باکسنگ

(Syed Yousuf Ali, Karachi)
پاکستانی نژاد برطانوی باکسر ہم وطنوں کے سامنے فائٹ کے خواہشمند

پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے گزشتہ ہفتہ لاس ویگاس، امریکہ میں ایم جی ایم گرینڈایرینا پر منعقدہ ایک مقابلے میں ڈیوون الیگزینڈر کو ایک سخت مقابلے کے بعد شکست دے کر عالمی باکسنگ کونسل کا جو ٹائیٹل جیتا ہے وہ نہ صرف فاتح باکسر بلکہ ان کے مداحوں کے لئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔وہ ستمبر سے سلورویلٹر ویٹ ٹائیٹل کی اس فائٹ کیلیے کلین آکلینڈ میں ورگل ہنٹر سے تربیت حاصل کررہے تھے۔ الیگزینڈرکے پاس گذشتہ سال آئی بی ایف ویلٹر ویٹ ٹائٹل تھا ۔تاہم اس وقت عامر خان نے ان کے خلاف بائوٹ سے انکار کردیاتھا۔بعد ازاںالیگزینڈر اپنا یہ ٹائٹل شان پورٹر سے ہار گئے تھے جبکہ عامر خان کے ساتھی برٹ کیل بروک نے اگست میں پورٹر سے یہ ٹائٹل چھین لیا تھا ۔ امریکی ریاست نیواڈا میں ہونے والی یہ بائوٹ خود عامر خان کے لئے بھی سخت ثابت ہوئی کیونکہ اس میں کامیابی کے لئے انہیںمقابلہ12رائونڈ تک جاری رکھنا پڑا۔تاہم باکسنگ رنگ میں موجود تینوں ججزنے عامر خان کومتفقہ طور پر فاتح قرار دیا۔اس مقابلے میں عامر خان نے 110,119,120اور108پوائنٹس حاصل کئے جبکہ ان کے حریف کا اسکور108,100اور109تھا۔الیگزینڈر نے مقابلے کے وقت تک28میں سے 26 مقابلے جیتے تھے اس طرح انہیں صرف2مقابلوںمیں شکست کا ذائقہ چکھنا پڑا تھا جن کی تعداد بڑھ کر اب3ہو گئی ہے۔

اس بائوٹ کی ایک اہم بات وہ نیکر(short) تھی جس کو برطانوی باکسر نے خاص طورپر ڈیزائن اور تیار کرایا تھا۔یہ نیکر بھیڑ کی کھال سے بنائے گئے سفید چمڑے اور ریشم سے تیار کی گئی تھی جبکہ اوپری پٹی 24قیراط سونے کے دھاگے سے لاسٹک کے ہمراہ ملا کر بنائی گئی تھی۔ اس نیکر کی تیاری پر31 لاکھ روپے سے زائد(20,000پونڈز) لاگت آئی تھی ۔ برطانوی ٹائون شیفیلڈ میں قائم ’’ فائٹ لیبل‘‘نامی فرم نے اس نیکر کا آرڈر مقابلے کے بعد حاصل کیا ۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ عامر خان ڈیوون الیگزینڈر کے ساتھ مقابلے میں ایک منفرد اور یادگار نیکر پہننے کے خواہش مند تھے جو ہم نے انہیں فراہم کر دی۔نیکر کی ڈیزائنرصوفی وٹھم نے بی بی سی ریڈیو5لائیو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ نیکر باکسنگ کے کھیل کی ریکارڈ سازی شروع ہونے کے بعد سے کسی بھی مقابلے میں پہنی گئی مہنگی ترین نیکر تھی۔انہوں نے بتایا کہ نیکر کی تیاری کے لئے ہم عامر خان سے قریبی رابطے میں تھے۔تقریباً چھ ہفتوں تک اس کے ڈیزائن، رنگوں کی آمیزش اور معیار پر بحث کے بعد ہم اس کو حتمی شکل دینے میں کامیاب ہوئے۔

13اور14دسمبر کی شب ہونے والے اس مقابلے میں ڈیوون الیگزینڈر کو شکست دینے کے باعث عامر خان نے اگلے برس کے آغاز میں فلائیڈ مے ویدر سے مقابلے کا استحقاق حاصل کر لیا ہے جس نے اب تک اپنے 29میں سے 26مقابلے جیتے ہیں۔قبل ازیں عامر خان نے رواں برس4مئی کو اپنے نئے کیریئر کے آغاز میںامریکی باکسر اور سابق عالمی چیمپئن لوئس کلازو کو ڈھیر کر کے ویلٹرویٹ چیمپئن شپ ٹائٹل جیتا تھا۔دو مرتبہ سابق عالمی چیمپئن رہنے والے عامر خان نے لائٹ ویلٹر ویٹ کیٹیگری سے نکل کر ویلٹرویٹ کٹیگری میں پہلی بار اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔مبصرین کا کہنا تھا کہ ایک سال بعد رنگ میں اترنے کے بعد بھی عامر خان میں کسی قسم کی کمی کا احساس نہیں ہو۔ انہوں نے بھر پور قوت کے ساتھ پورے 12رائونڈ تک مقابلہ کیا جبکہ تین بار ایسا محسوس ہوا تھا کہ عامر خان اپنے حریف کولازو کو ناک آئوٹ کردیں گے۔اس سے قبل انھوں نے لائٹ ویلٹر ویٹ)کم وزن کی(کٹیگری میں عالمی خطاب حاصل کیا تھا۔ ویلٹر ویٹ درمیانے وزن سے کم ہوتا ہے۔ اولمپکس کمیٹی نے اس کٹیگری میں 64 کلو گرام سے 69 کلو گرام وزن کے باکسروں کوشامل کیاہے۔

انہوں نے2004 میں ہونے والے ایتھنز اولمپک میں سلور میڈل جیتا تھا۔عامر خان نے کہا کہ اولمپکس میں اگرچہ وہ چاندی کا تمغہ جیتے تھے لیکن انہوں نے بیش قیمت تجربہ حاصل کیا جس کا کوئی بدل نہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش تھی کہ وہ اولمپکس میں حصہ لیں اور تمغہ جیتیں جو پوری ہوئی۔ پروفیشنل بننے کے بعد ان کی خواہش تھی کہ وہ عالمی چیمپئن بنیں۔ اللہ نے یہ تمنا بھی پوری کردی۔ عامر خان نے پہلا آئی بی ایف ٹائٹل 24جولائی2011کو زیب جوڈا کو شکست دے کرجیتا۔ورلڈ باکسنگ ایسوسی ایشن کے لائٹ ویلٹر ویٹ مقابلے کے پانچویں رائونڈ میں عامر خان نے زیب جوڈا کے سر پر دائیں ہاتھ سے ایک زوردار مکا رسید کیا۔ یہ پنچ اس قدر طاقت ور تھا کہ زیب جوڈا نیچے گر پڑے اور دوبارہ نہیں اٹھ سکے۔برطانوی شہریت رکھنے والے عامر خان باکسنگ کے کئی مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کو منوا کر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کرچکے ہیں۔

عامر خان31مئی2013کو ایک پاکستانی نژاد امریکی طالبہ فریال مخدوم سے نیویارک میں رشتہ ازدوواج میں بندھ گئے۔ عامر خان اورفریال مخدوم کی ملاقات شادی سے ایک سال قبل ہوئی تھی جو کہ پسندیدگی سے بڑھ کر منگنی اور پھر شادی تک پہنچی۔شادی کے وقت عامر کی عمر26سال جبکہ ان کی دلہن کی عمر20سال تھی۔ شادی کے ٹھیک ایک سال بعد عامر خان ایک بچی کے باپ بن گئے۔ ان کے یہاں بیٹی کی ولادت23مئی2014کو ہوئی۔عامر خان ابتدا سے ہی باکسنگ کے کھیل کو پاکستان میں مقبول بنانے کے خواہش مندرہے ہیں۔ان کاکہنا تھا کہ پاکستان میں باکسنگ کے شعبے میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ پاکستان میں باکسنگ کا مستقبل روشن ہے۔ یہاں باصلاحیت باکسرز موجود ہیںاور وہ نوجوانون پاکستانی باکسرز کی تربیت کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستانی باکسرز کو کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ محنت اور لگن سے کام کریں کیونکہ محنت ہی سے وہ کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

دسمبر2013میں اپنے دورہ پاکستان کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عامر خان نے کہا کہ میںبرطانوی شہری ضرور ہوں تاہم میری جڑیں پاکستان میں ہیں اور میں پاکستانی باکسرز کو عالمی مقابلوں میں فتح یاب دیکھنے کا خواہش مند ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگرپاکستانی باکسرز انگلینڈ آئے تو وہ انہیں اپنی اکیڈمی میں تربیت دینے میں خوشی محسوس کروں گا۔عامر خان نے رواں برس اپنے دوسرے دورہ پاکستان میں ایک لاکھ پائونڈ یتیم بچوں کی فلاح وبہبود پر خرچ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے ۔ عامر خان کا کہنا تھا کہ میں اس فلاحی ادارے کو اپنے نام سے قائم کرنا چاہتا ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو عطیہ کرنے کیلئے ترغیب دی جاسکے۔

بی بی سی اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے دو مرتبہ لائٹ ویٹ عالمی چمپئن رہنے والے جولیو ڈیاز سے مقابلے کو سخت ترین قرار دیا۔گزشتہ سال اپریل میں ہونے والے اس مقابلے میں بولٹن سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد عامر خان ایک انتہائی سخت مقابلے کے بعد جولیو ڈیاز کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ اس بائوٹ میں ایسا پہلی با رہوا کہ عامر خان مکا کھا کرگرنے کے باوجود اٹھ کر مقابلہ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ چوتھا رائونڈ شروع ہوتے ہی جولیو ڈیاز ایک زور دار مکا رسید کرنے میں کامیاب ہو گیا جس کے نتیجے میں توازن برقرار نہ رہنے کے باعث میں گر پڑا۔ تاہم جلد ہی اپنے حواس بحال کر کے دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر جولیو ڈیاز پر پے در پے وار کیے۔عامر خان نے کہا کہ جولیو ڈیاز نے انہیں سخت امتحان میں ڈال دیا تھااور یہ ان کی زندگی کے مشکل ترین مقابلوں میں سے ایک تھا۔عامر خان اپنے باکسنگ کیرئیر میں 30 مقابلے جیت کر دنیا بھر میں اپنی دھاک بٹھا چکے ہیں۔

کرکٹ عامر خان کا دوسرا شوق ہے، اس کھیل سے ان کی دلچسپی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے ایک اہم مقابلے سے ایک دن قبل اپنی ٹریننگ چھوڑ کر ورلڈ ٹی 20میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کا میچ دیکھا جو کہ قومی ٹیم جیت گئی تھی اور انہیں اس بات پر خوشی ہورہی تھی کہ وہ بھی ورلڈ چیمپئن بنے تھے اور پاکستانی ٹیم بھی عالمی چیمپئن بن گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اور پاکستان میں پروفیشنل مقابلوں میں حصہ لیں خاص کر وہ پاکستان میں اپنے لوگوں کے سامنے ورلڈ ٹائٹل فائٹ جیتنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت باکسنگ کے عالمی ٹائیٹل کے لئے مقابلوں کا پاکستان میں انعقاد مشکل ہے کیونکہ ایسے مقابلوں کے لئے یہاں سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر باکسنگ کے مقابلوں کاانعقاد انتہائی ضروری ہے تا کہ پاکستانی باکسر عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کر سکیں۔ عامر خان نے ا س یقین کا اظہار بھی کیا کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان بھی باکسنگ کے عالمی مقابلوں کی میزبانی کر سکے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: syed yousuf ali

Read More Articles by syed yousuf ali: 94 Articles with 49192 views »
I am a journalist having over three decades experience in the field.have been translated and written over 3000 articles, also translated more then 300.. View More
05 Jul, 2017 Views: 545

Comments

آپ کی رائے