فضیلت رمضان

(Sundas Qamar, )

تحریر:فرزین زاہد
رسول اکرم ﷺ بنی نوع انسان کے لئے زندگی گزارنے کا جو طریقہ خالق و مالک سے لے کے آئے اس کا نام اسلام ھے۔اسلام کی تمام عبادات فطرت کے عین مطابق ہیں۔کلمہ،نماز،روزہ،حج اور زکوات اسلامی عبادات کی بنیاد ہیں۔ان سب میں سے روزہ کے حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیں۔دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والے روزہ رکھتے ہیں لیکن ان کے طریقے مختلف ہوتے ہیں-اسلامی کیلینڈر میں رمضان المبارک نواں مہینہ ہے اور مسلمان اس ماہ میں روزہ رکھتے ہیں- رمضان کو"سیدالشھور"یعنی تمام مہینوں کا سردار بھی کہا گیا ہے اور اسی مہینے کی ستائیس تاریخ کو قرآن کریم نازل ہوا یہی نہیں بلکہ تمام آسمانی کتابیں بھی اسی مہینے میں نازل ہوئیں -اس کا ذکر اﷲ قرآن کریم میں یوں بیان کرتا ہے کہ "جب رمضان کا مہینہ آئے اور بندے میرے متعلق تجھ سے سوال کہ میں انہیں کس طرح مل سکتا ہوں تو انہیں کہہ دے کہ رمضان اور خدا میں کوئی فرق نہیں-"جس شخص کے دل میں اسلام اور ایمان کی قدر ہوتی ہے وہ اس مہینے کے آتے ہی اپنے دل میں ایک خاص حرکت اور اپنے جسم میں خاص قسم کی کپکپاہٹ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتا- اﷲ نے رمضان کے مہینے کے روزے فرض قرار دیے اور انہیں ایک بنیادی اہمیت حاصل ہے- روزے خلوص نیت اور صدق دل کے ساتھ رکھے جائیں اور تمام عبادتیں اور نیکیاں بجا لائیں کیونکہ رمضان نیکیوں میں اضافے کا سب سے بہترین مہینہ ہے- رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا "جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور جس نے رمضان کے تقاضوں کو پہنچانا اور ان کو پورا کیا اور جو رمضان کے دوران ان تمام باتوں سے محفوظ رہا جن سے ان کو رہنا چاہیے تھا یعنی جس نے ہر قسم کے گناہ سے اپنے آپ کو بچائے رکھا تو ایسے روزہ دار کے لئے اس کے روزے اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتے ہیں-"اس مہینے میں اﷲ نے تراویح کو نفل قرار دیا ہے -یہ کوئی عام عبادت نہیں بلکہ اس کے ہر ایک سجدے پر سوا لاکھ نیکی مقرر کر دی گئی ہے اور اگر جو شخص اس مہینے میں بطور خود کوئی نیک کام سرانجام دیتا ہے تو دوسرے مہینوں کے فرض کے برابر اجر و ثواب کماتا ہے اور اگر جو شخص فرض ادا کرے گا تو اﷲ اس کو دوسرے مہینوں ستر فرضوں کے برابر ثواب بخشے گا -ایک دفعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم رات کو کیسے عبادت کرتے تھے تو آپ رضی اﷲ عنہہ نے فرمایا: "آپ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم رمضان میں اور رمضان کے علاوہ ایام میں بھی گیارہ رکعتوں سے زائد نہیں پڑھتے تھے-آپ صل اﷲ علیہ والہ وسلم چار رکعت ادا فرماتے اور تم ان رکعت کی لمبائی اور حسن کے بارے میں نہ پوچھو ۔پھر اس کے بعد ایسی ہی لمبی اور خوبصورت چار رکعت ادا فرما تے اور پھر تین وتر آخر میں پڑھتے تھے ۔(کل گیارہ رکعات)رمضان المبارک ایک ایسا مہینہ ہے جس میں ہمیں گناہوں سے پاک ہونے کا بہترین موقع ملتا ہے ۔کسی نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اﷲ علیہ والہ وسلم !مجھے ایک ایسا عمل بتائیے جس کے ذریعے میں جنت میں داخل ہو جا تو آپ صل اﷲ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "روزہ کو لازم پکڑ لو کیونکہ یہ وہ عمل ہے جس کا کوئی مثل اور بدل نہیں ۔"حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:"میری امت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص کر دی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں 1 انکے منہہ کی بدبو اﷲ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔2 انکے لیے دریا کی مچھلیاں تک دعائیں کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں ۔4 رمضان کی پہلی رات کو اﷲ اپنی جنت کو حکم دیتا ہے کہ میری جنت روزہ دار کے لئے تیار ہو جا اور خوب سنور جا ۔4 اس میں سرکش شیطان قید کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں انکی برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جنکی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں ۔5 رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے ۔صحابہ نے عرض کیا کہ یہ شب قدر شب مغفرت ہے فرمایا نہیں بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دی جاتی ہے ۔"اﷲ اپنے بندوں کے کسی بھی نیک عمل کو ضائع نہیں کرتا اسے کسی نہ کسی صورت میں اس کا اجر ضرور ملتا ہے ۔مگر روزہ ایک ایسی عبادت ہے جسکا ثواب یا اجر اﷲ خود اپنی مرضی سے عطا کرتا ہے کیونکہ بندہ اﷲ کے لیے روزہ رکھتا ہے ۔روزہ صرف کھانے پینے سے ہی اپنے آپکو روکنا ہی نہیں بلکہ روزہ تو پورے جسم کا ہوتا ہے ۔رمضان کے مہینے کے اس قدر فضائل اور ترغیبات ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہو کہ انسان جنت میں داخل ہو سکتا ہے ۔مگر ان تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی بجائے ہم ان سے اتنا دور چلے گئے ہیں کہ انکی طرف ہماری توجہ ہی نہیں رہی یہاں تک کہ لوگوں کو ان کا علم بھی بہت کم ہو گیا ہے ۔کیا ہم اپنے دین کے بارے میں اتنے لاپرواہ ہو چکے ہیں کہ یا ہمارے اوپر شیطان کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ اس کے قید ہونے پر بھی ہم اسکی اطاعت کرتے ہیں ۔اﷲ نے ہمیں جو رتبہ دیا ہے اسے جان کر رب کا شکر ادا کرتا اور اپنے فرائض پر غور کرنا چاہئے تاکہ ہم گناہوں سے چھٹکارا پا سکیں اور گناہوں سے چھٹکارا پانے کے لیے رمضان المبارک جیسا بہترین موقع کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو سکتا اور یہ ہماری طرف اﷲ کیطرف سے بڑا انعام ہے ۔نیز رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ والہ وسلم نے سینکڑوں روایات میں مختلف انواع کے فضائل رمضان بیان فرمائے ہیں ۔ایک حدیث میں ہے کہ "اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت تمنا کرے گی کہ سارا سال رمضان ہو جائیں ۔"لہذا اگر ہم سب سرکاردوعالم کے ارشادات کی روشنی میں رمضان المبارک کے فیوض و برکات سے مستفید ہوں تو ہماری زندگیاں ہر دو عالم کے لئے نمونہ بن سکتی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sundas Qamar

Read More Articles by Sundas Qamar: 25 Articles with 12078 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jun, 2017 Views: 401

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ