ویمنز کرکٹ ٹیم چیمپئنز کے نقش قدم پر چل سکے گی؟

(Syed Yousuf Ali, Karachi)

ویمنز کرکٹ ٹیم چیمپئنز کے نقش قدم پر چل سکے گی؟
سرفراز کی زیر قیادت شاندار فتوحات کے پیش نظر قوم نے ویمنز ٹیم سے بھی بڑی توقعات وابستہ کرلیں

سرفراز کی زیر قیادت شاندار فتوحات کے پیش نظر قوم نے ویمنز ٹیم سے بھی بڑی توقعات وابستہ کرلیں

قومی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں بھارت کو مثالی شکست دے کر آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ جیتنے کے ٹھیک ایک ہفتے بعد پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ 2017مقابلوں میں شریک ہوگئی ہے۔ ویمنرز کرکٹ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ24جون سے انگلینڈ میں شروع ہوا ہے ۔ سرفراز احمد کی زیر قیادت قومی ٹیم کی شاندار فتوحات کے پیش نظر قوم نے ویمنز ٹیم سے بھی بڑی توقعات وابستہ کرلی ہیں ۔قومی ویمنز ٹیم کی کپتان ثناء میر ایک اچھا ٹریک ریکارڈ رکھتی ہیں ۔ تاہم ان کی زیر صدارت ویمنز ٹیم قوم کی توقعات پر کس حد تک پورا اترے گی اس کا اندازہ تو ٹیم کی گرائونڈ میں پرفارمنس دیکھ کر ہی ہو سکے گا ۔چمپئنز کپتان سرفراز احمد قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کی آئی سی سی ویمنز کرکٹ کپ میں حصہ لینے بکے لئے لندن روانگی کے موقع پر نیک خواہشات کا پیغام بھجوا چکے ہیں۔اپنے ویڈیو پیغام میں سرفراز نے گرین شرٹس ویمنزکو خوش بختی کے پیغام کے ساتھ کچھ ہدایات بھی کی ہیں۔ان کا کہا تھا کہ معاملات کو سادہ رکھنے،معمول کی کرکٹ کھیلنے اور فیلٖڈ میں جان توڑ مقابلے کے ذریعے اگر آپ مثبت ذہن کے ساتھ حریف ٹیم کے ساتھ مقابلہ کریں گی تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔ ویمنز ٹیم نے اپنے پہلے لیگ میچ سے قبل 2وارم اپ میچز کھیلے ہیں ۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف اسے کامیابی ملی ،جبکہ آسٹریلیا نے با آسانی اسے شکست دے دی ، ٹیم نے اپنا پہلا لیگ میچ اتوار 25جون کو افریقہ کے خلاف کھیلا تاہم قومی ویمنز ٹیم یہ میچ 3وکٹوں سے ہار گئی۔

11ویں آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کیلئے انعامی رقم دگنی کرکے 2ملین ڈالر (1.5ملین پائو نڈز) کر دی گئی ہے ۔ جس کے نتیجے میں پروفیشنل پلیئرز کی حوصلہ افزائی ہوگی آئی سی سی چاہتی ہے کہ اگلے 15برسوں میں انعامی رقم مردوں کے ورلڈ کپ مقابلوں کے مساوی کردی جائے ۔ ویمنز کرکٹ میں انتہائی مقبولیت حاصل کرنے والی 37سالہ شار ٹ ایڈورڈز کا کہنا تھا کہ آئی سی سی ویمنز گیمز پر جس طرح سرمایہ کاری کررہی ہے وہ قابل تعریف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بار ٹورنامنٹ بہت دلچسپ اور اچھا ہوگا جس کی ماضی میں مثال نہیں مل سکے گی ۔ ایڈورڈز نے1995ء سے 2016ء کے درمیان 23ٹیسٹ اور 151ایک روزہ انٹرنیشنل میچز کھیلے ہیں ۔ جبکہ ورلڈ کپ 2009ء اور ٹی ٹوئنٹی ٹائٹلز میں انگلینڈ کی قیادت کرچکی ہیں ۔ وہ اپنی زیر قیادت آسٹریلیا کے خلاف 4ایشین سیریز بھی جیت چکی ہیںگو کہ آسٹریلیا دفاعی چیمپئن کی حیثیت سے ٹورنامنٹ میں شریک ہے ۔ تاہم ایڈورڈذ کو یقین ہے کہ انگلش ویمنز ٹیم ٹرافی جیت لے گی ۔ انگلینڈ نے2014میں پہلی بار فل ٹائم پروفیشنل ویمنز کرکٹ ٹیم کی حیثیت حاصل کی ۔

پاکستان کی ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان ثناء میر نے لاہور سے لندن روانگی کے وقت میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویمنز ٹیم نے ہمیشہ اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ٹیم نے بھرپور محنت کے ساتھ ٹورنامنٹ کیلئے تیاری کی ہے ۔ روایتی حریف بھارت کو شکست دینے کا عزم دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ میں بھارت سے جیتنے کیلئے بھرپور کوشش کرینگے ، ثناء میر نے کہا کہ پاکستان ویمنز ٹیم میں تمام کھلاڑی با صلاحیت ہیں جو پاکستان کو میچز میں فتح دلا سکتی ہیں ۔ ویمنز ورلڈ کپ میں پاکستان سمیت 8ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں ۔ٹورنامنٹ کے ابتدائی میچز لیگ سسٹم کی بنیاد پر کھیلے جائیں گے ۔ سیمی فائنل لیگ سسٹم کے ذریعے ٹاپ4پوزیشنز حاصل کرنے والی ٹیموں کے درمیان ہوگا ۔ ٹورنامنٹ کے تمام لیگ میچز اور سیمی فائنلز لیسٹر شائر، ڈربی شائر ، برسٹل اور ٹو نٹن میں کھیلے جائینگے ۔ فائنل میچ تاریخی لارڈز کے گرائونڈ پر ہوگا ۔ پاکستانی ویمنز ٹیم میں کپتان ثناء میر ، اسماویہ اقبال ، عائشہ ظفر ، بسمہ معروف ، ریحانہ بیگ ، غلام فاطمہ ، جویرہ خان ، کائنات امتیاز ، مرینہ اقبال ، ناہدہ خان ، نین عابدی ، نشرہ سندو ، سعدیہ یوسف ، سدرہ نواز اور وحیدہ اختر شامل ہیں ۔ آسڑیلوی ٹیم کی قیادت ، میگ لیننگ، انگلینڈ کی ہیتھر نائٹ ، بھارت کی متھالی راج ، نیوزی لینڈ کی سوزی بیٹس ، سائوتھ افریقہ کی ڈین وارن نیکرک ، سری لنکا کی انوکارا ناویرا ،ویسٹ انڈیز کی اسٹا فینی ٹیلر اور پاک ٹیم کی قیادت ثناء میر کررہی ہیں ۔ سرفراز احمد کی زیر قیادت قومی ٹیم جس وقت چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ 2017کھیلنے کیلئے انگلینڈ گئی تھی تو اس ٹورنامنٹ میں شریک 8ٹیموں میں سب سے نچلی پوزیشن تھی ۔ قومی ٹیم قبل ازیں کبھی ٹورنامنٹ کے فائنل میں بھی نہیں پہنچی تھی ۔ ویمنز ورلڈ کپ کھیلنے والی موجودہ پاکستانی ٹیم کی پوزیشن بھی کوئی قابل فخر نہیں ہے ،اس کی سب سے بہتر پرفار منس 2009ء میں تھی جب ٹورنامنٹ میں اس نے چھٹی پوزیشن حاصل کی ، ویمنز ٹیم کو چوتھی بار ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں شریک ہونے کا موقع ملا ۔

آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کی دفاعی چیمپئن آسٹریلیا اب تک ہونے والے 10میں سے 6بار ٹائٹل اپنے نام کرچکی ہے ۔ انگلینڈ نے یہ اعزاز 3بار حاصل کیا جبکہ نیوزی لینڈکو یہ ٹائٹل صرف ایک بار حاصل کرنے کا موقع ملاٍ۔ پاکستان ویمن ٹیم ٹورنامنٹ کا تیسر ا لیگ میچ 2جولائی کو بھارت کے خلاف کھیلے گی۔چوتھا میچ دفاعی چمپئن آسٹریلیاکے خلاف 5جولائی، پانچواں میچ نیوزی لینڈ کے خلاف8جولائی ،چھٹا میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف 11جولائی جبکہ ساتواں اور آخری لیگ میچ سری لنکا کے خلا ف15جولائی کو کھیلے گی۔ٹورنامنٹ کا پہلا سیمی فائنل18اور دوسرا20جولائی کو کھیلا جائے گا۔فائنل میچ کے لئے 23جولائی کی تاریخ فکس کی گئی ہے ۔ ٹورنامنٹ کی میزبان ٹیم انگلینڈ، دفاعی چیمپئن آسٹریلیا ، ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کو آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں پوزیشنز کے باعث ٹورنامنٹ کھیلنے کا استحقاق حاصل ہوا جبکہ جنوبی افریقہ ، سری لنکا ، بھارت اور پاکستان نے سری لنکا میں ہونے والے کوالیفائنگ رائونڈ کے ذریعے ٹورنامنٹ تک رسائی حاصل کی ہے ۔ ویمنز کرکٹ کا آغاز انگلینڈ سے ہی ہوا تھا ۔ ویمنز کرکٹ ایسو سی ایشن کے نام سے کرکٹ کھیلنے والی خواتین کی تنظیم کا قیام 1926میں انگلینڈ میں عمل میں آیا۔ ڈبلیو سی اے کی زیر نگرانی انگلینڈ کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے اپنا پہلا باقاعدہ میچ `1934میں آسٹریلیا سے کھیلا ۔آسٹریلیا کو
2ٹیسٹ ہرانے کے بعد انگلینڈ کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ٹیسٹ کھیلا ۔تینوں ممالک میں خواتین کرکٹ کو ملنے والی پذیرائی کے نتیجے میں 1958ء میں انٹرنیشنل ویمنز کرکٹ کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ خواتین کرکٹ کی بین الاقوامی تنظیم کے قیام کے نتیجے میں ویسٹ انڈیز ، جنوبی افریقہ ، آئر لینڈ ، ڈنمارک اور ہالینڈ کی ویمنز ٹیموں نے بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں قدم رکھ دیا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارت ، پاکستان اور سری لنکا کی ٹیمیں بھی بین الاقوامی تنظیم کے دائرہ کار میںا ٓگئیں ۔ انٹرنیشنل ویمنز کرکٹ کونسل کے تحت 1973ء میں پہلا ویمنز ٹورنامنٹ رابن لیگ کی بنیاد پر ہوا ۔ یہ میچ انگلینڈ نے جیتا جبکہ آسٹریلیا رنر اپ رہا ۔دوسرے ویمنز ورلڈ کپ کا انعقاد بھارت میں ہوا جس میں آسٹریلیا نے فتح حاصل کی ۔تیسرا ویمنز ورلڈ کپ نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا جو کہ انگلینڈ نے جیت لیا ۔ آسٹریلیا نے میزبان کی حیثیت سے ملبورن میں ہونے والے چوتھے ویمنز ورلڈ کپ کے فائنل میں کامیابی حاصل کی ۔ 1993میں نیوزی لینڈ نے انگلینڈ میں ہونے والے پانچویں ویمنز ورلڈ کپ کرکٹ میں آسٹریلیا کو میدان سے باہر کرکے فائنل میں اپنی جگہ بنائی لیکن ٹرافی انگلینڈ کی ٹیم لے اڑی ۔ 1997میں ایک بار پھر ویمنز ورلڈ کپ کرکٹ کی میزبانی بھارت کے حصے میں آئی جس میں 11ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی ۔ پاکستان کو اس ٹورنامنٹ میں بد ترین کارکردگی پر گیارہویں پوزیشن ملی ۔2000ء میں ویمنز ورلڈ کپ نیوزی لینڈ میں کھیلا گیا جو کہ میزبان ٹیم نے جیت لیا ۔2005ء میں ٹورنامنٹ کی میزبانی جنوبی افریقہ نے حاصل کرلی جس میں آسٹریلیا نے فائنل میں بھارت کو ہرا کر آٹھواں ورلڈ کپ ٹائٹل حاصل کرلیا ۔ آئی سی سی ویمنز ورلڈ رینکنگ میں آسٹریلیا 129پوائنٹس کے ساتھبدستور پہلی پوزیشن پرہے۔ 122پوائنٹس کے ساتھ انگلینڈ 118پوائنٹس حاصل کر کے نیوزی لینڈ کی تیسری پوزیشن ہے۔ویسٹ انڈیز، ہندوستان اور جنوبی افریقہ کی بالترتیب چوتھی ۔پانچویں اور چھٹی پوزیشن ہے۔ پاکستان ساتویں ،سری لنکا آٹھویں، بنگلہ دیش نویں اور آئرلینڈ دسویں پوزیشنز پر ہیں۔
یہ آرٹیکل روزنامہ جنگ میں شائع ہو چکا ہے
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed yousuf ali

Read More Articles by syed yousuf ali: 94 Articles with 50071 views »
I am a journalist having over three decades experience in the field.have been translated and written over 3000 articles, also translated more then 300.. View More
05 Jul, 2017 Views: 324

Comments

آپ کی رائے