اسلام میں انسان کی قدر

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

اﷲ تبارک و تعالیٰ کی مہربانی اور سرکا رِ دو عالم ﷺ کی بے مثال زندگانی سے انسان کی خوش نصیبی میں اضافہ ہوا ہے، اور اسے ایک ایسا د ینِ حق ملا جو قدم قدم پر انسان کی عظمت و اہمیت کا پر چار کرتا ہے۔ عام طور پر مذاہب کا دائرہ اختیار و دائرہ افکار رسومات و عبادات کے حصار میں ہی سمٹا رہتا ہے۔ ہر مذہب اپنے ماننے والوں کو زندگی کے مقاصد ، موت کے بعد کے حالات و واقعات، عبادات و تہوار وغیرہ میں ہی تبلیغ کرتا یا رہنمائی دیتا ہے ۔ لیکن اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی کاکوئی گوشہ ایسا نہیں چھوڑتا جس پر اپنے نور کی کرنیں نہیں بکھیرتا۔ ازدواجی زندگی سے لے کر میدانِ جنگ تک ، کھانا کھانے سے لے کر تدفین و تکفین تک ہر قدم پر اسلام کی تعلیم، رہنمائی کرتی نظر آتی ہے۔ اسلام، اپنی ترویج و تبلیغ کے لئے ، مسلمانوں پر منحصر نہیں۔ اس کے اپنے اصول و ضوابط، نظریات، معمولاتِ ، معاملات وغیرہ اتنے واضح، مبنی بر حکمت اور سلیس اور دائمی ہیں کہ اسے اپنی بقا کے لئے کسی پر انحصار کرنے کی چنداں ضرورت نہیں۔ جو قوم اسے اپنائے گی دنیا میں کامیابی اسی کا مقدر قرار پائے گی۔

اسلام میں جاندارکی اہمیت اس حد تک بیان ہے کہ ایک حدیث پاک کے مطابق ایک بد کردار عورت نے ایک جانور مثلاً بلی کی جان بچائی تو خدا نے اس کے گناہ معاف فرما دیئے اور اس کی بخشش فرما دی جب کہ ایک عبادت گزار عورت نے ایک بلی کو باندھا، اسے بھوکا ، پیا سا رکھا اور اسے مار دیا ۔ خدا نے اس عبادت گزار عورت کو جہنم میں پھینک دیا۔اگر ایک حیوان کی اتنی قدر ہے تو ایک انسان کی قدر کیا ہو گی۔ اسلام ،انسان کو بہترین تقو یم کا حامل قرار دیتا ہے۔اور اسے خدا تعالیٰ نے اپنا نائب بھی قرار دیا ہے۔ اس نائبِ خدا کی اہمیت، اسلام نے اپنی عبادات میں بہت اچھی طرح باور کرائی ہے۔

نماز کی اسلام میں اہمیت سے کسی کو ذرہ برابر بھی شک یا انکار نہیں۔یہ وہ عبادت ہے جسے مومن کی معراج فرمایا گیا ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ نماز میں ایک مسلمان اپنے رب سے بات چیت کرتا ہے۔اور اسے ہر حال میں فرض قرار دیا گیا ہے۔ اسلام کے باقی ارکان میں سے حج زندگی میں ایک بار ، استطاعت رکھنے کی صورت میں، ضروری ہے۔ زکوۃ سال میں ایک بار، صاحبِ نصاب ہونے کی صورت میں ، فرض قرار دی گئی ہے۔ روزہ بھی سال میں ایک ماہ یعنی رمضان المبارک میں ، صحت کی اچھی حالت رکھنے کی صورت میں ، فرض قرار پاتا ہے ۔ ورنہ دوسری صورتوں میں اس میں بھی گنجائش موجود ہے۔ کلمہ شہادت زندگی میں ایک بار زبان سے ادا کرنا ضروری ہے جس سے انسان ، مسلمان ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ لیکن نماز ایسی عبادت ہے جو ہر روز پانچ بار ادا کرنا فرضِ عین ہے۔

اس فرض عبادت میں اب آپ انسان کی شمولیت کی اہمیت کا اندازہ کریں۔ گھر میں اکیلے نماز پڑھنے سے بس ایک نماز کا ثواب ہی ملے گا ۔ لیکن مسجد میں لوگوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر وہی نماز، وہی الفاظ، وہی حرکات کرنے کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔ نماز وہی، نماز کی شرائط وہی، نماز کی ادائیگی وہی ، سب کچھ وہی لیکن دوسرے شخص کے کندھے سے کندھا ملنے سے نماز میں کئی گنا اضافہ۔ تو اہمیت کس کی بنی، شخص کی ، انسان کی۔ اب اسی انداز کو آگے بڑھا ئیں، جامع مسجد میں با جماعت نماز ادا کرنے کا ثواب اس سے بھی زیادہ، وہاں کیا ہوا۔ کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ۔ اس سے نماز کے اجر وثواب میں اضافہ کر دیا گیا۔ مسجدِ نبوی ؐ میں نماز ادا کرنے کا ثواب پچاس ہزار نماز یں ادا کرنے کے برابر، اور مسجدِ حرام میں نماز ادا کرنے کا ثواب ایک لاکھ نماز ادا کرنے کے مترادف ۔ اس ساری صورتِ حال میں ہوتا کیا ہے ،جگہ کے تقدس کے ساتھ ساتھ ، ساتھ کھڑے ہونے والے انسانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ جس سے نماز کی برکت میں بے شمار گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔

حج کی ادائیگی کا ثواب، ہر مسلمان اس بات سے متفق ہے کہ عمرہ کی ادائیگی سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اب حج اور عمرہ کی ادائیگی میں بنیادی فرق وہی فرد اور جماعت کا ہے۔عمرہ کی ادائیگی انفرادی طور پر ہے اور اسی کعبہ کا طواف اور کئی ارکان کے اشتراک کے باوجود ثواب میں بہت زیادہ فرق ،دراصل انسان کی شمولیت کے باعث ہے۔ حج انسانوں کا بہت بڑا اجتماع ہے ، اس اجتماع میں شرکت انسان کے لئے بہت بڑے اجر و ثواب کا ذریعہ ہے۔ورنہ عبادات میں زیادہ انہماک تو انفرادی طور پر زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ جب کہ ثواب اجتماعی طور پر زیادہ ہے ، یعنی شخص کو اہمیت دی گئی ہے۔

زکوٰۃ کسی شخص کی حلال کمائی میں سے نصاب کے مطابق غریبوں کی مالی امداد دینے کا نام ہے۔ یہ فریضہ بھی نماز کی طرح ہی اہمیت کا حامل ہے اور قرآن میں اکثر مقا مات پر دونوں کا ذکر بھی اکٹھے آیا ہے۔ زکوٰۃ نہ دینے والے کو جہنم کے شدیدعذاب کی وعید بھی سنائی گئی ہے۔اب پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنے لئے انسان کے مال و دولت کی تو چنداں ضرورت نہیں۔ لیکن زکوٰۃ نہ دینے پر خدا کی اتنی بڑی ناراضگی کس کے لئے ہے؟ غور کرنے سے فوراً یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ ناراضگی و برہمی انسان ہی کے لئے ہے۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ امیروں کی مال و دولت میں غریبوں کا بھی حق ہے۔اہمیت کا مرکز ایک بار پھر انسان ہی قرار پاتا ہے۔

ماہِ رمضان کا روزہ رکھنا ، اسلام میں فرض ہے۔ اس کی جزا کا کوئی حساب نہیں ۔ احادیث مبارکہ بیان فرماتی ہیں کہ اس عبادت کی جزا صرف خدا ہی دے سکتا ہے کیوں کہ وہی اسے جانتا ہے۔ دوسری حدیث کے الفاظ کے مطابق اس عبادت کی جزا خود خدائے پاک ہے۔ یعنی اس عبادت کے صلے میں بندے کو خدا ہی مل جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں بندے اور خدا کا قرب بے انتہا فروغ پا جاتا ہے۔ اس عبادت کے اغراض و مقاصد میں ہمیں پھر انسان ہی نظر آئے گا ۔ تمام مہینے کے روزے بڑی جانفشانی اور ہمت و جدو جہد سے رکھے گئے۔ اپنے خدا کو خوش کرنے کے لئے۔ پورا مہینہ گزر گیا ۔ خدا نے کہا کہ وہ انسان کی اس عبادت کو زمین و آسمان کے درمیان معلق کر دے گا اور اس عبادت کی طرف دیکھے گا بھی نہیں اگر اس عبادت کو ادا کرنے والا فطرانہ ادا نہیں کرتا تو ۔ فطرانہ کس کو دیا جائے گا ، غریب کو ۔ تو اس ساری عبادت کا اختتام کہاں آ کے ہوا ، انسان پر ۔

اسی عبادت کے ضمن میں یہ بات بھی مدِ نظر رکھی جا سکتی ہے کہ روزہ رکھنے کا ثواب اپنی جگہ لیکن روزہ افطار کرانے کے لئے ایک گھونٹ پانی پلا دینے، یا ایک کھجور کھلا دینے وغیرہ کا ثواب بھی پورے دن کا روزہ رکھنے جیسا ہے۔ اب پھر انسان کی انسان سے رغبت و قربت ، عبادت پر سبقت لے جاتی نظر آتی ہے۔ کہاں سارے دن کی بھوک پیاس اور کہاں ایک گھونٹ پانی ، ثواب میں برابری، صرف انسان کی خدمت پر منتج ہوتی نظر آتی ہے۔

سنتِ ابراہیمی اسلام کا ایک تہوار ہے۔ حضرت ابراہیمؑ ، اﷲ پاک کے انتہائی پیارے نبیؑ ہیں جن کو اﷲ تعالیٰ نے اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ ان سے عظیم ترین قربانیاں لی گئیں۔ انہوں کے اپنا خواب سچ کر دکھایا اور خدا نے وہ ذبح ایک بڑے ذبح کے طور پر مو ٗخر کر دیا۔ اس عظیم قربانی کی یاد میں ، جسے سنتِ ابراہیمی کے نام سے بھی یا دکیا جاتا ہے، کی یاد منانے کے لئے حج کے ایک رکن کے طور پر اور تمام دنیا کی اہلِ نصاب مسلمانوں پر قربانی سنتِ ابراہیمی کے طور پر رائج کی گئی۔ اور مسلما ن تمام دنیا میں ہر سال دس ذوالحج کو یہ قربانی کرتے ہیں اور جانور کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے پہلے اس کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں۔ اب اس قربانی کی تہہ پر نظر ڈالنے سے وہاں بھی غریب کا بھلا ہوتا نظر آئے گا۔ پہلے نمبر پر گوشت کے تین حصے کرنے سے ناداروں کا بھلا ہو جاتا ہے، عز و اقارب میں گوشت کی ترسیل سے بھی خاندانوں میں اچھا ماحول پروان چڑھتا ہے، ایک بار پھر اس منظر کو ذہن میں لائیں، جانوروں کو پالنے والے اکثر و بیشتر غریب دیہاتی ہوتے ہیں۔ بہت سوں کی سال بھر کی امیدیں اس عید کے موقع پر اپنے جانوروں کی فروخت کے ساتھ منسلک ہو چکی ہوتی ہیں۔اس طرح اس بڑے اسلامی تہوار کے پیچھے بھی انسان کا بھلا نظر آتا ہے اور ایک بار پھر اسلام میں انسان کی اہمیت اجاگر ہو جاتی ہے۔

صدقات و خیرات :اس کے بعد ایک بار پھر اسلامی نظریاتی اساس پر نظر ڈالیں۔ انسان پر اندگی کے معاملات میں مصائب و آلام بھی آ جاتے ہیں۔ اس صورت میں بھی یہی فلسفہ پیش کیا گیا کہ صدقہ بلاؤں کو رد کرنے والا ہے۔ اگر مسلمان کو زندگی میں پریشانیاں یا تکالیف آئیں تو اسے دل کھول کر صدقہ و خیرات کرنی چاہیئے تا کہ اس کی مصیبتیں ٹل جائیں۔ یہاں تک کہ بیماری سے شفا بھی صدقہ و خیرات کرنے سے مل سکتی ہے۔ اور خدا کی قربت بھی حاصل ہوتی ہے۔ایک حدیث قدسی میں روزِ قیامت بندے سے خدا فرمائے گا : میں بیمار تھا ، تم نے میری عیادت نہیں کی، میں بھوکا تھا ، تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا ، میں پیا سا تھا تم نے مجھے پانی نہیں پلایا‘ ۔وہ شخص عرض کرے گا کہ اے خدا تو تو ان ساری حاجات سے مبرا ہے۔ اﷲ فرمائے گا کہ فلاں شخص بیمار تھا تم اس کی عیادت کو نہیں گئے، اگر تم اس کی عیادت کو جاتے تو مجھے وہاں پاتے۔فلاں شخص بھوکا تھا ، اگر تم اسے کھانا کھلاتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔فلاں شخص پیا سا تھا اگر تم اس کی پیاس بجھاتے تو مجھے اس کے پاس پاتے۔ اس حدیث قدسی سے بھی انسان کی اہمیت کا اندازہ بہت آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک اور حدیث پاک ہے کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی تو گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی اور اسی طرح جس نے ایک انسان کی جان لی تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔

اسلام میں حقوق العباد پر جتنا زور دیا گیا ہے اس کی موجودگی میں انسان کی اہمیت کسی سے قطعاً ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی، ماں باپ کو جنت کے ساتھ منسلک کرنا، ان کا چہرہ دیکھنے کو حج قرار دینا، ہمسایوں کی حقوق پر زور دینا، اولاد کے حقوق بیان کرنا، بیوی اور شوہر کے مابین حقو ق و فرائض کا تعین کرنا ۔ زندگی کے ہر معاملے میں انسان کو اولیت دینا اسلام کا طرۂ امتیاز ہے۔

اسلام کے اولیائے عظام نے بھی تصوف جیسی ریاضت و اتباع سے بھری چیز کو انسانی خدمت کے تابع کر کے اسلام میں انسان کی عظمت کا بر ملا اعلان و اقرار کیا ہے۔ کسی نے کہا کہ اس نے درویشی کسی فقیر کو دو روٹیاں کھلا کر حاصل کی، کسی نے ماں کے لئے رات بھر پانی کا پیالہ اٹھا ئے رکھنے سے ولایت میں بہت اونچا مقام حاصل کیا۔

الغرض یہ بات مسلمہ ہے کہ اسلام میں انسان کی اہمیت سورج، چاند کی طرح آشکار ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 174 Articles with 182162 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More
07 Jun, 2017 Views: 730

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ