زیادہ لعنت ملامت کرنا درست عمل نہیں ہے

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عورتوں کے گروہ صدقہ کرتی رہا کرو اور کثرت سے استغفار کرتی رہا کرو کیونکہ میں نے دوزخ والوں میں سے زیادہ تر عورتوں کو دیکھا ہے، ان عورتوں میں سے ایک عقلمند عورت نے عرض کیا کہ ہمارے کثرت سے دوزخ میں جانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعنت کثرت سے کرتی ہو اور اپنے خاوند کی نا شکری کرتی ہو میں نے تم عورتوں سے بڑھ کر عقل اور دین میں کمزور اور سمجھدار مردوں کی عقلوں پر غالب آنے والی نہیں دیکھیں، اس عقلمند عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عقل کی کمی تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے یہ عقل کے اعتبار سے کمی ہے اور دین کی کمی یہ ہے کہ ماہواری کے دنوں میں نہ تم نماز پڑھ سکتی ہو اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہو یہ دین میں کمی ہے۔
صحیح مسلم

ذرا سی بات پر کسی پر لعنت کرنا ایک عام سی بات بن گئی ہے،
لعنت کا مطلب ہے : الطرد من الرحمة.... ترجمہ : اللہ کی رحمت سے دوری!
خصوصاً فیس بک پر یہ بیماری عام ہے ، درج ذیل احادث کو پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ لعنت کرنا غلط کام ہے ،
سبق سیکھئے اور آئندہ کیلئے توبہ بھی ، اللہ مالک الملک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے . آمین

کسی پر بلاوجہ لعنت کی جائے تو :

سیدہ ام درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو وہ لعنت آسمان کی جانب پروان چڑھتی ہے اور آسمان کے دروازے اس پر بند کردئیے جاتے ہیں پھر وہ زمین کی جانب اترتی ہے تو اس کے لیے زمین کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں پھر دائیں بائیں جگہ پکڑتی ہے جب کہیں کوئی گھسنے کی جگہ نہیں ملتی تو جس پر لعنت کی گئی ہے اس کی طرف جاتی ہے اگر وہ اس لعنت کا حقدار ہو ورنہ کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۔

لعنت کرنا ایک مسلمان کے شایان شان نہیں :

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
راست باز (مومن) کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ زیادہ لعنت کرنے والا ہو۔
صحیح مسلم
ایک دوسرے پر لعنت نہ بھیجو :
سیدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
آپس میں ایک دوسرے پر اللہ کی لعنت، غضب اور دوزخ کی پھٹکار نہ بھیجو۔
اس باب میں سیدنا ابن عباس، سیدناابوہریرہ،سیدنا ابن عمر اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے بھی احادیث منقول ہیں یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
جامع ترمذی:جلد اول:حدیث نمبر 2062 نیکی و صلہ رحمی کا بیان : لعنت کا بیان

مومن پر لعنت کرنا اُسے قتل کرنے کےمترادف ہے:

سیدناثابت بن ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کسی آدمی پر ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری نہیں ہے جس کا وہ مالک نہ ہو اور مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے اور جس نے اپنے آپ کو دنیا میں کسی چیز سے قتل کر ڈالا قیامت کے دن وہ اسی سے عذاب دیا جائے گا اور جس نے اپنے مال میں زیادتی کی خاطر جھوٹا دعوی کیا تو اللہ تعالیٰ اس کا مال اور کم کر دے گا اور یہی حال اس آدمی کا ہوگا جو حاکم کے سامنے جھوٹی قسم کھائے گا۔
صحیح مسلم
کثرت سے لعنت کرنا جہنم میں داخلے کا سبب :
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے عورتوں کے گروہ صدقہ کرتی رہا کرو اور کثرت سے استغفار کرتی رہا کرو کیونکہ میں نے دوزخ والوں میں سے زیادہ تر عورتوں کو دیکھا ہے، ان عورتوں میں سے ایک عقلمند عورت نے عرض کیا کہ ہمارے کثرت سے دوزخ میں جانے کی وجہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم لعنت کثرت سے کرتی ہو اور اپنے خاوند کی نا شکری کرتی ہو میں نے تم عورتوں سے بڑھ کر عقل اور دین میں کمزور اور سمجھدار مردوں کی عقلوں پر غالب آنے والی نہیں دیکھیں، اس عقلمند عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عقل کی کمی تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے یہ عقل کے اعتبار سے کمی ہے اور دین کی کمی یہ ہے کہ ماہواری کے دنوں میں نہ تم نماز پڑھ سکتی ہو اور نہ ہی روزہ رکھ سکتی ہو یہ دین میں کمی ہے۔
صحیح مسلم
طاعات کی کمی سے ایمان میں کمی واقع ہونا اور ناشکری اور کفران نعمت پر کفر کے اطلاق کے بیان میں

سیدناعبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
طعن کرنے والا کسی پر لعنت بھیجنے والا، فحش گوئی کرنے والا اور بدتمیزی کرنے والا مومن نہیں ہے یہ حدیث حسن غریب ہے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی سے کئی سندوں سے منقول ہیں۔
جامع ترمذی
زیادہ لعنت کرنے والے :
سیدنازید بن اسلم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان رحمہ اللہ نے سیدہ ام درداءرضی اللہ عنہا کی طرف اپنی طرف سے کچھ آرائشی سامان بھیجا پھر جب ایک رات عبدالملک رحمہ اللہ اٹھا اور اس نے اپنے خادم کو بلایا تو اس نے آنے میں دیر کر دی تو عبدالملک نے اس پر لعنت کی پھر جب صبح ہوئی تو سیدہ ام درداءرضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ابوالدردا رضی اللہ عنہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زیادہ لعنت کرنے والے قیامت کے دن شفاعت کرنے والے نہیں ہوں گے اور نہ ہی گواہی دینے والے ہوں گے . . .
صحیح مسلم
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82676 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Jul, 2017 Views: 512

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ