20 رکعات

(سنن ابی داؤد: ج1 ص211- اسنادہ صحیح)

لہذا فرقہ اہل حدیث کا ”گیارہ رکعات“ کو محفوظ اور ”بیس رکعات“ کو شاذ گرداننا باطل ہے۔

دوسری بات:
”یزید بن خصیفۃ عن السائب بن یزید“ کے طریق کی اسنادی حیثیت

1: عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ الْجَوْھَرِیُّ اَنَا اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ الخ

(مسند ابن الجعد ص413)

تحقیق السند: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری

2: اَبُوْبَکْرِ الْبَیْہَقِیُّ: اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ فَنْجَوَیْہِ الدِّیْنَوْرِیُ بِالدَّامَغَانِ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ السَنِیُّ اَنْبَأَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِالْبَغْوِیُّ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِاَنْبَأَ اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ الخ

(السنن الکبری للبیہقی ج2ص496)

تحقیق السند: امام نووی فرماتے ہیں: اسناد صحیح.

(خلاصۃ الاحکام: تحت ح1961)

3: روی مالک من طریق یزید بن خصیفۃ عن السائب بن یزید عشرین رکعۃ.

(نیل الاوطارللشوکانی ج2ص514)

تحقیق السند:اسنادہ صحیح علی شرط البخاری و مسلم

نوٹ: یہ طریق صحیح البخاری ج1 ص312 پرموجود ہے۔ وللہ الحمد

تیسری بات:
کیا یزید بن خصیفہ نے محمد بن یوسف کی مخالفت کی ہے؟ اس پر تفصیلی کلام پیشِ خدمت ہے۔

تعداد رکعت کے حوالے سے حضرت سائب بن یزید سے روایت کرنے والے تین راوی ہیں:

1: یزید بن خصیفہ... 20 رکعات

(مسند ابن الجعد)

2: حارث بن عبدالرحمن ابی ذباب... 23 رکعات [وتر سمیت]

(مصنف عبدالرزاق)

3: محمد بن یوسف....

(تفصیل آگے آ رہی ہے)

سائب بن یزید کے تین شاگردوں میں سےیزید بن خصیفہ 20 رکعات اور حارث بن عبدالرحمن ابی ذہاب 23 رکعات [مع الوتر] نقل کرتے ہیں ، البتہ محمد بن یوسف نے دو باتوں میں اختلاف کیا ہے ۔

1: یزید بن خصیفہ اور حارث بن عبدالرحمن ابی ذباب قاریوں کی تعداد نہیں بتاتے لیکن محمد بن یوسف نے بتائی ہے کہ دو تھے؛ ابی بن کعب اور تمیم داری ۔

2: یزید بن خصیفہ اور حارث بن عبدالرحمن ابی ذباب تراویح بیس ہی نقل کرتے ہیں لیکن محمد بن یوسف نے تراویح کی تعداد گیارہ، تیرہ اور اکیس نقل کی ۔

محمد بن یوسف کے شاگردوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:

1: امام مالک... 11 رکعات

(موطا امام مالک)

2: یحیی بن سعید القطان... 11 رکعات

(مصنف ابن ابی شیبہ)

3: عبدالعزیز بن محمد الدَّرَاوَرْدِی... 11 رکعات

(سعید بن ابی منصور)

4: محمد بن اسحاق... 13 رکعات

(قیام اللیل للمروزی)

5: داؤد بن قیس وغیرہ ... 21 رکعات

(مصنف عبدالرزاق)

اس سے واضح ہوتا ہے کہ محمد بن یوسف کے پانچوں شاگردوں کے بیانات عدد وکیفیت کے لحاظ سے باہم مختلف ہیں کہ...

۱: پہلے تین شاگرد گیارہ نقل کرتے ہیں اور محمد بن اسحاق تیرہ ،جبکہ پانچواں شاگرد داؤد بن قیس اکیس رکعات نقل کرتا ہے۔

۲:امام مالک کی روایت میں گیارہ رکعت پڑھانے کا حکم ہے عمل کا ذکر نہیں ،یحیی القطان کی روایت میں حکم کا ذکر نہیں ،عبدالعزیز بن محمد کی روایت میں گیارہ رکعت تو ہیں لیکن نہ حکم ہے اور نہ ابی بن کعب اور تمیم داری کا ذکر ۔محمد بن اسحاق کی روایت میں تیرہ رکعت کا ذکر ہے لیکن نہ حکم ہے اور نہ ابی وتمیم کا ذکر،اور داود بن قیس کی روایت میں حکم تو ہے لیکن گیارہ کی بجائے اکیس کا ذکر ہے۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ محمد بن یوسف کی یہ روایت شدید اضطراب کا شکار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محققین نے اسے وہم راوی قرار دیا ہے۔ چنانچہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں:

ان الاغلب عندی ان قولہ احدی عشرۃ وھم

(الزرقانی شرح موطا: ج1ص215)

ترجمہ: میرے نزدیک راجح یہی ہے کہ راوی کا قول ”احدی عشرۃ“ [گیارہ رکعت]وہم ہے۔

خلاصہ کلام:
1: یزید بن خصیفہ عن السائب بن یزید والی روایت صحیح و محفوظ ہے، شاذ کہنا غلط ہے۔

2: یزید بن خصیفہ کو محمد بن یوسف کا مخالف ٹھہرانا غلط ہے، کیونکہ یزید بن خصیفہ دیگر راویوں کی طرح بیس رکعت نقل کرتا ہے اور محمد بن یوسف کی روایت خود محققین کی نظر میں مضطرب اوروہم ہے اور بقاعدہ ”والاضطراب يوجب ضعف الحديث“

(تقریب النووی مع شرحہ التدریب: ص234)

محمد بن یوسف والی روایت ضعیف ٹھہرتی ہے۔

3: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس رکعت تراویح صحیح اسانید کے ساتھ ثابت ہے۔ وللہ الحمد

دلیل نمبر 5 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْبَکْرِ الْبَیْہَقِیُّ اَخْبَرَنَا اَبُوْعَبْدِاللّٰہِ الْحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ فَنْجَوَیْہِ الدِّیْنَوْرِیُ بِالدَّامَغَانِ ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ السَنِیُّ اَنْبَأَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِیْزِالْبَغْوِیُّ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِاَنْبَأَ اِبْنُ اَبِیْ ذِئْبٍ عَنْ یَّزِیْدَ بْنِ خُصَیْفَۃَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ قَالَ کَانُوْا یَقُوْمُوْنَ عَلٰی عَہْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاِنْ کَانُوْا لَیَقْرَؤُوْنَ بِالْمِئَیْنِ وَکَانُوْا یَتَوَکَّئُوْنَ عَلٰی عَصِیِّھِمْ فِیْ عَہْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مِنْ شِدَّۃِ الْقِیَامِ۔

(السنن الکبری للبیہقی: ج2ص496)

ترجمہ: حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں رمضان شریف میں بیس رکعات (نماز تراویح) پابندی سے پڑھتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کی دو سو آیات تلاوت کرتے تھے اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگ قیام کے (لمبا ہونے کی وجہ سے ) اپنی (لاٹھیوں) پر ٹیک لگاتے تھے۔

فائدہ: اس کی سند بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔

تنبیہہ: غیر مقلدین کی جانب سے دلیل نمبر4 اور دلیل نمبر5 پر ایک ہی اعتراض کیا گیا ہے جس کا جواب ماقبل میں سے دیا گیا ہے۔

دلیل نمبر 6 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اَبُوْدَاوٗدَ حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ نَا ھُشَیْمٌ اَنَا عَنِ الْحَسَنِ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلٰی اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فِیْ قِیَامِ رَمْضَانَ ،فَکَانَ یُصَلِّیْ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً.

(سنن ابی داؤد ص1429،سیر اعلام النبلاء للذہبی: ج3ص176)

ترجمہ: حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رمضان شریف میں نماز تروایح پڑھنے کے لیے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر لوگوں کو جمع کیا تو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان کو بیس رکعات (نماز تراویح) پڑھاتے تھے۔

اعتراض:
آل حدیث نے اس روایت پر دو اعتراض کیے ہیں:

1: ”عشرین رکعۃ“ کے الفاظ دیو بندی تحریف ہے۔ محمود الحسن دیوبندی (1268۔1339) نے یہ تحریف کی ہے ، ”عشرین لیلۃ“بیس راتیں کی بجا ئے ”عشرین رکعۃ“ بیس رکعتیں کردیا۔

(آٹھ رکعت نماز تراویح ص9)

2: اس کی سند منقطع ہے کیونکہ حسن بصری نے عمر رضی الله عنہ کو نہیں پایا تھا... نیز سرفراز خان صفدر دیوبندی نے حسن بصری کی ایک منقطع روایت پر جرح کی ہے۔

(ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی ملخصاً)

جواب:
ہر ایک کا جواب پیشِ خدمت ہے۔

شق اول کا جواب:
اولاً :۔۔۔۔ حضرت اوکاڑوی رحمہ اللہ ایک غیر مقلد سلطان محمود جلالپوری کے جواب میں فر ما تے ہیں :

’’ابو داؤد کے دو نسخے ہیں، بعض نسخو ں میں عشرین رکعۃ اور بعض میں عشرین لیلۃ ہے۔ جس طرح قر آ ن پاک کی دو قرأتیں ہو ں تو دونوں کوماننا چا ہیے، ہم دونو ں نسخو ں کو تسلیم کرتے ہیں، لیکن حیلہ بہا نے سے انکا ر حد یث کے عا دی سلطان محمود جلا لپوری نے اس حدیث کا انکار کر دیا اور الٹا الزا م علماء دیوبند پر لگا دیا ۔‘‘

(تجلیا ت صفدر ج3ص316)

ثانیاً:۔۔۔۔جلیل القدر محدثین و محققین نے اس روا یت کو نقل کیا اور ”عشرین رکعۃ“ ہی نقل کیا ہے ، مثلاً:

1: علامہ ذہبینے ابوداؤد کے حوالے سے ”عشرین رکعۃ“ نقل کیا۔

(سیر اعلام النبلاء ج3ص176، 177، تحت تر جمہ ابی بن کعب رقم الترجمہ :223)

2: علامہ ابن کثیر ۔

(جامع المسانید والسنن ج1ص55)

3: الشیخ محمد علی الصابونی ۔

(الھدی النبوی الصحیح فی صلوۃ التراویح ص56)

4: شیخ الہند مولانا محمود حسن ۔

(سنن ابی داؤدبتحقیق شیخ الہند ج1ص211)

5: نسخہ مطبوع عرب۔

( ص1429 بحوالہ تجلیا ت صفدر ج3ص316)

یہ 5حوالہ جات لاعلم لوگو ں کو چپ کرا نے کے لیے کا فی ہیں ۔

فائدہ : حضرت عمر کے زمانے میں پڑھی جا نے والی تراویح کے چھ راوی گزر چکے ہیں جو ”عشرین رکعۃ“ نقل کرتے ہیں (دلیل نمبر4 کے تحت اعتراض کے جواب کے ذیل میں) یہ زبر دست تا ئید ہے کہ ”عشرین رکعۃ“ والا نسخہ ابی داؤد بھی صحیح وثابت ہے ۔ والحمد للہ

شق دوم کا جواب:
امام حسن بصری (ت110ھ) کی یہ روایت مرسل ہے۔ مراسیل حسن بصری کے متعلق ائمہ محدثین کی آراء ملاحظہ ہوں:

1: امام علی بن المدینی فرماتے ہیں: حسن بصری کی وہ مرسل روایات جو ان سے ثقہ راوی روایت کریں ”صحیح“ ہوتی ہیں۔

(تدریب الراوی: ص124)

2: امام یحییٰ بن سعید القطان فرماتے ہیں: حسن بصری جب ”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم“ کہہ کر حدیث بیان کرتے ہیں تو ہمیں اس کی اصل میں ایک یا دو حدیثیں مل جاتی ہیں۔

(تدریب الراوی: ص124)

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں: امام یحییٰ بن سعید القطان کی مراد حسن بصری کی وہ مراسیل ہیں جنہیں وہ صیغہ جزم اور یقین کےساتھ بیان کریں۔

(تدریب الراوی: ص124)

ائمہ محدثین کی ان آراء کی روشنی میں عرض ہے کہ زیرِ نظر روایت امام حسن بصری سے ”ہشیم بن بشیر بن القاسم السلمی“ بیان کرتے ہیں جو صحیح البخاری،صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں اور ثقہ و ثبت راوی ہیں۔

(تقریب التہذیب: رقم الترجمۃ7312)

نیز حسن بصری اس روایت کو ”اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلٰی اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ فِیْ قِیَامِ رَمْضَانَ ،فَکَانَ یُصَلِّیْ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً“ کہہ کر جزماً بیان کرتے ہیں۔ لہذا محدثین کے مذکورہ قاعدہ کی رو سے یہ روایت صحیح و حجت ہے۔ وللہ الحمد

تنبیہہ:
علی زئی صاحب نے حسن بصری کی ایک منقطع روایت پر جرح کے لیے امام اہل السنت حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دیا ہے۔ عرض ہے کہ حوالہ نقل کرتے ہوئے انصاف شرط ہے۔ امام اہل السنت نے ”الحسن عن عمران بن الحصین“ (مستدرک الحاکم) پر جرح کی ہے جو مرسل تو ہے لیکن صیغہ ”عن“ کے ساتھ ہے، جزماً بیان نہیں ہوئی جبکہ ہماری پیش کردہ روایت صیغہ جزم ” ”اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَمَعَ النَّاسَ عَلٰی اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ الخ“ کے ساتھ ہے۔ عنعنہ پر کی گئی جرح کو جزماً روایت پر فٹ کرنا غیر مقلدین ہی کا کام ہو سکتا ہے۔ کیا غیر مقلدین میں کوئی رجل رشید نہیں؟!

دلیل نمبر 7 :
رَوَی الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ زَیْدُ بْنُ عَلِیِّ الْہَاشْمِیُّ فِیْ مُسْنَدِہٖ کَمَا حَدَّثَنِیْ زَیْدُ بْنُ عَلِیٍّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ عَنْ عَلِیٍّ اَنَّہٗ اَمَرَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الْقِیَامِ فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ اَنْ یُّصَلِیَّ بِھِمْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً یُّسَلِّمُ فِیْ کُلِّ رَکْعَتَیْنِ وَیُرَاوِحَ مَابَیْنَ کُلِّ اَرْبَعِ رَکْعَاتٍ.

(مسند الامام زیدبن علی ص158)

ترجمہ: حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو حکم دیا جو لوگوں کو رمضان شریف کے مہینہ میں نماز (تراویح) پڑھاتے تھے کہ وہ ان کو بیس رکعات نماز (تراویح) پڑھائیں! ہر دو رکعتوں کے درمیان سلام پھیرے اور ہر چار رکعتوں کے درمیان آرام کے لیے کچھ دیر وقفہ کرے ۔

اعتراض
آل حدیث نے لکھا:

1: ”مسند زید“ اہل سنت کی کتاب نہیں، بلکہ شیعوں کی کتاب ہے.

2: ”مسند زید“کا بنیادی راوی ابو خالد عمر و بن خالد الواسطی کذاب (بہت جھوٹا) راوی ہے۔

(ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی)

جواب:
ہر شق کا جواب پیش خدمت ہے:

جواب شق اول:
اولاً...... ”مسند زید“ (المعروف المجموع الفقہی) شیعوں کی نہیں بلکہ سنیوں کی کتاب ہے۔ اس پر چند قرائن پیش ہیں:

[۱]:اس میں وضو کرتے ہوئے پاؤں کو دھونے کا ذکر ہے۔ (ص53) جبکہ شیعہ پاؤں کو دھونے کے بجائے پاؤں پر مسح کرتے ہیں۔

[۲]:اس میں شروع نماز کے علاوہ پوری نماز میں رفع یدین نہ کرنے کا ذکر ہے۔ (ص88) جبکہ شیعہ نماز کے اندر اور سلام کے وقت رفع یدین کرتے ہیں۔

[۳]: اس میں تراویح کا ذکر ہے۔ (ص158) جبکہ شیعہ اس کے سرے سے منکر ہیں۔

[۴]:اس میں سحری تاخیر سے کھانے اور افطاری جلدی کرنے کا ذکر ہے۔ (ص211) جبکہ شیعہ کا عمل اس کے برعکس ہے۔

[۵]:اس میں ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے والی روایت موجود ہے۔ (ص211) جبکہ شیعہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں۔

اور بھی بہت سے حوالہ جات جمع کیے جا سکتے ہیں۔

ان حوالہ جات سے ثابت ہوا کہ یہ اہل السنت کی کتاب ہے، اہل تشیع سے اس کا دور دور کا تعلق نہیں۔

ثانیاً...... اس کتاب کی اکثر احادیث کی تائید دیگر کتب اہل السنت سے بھی ہوتی ہے۔ مثلاً

(۱) حدیث نمبر 1 کی تائید.... از مؤطا امام مالک حدیث نمبر32، صحیح بخاری حدیث نمبر158، 162، 183، صحیح مسلم حدیث نمبر236

(۲) حدیث نمبر 67کی تائید...از صحیح مسلم حدیث نمبر1389، سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر725، مسند احمد حدیث نمبر13815

(۳) حدیث نمبر68 کی تائید ... ازمؤطا امام مالک حدیث نمبر1، صحیح البخاری حدیث نمبر499، سنن ابی داؤد حدیث نمبر394

(۴) حدیث نمبر70 کی تائید... از صحیح مسلم حدیث نمبر648، سنن النسائی حدیث نمبر859، سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر1257

(۵) حدیث نمبر78 کی تائید... از سنن الترمذی حدیث نمبر3، سنن ابی داؤد حدیث نمبر61، سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر275

(۶) حدیث نمبر85 کی تائید... از جامع الترمذی حدیث نمبر312، سنن ابی داؤد حدیث نمبر824، سنن النسائی حدیث نمبر919

(۷) حدیث نمبر102 کی تائید... از مؤطا امام مالک حدیث نمبر149، صحیح البخاری حدیث نمبر590، صحیح مسلم حدیث نمبر

(۸) حدیث نمبر104 کی تائید... از صحیح مسلم حدیث نمبر673، سنن الترمذی حدیث نمبر235، سنن النسائی حدیث نمبر783

(۹) حدیث نمبر106 کی تائید... از مسند احمد حدیث نمبر18641، مصنف ابن ابی شیبۃ حدیث نمبر3526

(۱۰) حدیث نمبر108 کی تائید... از سنن الترمذی حدیث نمبر230، صحیح ابن حبان حدیث نمبر2200، مصنف عبد الرزاق حدیث نمبر377

اس کے علاوہ بے شمار تائیدات موجود ہیں۔ یہ بھی اس بات کی قوی دلیل ہیں کہ یہ سنیوں کی کتاب ہے۔ زئی صاحب و دیگر غیر مقلدین کا اس کو شیعوں کی کتاب کہہ کر انکار کرنا غلط ہے۔

جواب شق دوم:
اولاً... مقدمہ کتاب میں شائع کنندہ شیخ عبد الواسع بن یحییٰ الواسعی نے ابو خالد الواسطی کے حالات ذکر کیے اور ان پر کی گئی جروح کا جواب دیا ہے۔

(دیکھیے مقدمہ کتاب از ص11 تا ص15)

یہی وجہ ہے کہ مصر کے مفتی اعظم اور اپنے دور کے عظیم محقق عالم شیخ محمد بخیت مطیعی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کتاب کی سند کو صحیح قرار دیا۔ فرماتے ہیں:

بالسند الصحیح الی الامام الشہید زید بن علی الخ.

(مقدمہ کتاب مسند زید: ص36)

ثانیاً... محدثین کا قاعدہ ہے کہ جس کتاب کی نسبت اپنے مصنف کی طرف مشہور ہو[کہ یہ کتاب فلاں مصنف کی ہے]تو مصنف سے لے کر ہم تک اس کی سند دیکھنے کی حاجت نہیں رہتی۔یہ شہرت اس سند کے دیکھنے سے بے نیاز کردیتی ہے۔ چنانچہ علامہ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

لان الکتاب المشہور الغنی بشہرتہ عن اعتبار الاسناد مناا لی مصنفہ

(النکت لابن حجر ص56)

اور یہ قاعدہ ان محدثین و محققین کے ہاں پایا جاتا ہے؛ امام سخاوی )فتح المغیث ج1ص44(،امام ابن حجر )النکت ص56(،علامہ جزائری )توجیہ النظر ص378(،امام سیوطی )تدریب الراوی ج1ص147(،امام کرمانی)شرح بخاری ج1ص7(

اورمسند زید(المعروف المجموع الفقہی) کا امام زید بن علی کی کتاب ہونا واضح ہے۔ سر دست چند حوالہ جات چند محققین اور خود غیر مقلدین کے حوالہ جات پیش خدمت ہیں جنہوں نے اس کتاب کو حضرت امام شید کی کتاب مانا ہے:

1: علامہ شوکانی... (نیل الاوطار للشوکانی: ج1 ص297، ج2 ص244)

2: عمر رضا کحالہ.... (معجم المؤلفین: ج4 ص190)

3: غلام احمد حریری غیرمقلد... (تاریخ تفسیرو مفسرین:ص550)

لہذا نیچے والی سند دیکھنے کی حاجت ہی نہیں۔ اس لیے اس اعتراض کو لے کرکتاب کا انکار کرنا مردود ہے۔

خلاصہ کلام: اس روایت سے بیس رکعت تراویح ثابت ہے۔

دلیل نمبر 8 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَحَدَّثَنَا وَکِیْعٌ عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالَحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَیْسٍ عَنْ اَبِی الْحَسْنَائِ اَنَّ عَلِیًّا اَمَرَ رَجُلاً یُّصَلِّیْ بِھِمْ فِیْ رَمَضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً.

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285 )

ترجمہ: حضرت ابو الحسناء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو رمضان میں بیس رکعات نماز (تراویح) پڑھائیں!

اعتراض:
غیر مقلدین کہتے ہیں کہ اس کی سند میں ابو الحسنا ء مجہول ہے.... اور اس کی سیدنا علی رضی الله عنہ سے ملاقات ثابت نہیں۔

(ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی، وغیرہ)

گویا یہ روایت مرسل بھی ہے۔

جواب :
اولاً:۔۔۔۔ عند الاحناف خیر القرو ن کی جہا لت ، تدلیس اور ارسال جرح ہی نہیں اور شوافع کے ہا ں متا بعت سے یہ جرح ختم ہو گئی کیو نکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیس رکعت ترا ویح روا یت کر نے میں ابو الحسنا ء اکیلے نہیں بلکہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ اور امام ابو عبد الرحمن سلمی بھی یہی روایت کرتے ہیں۔

(تجلیا ت صفدر ج3ص328)

ثانیاً:۔۔۔۔ ابو الحسنا ء سے دوراوی یہ روایت نقل کر رہے ہیں :

1: عمرو بن قیس ۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص285)

2: ابو سعید البقال ۔(السنن الکبر یٰ للبیہقی ج2ص497)

اور یہ دونوں با لترتیب ثقہ اور صدوق ہیں۔(تقریب التہذیب ص456وص299)

حافظ ابن حجر لکھتے ہیں ؛ من روی عنہ اکثر من واحد ولم یوثق الیہ الاشارۃ بلفظ مستو ر او مجہول الحال.

(تقریب التہذیب: ص111)

ترجمہ: جس راوی سے ایک سے زائد راوی روا یت کریں اور اس کی تو ثیق کی گئی ہو تو اس کی طرف لفظ مستو ریا مجہول الحال سے اشار ہ کیا جا تا ہے ۔

یہاں ابو الحسناء سے بھی دو راوی یہ روایت نقل کر رہے ہیں۔ لہذا اصولی طور پر یہ مجہو ل نہیں بلکہ مستور راوی بنتا ہے ۔غیر مقلدین کا اسے مجہول کہنا محل تعجب ہے ۔

الحاصل ابو الحسنا ء مستور راوی ٹھہرتا ہے اور محدثین کے ہا ں قاعدہ ہے کہ مستور کی متا بعت کوئی دوسرا راوی کرے جو مرتبہ میں اس سے بہتر یا برابر ہو تو اس کی روایت حسن ہو جا تی ہے ۔ چنانچہ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :

’’ومتى تُوبعَ السيءُ الحفظ بمُعْتَبَرٍ: كأَنْ يكونَ فَوْقَهُ، أو مِثلَهُ، لا دونه، وكذا المختلِط الذي لم يتميز، والمستور، والإسناد المرسل، وكذا المدلَّس إذا لم يُعْرف المحذوف منه صار حديثُهم حسناً، لا لذاته، بل وصْفُهُ بذلك باعتبارِ المجموع ‘‘

( نزہۃ النظر فی توضیح نخبۃ الفکر:ص234)

ترجمہ : جب سئی الحفظ راوی کی متا بعت کسی معتبر راوی سے ہو جا ئے جو مرتبہ میں اس سے بہتر یا برابر ہو کم نہ ہو، اسی طرح مختلط راوی جس کی روا یت میں تمییز نہ ہو سکے اور اسی طرح مستور ،مرسل اور مدلس کوئی تا ئید کر دے تو ان سب کی روا یات حسن ہو جائیں گی اپنی ذا ت کی وجہ سے نہیں بلکہ مجمو عی حیثیت کے اعتبا ر سے ۔

ابو الحسنا ء کی متا بعت ابو عبد الرحمن نے کی ہے۔ (السنن الکبری للبیھقی ج2ص496)

اور یہ ابو الحسنا ء سے بڑھ کر ثقہ راوی ہے۔ اس لئے ابو الحسناء کی یہ روایت جمہور کے نزدیک بھی مقبول ہے ۔ لہذا روایت صحیح و حجت ہے اور اعتراض باطل و مردود ہے۔

دلیل نمبر 9 :
عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ کَانَ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ یُصَلِّیْ بِنَا فِیْ شَہْرِ رَمْضَانَ فَیَنْصَرِفُ وَ عَلَیْہِ لَیْلٌ…کَانَ یُصَلِّیْ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ.

(قیام اللیل للمروزی ص157)

ترجمہ: حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رمضان شریف میں ہمیں نماز (تراویح) پڑھاتے اور گھرکو لوٹ جاتے تو رات ابھی باقی ہوتی تھی آپ رضی اللہ عنہ بیس رکعات (تراویح ) اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے۔

اعتراض :
غیر مقلد علیزئی صاحب نے لکھا: یہ روایت بے سند ہے اور بے سند روایت مردود ہوتی ہے۔

(تعداد رکعات قیام رمضان کا تحقیقی جائزہ ص 81، ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی)

جواب:
یہ روایت ”بے سند و مردود“ نہیں بلکہ اس کی مکمل سند عمدۃ القاری شرح البخاری للعلامۃ العینی میں موجود ہے۔ زئی صاحب وغیرہ کا ”بے سند“ کا راگ الاپنا انتہائی شرمناک ہے اور بذاتِ خود مردود ہے۔ قارئین کے لیے افادۃً یہ سند یہاں نقل کی جاتی ہے:

رواه محمد بن نصر المروزي قال أخبرنا يحيى بن يحيى أخبرنا حفص بن غياث عن الأعمش عن زيد بن وهب قال كان عبد الله بن مسعود . (عمدۃالقاری ج8 ص 246 باب فضل من قام رمضان)

اس کے راویوں کی توثیق پیش خدمت ہے۔ غیر مقلدین حضرات ملاحظہ کریں اور شوق سے”موتوا بغیظکم“ کا مصداق بنیں۔

(1) یحییٰ بن یحییٰ:

ابو زکریا یحییٰ بن یحییٰ بن بكر بن عبد الرحمن التمیمی۔ آپ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن الترمذی اور سنن النسائی کے راوی ہیں۔ ثقہ، ثبت اور امام ہیں۔ (تقریب التہذیب: 7668)

(2) حفص بن غیاث:

ابو عمر حفص بن غیاث النخعی القاضی۔ صحاح ستہ کے مرکزی راوی ہیں۔ ثقہ اور فقیہ ہیں۔ (تقریب التہذیب: 1430)

(3) الاعمش:

سلیمان بن مہران الاعمش۔ صحیح البخاری، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں اور بالاتفاق ثقہ ہیں۔

(تقریب التہذیب: 2615، الجرح و التعدیل: ج4139)

(4) زید بن وھب:

ابو سلیمان زيد بن وهب الجہنی۔ آپ صحیح البخاری، صحیح مسلم اور سنن اربعہ کے راوی ہیں اور ثقہ ہیں۔ (تقریب التہذیب: 2159)

(5) عبد اللہ بن مسعود:

آپ مشہور صحابی ہیں اور صحابہ میں بڑے علمی مقام کے مالک تھے۔ (تقریب التہذیب: 3613)

خلاصۃ التحقیق:
یہ سند امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ وللہ الحمد

دلیل نمبر 10 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ عَنْ حَسَنٍ عَنْ عَبْدِالْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعٍ قَالَ کَانَ اُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ یُصَلِّیْ بِالنَّاسِ فِیْ رَمْضَانَ بِالْمَدِیْنَۃِ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُبِثَلَاثٍ۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285؛ الترغیب والترھیب للاصبہانی ج2ص368 )

ترجمہ: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں رمضان کے مہینے میں لوگوں کوبیس رکعات نماز (تروایح) اور تین (رکعات) وتر پڑھاتے تھے۔

اعتراض:
یہ روایت منقطع ہے۔ عبدالعزیز رفیع نے ابی بن کعب رضی الله عنہ کو نہیں پایا تھا۔ (ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی)

جواب:
امام عبد العزیز بن رفیع م 130ھ صحا ح ستہ کےراوی ہیں اور خیر القرو ن کے ثقہ محدث ہیں ۔(تقریب التہذیب: ص389)

اور جمہور محدثین خصوصاً عند الاحناف خیر القرو ن کا ارسال وانقطا ع مضر صحت نہیں۔ (تفصیل گزر چکی ہے) پس اعترا ض با طل ہے ۔

دلیل نمبر 11 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَحَدَّثَنَا اَبُوْبَکْرٍقَالَ ثَنَاوَکِیْعٌ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ عَنْ شُتَیْرِ بْنِ شَکْلٍ اَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ رَمْضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ.

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)

ترجمہ: حضرت شُتیربن شکل رحمہ اللہ (حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کے ساتھی ہیں) رمضان شریف میں لوگوں کو بیس رکعات نماز (تراویح)اور وتر پڑھاتے تھے۔

اعتراض:
اس روایت کی سند ابو اسحاق سبیعی مدلس اور سفیان ثوری مدلس کے عن عن کی وجہ سے ضعیف ہے۔(ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی)

جواب نمبر1:
ابو اسحاق السبیعی (ت129ھ):

آپ خیر القرون کے ثقہ، مكثر اور عابد راوی ہیں۔ صحاح ستہ میں آپ سے روایات لی گئی ہیں۔ (تقریب التہذیب: 5065)

سفیان بن سعید الثوری (ت161ھ):

آپ خیر القرون کے محدث ہیں۔ صحاح ستہ کے راوی ہیں۔ ثقہ، حافظ، فقیہ، عابد، امام اور حجت ہیں۔ (تقریب التہذیب: 2445)

اور احناف کےنزدیک خیر القرون کی تدلیس صحتِ حدیث کے منافی نہیں۔ (قواعد فی علوم الحدیث للعثمانی:ص159وغیرہ)

لہذا روایت صحیح ہے اور اعتراض باطل ہے۔

جواب نمبر2:
تدلیس کے اعتبار سے محدثین نے رواۃ حدیث کے مختلف طبقات بنائے ہیں،بعض طبقات کی روایات کو صحت حدیث کے منافی جبکہ دوسرے بعض کی روایات کو مقبول قرار دیاہے۔ مذکورہ دو راویوں کے بارے میں تحقیق پیشِ خدمت ہے:

ابو اسحاق السبیعی ...... علامہ ابو سعید العلائی نے مدلسین کے تیسرے طبقہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ طبقہ اپنی روایت میں تصریح سماع نہ کرے تو ایک جماعت ان کی روایت میں توقف کرتی ہے لیکن دوسرے حضرات محدثین نے حسن بصری، قتادہ بن دعامہ، ابو اسحاق السبیعی، ابو زبیر المکی، ابو سفیان طلحہ بن نافع اور عبد الملک بن عمیر کی روایات کو مطلقاً قبول کیا ہے۔ علامہ العلائی کے طرز بیان سے اسی موقف کو ترجیح ہوتی ہے۔ آپ کے الفاظ یہ ہیں:

وقبلهم آخرون مطلقا كالطبقة التي قبلها لأحد الأسباب المتقدمة كالحسن وقتادة وأبي إسحاق السبيعي وأبي الزبير المكي وأبي سفيان طلحة بن نافع وعبد الملك بن عمير. (جامع التحصیل للعلائی: ص113)

امام حاکم رحمہ اللہ نے بھی منجملہ انہی حضرات کے بارے میں کہا ہے کہ ان کی تدلیس کسی بھی کتاب میں صحت حدیث کے منافی نہیں ۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

فمن المدلسين من دلس عن الثقات الذين هم في الثقة مثل المحدث أو فوقه أو دونه إلا أنهم لم يخرجوا من عداد الذين يقبل أخبارهم فمنهم من التابعين أبو سفيان طلحة بن نافع و قتادة بن دعامة وغيرهما۔ (معرفت علوم الحدیث للحاکم ص:103)

[واضح رہے کہ امام حاکم نے بھی انہی حضرات کا نام لیا ہے، ابو اسحاق السبیعی کے نام کی صراحت اگرچہ نہیں کی لیکن اس طبقہ کے حضرات کا ذکر کر کے ”وغیرہما“ کہنے میں باقی حضرات مثلاً حسن بصری، ابو اسحاق السبیعی، ابو زبیر المکی اور عبد الملک بن عمیر کی طرف واضح اشارہ ہے اور اس طرز کی تعبیرات اہل علم پر مخفی نہیں]

علامہ ابن حزم محدثین کا ضابطہ بیان کرتے ہوئے ان مدلسین کی فہرست بتاتے ہیں جن کی روایتیں باوجود تدلیس کے صحیح ہیں اور ان کی تدلیس سے صحت حدیث پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

منهم كان جلة أصحاب الحديث وأئمة المسلمين كالحسن البصري وأبي إسحاق السبيعي وقتادة بن دعامة وعمرو بن دينار وسليمان الأعمش وأبي الزبير وسفيان الثوري وسفيان بن عيينة۔

(الاحکام لابن حزم ج2،ص141 ،142 فصل من یلزم قبول نقلہ الاخبار)

اور اس میں یہی امام ابو اسحاق السبیعی بھی ہیں۔

امام سفیان بن سعید الثوری.... آپ کو محدثین کی ایک جماعت جن میں امام ابوسعید العلائی،علامہ ابن حجر،محدث ابن العجمی شامل ہیں، نے”طبقہ ثانیہ“میں شمار کیا ہے۔(جامع التحصیل فی احکام المراسیل ص113،طبقات المدلسین ص64، التعلق الامین علی کتاب التبیین لاسماء المدلسین ص92)

نیزعصر ِحاضر میں الدکتور العواد الخلف اور سید عبدالماجد الغوری نے بھی امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کو مرتبہ/طبقہ ثانیہ میں شمار کیا ہے۔ (روایات المدلسین للعواد الخلف ص170،التدلیس والمدلسون للغوری ص104)

خود علی زئی غیرمقلد کے”شیخ “ بدیع الدین راشدی غیر مقلد نے بھی امام سفیان ثوری رحمہ اللہ کو طبقہ ثانیہ میں شمار کیا ہے۔(جزء منظوم ص89)

اور محدثین نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ طبقہ ثانیہ کے مدلس کی روایت مقبول ہے، اس کی تدلیس صحت حدیث کے منافی نہیں۔

(التدلیس والمدلسون للغوری ص104، جامع التحصیل فی احکام المراسیل ص113، روایات المدلسین للعواد الخلف ص32)

(مزید دیکھیے قافلہ حق: جلدنمبر6 شمارہ نمبر3)

لہذا یہ روایت صحیح و حجت ہے اور امام ابو اسحاق السبیعی اور امام سفیان الثوری کے عن عن کی وجہ سے ضعف کا الزام لگانا باطل ہے۔

دلیل نمبر 12 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ خَلْفٍ عَنْ رَبِیْعٍ وَاثْنٰی عَلَیْہِ خَیْراً عَنْ اَبِی الْبَخْتَرِیِّ اَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْ خَمْسَ تَرْوِیْحَاتٍ فِیْ رَمَضَانَ وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ.

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)

ترجمہ: حضرت ابو البختری رحمہ اللہ رمضان شریف میں (نماز تراویح) پانچ ترویحے (بیس رکعات)اور تین وتر پڑھاتے تھے ۔

اعتراض:
غیر مقلدین نے لکھا:

یہ روایت اس وجہ سے ضعیف ہے کہ اس کے دو راویوں خلف اور بیع دونوں کا تعین نامعلوم ہے۔ (ضرب حق: جولائی 2012ء از علیزئی)

جواب:
یہ اعتراض بھی چند وجوہ سے مردود ہے، اس لیے کہ:

اولاً... ”خلف“ راوی سے روایت کرنے والے امام شعبہ ہیں اور امام شعبہ کی عادت ہے کہ آپ ثقہ ہی سے راویت کرتے ہیں۔ علامہ ابن حجر لکھتے ہیں:

من عرف من حاله أنه لا يروي عن ثقة فأنه إذا روى عن رجل وصف بكونه ثقة عنده كمالك وشعبة الخ.

(لسان المیزان: ج1ص14)

کہ اگر کسی شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ اس کی عادت صرف ثقہ سے روایت کرنے کی ہے، پھر وہ کسی سے روایت کرتا ہے تو یہ شخص اس کے ہاں ثقہ تصور کیا جائے گا جیسے امام مالک اور امام شعبہ وغیرہ

خود غیر مقلدین کے ہاں بھی یہی اصول ہےکہ امام شعبہ اس راوی سے روایت لیتے ہیں جو ثقہ ہو اور اس کی احادیث صحیح ہوں۔

(القول المقبول فی شرح صلوۃ الرسول : ص386، نیل الاوطار: ج1 ص16)

جب خلف ثقہ ہے تو تعیین کی چنداں ضرورت نہیں۔ علاوہ ازیں غور کیا جائے تو خلف سے مراد خلف بن حوشب الکوفی ہیں جو چھٹے طبقہ کے ثقہ راوی ہیں۔ (التقریب : ص194) اس پر دلیل یہ ہے کہ خلف بن حوشب الکوفی سے روایت کرنے والوں میں اول نام شعبہ بن الحجاج کا ملتا ہے جیسا کہ علامہ ابن حجر نے اس کا ذکر کیا ہے۔ (دیکھیے تہذیب التہذیب: ج3 ص129)

مزید تفصیل دیکھیے: اعلاء السنن للعثمانی: ج7 ص77، ص78

ثانیاً....”ربیع“ کے بارے میں خود مصنف ابن ابی شیبہ کی سند میں صراحت ہے:”وَاثْنٰی عَلَیْہِ خَیْراً“ جو خود اس راوی کی توثیق کی دلیل ہے۔ اس لیے اس کی تعیین کی ضرورت نہیں ہے۔

خلاصہ: اس صحیح السند روایت سے بیس رکعت تراویح ثابت ہے۔ وللہ الحمد

دلیل نمبر 13 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ عُبَیْدٍ اَنَّ عَلِیَّ بْنَ رَبِیْعَۃَ کَانَ یُصَلِّیْ بِھِمْ فِیْ رَمْضَانَ خَمْسَ تَرْوِیْحَاتٍ وَّیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)

ترجمہ: حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ رمضان شریف میں لوگوں کوپانچ ترویحے (بیس رکعات نماز تراویح) اور تین رکعات وتر پڑھاتے تھے۔

اعتراض:
غیر مقلدین نے لکھا:

”تابعی کے اس اثر سے استدلال کئی وجہ سے غلط ہے:1 : یہ نہ تو رسول صلی الله علیہ وسلم کی حدیث ہے اور نہ کسی صحابی کا اثر ہے۔

2 : تابعی مذکور سے یہ ثابت نہیں کہ بیس رکعات سنت موکدہ ہیں اور ان سے کم و زیادہ جائز نہیں۔ (ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی)

جواب:
اولاً..... آثار تابعین سے استدلال کرنا جلیل القدر محدثین (اصلی اہلحدیث) کا طریقہ ہے بلکہ تبع تابعین کے آثار سے بھی محدثین استدلال کرتے ہیں۔ سر دست امیر امؤمنین فی الحدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے دو حوالہ جات ملاحظہ ہوں:

1: وَقَالَ عَطَاءٌ آمِينَ دُعَاءٌ . (صحیح البخاری: ج1 ص107)

کہ عطاء (تابعی) کہتے ہیں کہ آمین دعا ہے۔

2: وَصَافَحَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ابْنَ الْمُبَارَكِ بِيَدَيْهِ. (صحیح البخاری:ج2 ص926)

کہ حماد بن زید نے ابن المبارک سے دو ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ (یہ دونوں تبع تابعی ہیں)

لہذا غیر مقلدین کو چاہیے کہ ”آثار تابعین“ وغیرہ کو بلا وجہ رد کرنے سے باز رہیں اور ”اہلحدیث“ ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر کے عوام کو دھوکہ نہ دیں۔

ثانیاً..... فرقہ اہلحدیث کا یہ کہنا کہ ”تابعی مذکور سے یہ ثابت نہیں کہ بیس رکعات سنت موکدہ ہیں اور ان سے کم و زیادہ جائز نہیں“ سوائے شیطانی وسوسہ کے کچھ نہیں۔ اس لیے کہ علی بن ربیعہ کا بیس رکعت پڑھانا ہی دلیل ہے کہ تراویح کی تعداد بیس رکعت ہی ہے۔ اگر اس سے کم ہوتی تو راوی ضرور بیان فرماتے۔ حیرت ہے غیر مقلدین کی عقل پر!!

تنبیہہ: اگر غور سے دیکھا جائے تو غیر مقلدین کا یہ اعتراض اور روایات کو اس طرح رد کرنے کا طرز عمل انکار حدیث کا چور دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ اس لیے کہ احادیث میں کئی احکامات ایسے ہیں جو منقول تو ہیں لیکن صراحت سے یہ ثابت نہیں کہ ان سے کم و زیادہ جائز نہیں.... تو کیا غیر مقلدین کے اصول کے تحت ان احادیث و احکام کا انکار کر دیا جائے؟! (معاذ اللہ)

دلیل نمبر 14 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَااِبْنُ نُمَیْرٍ عَنْ عَبْدِالْمَلِکِ عَنْ عَطَآئٍ قَالَ اَدْرَکْتُ النَّاسَ وَھُمْ یُصَلُّوْنَ ثَلَاثاً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃًبِالْوِتْرِ۔

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)

ترجمہ: جلیل القدر تابعی حضرت عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے (صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ جیسے) لوگوں کو بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھتے پایا ہے۔

اعتراض:
اس اثر میں لوگوں سے کون مراد ہیں؟؟ کوئی وضاحت نہیں اور عین ممکن ہے کہ تابعین مراد ہو اور بعض تابعین کا اختلافی عمل ادلہ اربعہ میں سے کوئی دلیل نہیں ہے۔(ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی)

جواب:
1: اس اثر میں حضرت عطاء بن ابی رباح ہیں جنہوں نے دو سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت کی ہے۔

(نماز نبوی: ص124 تحقیق و تخریج زبیر علیزئی)

یقینی بات ہے کہ ”لوگوں“ سے مراد اس دور کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ ہیں، اور صحابہ و تابعین کا عمل حجت ہے۔

2: آل حدیث کا یہ کہنا ”....تابعین کا اختلافی عمل ادلہ اربعہ میں سے کوئی دلیل نہیں ہے۔“ مردو ہے، اس لیے کہ ادلہ اربعہ میں سے دوسری دلیل ”سنت“ ہے، جس کی تعریف یہ ہے:

الطریقۃ المسلوکۃ فی الدین. (کتب اصول)

کہ دین میں جاری طریقے کا نام سنت ہے۔

ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کا عمل بھی حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے جاری عمل (20 رکعت) کا ایک تسلسل ہے جو یقیناً دلیل شرعی ہے۔ غیر مقلدین کا اسے دلیل نہ ماننا انتہائی شرمناک ہے۔

تنبیہہ:
خود معترض (علیزئی صاحب) نے”القول المبین“ (ص53) میں ایک روایت نقل کی جس کا ترجمہ خود اسی کے الفاظ میں یہ ہے:

”میں نے عکرمہ (تابعی) سے سنا وہ کہہ رہے تھے، میں نے لوگوں کو (ان مساجد میں) اس حال میں پایا کہ جب امام İغیر المغضوب علیھم و لا الضالینĬ کہتا تو لوگوں کے آمین کہنے سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔“

یہاں بھی لفظ ”لوگوں“ ہے لیکن علیزئی صاحب طوطے کی طرح آنکھیں بند کر کے یہاں سے گزر گئے اور یہ ”فرمانے“ کی زحمت گوارا نہ کی کہ ” اس اثر میں لوگوں سے کون مراد ہیں؟؟ کوئی وضاحت نہیں اور عین ممکن ہے کہ تابعین مراد ہو اور بعض تابعین کا اختلافی عمل ادلہ اربعہ میں سے کوئی دلیل نہیں ہے۔“

واقعی اس قوم نے خیانت میں یہود کے بھی کان کاٹ دیے۔

دلیل نمبر 15 :
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ اِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اَبُوْمُعَاوِیَۃَ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ اَنَّہٗ کَانَ یَؤُمُّ النَّاسَ فِیْ رَمْضَانَ بِاللَّیْلِ بِعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَیُوْتِرُ بِثَلَاثٍ وَیَقْنُتُ قَبْلَ الرُّکُوْعِ.

(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص285)

ترجمہ: حضرت حارث رحمہ اللہ لوگوں کو رمضان شریف میں بیس رکعات نماز (تراویح) اورتین وتر باجماعت پڑھاتے تھے اور (دعائے) قنوت (جو کہ وتر میں پڑھی جاتی ہے ) رکوع سے پہلے پڑھتے تھے۔

اعتراض:
آل حدیث نے لکھا:

1: یہ روایت ابو معاویہ الضریر، حجاج بن ا رطاة اور ابو اسحاق مدلسین کے عن عن عن کی وجہ سے حارث الاعور سے ثابت نہیں۔

2: حارث ا عور بذات خود جمہور کے نزدیک مجروح، نیز شیعہ اور بقول امام شعبی : کذاب تھا ۔

(ضرب حق: جولائی 2012ء مضمون علیزئی)

جواب:
ہر شق کا جواب پیش خدمت ہے:

شق اول کا جواب:
اولاً...

جمہور محدثین خصوصاً احناف کے نزدیک خیر القرون کی تدلیس مقبول ہے ،موجب جرح نہیں ۔

( قواعد فی علوم الحدیث : ص 159، تجلیات صفدر: ج3ص328)

ثانیاً...

(1) ابو معاویہ الضریر (م 295 ھ) کو حافظ ابن حجر نے دوسرے طبقہ میں شمار کیا ہے ۔ (طبقات المدلسین ص 73)

اور دوسرے طبقہ کی تدلیس موجب جرح نہیں ہے۔

(2) حجاج بن ارطاۃ (م 145ھ) خیر القرون کے راوی ہیں جن کی تدلیس موجب جرح نہیں۔ (حوالہ گزر چکا ہے)

(3) ابو اسحاق السبیعی (م129ھ) کی تدلیس کسی بھی کتاب میں موجب جرح نہیں۔ (ابو اسحاق السبیعی کے بارے میں دلیل نمبر11 پر اعتراض کے جواب کے ذیل میں تفصیل سے کلام گزر چکا ہے)

ان حقائق کی روشنی میں عنعنہ کی وجہ سے روایت کے ضعف اور عدم ثبوت کا الزام مردود ہے ۔

شق دوم کا جواب:
حارث اعورپہ بعض محدثین کی جو جرح منقول ہے اس میں سے بعض خلافِ واقع ہے اور بعض کا تعلق روایت حدیث سے نہیں بلکہ محض رائے اور فہم سے ہے ۔ چنانچہ حارث اعور کے متعلق چند باتیں پیش خدمت ہیں:

اول:
حارث اعور کی تعدیل وتوثیق ان حضرات نے کی ہے :

1: امام یحییٰ بن معین (قال): الحارث الاعور قد سمع من ابن مسعود، ھوالحارث بن عبداللہ ، لیس بہ باس . کہ حارث اعور نے حضرت عبد اللہ بن مسعود سے روایات سنی ہیں، یہ حارث بن عبد اللہ ہے۔ یہ لا باس بہ ہے۔ (”لا باس بہ“ کلمہ توثیق ہے)

(تاریخ ابن معین رقم 1427۔1751)

2: الدارمی عن ابن معین : وسالتہ :ای حال الحارث فی علی ؟ فقال: ثقۃ. کہ میں نے ابن معین سے حارث کا حال پوچھا تو فرمایا: ثقہ ہے۔

(تاریخ الدارمی: رقم 233)

3: النسائی(قال) : لیس بہ باس . ( سیر اعلام النبلاء ج4ص153)

4: الذھبی (قال) : وکان من اوعیۃ العلم. کہ حارث اعور علم کا سرچشمہ تھے۔ ( میزان الاعتدال للذھبی ج1ص437)

5: محمد بن سیرین (قال): کان من اصحاب ابن مسعود خمسۃ یوخذ عنھم ، ادرکت منھم اربعۃ وفاتنی الحارث فلم ارہ ، وکان یفضل علیہم وکان احسنہم . کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پانچ شاگردوں سے (ابن مسعود کا) علم حاصل کیا جاتا ہے، ان میں سے چار سے میں علم حاصل کر چکا ہوں لیکن حارث (اعور) سے میری ملاقات نہ ہو سکی، حارث ان چار پر فضیلت رکھتے تھے اور ان سے بہتر تھے۔

( میزان الاعتدال ج1ص438)

6: ابن حبان: اخرج عنہ فی صحیحہ. ان سے اپنی صحیح میں روایت لی ہے۔ (صحیح ابن احبان : رقم 3252)

تنبیہ :معترض زبیر علی زئی کے نزدیک ابن حبان کا تخریخ کرنا دلیل صحت ہے۔ ( المقول المتین :ص25)

دوم:
زئی صاحب نے کہا: (حارث اعور)بقول امام شعبی : کذاب تھا ۔

عرض ہے کہ زئی صاحب نے امام شعبی کا قول نقل تو کیا لیکن اس کا مطلب و مفہوم چھٹی کا دودھ سمجھ کر پی گئے ہیں۔ لیجیے! ہم اس کا واضح مطلب محدثین کے بیانات کی روشنی میں عرض کرتے ہیں۔ علامہ ابن شاہین اپنی کتاب ”تاریخ اسماء الثقات“ میں نقل کرتے ہیں:

وقال أحمد بن صالح الحارث الاعور ثقة ما احفظه وأحسن ما روىعن علي واثنى عليه... قيل لاحمد بن صالح فقول الشعبي حدثنا الحارث وكان كذابا فقال: لم يكن يكذب في الحديث إنما كان كذبه في رأيه. (تاریخ اسماء الثقات: ص71، ص72)

کہ احمد بن صالح نے فرمایا: حارث اعور ثقہ تھے اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ احمد بن صالح نے حارث اعور کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی روایات کی تعریف و تحسین کی۔ احمد بن صالح سے پوچھا گیا کہ شعبی تو حارث اعور کو کذاب کہتے ہیں۔ آپ نے جواب دیا: حدیث بیان کرے میں وہ کذاب نہیں تھے بلکہ وہ جو بات اپنی رائے سے کہتے تھے کذب کی نسبت اس رائے کی طرف ہے۔

امام شعبی کے قول کا یہی مطلب ان حضرات نے بھی بیان کیا ہے:

٭ حافظ ابن عبد البر المالکی (م463ھ).... [حاشیۃ موارد الظماٰن بتحقیق حسین سلین اسد: ج4 ص43]

٭ حافظ شمس الدین الذہبی (م748ھ)... [سیر اعلام النبلاء: ج4 ص153]

٭ حافظ ابن حجر (م852ھ)... [تقریب التہذیب: رقم الحدیث1029]

رائے میں نسبت کذب کو روایت میں کذب بنا کر پیش کرنا علی زئی جیسے لوگوں کا ہی کام ہے۔ اللہ تعالیٰ خیانت سے محفوظ فرمائے۔

سوم:
بقول علی زئی حارث اعور شیعہ ہے۔ لہذا روایت مردود ہے

عرض ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں:

1: بدعت مکفرہ (کافر بنا دینے والی بدعت)

2: بدعت مفسقہ (فاسق بنا دینے والی بدعت)

اگر کوئی شخص دین کے ضروری اور فطری امور کا انکار کر دیتا ہے جو تواتر سے ثابت ہوں یا ان کے برعکس اعتقاد رکھتا ہو تو یہ ”بدعت مکفرہ“ ہے۔ جس راوی میں یہ صفت ہو تو اس کی روایت جمہور کے ہاں مردود ہوتی ہے۔ (نزھۃ النظر: ص232 وغیرہ)

اگر کوئی شخص ایسی بدعت کا مرتکب ہو جو اس کو فاسق بنا دیتی ہے تو اس کی روایت قابل قبول ہوگی بشرطیکہ وہ عادل و ضابط ہو اور اپنی بدعت کی طرف دعوت نہ دیتا ہو اور نہ ایسی روایت بیان کرتا ہو جو اس کی بدعت کو تقویت دیتی ہو۔ (مقدمۃ ابن الصلاح: ص103، ھدی الساری: ص385 وغیرہ)

اس تفصیل کی روشنی میں عرض ہے کہ تشیع کی دو قسمیں ہیں:

1: تشیع بلا غلو

2: تشیع مع الغلو (جس کو رفض کامل بھی کہتے ہیں)

قسم اول کی روایت صدق و امانت کے ساتھ مقبول ہے کیونکہ یہ راوی اس بدعت کے ساتھ ساتھ نیک، صادق اللہجہ اور دین دار ہوتے ہیں۔ اسے بدعت صغریٰ بھی کہتے ہیں۔ اس قسم کو راویوں کی روایات مقبول ہوتی ہیں۔ چنانچہ علامہ ذہبی لکھتے ہیں:

فهذا كثير في التابعين وتابعيهم مع الدين والورع والصدق، فلو رد حديث هؤلاء لذهب جملة من الآثار النبوية، وهذه مفسدة بينة.(سیر اعلام النبلاء: ج4 ص153)

یہ قسم بہت سے تابعین اور تبع تابعین میں پائی جاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان حضرات میں دین داری، عبادت و ریاضت اور صدق کی صفات پائی جاتی ہیں۔ اگر ان کی حدیث کو رد کر دیا جائے تو تمام آثار نبویہ جاتے رہیں گے اور یہ بہت بڑا مفسدہ ہے۔

چنانچہ ”ابان بن تغلب الکوفی“ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

أبان بن تغلب الكوفي شيعي جلد، لكنه صدوق، فلنا صدقه وعليه بدعته وقد وثقه أحمد بن حنبل، وابن معين، وأبو حاتم. (سیر اعلام النبلاء: ج4 ص153)

کہ ابان بن تغلب کوفی شیعی تو ہے لیکن سچا ہے۔ ہمیں اس کا سچا ہونا مبارک اور اس کو اس کا بدعتی ہونا مبارک۔ اس کو احمد بن حنبل، ابن معین اور ابو حاتم الرازی نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔

جبکہ کچھ رواۃ اس کے بر عکس ہوتے ہیں اور جھوٹ بولنا اور تقیہ کرنا ان کے نزدیک جزو ایمان ہوتا ہے اور حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی گستاخی ان کی رگ رگ میں بسی ہوتی ہے۔ اسے بدعت کبریٰ کہتے ہیں اور اس قسم کے راویوں کی روایت مردود ہے۔ علامہ ذہبی لکھتے ہیں:

فهذا النوع لا يحتج بهم ولا كرامة.( سیر اعلام النبلاء: ج4 ص153)

کہ اس قسم کے راویوں کی روایت کوہرگز دلیل نہیں بنایا جا سکتا اور نہ یہ لوگ کسی عزت و احترام کے مستحق ہیں۔

حارث اعور پر جو الزام تشیع ہے وہ قسم اول کا ہے جس کی روایت صدق و امانت کی شرائط کے ساتھ مقبول ہوتی ہے۔ اس کے متعلق محدثین کے توثیقی کلمات ماقبل میں گزر چکے ہیں۔ اگر یہ تشیع میں غالی ، جھوٹا اور تقیہ باز ہوتا (معاذ اللہ) تو محدثین اس کی توثیق ہر گز نہ فرماتے۔

نیز یہ بات بھی قابل غور ہے کہ شیعہ تراویح کے سرے سے منکر ہیں۔ اگر یہ راوی غالی اور مردود الروایۃ شیعہ ہوتا تو تراویح کے خلاف روایت کرتا جبکہ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ یہ بھی قوی دلیل ہے کہ یہ مردود الروایہ نہیں بلکہ مقبول الروایہ ہے۔

الزام تشیع کی تفصیلی تردید کے لیے دیکھیے: حاشیۃ موارد الظماٰن بتحقیق حسین سلیم اسد الدارانی: ج4 ص45 تا ص48

لہذا زئی صاحب کا اس کو شیعہ قرار دے کر روایت کو رد کرنا اصلاً مردود ہے۔

خلاصہ کلام:
ان تین باتوں کی روشنی میں تحقیقی فیصلہ یہ ہے کہ حارث اعور پر بعض لوگوں کی جرح ہے لیکن جید حضرات کی توثیق بھی ثابت ہے۔ الزام کذب فی الروایۃ غلط ہے اور الزام تشیع بھی ایسا نہیں کہ ان کی روایت کو رد کر دیا جائے۔ لہذا یہ حسن الحدیث راوی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درج ذیل حضرات نے اس کی روایت کو ”صحیح“ یا کم از کم ”حسن“ قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو:

1: ناصر الدین الالبانی: الحارث الاعور سے مروی ایک روایت کی سند کو ”صحیح“ قرار دیا ہے ۔ (سنن ابی داؤد باحکام الالبانی: تحت ح2079)

2: شعیب الا رنؤوط: اس سے مروی ایک روایت کی سند کو ”صحیح“ قرار دیا ہے ۔ (صحیح ابن حبان بتحقیق الارنؤوط :تحت ح3252)

3:حسین سلیم اسد الدارانی :اس سے مروی روایات کی سند کو ”حسن“ قرار دیا ہے ۔ (حاشیۃ موارد الظماٰن: ج4 ص43، سنن الدارمی: ج1 ص235)

4: ابو یوسف محمد بن حسن المصری:اس سے مروی ایک روایت کی سند کو ”حسن“ قرار دیا ہے ۔ (حاشیۃ مسانید ابی یحییٰ فراس بن یحییٰ: ص87)

لہذا یہ روایت صحیح یا کم از کم حسن درجہ کی ہے اور اس سے بیس رکعت تراویح ثابت ہے۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین.
ازافادات۔متکلم اسلام مولانامحمد الیاس گھمن
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arsalan saeed
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jun, 2017 Views: 815

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ