صحابہ ء کرام ؓ کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

(Abdul Bari Shafique Salafi, Mumbai)

عبد الباری شفیق السلفی
استادجامعہ اسلامیہ ممبرا ،ممبئی الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ و السلام علی رسولہ الامین علی آلہ و صحبہ اجمعین ۔ امابعد ۔
اللہ رب العالمین نے اپنے اس مقدس سرزمین پر ہم انسانوں کو اشرف المخلو قات بناکر تمام مخلوقات سے بلند و بالا مقام و مرتبہ عطا فرمایا ۔ رب العزت نے ابن آدم کی تخلیق اس روئے زمین پر ایک خاص مقصد کے تحت کیا ہے ۔ کہ میرے بندے میرے بتائے ہوئے احکامات وفر امین کی پاسداری کریں اور منہیات و منکرات سے اجتناب کرتے ہوئے صرف اور صرف میرے ہی آگے اپنے جبین نیاز کو خم کریں ۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ ’’ وماخلقت الجن و الانس الا لیعبدون ‘‘ (الذاریات: ۵۶ ) تر جمہ :۔ میں نے انسانو ں او رجناتو ں کو صر ف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے ۔
دنیا کے تمام انسانو ں میںسب سے افضل و اشرف انبیاء کرام علیھم السلام ہیں ، اور نبیو ں میںسب سے مکرم و محترم خاتم النبین دو جہاں کے سردارجناب محمد مصطفیﷺہیںجن کو اللہ تعالیٰ نے انسا نوں کیلئے رحمت بناکر بھیجااور مبعوث کیا تھا ارشاد باری تعالیٰ ہے، {وماارسلناک الا رحمۃ للعا لمین } ( الانبیاء : ۱۰۷ ) اور دوسری جگہ فرمایاکہ ہم نے آپ کو بشیر ونذیر (ڈرانے والا اور خوش خبری دینے والا بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے ،ارشاد باری تعالیٰ ہے {وما ارسلناک الاکا فۃللناس بشیرا ونذیرا} ( السباء :۲۸)اس طرح انبیاء کرام کے بعد دنیا کے سب سے اشرف وافضل صحابہ کرام ؓ کی وہ نفو س قدسیہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے سیدالاولین و الاخرین کی صحبت کے لئے چن لیا تھا اور جن کے بارے میں اللہ کی یہ مشیت ہوئی کہ وہ نبی محترم ﷺ سے براہ راست فیض حاصل کریں اور نبی کریم ﷺ خو د انکا روحانی تزکیہ کریں ، اور خود انہیں قرآ ن حکیم اور سنت نبو یہ کی تعلیم دیں اسلئے انکے بارے میں دل میں بغض رکھنا سراسر باعث خسران ہے اور انکی شان میں گستاخی واجب حرمان ہے۔ جنہوںنے آپ ﷺ کے زیر سایہ رہ کرتعلیم و تربیت حاصل کی تھی ،انہی مقدس و پاکباز ہستیوں کا مختصر ذکر قرآن وحدیث کی روشنی میں کیا جارہاہے ۔ اللہ رب العا لمین نے مختلف مقا مات پراپنے مقدس و آخری کتاب قرآن مجید کے اندر انکا رتذکرہ کیا ہے ، ارشاد باری تعالی ٰ ہے کہ { والسابقون الاولون من المھاجرین و الا نصار والذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ و اعد لھم جنات تجری من تحتحاالا نھارخالدین فیھا ابدا ذالک الفو ز العظیم } ( التوبۃ: ۱۰۰ )۔ترجمہ:۔ اور جو مہاجرین وانصار سابق اور مقدم ہیں اور جتنے لوگ اخلاص کے ساتھ ان کے پیرو ہیں ، اللہ ان سب سے راضی ہو ا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لیئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہو ں گی جن میں ہمیشہ رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے ۔ مذکورہ آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے تین قسم کے لوگوں کی تعریف وتو صیف بیان کی ہے ۔ پہلے مہاجرین کا جنہو ں نے دین کے خاطر اللہ او راسکے رسول کے حکم پر مکہ اور دیگر علاقوں سے ہجرت کی اور اپنے اہل و عیال ،اعزہ و اقرباء ،دھن دولت غرضیکہ اپنا سب کچھ چھو ڑ چھاڑ کر مدینۃ الرسو ل ( مدینہ منو رہ ) چلے گئے ۔ دوسرے وہ انصار جو مدینہ منو رہ میں مقیم تھے ، انہو ں نے ہر وقت اور ہر مو قع پر نبی کریمﷺکی حفاظت اور مدد کی ، اور مدینہ آنے والے مہاجرین کی خوب پذیرائی ، تو اضع اور مہمان نوازی کی ۔ اور اپنا سب کچھ انکی خدمت میں پیش کر دیا ہے ،حتی کہ جن کے پاس دو بیو یاں تھیںان میں سے ایک کو طلاق دے دیا ۔ اور اسی طرح دوسری جگہ پر اللہ تعالیٰ نے نبی محترمﷺ کے سچے و جانثار ساتھیو ں کا تذکر ہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتاہے کہ {لقد رضی اللہ عن المو منین اذیبایعو نک تحت الشجرۃ ۔۔۔ }( الفتح : ۱۸) ترجمہ:۔ یقینا اللہ تعالیٰ مو منین سے خو ش ہو گیا جب وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کر رہے تھے ۔ مذکورہ آیت کریمہ ان
اصحاب بیعت رضوا ن کے لئے رضائے الہی ٰ اور ان کے سچے پکے مو من ہو نے کی سر ٹیفکٹ ہے جنہو ں نے حدیبیہ میں ایک درخت کے نیچے اس بات پر بیعت کی کہ وہ قریش مکہ سے لڑیںگے اور راہ فرار اختیار نہیںکریں گے ۔ ( تفسیر احسن البیان ۔ الفتح :۸، از صلاح الدین یو سف حفظہ اللہ )۔ اس کے علاوہ سو رۃتو بۃ میں اللہ رب العالمین ان کی عظمت و عدالت اور خصو صیات کو وا ضح کرتے ہو ئے بیان فرماتاہے کہ {لقد تاب اللہ علی النبی و المھاجرین و الانصار اتبعو ہ فی ساعۃ العسرۃ من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منھم ثم تاب علیھم انہ بھم رؤف رحیم } ( التو بۃ : ۱۱۷) ۔ترجمہ :۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے حال پر تو جہ فرمائی اور ،مہاجرین و انصار کے حال پر بھی جنہوں نے ایسے تنگ وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا ، اسکے بعد کہ ان میںسے ایک گروہ کے دلوں میں تزلزل ہو چلاتھا ، پھر اللہ نے ان کے حال پر تو جہ فرمائی ، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان سب پر بہت ہی شفیق و مہر بان ہے ۔ مذکو رہ آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے خاص طور پر ان مہا جرین و انصار کی تعریف کی ہے جنہو ں نے تنگی کے وقت نبی کریم ﷺ کا ساتھ دیا اور جہاد ’’جنگ تبو ک ‘‘ کے لئے اپنے مال و اسباب اور اہل و عیال اور پکی ہو ئی فصلوں ـ’’کھتیو ں ‘‘ کوچھو ڑ کرتبو ک کی طرف نکل گئے ، حالانکہ وہ وقت شدید گرمی کاتھا ، راستے میں پینے کے لئے پانی نہ کھانے کے لئے کھانا میسر تھا ، او رمجاہدین ’’ صحابہ کرام ‘‘ زیادہ تھے لیکن سوار ہو نے کے لئے سواریاں نہیں تھیں،لیکن اس خطر ناک او رتنگی کے عالم میں بھی آپ کے جانثار و سچے ساتھیوں نے آپ کا پیچھا اور ساتھ نہ چھو ڑا او ر ہر قسم کے مصائب وآلام اور پر یشانیو ں کو بخو شی بر داشت اور قبول کر لیا ۔
مذکو رہ تما م آیتو ں کے علاوہ اللہ رب العالمین نے سو رۃ النمل آیت نمبر ۵۹۔ سو رۃ الفتح آیت نمبر ۲۹۔ سو رہ الحشر آیت نمبر ۸۔۹، اور اسکے علاوہ اور بہت سارے مقامات پرصحابہ کرام رضو ان اللہ علیھم اجمعین کی تعر یف و توصیف بیا ن کی ہے اور انکی اہمیت و فضیلت کو وا ضح کیا ہے ۔ اور ہم مسلمانوں کے لئے ان کی پاکباز زندگیو ں میں اسو ہ اور عبر ت و مو عظت رکھاہے ۔تاکہ ہم ان کی ( صحابہ کرام ) کی مقدس و پاکباز زندگیوں سے نصیحت و عبر ت حاصل کریںاو ر ان کے نقش قدم پر چلنے کی کو شش کریں ۔
اسطرح اللہ تبارک و تعالیٰ کے علاوہ نبی کر یم ﷺ نے بھی اپنے سچے ، جانثار و جانباز اور شاگردان گر امی کے خصو صیا ت اور فضائل و مناقب کو بیان کیا ہے ۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن مسعو د ؓ سے رو ایت ہے کہ رسو ل اکرم ﷺ سے سو ال کیا گیا کہ کو ن سے لو گ سب سے بہتر ہیں ، تو آپ ﷺنے فر مایا کہ ’’ خیر الناس قر نی ، ثم الذین یلو نھم ، ثم الذین یلو نھم ۔۔۔۔۔۔۔‘‘( بخاری : ۲۶۵۲ ۔ مسلم۔ ۲۵۳۳) ترجمہ:۔ سب سے بہتر لو گ میر ی صدی کے لو گ ہیں ( یعنی صحابہ ) پھر جو ان کے بعد آیں گے (تابعین ) پھر جو ان کے بعد آیں گے ( تبع تابعین )۔ اور اسی طرح صحابہ کرام کو بُر ابھلا کہنا ااور گالی گلو چ دینا ، انکی سبُّ و شتم کرنا سب حرام قر ار دیتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ لا تسبوا اصحابی ، فو الذی نفسی بیدہ لو ان احدکم انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مدااحدھم ولا نصفہ ‘‘( بخاری: ۲۵۴۱، ۳۶۷۳، مسلم: ۲۵۴۰)۔ ترجمہ:۔ میرے صحابہ کو برا بھلا (گالی گلوچ )مت دواس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کو ئی شخص احد پہاڑ کے برابرسونا خرچ کرے توبھی وہ صحابہ ؓ کے ایک مد (سوا کلو)یا نصف مد کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اور دوسری جگہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ’’لاتذالون بخیر مادام فیکم من رانی وصاحبنی واللہ ۔لا تذالون بخیر ما دام فیکم من رای من رانی وصاحب من صا حبنی ،واللہ لا تذا لون بخیر مادام فیکم من رای من رای من رانی وصا حب من صا حبنی ( ابن ابی شیبہ فی المصنف وابن ابی عاصم فی السنہ؛ الصحیۃ للالبانی) ترجمہ:۔ تم سب اس وقت تک بخیر رہو گے جب تک تم میں وہ شخص رہیگا جس نے مجھے دیکھا ہو گا اور میری صحبت پائی ہو گی اللہ کی قسم تم سب اس وقت تک بخیر رہو گے جب تک تم میں وہ شخص ہوگا جس نے مجھے دیکھنے والے کو دیکھا ہو گا اور میری صحبت پا نے والے کی صحبت پا ئی ہو گی اللہ کی قسم تم سب اس وقت تک بخیر رہو گے جب تک تم میںوہ شحص مو جو د ہوگا جس نے مجھے دیکھنے والے کے دیکھنے کو دیکھا ہوگااور میری صحبت پانے والے کی صحبت پائی ہو گی۔ یہ وہ فضائل و مناقب ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کی ۔ جن کے متعلق نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ، اس کے علاوہ کتب حدیث میں ، اور بہت سی احادیث عظمت صحابہ و ہ فضائل صحابہ پر مو جود ہیں ۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح کہتے ہیں کہ ’’ صحابہ کرام کے فضائل اور انکی تعریف میں اور اسی طرح انکی صدی کی دوسری صدیو ں پرفضیلت کے بارے میں احادیث مشہو ر بلکہ متواتر درجہ کی ہیں لہذا انکی عیب گیری کرنا در اصل قرآن و سنت میں عیب جو ئی کرنا ہے ‘‘ ( مجمو ع الفتاوی : ۴۔ ۴۳۰)۔
ان تمام قرآنی آیات و احادیث مبارکہ جو عظمت صحابہ اور فضائل صحابہ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں ، اسکے باوجود آج بہت سارے نام نہاد مسلمان ان مقدس اور پاکباز ہستیوں کو اور خاص طور سے یار غار خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور خلیفہ ثانی حضرت عمر فارو ق ؓ کو نشانہ بنا کر ان کو بد نام کرنے اور ان کے ثقاہت و عظمت کو مجروح کرنے کی ناپاک کو ششیں کی جاتی ہیں اور انہیں غاصب وظالم جیسے ناپاک لقب سے ملقب کیا جاتا ہے ۔ ( نعو ذباللہ من ذالک ) ۔
حالا نکہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی فضیلت کے بارے میں بہت سی حدیثیں مروی ہیں ، جیسا کہ صحیح بخاری میں جبیر من مطعم ؓ سے مروی ہے کہ ایک عو رت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی تو آپ ﷺ نے اسے دو بار ہ آنے کا حکم دیا ، اس نے پو چھا کہ اگر میں آپ کو نہ پاؤ ں تو ؟ آپ ﷺ نے فر مایا کہ ’’ ان لم تجد نی فاتی ابابکر ‘‘ یعنی اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر ؓ کے پاس آنا ۔ ( بخاری : ۳۶۵۹)۔
مذکور ہ حدیث اس بات پر دال ہے کہ آپﷺ کے وفات کے بعد خلافت و امامت کے سب سے زیادہ حقدار حضرت ابو بکر ؓ ہیں ۔ لیکن ان تمام واضح دلائل و براہین کے باوجود بھی مسلمانوں کا ایک طبقہ ، گروہ اور فرقہ صحابہ کرامؓ جیسی پاکباز اور مقدس ہستیوں کو گالی گلو چ دیتاہے اور ان کی عیب جوئی کرتا ہے ، اور ان کے تعلق سے اپنے گنہگار سینوں اور دلو ں میں بغض و حسد اور کینہ کپٹ رکھتا ہے ۔جو شریعت اسلامیہ کے بالکل منافی اورمخالف ہے ، اس لئے ہم تمام مسلمانو ں پر واجب و ضرو ری ہے کہ ہم صحابہ کرام ؓ کے مقام و مرتبے کو پہچانیں ، اور انکے فضائل و مناقب کو دوسروں تک پہنچائیں ۔ اور ان کے اسو ہ حسنہ پر خلو ص و للہیت کے ساتھ عمل پیرا ہو کر اپنے اخروی زندگی کو کامیا ب و کامراں بنائیں ۔
رب العالمین سے دعا ہے کہ مولائے کریم ہمیں عظمت صحابہ کو پہچاننے اور عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ،اور صحابہ کرام ؓ سے سچی محبت کرنے اور ان کا ادب و احترام کرنے کی تو فیق عطا فر مائے ۔ آمین ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Bari Shafique Salafi

Read More Articles by Abdul Bari Shafique Salafi: 114 Articles with 68061 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Jul, 2017 Views: 2142

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ