گزری باتیں اوریادیں ہمیں مضبوط کرتی ہیں

(Abdullah Ibn-e-Ali, Karachi)

زندگی ایک حسیں یاد کی طرح ہے ، ہم جیسے جیسے بڑے ہوتے جارہے ہیں ہمارا ماضی خاص کر کہ بچپن بہت ہی خوبصورت یادّاشت کی مانند ہمارے دماغ میں محفوظ ہے ۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنی موجودہ زندگی میں اپنے بچپن کا ہی اثر رکھتے ہیں ، آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ جب آپ کہیں اکیلے بیٹھے ہوتے ہیں اور کوئی کام اس وقت آپ کے پاس کرنے کیلئے نہیں ہو تو آپ ماضی کی یادوں میں کھوجاتے ہیں خصوصاً درمیانے ٹھنڈے موسم میں جیسے ابھی چند دن پہلے بارش کی وجہ سے موسم بہت ہی سہانا ہوگیا تھا، ہمیں اپنے پیاروں کے ساتھ گزارے دن یاد آجاتے ہیں ، ہم میں سے کئی لوگ اپنے بچھڑوں کی وہ پیاری مہربانیاں جو انہوں نے ہم پر کی ہوتی ہیں اپنے دماغ میں فلم کی طرح چلالیتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں اور ان کی وہ باتیں جو وہ ہم سے کیا کرتے تھے اور جب بھی کبھی ایسی یادیں ذہن میں آتی ہیں ہم میں سے چند افراد کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آجاتے ہیں ۔ بالکل ایسے ہی یہ کیفیات اُن خاص دنوں میں بھی ہوجایا کرتی ہیں جن میں ان پیاروں نے ہم سے منہ موڑ کر دوسرے جہاں کا رُخ کیا ہوتا ہے اُن پر بیتی گئی تکالیف اور اُس پر اُن کا رویّہ کہ کیسے انہوں نے دل خوب بڑا کرکے اُن نازل شدہ آزمائش پر کامل صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا ، وہ تمام باتیں ہمارے لیئے موٹیویشن بن جاتی ہیں ۔مجھے آج بھی یادہے میرے ایک روحانی استاداور مایہ ناز بین الاقوامی شخصیت محمد علیؒ باکسر کہ جن کی پوری زندگی مُشکلات و مصائب میں گزریں، خصوصاًجب امریکہ نے انہیں ویتنام کی جنگ میں جھونکنے کا انتظام کیا تھا ، یہ اُن دنوں کی بات ہے جب وہ کثیر مطالعہ کے بعد اسلام قبول کرکے اُمّتِ مسلمہ میں داخل ہوگئے تھے اور اس بات کو عقلِ سلیم سے سمجھ گئے تھے کہ کسی بھی انسان کو بلاوجہ قتل کرنا گناہ ِ کبیرہ ہے۔ ایسے میں جب وہ ورلڈ ہیوی چیمپین شپ کے مقابلے میں حصّہ لے رہے تھے امریکہ نے اُن پر مصائب کے پہاڑ توڑے انہیں نہ صرف یہ کہ مقابلے سے نکلوادیا بلکہ اُن پر زبردستی کی کہ وہ ویتنام کیلئے امریکی فوج میں بھرتی ہوجائیں ، یہ تمام واقعات کسی سے ڈھکے چھُپے نہیں ۔ اُس مردِ آہن نے نہ صرف وہ ظُلم برداشت کیئے بلکہ چیمپین شپ میں دوبارہ حصہ لیا اور دُنیا بھر کا ہیوی ویٹ چیمپین بن گیا۔اور وہ تین سو پچاس پاؤنڈ کی پاور والا پنچ ریکارڈ بھی کوئی نہیں توڑ سکا سوائے جیت کون ڈو ماسٹر بروس لی کہ جن کا وزن استاد محمد علی سے نصف تھا اُس کے باوجود ماسٹر بروس لی نے بالکل اسی مقدار کی پاور اپنے نام کرلی۔اس کے علاوہ محمد علیؒ کا وہ انٹرویو جس میں وہ مردِ مؤمن اﷲ تعالیٰ کی توحید کو بیان کررہا تھا وہ بھی دیکھنے کے قابل ہے۔ اسی طرح اورت بہت سی یادیں اور باتیں ہمیں بہت سے مواقع پر یادآجاتی ہیں۔اور ہمیں مضبوطی اور توانائی فراہم کرتی ہیں ہمیں ہمارے بہت سے نامکمل کاموں کو انجام دینے کی وجہ بن جاتی ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdullah Ibn-e-Ali

Read More Articles by Abdullah Ibn-e-Ali: 22 Articles with 10466 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Jul, 2017 Views: 439

Comments

آپ کی رائے