جنگلی حیا ت کے وجود میں پوشیدہ حکمتیں اور منفعتیں

(Mirza Ramzan, )

 قدرت کا انمول عطیہ یہ چرند،پرند اور خزندجہاں کرہ ارض کی دلکشی اورزیبائی کا باعث ہیں وہیں دیگر جانداروں کیلئے غذائی زنجیرکا تسلسل بھی ہیں۔ انسانی زندگی کابڑی حدتک اِنحصارفطرت پر ہے اور انسان جنگلی جانوروں،پیڑ ،پودوں اوردرختوں کے ساتھ بقائے باہمی کے اصول کے تحت زندہ رہتا ہے۔کرۂ ارض کے ماحول کو صاف کرنے اور فصلوں سے زہریلے حشرات الارض کے خاتمے میں بھی جنگلی حیات کا بڑا اہم کردار ہے۔ جنگلی جانور و پرندے نہ صرف زمین کی زرخیزی بڑھاتے ہیں بلکہ جنگلات کے پھیلاؤ میں بھی انتہائی معاون ومددگار ہیں۔تیتر، بٹیر،ِتلیِر،ہدہد،فاختا ئیں،کبوتر،بگلے ودیگر کئی خوش رنگ وخوش نما پرندے گندم،چاول،کپاس،پھلوں اور سبزیوں کی فصلوں سے ضرر رساں کیڑے مکوڑوں کو چٹ کرکے کسان دوست پرندوں میں شمار ہوتے ہیں۔اِسی طرح فطرت کے خاکروب گِدھ،چیلیں اورکوّے مردار خوری اور آلائشیں کھا کر ماحول کوگندگی اورتعفن سے محفوظ رکھتے ہیں۔چمگادڑ،چھپکلیاں،مچھراورمکھیاں کھاکر،پینگولن کِرم خوری کے ذریعے جانداروں کو زہریلی مخلوق کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتے ہیں جبکہ کچھوے،مینڈک اور دیگر آبی حیات پانیوں کی کثافتیں چاٹ کر اسے صاف وشفاف بنانے میں اپنا ماحولیاتی کردار ادا کرتے ہیں۔

جنگلی جانوروپرندے سرمایہ فطرت ہیں۔ زمین پر اﷲ عزوجل کی عطا کردہ اِن نعمتوں سے ہمیں ان گنت فوائد حاصل ہورہے ہیں۔ جنگلی جانور وپرندے ہمیں تفریح مہیا کرتے ہیں، پرُلحم خوراک مہیا کرتے ہیں، علم وتحقیق میں معاو ن ہیں ،قدرتی ماحول کو دلنشیں اورخوشگواربناتے ہیں،ادویہ سازی،صنعتی وزیبائشی مصنوعات کی تیاری میں کام آتے ہیں،سیاحت وتجارت کی بدولت زرمبادلہ بڑھاتے ہیں اورہماری ثقافت کے امین ہیں۔غرضیکہ انسان روزاوّل ہیــ سے جنگلی حیات کی اِس قدرتی دولت سے استفادہ کرتا چلا آرہاہے ۔
عقل اِنسانی جب مختلف زاویوں سے جنگلی جانوروں کی صناعی پرغور وفکرکرتی ہے تو اُسکے سامنے اِن کی تخلیق میں پوشیدہ حکمتوں اور منفعتوں کے نئے نئے در آشکار ہوتے چلے جاتے ہیں اور جب انسان کوایک ہی جانور میں دو متضاد خوبیوں کا حامل ہونیکا انکشاف ہوتاہے تو وہ ربّ کائنات کی اس حیرت انگیزتخلیق پرعش عش کراُٹھتاہے۔ اُسے جب معلوم ہوتاہے کہ جس سانپ کا ڈنک اسقدر زہریلا اور مہلک ہے کہ اسکا ڈسا پانی ما نگے بغیر ہی مر جاتا ہے تو اُسی سانپ میں قدرت نے اُسکا تریاق بھی رکھ چھوڑا ہے۔انسان اُسوقت انگشت بدندان رہ جاتاہے جب اُسے پتہ چلتا ہے کہ سادگی میں مشہور جانور اُونٹ اگر بِدک جائے توشیر سے بھی زیادہ خطرناک ہوتاہے۔اِسی طرح شیر کا وصف ہے کہ وہ بہت بہادر اوردلیرہوتا ہے لیکن اس کے سا تھ ساتھ اُس میں بُزدلی اور کم ہمتی بھی پائی جاتی ہے کیونکہ شیر مرغ کی آواز سے ڈرتا ہے اور آگ کو دیکھ کر حیران ہو جاتا ہے ۔خرگوش کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ آنکھیں کھول کر سوتا ہے اور شکاری یہ سمجھتا ہے کہ وہ جاگ رہا ہے ۔لومڑی اسقدر عیّا ر اور چالاک ہے کہ وہ رزق کی تلاش اس تدبیرسے کرتی ہے کہ مردہ بن کر پیٹ پُھلالیتی ہے اور اپنے پاؤں کھڑے کر دیتی ہے تا کہ جانور سمجھنے لگیں کہ یہ واقعی مر گئی ہے اور جونہی کوئی جانور اُس کے پا س آتا ہے تو اُسے جھپٹ کرشکار کر لیتی ہے۔

حکمتوں اور منفعتوں سے مالامال یہ جنگلی جانور وپرندے ہماری قدرتی دولت ہیں جن کا تحفظ ہماری قومی ذمہ داری ہے گو کہ حکومتیں،سرکاری وغیرسرکاری ادارے جنگلی حیات کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں تاہم یہ کاوشیں اُسوقت تک بارآور ثابت نہیں ہو سکتیں جب تک کہ عوام بھی حکومت کے شانہ بشانہ اِس کار ِعظیم میں اپنا بھر پور تعاون فراہم نہ کریں۔

جنگلی حیات کو اپنی آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ ومعاون بنانے کیلئے محکمہ تحفظِ جنگلی حیات وپارکس پنجاب موجودہ ڈائریکٹرجنرل خالدعیا ض خان کی فعال قیادت میں بڑے مو ثر اور مربوط اندا زسے اپنے دستیاب وسائل کو بر وئے کا ر لارہا ہے ۔صوبہ کے طول وعرض میں497612ایکڑ پر محیط37 وا ئلڈلائف سینگچوریز(محفوظ پناگاہو ں) ،7535313ایکڑ پر محیط24 وا ئلڈلائف گیم ریزروز(مخصوص شکارگاہوں)اور 299288ایکڑپر محیط04نیشنل پارکس، لال سہانرا،چنجی ریزرو فاریسٹ ، کالا چٹا اور مری کہوٹہ وکوٹلی ستیاں قدرتی ماحول میں جنگلی جانوروں کا تحفظ اور بقا جبکہ صوبہ کے مختلف اضلاع میں قائم 14وا ئلڈلائف پارکس اور04چڑیا گھر وں میں کیپٹِیو بریڈنگ(اسیری میں ا فزائش نسل)کے ذریعے جنگلی جانور وں وپرندوں کی مختلف انواع کو محفوظ بنایا جارہا ہے ۔علاوہ از یں صوبہ میں محکمہ کے10انتظامی ڈویژنوں؛راولپنڈی ، سالٹ رینج،گوجرانوالہ، لاہور،فیصل آباد،ساہیوال،سرگودھا،ملتان،بہاولپوراور ڈیرہ غازی خان میں محکمہ کی تشکیل شدہ چھاپہ مار ٹیموں کے ذریعے انتہائی مستعدی سے جنگلی جانور وں کے غیر قانونی شکار،ناجائزتجارت اور جاری موسمِ افزائشِ نسل میں انڈ وں،بچوں کی پکڑ دھکڑکی روک تھام کررہا ہے۔علاوہ ازیں صوبہ کے تمام ائر پورٹس،ریلوے اسٹیشنوں اور بس سٹینڈز پر مامورعملہ اوردیگر ایجنسیوں کے تعاون سے جنگلی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ کی روک تھام کررہاہے تاہم ضرورت اس امرکی ہے کہ عوام بھی حکومت کے شانہ بشا نہ اِس قدرتی دولت کی حفاظت کریں تا کہ ہماری آئندہ نسلیں بھی جنگلی حیات کے ان بے پایاں ثمرات سے بہرہ مند ہوسکیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mirza Ramzan
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Jun, 2017 Views: 715

Comments

آپ کی رائے