عبدالوحید --- جمیل الدین عالی کے ایک شیدائی -- ہم میں نہ رہے

(Munir Bin Bashir, Karachi)
وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کا خمیر پاکستان سے محبت اور اور مستقبل میں قدم رکھنے والے بچوں کی بہبود کے جذبے سے تعمیر ہوا تھا - وہ بلا استثنا ہر بچے کے لئے ایک سائسدان ' ایک کامیاب انسان بننے کا خواب دیکھتے تھے

جناب عبدالوحید مرحوم کے آخری ایام کی ایک تصویر

ایک اچھا آدمی ------ ایک اچھی کتاب 'ایک بڑے جنرل ' ایک بڑے صنعت کار ' ایک بڑے موجد سے کسی طرح کم نہیں ہوتا - یہ بات جمیل الدین عالی نے اپنی کتاب دعا کر چلے میں لکھی ہے -

اور اب میں بات کرنا چاہتا ہوں جمیل الدین عالی کے ایک بہت بڑے شیدائی ‘ جناب عبدالوحید مرحوم کی جو جمیل الدین عالی کی تشریح کے عین مطابق ایک اچھی کتاب --ایک بڑے جنرل -- ایک بڑے صنعت کار - ایک بڑے موجد سے کسی طرح کم نہیں تھے -

ہاں میں پاکستان اسٹیل مل کے سابق اسسٹنٹ منیجر (اور طوارقی اسٹیل کے سابق ڈپٹی مینیجر ) جناب عبدالوحید مرحوم کی بات کر رہا ہوں - ان کا تذکرہ ضرور ہونا چاہئے کیونکہ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کا خمیر پاکستان سے محبت اور اور مستقبل میں قدم رکھنے والے بچوں کی بہبود کے جذبے سے تعمیر ہوا تھا - وہ بلا استثنا ہر بچے کے لئے ایک سائسدان ' ایک کامیاب انسان بننے کا خواب دیکھتے تھے اور اس کے لئے کوشش بھی کیا کرتے تھے - وہ ابھی رمضان کے مبارک مہینے میں 18 جون 2017 کو نہایت خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دو تین دہائی قبل جناب جمیل الدین عالی روزنامہ جنگ میں چھپنے والے کالموں میں ملک کے مستقبل کے بارے میں طرح طرح کے منصوبے بناتے تھے - وہ لوگوں کو بھی تلقین کرتے کہ مستقبلیات یعنی فیوچرولوجی کے عنوان سے کام کریں -اس پر سوچ و بچار کریں اور کچھ عمل بھی کریں -

جمیل الدین عالی کے ان پند و نصائح پر کسی نے عملی توجہ دی یا نہیں - یا دی تو کتنی دی اس کے بارے میں جمیل الدین عالی نے زیادہ نہیں لکھا لیکن مجھے اتنا علم ہے کہ مرحوم عبدالوحید صاحب نے انہیں گرہ میں باندھ لیا تھا اور اپنی محدود آمدنی میں جو بھی بس میں تھا اپنی سمجھ کے لحاظ سے کام کرتے رہتے تھے - اسی سلسلے میں مرحوم عبدالوحید صاحب نے بچوں کو سائنس سے رغبت دلانے کے لئے ایک
پروگرام کا آغاز کیا تھا - اس مقصد کے کی تکمیل کی خاطر وہ پندرہ روزہ میٹنگ کا اہتمام کرتے تھے اور بچوں کو اس زمانے میں چھپنے والے اردو کے سائنس میگزین مفت فراہم کرتے تھے - بچوں کو کہتے کہ اپنے طور پر بھی کچھ بنا کر لایا کریں -

اسی طرح کی ایک میٹنگ انہوں نے میرے گھر میں کی تو اسمیں ایک بچہ کرین بنا کر لایا تھا جو گتے کے ڈبے کی مدد سے بنائی گئی تھی - اس میں خالی بوتلوں کے ڈھکنوں سے پہئیے بنائے گئے تھے اور دھاگے کی نلکیوں کی مدد سے چرخیاں بنائی گئی تھیں - بچے نے کہا میں بنانےتو کچھ اور گیا تھا لیکن بن یہ گئی ہے -
مرحوم عبدالوحید کے چہرے پر تبسم سا آیا اور بعد میں وہ ہلکی سی ہنسی میں تبدیل ہو گیا - ہنستے ہوئے بولے -- یہی تو میں چاہتا ہوں -بیٹا یہ اتفاقات ہی ہیں جنہوں نے دنیا میں بڑی ایجادات کو جنم دیا - پھر اس سلسلے میں انہوں نے کئی ایجادات کے نام گنوائے تھے -

ہمارے یہاں جواہرات ' انسانوں کی صورت میں بکھرے ہوئے ہیں ، انہیں پرکھنے والا کوئی نہیں - جناب عبدالوحید بھی ایسا ایک جوہر تھے - لیکن وہ اپنے لئے ستائشی و توصیفی کلمات کی کوئی آرزو نہیں رکھتے تھے - کوئی پرکھے نہ پرکھے ، کوئی سراہے نہ سراہے وہ اپنے حصے کا کام کئے گئے - اس سلسلے میں جناب جمیل الدین عالی کے کالموں نے مہمیز کا کام کیا - انہوں نے آگے بڑھ کر اپنے طور پر ایک لائبریری کھول لی جسمیں مختلف اقسام کے سائنسی و دینی علوم رسائل رکھے - ان کا لوگوں کو کتب بینی کی طرف راغب کرنے کا انداز بھی منفرد تھا - اسٹیل مل میں چھٹی ہوتی وہ گلشن حدید اور اسٹیل ٹاون کی مختلف بسوں میں سوار ہو جاتے - مختلف رسائل وغیرہ ان کے ہاتھ میں ہوتے - وہ اعلان کرتے ' محترم ساتھیو میرے پاس کچھ رسائل وغیرہ ہیں - آپ کو دے رہا ہوں پڑھ کر واپس کر دیجئے - اگر پسند آئیں تو میرے گھر آکر میری لائبریری سے بلا کسی کرائے اور بلا کسی جھجک کے حاصل کر لیں - اس وقت ان کے لہجے کی پختگی ، آواز میں اعتماد اور آنکھوں میں استقلال دیکھ کر کسی کو مذاق کر نے کی ہمت نہیں پڑتی تھی -

پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جو ہمیں سبق سکھانے کا پہلو رکھتا ہے - اور پاکستانی قوم کو اس پہلو پر توجہ دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جناب عبدالوحید کو منتخب کیا -

اِنَّااللہَ علیمُُ خبیر
(بے شک اللہ ہی علم والا اور باخبر ہے ) القران سورہ الحجرات

واقعہ کچھ ایسا تھا

جمیل الدین عالی نے اپنے ایک کالم میں لکھا کہ میں دیکھ رہا ہوں لوگ میری باتوں کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں - ایسا لکھنے سے کیا حاصل جب کچھ فائدہ ہی نہیں ہو رہا ہو - میں سمجھتا ہوں ان حالات میں کالم لکھنے لکھنے کا بکھیڑا چھوڑ ہی دوں - بس یہ میرا آخری کالم ہی سمجھئے

میں نے یہ کالم پڑھا تو چونک پڑا اور سوچ میں پڑ گیا - میری طرح اور بھی کئی لوگ سوچ میں پڑ گئے ہوں گے - سوچنے والے بہت ہیں کام کر نے والے کم - میرے دل میں خیال آیا کہ کوئی فون کرے نہ کرے یہ وحید صاحب ضرور جناب جمیل الدین عالی کو فون کریں گے - میں جمیل الدین عالی کے لئے ان کی چاہت سے خوب واقف تھا
خیر جمیل الدین عالی مرحوم نے پھر شاید اگلے ہفتے کالم لکھا بھی نہیں --- اس سے اگلے ہفتے ان کا کالم آیا - انہوں نے لکھا کہ میں نے کہا تھا کہ میں کالم نہیں لکھوں گا لیکن کسی نے اس بات کا کوئی اثر ہی نہیں لیا - کہیں کسی کو بھی بے چینی نہیں ہوئی - روزنامہ جنگ کئی شہروں سے چھپتا ہے کہیں کسی نے کچھ محسوس ہی نہیں کیا - علمی و ادبی حلقوں میں بھی کوئی صدا نہیں اٹھی - بے حسی کی ساکت جھیل میں کسی نے کنکر پھینک کر ارتعاش پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی -صرف ایک صاحب ہیں -- اور وہ ہیں جناب عبدالوحید - انہوں نے مجھے فون کیا - یہ اسٹیل مل میں جونیئر آفیسر ہیں - ان کی کیفیت عجیب سی ہو گئی تھی - انکا لہجہ رونے والا تھا - وہ بار بار کہہ رہے تھے کہ خدا کے لئے کالم لکھنا بند نہ کریں -

معروف خاتون سیاست دان سید عابدہ حسن اپنی خود نوشت "پاور فیلئر " میں لکھتی ہیں شاید زندگی چند اچھی اور کڑوی یادوں کا مجموعہ ہے - کبھی ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو ہمیں یہ ضرور محسوس ہو کہ ہم نے زندگی بامعنی انداز سے گزاری ہے - اور ہم نے مادر وطن کے لئے کچھ نہ کچھ کیا ہے - ہم نے لوگوں کے غم بانٹے ہیں - جب زندگی اختتام پذیر ہو اور بڑھاپا انسان کو آگھیرے تو سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان کے ساتھ پچھتاوے کم اور اطمینان زیادہ ہو - روحانیت اور طمانیت کا مجموعی احساس
میں عبدالوحید مرحوم کی زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو محسوس ہو تا ہے کہ انہوں نے اپنی حد تک نامساعد معاشی حالات کے باوجود زندگی کو بامعنی انداز سے گزارنے کی کوششیں جاری رکھی تھیں -

میں سمجھتا ہوں کہ ان سے مستفید ہونے والے بچوں نے جو کچھ سیکھا ہے وہ کسی نہ کسی رنگ میں - کسی نہ کسی روپ میں - کسی نہ کسی انداز میں ان کی بعد کی عملی زندگی میں ضرور منفعت بخش ثابت ہو رہی ہو گی - یہ الگ بات ہے کہ وہ محسوس نہ کر سکیں - میں ان سے یہی کہہ سکتا ہوں کہ ان کے اس مشن کو جاری رکھیں چاہے بہت ہی ہلکے انداز میں کیوں نہ ہو - ہم نے ثابت کرنا ہے کہ ہمارے یہاں قحط الرجال ہر گز نہیں -

جہاں میں اہل ایمان خورشید جیتے ہین -
ادھر ڈوبے ادھر نکلے - ادھر ڈوبے ادھر نکلے

عمر کے آخری حصے میں جب مرض ان کے گرد کھرا تنگ کرتا جارہا تھا اور تکلیف کی شدت میں اضافہ ہو تا جا رہا تھا - ضعف و علالت کے باعث بیٹھنے میں دشواری محسوس کرتے تھے - اس حالت میں بھی سورہ الانبیاء کی آیت دہراتے رہتے کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ہم تم کو اچھی حالت اور بری حالت سے آزماتے ہیں - اور تم سب بالآخر میری طرف لوٹائے جاؤ گے -

آج میں ان کے بغیر اکیلا بیٹھا ہوں - میں بھول جانا چاہتا ہوں کہ زندگی کی دوڑ میں دولت ، شہرت اور وقتی کامیابی کس کس کے حصے میں آئی اور یہ یاد رکھنا چاہتا ہوں کہ سماج کے سدھار میں کس نے کتنا حصہ لیا - اور عبدالوحید مرحوم اس فہرست میں نظر آتے ہیں -

اللہ تعالیٰ کے حضور میں دست بدعا ہوں کہ اے اللہ ان کے آخری ایام کی مشکلات کو اپنے رحم و کرم سے ان کی مغفرت کا وسیلہ بنادے اور لواحقین کو صبر کی طاقت دے - آمین -

ان کے بچوں کی بھی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کہ آخری دم تک اپنے مرحوم باپ کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1213 Print Article Print
About the Author: Munir Bin Bashir

Read More Articles by Munir Bin Bashir: 102 Articles with 139072 views »
B.Sc. Mechanical Engineering (UET Lahore).. View More

Reviews & Comments

Language: