کرکٹ

(Syed Yousuf Ali, Karachi)
ایک پنتھ دو کاج '' کے مصداق انڈین سپر لیگ کاانعقاد

بالآخر وہی ہوا جس کے خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے۔آئی سی سی کی جانب سے سعید اجمل پر مشکوک بالنگ ایکشن کے باعث کسی بھی بین الاقوامی میچ میں شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی۔تاہم اس پابندی کی اصل ذمہ داری پاکستان کرکٹ بورڈ پر عائد ہوتی ہے جس نے ملکی سطح پرمقامی بالرز کے بالنگ ایکشن چیک کرنے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بورڈ کی سابقہ انتظامیہ کی جانب سے بالر کے مشکوک ایکشن چیک کرنے کے لئے 7سال قبل بائیو مکینکس لیباریٹری کے قیام کے لئے بھاری مالیت کی مشینری درآمد کی گئی تھی جو کہ اب تک ڈبوں میں پڑی سڑ رہی ہے۔ دوسری جانب اتنا وقت گزر جانے کے باوجود بورڈ کے کسی ذمہ دار نے یہ نوٹس بھی نہیں لیا کہ لیباریٹری کی عمارت تا حال کیوں مکمل نہیں کی جا سکی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ذمہ داران کے رویوں کے برعکس ان کا پڑوسی ملک میں بی سی سی آئی کے اقدامات سے موازنہ کیا جائے تو حب الوطنی کے حقیقی معنی پتہ چلتے ہیں۔یہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی حب الوطنی اور مستقل مزاجی سے تشکیل دی گئی پالیسیاں ہی ہیں جن پر عمل کر کے آج بھارت نے کھیلوں کی دنیا میں وہ مقام حاصل کر لیا ہے کہ عالمی سطح پر ہیرو تسلیم کئے جانے والے غیر ملکی کھلاڑی بھی بھارت میں کھیلنا ایک اعزاز سمجھتے ہیں۔ انڈین پریمئر لیگ کرکٹ مقابلوں نے دنیا بھرمیں ہونے والے کرکٹ ٹورنامنٹس کی رونقوںکو گہنا دیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے روائتی حریف ملک سے سبق سیکھنا چاہئے جہاں کسی ایک کھیل کو فروغ دینے کے لئے دوسرے کھیل سے مدد لینے کی قابل تقلید مثال پیش کی گئی ہے۔

بھارت میں کھیل کے ذمہ داروں نے '' ایک پنتھ دو کاج '' کے مصداق انڈین سپر لیگ کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔رواں سال12اکتوبر سے شروع ہونے والے اس فٹ بال ٹورنامنٹ کے انعقاد کا بنیادی مقصد انڈین پریمئر لیگ کرکٹ مقابلوں کو مثالی کامیابیوں سے ہم کنار کرنے کے لئے رقم فراہم کرنا ہے۔دوسری جانب فٹ بال ٹونامنٹ کے انعقاد سے ملک میں نہ صرف اس کھیل کو مقبولیت حاصل ہوگی بلکہ عالمی سطح پر ہونے والے فٹ بال مقابلوں میں بھارت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔ کھیلوں کے ذمہ داربھارتی حکام نے ہماری طرح محض زبانی اعلانات کے بر عکس طویل سوچ و بچار اور غور و خوص کے بعدان مقابلوں کے انعقاد کے لئے منصوبہ بندی کی ہے۔

آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن کے صدر پرافل پٹیل اس پروجیکٹ کے اصل بانی ہیں جنہوں نے ملک میں فٹ بال کے کھیل کو مقبول بنانے اور اس سے حاصل آمدنی کے ذریعے ملک میں پہلے سے مقبول کرکٹ کو انتہا کی مقبولیت تک پہنچانے کے لئے اپنا منصوبہ ملک میں دیگر اسٹیک ہولڈرز کے سامنے رکھا۔ برطانوی روزنامہ '' ٹائمز '' سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ جس عرق ریزی اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ آئی ایس ایل کا انعقاد کیا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے انڈین سپر لیگ فٹ بال مقابلوں میں شائقین کی ریکارڈ تعداد اسٹیڈیمز پہنچے گی جو کہ ملک میں فٹ بال کی مقبولیت کو فروغ دینے کا سبب بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ10دنوں تک جاری رہنے والی فٹ بال لیگ سے کھیلو ں کی بین الاقوامی سطح پر بھارتی مفادات کو تقویت ملے گی۔

عالم گیر شہرت حاصل کرنے والے بھارتی اسپورٹس ٹی وی نیٹ ورک اسٹار انڈیا کے چیف ایگزیکٹیو اودھے شنکر یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت کو دنیا بھر میں جنون کی حد تک کھیلوں سے لگائو رکھنے والی قوم کی حیثیت سے شناخت حاصلہے جس کا تمام تر کریڈٹ کرکٹ کو جاتا ہے۔ تاہم اب کوئی وجہ نہیں کہ بھارتی عوام صرف کرکٹ دیکھ کر کھیلوں سے اپنے عشق کی تشفی کرے۔ اسٹار ٹی وی انڈین سپر لیگ فٹ بال کے تمام مقابلے براہ راست دکھائے گا۔ حالانکہ فٹ بال بھارت بھر میں کر کٹ کی طرح مقبول نہیں ہے اور اس کی اصل مقبولیت مغربی بنگال اور مشرقی ریاستوں بالخصوص آسام اور گوا میں زیادہ ہے۔

دہلی ڈائنموز ، کلب چنائے اور اور نارتھ ایسٹ یونائٹیڈکے نام سے فٹ بال کھیلنے والے کلبوں نے بھارتی فٹ بال حلقوں میں مقبولیت حاصل کی ہے۔ آئی ایس ایل کھیلنے پر ان کلبوں کو مزید مقبولیت حاصل ہو گی۔ لیگ کھیلنے والی مختلف ٹیموں میں مقامی کھلاڑیوں کے ہمراہ عالمی شہرت یافتہ غیر ملکی فٹ بالروں کو شامل کیا جا رہا ہے۔انگلینڈ کے سابق انٹرنیشنل فٹبالر جیمس جنوبی شہر کوچی میں کیرالہ بلاسٹرز کی جانب سے کھیلیں گے۔اٹلی کی جانب سے2006میں ورلڈ کپ جیتنے والے ایلزاندروڈیل پیروکو دہلی ڈائنموز میں جگہ دی گئی ہے۔ فٹ بال ذرائع کے مطابق انٹر نیشنل فٹ بال ہیروز کو لاکھوں ڈالر معاوضے کے عوض لیگ کھیلنے کے لئے بک کیا گیا ہے۔

انٹر نیشنل اسٹارز کو لاکھوں ڈالر معاوضے کی ادائیگی کے لئے فنڈنگ اور ملک بھر میں اسٹیڈیمز کی تیاری کے لئے درکار فنڈنگ بھارت کے دولت مند ترین شخص مکیش امبانی کے صنعتی گروپ ریلائنس اور امریکی اسپورٹس ایجنسی آئی ایم جی فراہم کر رہی ہے۔ انڈین سپر لیگ فٹ بال کو عالمی سطح پر ایک کامیاب اسپورٹس ایونٹ کی حیثیت سے منوانے کے لئے بالی ووڈ گلیمرز سے بھی مدد حاصل کی گئی ہے۔ٹاپ اداکارائوں کے علاوہ کئی فلم ہیروز بھی آئی ایس ایل فٹ بال ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لئے متحرک ہو گئے ہیں ۔ جان ابراہام، رنبیر کپور اور سلمان خان پہلے ہی بالترتیب گوہاٹی ، ممبئی اور پونے میں قائم ٹیموں کی ملکیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، انہوں نے ان ٹیموں کی ملکیت بھاری مالیت کی کامیاب بولیاں دے کر حاصل کی ہیں۔کیرالہ بلاسٹرز کی ملکیت کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر کو مل جانے کے باعث فٹ بال کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے شیدائیوں کی ایک بڑی تعدادجب اسٹیڈیمز پہنچے گی تو ملکی و بین الاقوامی میڈیا کی چکا چوند میں کی جانے والی کوریج آئی ایس ایل کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کا سبب ہو گی۔

آئی ایس ایل کے چیف ایگزیکٹیو انوپم دتہ کو یقین ہے کہ اگلے ماہ ہونے والی فٹ بال لیگ بھارت میں اس کھیل کی مقبولیت کے لئے ایک نوید ثابت ہو گی۔آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن کے صدر نے تو لیگ کے انعقاد سے انڈین فٹ بال کا مستقبل روشن ہونے کی پیش گوئی کی ہے۔فٹ بال پورے بھارت میں مقبول نہ ہونے کے باوجود ملک بھر میں ٹی وی پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا دوسرا کھیل ہے۔کھیلوں کے مبصرین یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر سے فٹ بال کے شائقین ریکارڈ تعداد میں آئی ایس ایل ٹورنامنٹ دیکھنے آئیں گے۔ ان کے لئے فٹ بال کی لیجنڈ شخصیات، بالی ووڈ گلیمر اور بھارتی کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر اور دیگر سلیبریٹی شخصیات اس ایونٹ میں کشش کا باعث ہو نگی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ ہی نہیں دیگر کھیلوں کی پاکستانی تنظیموں اور ریگولیٹرز کے لئے انڈین سپر لیگ کے انعقاد سے سبق سیکھنے کے لئے بہت سے پہلو ہیں۔ گو کہ پی سی بی کے ایک سابق چیئرمین نے بہت طمطراق سے کرکٹ میں پاکستان پریمئر لیگ کے انعقاد کا اعلان کیا تھا جس کے لئے ہزاروں ڈالرز کے معاوضوں پر مختلف مشیروں، پروموٹرز اور آئی سی سی کے سابق سربراہ احسان مانی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ سابق چیئر مین بورڈ کی نیت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم پیشگی منصوبہ بندی، باہمی صلاح و مشورے اور اتفاق رائے کے بغیر کئے جانے والے فیصلوں کاانجام یہی ہوناتھا جب لاکھوں ڈالر کے اخراجات ہونے کے بعد پاکستان میں کرکٹ لیگ کا منصوبہ ترک کر دیا گیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں تمام کھیلوں کے ذمہ داران سر جوڑ کر بیٹھ جائیں، ماضی کو فراموش کر کے نہ صرف کرکٹ بلکہ ہاکی، اسکواش اور فٹ بال سمیت دیگر کھیلوں کو بحران سے نکال کر ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم کو دنیا بھر کے میدانوں میں بلند رکھنے کے لئے اتفاق رائے سے فیصلے کئے جائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed yousuf ali

Read More Articles by syed yousuf ali: 94 Articles with 50067 views »
I am a journalist having over three decades experience in the field.have been translated and written over 3000 articles, also translated more then 300.. View More
05 Jul, 2017 Views: 494

Comments

آپ کی رائے