مسائل حج

(manhaj-as-salaf, Peshawar)

فضیلۃ الشیخ محدث غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ

سوال : کیا حج ارکانِ اسلام میں سے ہے؟
جواب : جی ہاں!

سوال : حج کی شرائط کیا ہیں؟
جواب : پانچ شرطیں ہیں: مسلم، عاقل، بالغ، آزاد اور صاحبِ استطاعت ہو۔

سوال : غلام پر حج فرض ہے؟
جواب : اجماع ہے کہ غلام پر حج فرض نہیں، کیونکہ اس کا مال اس کے آقا کا مال ہوتا ہے،البتہ وہ حج کر لے تو ادا ہو جائے گا، خواہ مالک کی اجازت سے کرے یا اجازت کے بغیر ۔

سوال : حج پر جانے کا ارادہ تھا، خاوند فوت ہو گیا، عدت میں ہے کیا کرے؟
جواب : عدت پوری کرے، آئندہ سال حج کر لے۔

سوال : صاحبِ استطاعت سے کیامراد ہے؟
جواب : جس کے پاس زادِ راہ ہو، سواری کا انتظام ہو، صحت مند ہو،راستے میں کسی قسم کے خوف و خطرہ سے محفوظ ہو۔

سوال : محر م کے بغیر سفرِ حج کیا تو کیا حج ادا ہو جائے گا؟
جواب : حج ادا ہو جائے گا، البتہ محرم کے بغیر سفر کرنے کا گناہ ہو گا۔

سوال : محرم کون ہے؟
جواب : محرم ، خاوند یا وہ رشتہ دار جو نسب کی وجہ سے ابدی حرام ہے، جیسے باپ ، دادا، نانا، بیٹے، پوتے، نواسے، سگا بھائی، سوتیلا بھائی خواہ باپ کی طرف سے ہو یا ماںکی طرف سے،بھتیجے، بھانجے،چچے اور ماموں یا ازدواجی رشتہ دارجیسے سسر،داماد،ماں کا خاوند بشرطیکہ اس نے اس کی ماں سے خلوت اختیار کی ہو،اگر خلوت سے پہلے طلاق دے دی ہو تو وہ محرم رشتہ داروں میں سے نہیں ہے،خاوند کے بیٹے وغیرہ۔
نوٹ: جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں، وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہیں۔

سوال : محرم کے لیے کیا شرائط ہیں؟
جواب : بالغ، عاقل اور امانت دار ہو، نابالغ بچہ محرم نہیں بن سکتا۔

سوال : اگر شوہر نفلی حج سے روک دے تو کیا کرے؟
جواب : رُک جائے، فرض حج میں بھی خاوند سے اجازت طلب کرنا مستحب ہے ، اجازت مل جائے تو ٹھیک ، ورنہ اجازت ضروری نہیں۔

سوال : کیا بچہ حج کر سکتا ہے؟
جواب : بچے پر حج فرض نہیں، کر لے تو درست اور صحیح ہے، والدین کو اجر و ثواب ملے گا،اگر بالغ ہونے کے بعد حج فرض ہو گیا تو حج کرے گا۔

سوال : بچہ احرام باندھے گا؟
جواب : سمجھ دار ہے تو احرام باندھے، سمجھ دار نہیں تو اس کی طرف سے ولی احرام باندھے گا،اگر کنکریاں نہیں مار سکتا تو اس کی طرف سے ولی کنکریاں مارے گا۔

سوال : معذور پر حج ہے؟
جواب : جو آنکھوں یا ہاتھ پاؤں سے معذور ہو ،اگر معاون مل جائے تو حج لازم ہے، اجرت پر بھی معاون کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔

سوال : قدرت رکھنے کے باوجود اپنی جگہ کسی او ر کو حج کے لئے بھیج سکتا ہے؟
جواب : بالکل بھی نہیں!

سوال : سخت بوڑھا اور دائمی مریض ہے تو کیا اپنی جگہ کسی او ر کوحج کروا سکتا ہے؟
جواب : جس نے اپنا حج کر رکھا ہو،اسے بھیج دے۔

سوال : مرد عورت کو اور عورت مرد کو اپنی طرف سے حج کے لیے بھیج سکتے ہیں؟
جواب : جی ہاں! بھیج سکتے ہیں۔

سوال : میت کی طرف سے حج کیا سکتاہے؟
جواب : نہیں ،البتہ میت نے عمرہ یا حج کی نذر مانی ہو، پوری کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گیا تو اس کی طرف سے ولی نذر پوری کرے گا۔

سوال : میقات سے پہلے احرام باندھا جا سکتا ہے؟
جواب : میقات سے پہلے بھی احرام باندھا جا سکتا ہے، افضل یہ ہے کہ میقات پر احرام باندھا جائے۔

سوال : ایک آفاقی آدمی(جو مکہ مکرمہ کا رہائشی نہ ہو) حج یا عمرہ کی نیت سے آیا اور میقات سے احرام نہ باندھا تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب : سخت گنہ گاہ ہے، ایسا کرنا حرام ہے۔

سوال : بغیر احرام باندھے میقات سے آگے گزر گیا تو کیا کرے ؟
جواب : جان بوجھ کر یابھول کر ایسا ہو گیا تو میقات پر آ کر احرام باندھے گا، اس پر دَم ہے،اگر بغیر احرام باندھے میقات سے گزر گیا،اب اندیشہ ہے کہ میقات پہ جائے گا تو قافلے سے بچھڑ جائے گا، یا حج فوت کر دے گا، تو وہیں سے احرام باندھ لے، گناہ گار ہے اور دم لازم ہے۔

سوال : حائضہ تھی، میقات پر اس نے عمرہ کا احرام نہیں باندھا،مکہ مکرمہ پہنچ گئی تو کیا کرے گی؟
جواب : میقات پر جاکر احرام باندھے ،اس پر دَم ہے۔

سوال : مکہ کا رہائشی ہے، عمرہ کرنا چاہتا ہے تو کیا کرے گا؟
جواب : کسی میقات مثلاً: تنعیم وغیرہ پر جا کر احرام باندھ کر عمرہ ادا کر لے۔

سوال : مکہ مکرمہ کا رہائشی ہے ،حرم کی حدود میں عمرہ کے لیے احرام باندھ لیا تو کیا کرے؟
جواب : احرام صحیح ہے، اسی احرام میں حرم کی حدود سے نکل کر کسی میقات پر چلا جائے،پھر مکہ آکر عمرہ کر لے، اس پر دَم لازم ہے۔

سوال : عمرہ واجب ہے؟
جواب : ہاں! صاحبِ استطاعت پر زندگی میں ایک بار عمرہ واجب ہے۔

سوال : حج و عمرہ کے لیے احرام ضروری ہے؟
جواب : جی ہاں! احرام حج و عمرہ کا رُکن ہے، اس کے بغیر حج و عمرہ نہیں۔

سوال : عورت کے لیے احرام کا کیا مسئلہ ہے؟
جواب : جو لباس زیب اُس نے زیب تن کر رکھا ہے، وہی اُس کا احرام ہے،البتہ نقاب نہ کرے،نہ ہی دستانے پہنے۔

سوال : حج تمتع کسے کہتے ہیں؟
جواب : حج کے مہینوں میں عمرہ کی نیت سے احرام باندھے، عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھول دے، مکہ کے اندر ہی رہے ، کسی دوسرے شہر نہ جائے، پھر آٹھ ذی الحجہ کو اپنی رہائش سے حج کی نیت سے احرام باندھے اور مناسکِ حج اداکرنے کے بعد احرام کھول دے، اس پر ہدی ہے،حجِ تمتع کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اگر کوئی حج کی نیت سے احرام باندھ لیتا ہے، مکہ میں داخل ہو کر حج کی نیت توڑ کر عمرہ کی نیت کر لیتا ہے،عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھول دے، پھر آٹھویں ذوالحجہ کو حج کی نیت سے احرام باندھ لے ، حج کے بعد احرام کھول دے، یہ اس کے لیے حکم ہے جو اپنے ساتھ ہدی نہ لایا ہو۔
حجِ تمتع کے لیے آٹھ شرطیں ہیں:
١۔ حج و عمرہ کو جمع کرے۔ ٢۔ ایک ہی سفر میں حج و عمرہ ہو۔
٣۔ ایک ہی سال میں دونوں ادا ہوں۔
٤۔ دونوں حج کے مہینوں میں ادا ہوں
٥۔ پہلے عمرہ کرنا
٦۔ حج و عمرہ کو گڈ مڈ نہ کرے،عمرہ کے بعد احرام کھول دے، پھر آٹھویں ذوالحجہ کو حج کی نیت سے احرام باندھے لے۔
٧۔ حج و عمرہ ایک ہی آدمی کی طرف سے ہو۔
٨ آفاقی ہو (مکہ کا رہائشی نہ ہو)۔

سوال : حج قران کسے کہتے ہیں؟
جواب : وہ حج جس میں حج وعمرہ کے لئے اکٹھا احرام باندھا جائے،عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد احرام نہ کھولے،عمرہ کے افعال حج کے افعال میں داخل کر سکتا ہے، حج و عمرہ کے لیے ایک طواف اور ایک سعی کافی ہے۔
نوٹ: یاد رہے یہ حج اس صورت میں ہو گا، جب حاجی قربانی کا جانور اپنے ساتھ لے کر جائے۔

سوال : حج افرادکسے کہتے ہیں؟
جواب : حج افراد جس میں صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جائے،اس میں ہدی لازم نہیں۔
اس کی چند صورتیں ہیں:
١۔ صرف حج کی نیت سے احرام باندھے
٢۔ پہلے حج کی نیت سے احرام باندھے، حج سے فارغ ہونے کے بعد عمرہ کر لے۔
٣۔ حج سے مہینوں پہلے رمضان وغیرہ میں عمرہ کر لے،عمرہ ادا کرنے کے بعد احرام کھول دے، اپنے ملک میں چلا جائے، یا کم از کم کسی میقات پر چلا جائے ، دوبارہ حج کی نیت سے سفر کرے۔

سوال : تلبیہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب : احرام باندھنے کے بعد سے لے کر عقبہ جمرہ کو کنکریاں مارنے تک بآواز بلند کثرت سے تلبیہ پکارنا مستحب ہے،اس کے لئے باوضو ہونا شرط نہیں،جنبی انسان، حائض و نفاس والی عورت بھی تلبیہ پکارسکتی ہے، لیکن آواز کو بلند نہ کرے،کھڑا ہو، بیٹھا ہو، لیٹا ہو، سواری پر ہو، بہر حال تلبیہ پکار سکتا ہے۔

سوال : حالتِ احرام میں جماع کر لیا تو کیا کرے؟
جواب : حالتِ احرام میں جماع کرنا حرام ہے، اس سے میاں بیوی دونوں کا حج فاسد ہو جائے گا، آئندہ سال دوبارہ حج کی نیت سے سفرکریں،ان میں سے ہر ایک پر اونٹ ہے۔

سوال : دوران حج بیوی سے ملاعبت اور مباشرت کرتے ہوئے منی خارج ہو گئی تو حج کا کیا حکم ہے؟
جواب : حج درست ہے، اس پر ایک بکری فدیہ ہے۔

سوال : بیوی کو شہوت کے ساتھ بوسہ دیا تو کیا حکم ہے؟
جواب : حج فاسد نہیں ہوتا، ایک بکری فدیہ ہے۔

سوال : دورانِ حج بھول کر یا غلطی سے بیوی سے مجامعت کر لی تو کیا حکم ہے؟
جواب : بھول چوک معاف ہے، حج فاسد نہیں ہے۔

سوال : حالتِ احرام میں نکاح ہو سکتا ہے؟
جواب : حالتِ احرام میں نکاح کرنا اور کروانا یعنی ولی یا وکیل ممنوع و حرام ہے، نکاح باطل ہے۔

سوال : احرام میں ممنوع اُمور کیا ہیں؟
جواب : ١۔ جماع کرنا، اس سے حج فاسد ہو جاتا ہے۔
٢ سِلے ہوئے کپڑے پہننا،اگرایسے کپڑے پہن لیے تواس پر فدیہ ہے گناہ نہیں، اگرچادر نہ ہونے کی صورت میں شلوار پہن لے تو گنہگار نہیں، نہ ہی اس پر فدیہ ہے ۔
٣۔ مرد کا سر ڈھانپنا
٤۔ عورت کا نقاب کرنا،اسی طرح دستانے پہننا بھی ممنوع ہے۔
٥۔ بال کٹوانا یا منڈوانا، اگر کسی بیماری کی وجہ سر منڈوا لیا تو گنہ گار نہیں، البتہ فدیہ ہے،آنکھ میں بال چلا گیا تو نکالنے میں حرج نہیں۔
٦ ناخن تراشنا،البتہ ٹوٹا ہوا ناخن کاٹ دے تو کوئی حرج نہیں،نہ ہی فدیہ ہے۔
٧۔ خوشبو لگانا
٨۔ سر کے بالوں یا ڈاڑھی کو تیل لگانا،اس میں گناہ اور فدیہ نہیں ہے۔
٩۔ نکاح کرنا یا کروانا،اس میں گناہ ہے، فدیہ نہیں۔
١٠۔ خشکی کا شکار کھیلنا،البتہ شکاری جانور حملہ آور ہو جائے تو دفاعاً اسے قتل کیا جاسکتا ہے ، اس پر گناہ اور فدیہ نہیں۔
١١۔ بیوی سے ملاعبت اور مباشرت کرنا۔
١٢۔ فسق و فجور اور لڑائی جھگڑے میں شریک ہونا اور جماع سے متعلق باتیں کرنا ممنوع ہے،ان میں گناہ ہے، فدیہ نہیں۔

سوال : اگر دشمن کے محاصرہ میں آ جائے تو کیاکرے؟
جواب : ١۔ حج کا احرام باندھ رکھا ہے ، تو دشمن کے روکنے پر احرام کھول دے گا،اس پر دَم یعنی ایک بکری ہے۔
٢۔ اسی طرح عمرہ کا احرام باندھاہے ، تو دشمن کے روکنے نے پر کھول دے گا۔
٣۔ اگر دشمن وقوفِ عرفہ سے پہلے یا بعد میں روکے یا صرف کعبہ سے روک لے، یا صرف عرفات سے روک لے یا دونوں سے یا جہاں کہیں بھی روک لے خواہ حرم کے اندر یا باہر تو احرام کھولنا جائز ہے،ہدی ذبح کر دے۔
٤۔ دشمن کے روکنےپراحرام کھول دیا تو حج کی فرضیت باقی رہے گی،البتہ نفلی حج کی قضا واجب نہیں۔

سوال : سر کے بال منڈوانے یا ناخن تراشنے یاخوشبو لگانے یاسِلے ہوئے کپڑے پہننے یا سر ڈھاپننے کی صورت میں کیا فدیہ ہے؟
جواب : اس پر فدیہ ہے:
١۔ تین روزے رکھے۔ ٢ یا چھ مساکین کو کھانا کھلائے
٣۔ یا ایک بکری ذبح کرے۔

سوال : دورانِ حج بغیر شہوت کے بوسہ لے لیا یا بیوی کو چھو لیا تو کیافدیہ ہے؟
جواب : جی نہیں!

سوال : حاجی کے لیے عرفات میں جانا ضروری ہے؟
جواب : یہ حج کا رُکن ہے،اگر یوم نحر دسویں ذوالحجہ کی فجر طلوع ہو جائے، وہ عرفات میں نہ جا سکا ہو تو اس کا حج فوت ہو گیا ہے،اس پر قضا واجب ہے، خواہ عذر کی وجہ سے ایسا کیا یا بغیر عذر کے ہو گیا۔

سوال : حجِ تمتع اور حج قران میں منیٰ میں ہدی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو کیا کرے؟
جواب : دس روزے رکھے ، تین حج کے دنوں میں اور سات واپس آ کر ،اگر یوم نحر سے پہلے تین روزے نہ رکھ سکا تو ایام تشریق ١١، ١٢ ، ١٣ ذوالحجہ کو رکھ لے ۔

سوال : ہدی کہاں کرے گا؟
جواب : قربانی کا محل حرم ہے، افضل یہ ہے کہ حاجی منیٰ میں قربانی کا جانور ذبح کرے۔

سوال : احرام میں کون سے اُمور مباح ہیں؟
جواب : ١۔ جسم میں خارش کرنا اور سر کو کھجلانا وغیرہ
٢۔ چھتری یا خیمے سے سایہ حاصل کرنا
٣۔ بوقتِ ضرورت سینگی لگوانا، اگر سینگی لگواتے وقت بال کاٹ یا اُکھاڑ دیئے تو فدیہ ہے۔
٤۔ احرام کی چادریں تبدیل کرنا یا اُتار کر دھونا
٥۔ پیٹی اور کمر بند کا استعمال کرنا
٦۔ حالتِ احرام میں پانچ جانوروں کوقتل کرنا مباح ہے:
چیل، کوا، بچھو، چوہا اورباولاکتا
٧۔ سمندری شکار کرنا، نیز اونٹ ، گائے اور مرغی وغیرہ ذبح کرنا جائز ہے۔
٨۔ بوقت ضرورت دشمن سے لڑنے کے لیے اپنے پاس اسلحہ رکھنا۔
٩۔ سُرمہ لگانا، بشرطیکہ خوشبودار نہ ہو۔
١٠۔ عورت کے لیے ہر قسم کے ملبوسات، زیورات کا استعمال جائز ہے۔
١١۔ غسل کرنا، سر وغیرہ دھونا

سوال : ارکانِ حج کتنے ہیں؟
جواب : چار ہیں:
١۔ احرام ٢۔ عرفات میں رُکنا
٣۔ طوافِ افاضہ ٤۔ صفا و مروہ کی سعی

سوال : واجباتِ حج کتنے ہیں؟
جواب : پانچ ہیں:
١۔ میقات سے احرام باندھنا ٢۔ مزدلفہ میں رات گزارنا
٣۔ کنکریاں مارنا
٤ منیٰ میں راتیں گزارنا
٥۔ طوافِ وداع

سوال : رُکن اور واجب میں کیا فرق ہے؟
جواب : رُکن کے فوت ہونے سے حج فاسد اور باطل ہو جاتا ہے، واجب کو چھوڑنے سے دَم لازم آتا ہے، البتہ حج صحیح ہوتا ہے۔

سوال : طواف کی کتنی انواع ہیں؟
جواب : تین ہیں:
١۔طوافِ قدوم ٢۔طوافِ افاضہ ٣۔طوافِ وداع
سوال : طواف کی تینوں انواع کا کیا حکم ہے؟
جواب : طوافِ قدوم سنت ہے، حجِ تمتع کرنے والا جب عمرہ کاطواف کر ے گا تو یہ حج کے لیے طوافِ قدوم سے کفایت کر جائے گا،اہل مکہ پر طوافِ قدوم نہیں ہے۔
طوافِ افاضہ باتفاق اہل علم حج کا رُکن ہے،اس کے بغیر حج فاسد ہو جاتا ہے، اس کا افضل وقت سر منڈوانے کے بعد ہے، یوم نحر کی آدھی رات کے بعد یہ کیا جا سکتا ہے، رہ جائے توایام تشریق میں بھی کیا جا سکتا ہے۔
طوافِ وداع واجب ہے، اس کے چھوڑنے پر دَم ہے،البتہ حائضہ کو رُخصت ہے، وہ بغیر طوافِ وداع کے کوچ کر سکتی ہے۔

سوال : طوافِ کعبہ کے کتنے چکر ہیں؟
جواب : طواف کی نیت سے کعبہ کے سات چکر لگائے جائیں ، حجرِ اسود سے شروع ہو کر واپس اسی جگہ پر ایک چکر مکمل ہوتا ہے،عذر کی وجہ سے سواری یا ویل چیئر کا استعمال جائز ہے، نماز کا وقت ہو جائے تو طواف روک کر با جماعت نماز ادا کرے، نماز پڑھنے کے بعد اسی جگہ سے طواف شروع کر دے،اسی طرح نماز جنازہ کے لیے بھی طواف روکا جا سکتا ہے، تھک جائے تو بیٹھ کر سستا لے، کچھ کھا پی بھی سکتا ہے،طواف میں وضو شرط نہیں ، طواف کے بعد مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت ادا کرنا سنت ہے، اگر وہاں ممکن نہ ہو تو مسجد حرام میں کہیں بھی یہ نماز پڑھ لے، یہ نماز ممنوع اوقات میں بھی ادا کی جا سکتی ہے، پہلی رکعت میں سورۃالکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھی جائے۔

سوال : رُکن یمانی کو بوسہ دینا چاہیے؟
جواب : جائز نہیں!ہاتھ سے چھوا جا سکتا ہے۔

سوال : نفلی طواف جائز ہے؟
جواب : جائزہے۔

سوال : صفا و مروی کی سعی کا کیا حکم ہے؟
جواب : حج کا رُکن ہے، اس کے بغیر حج نہیں۔

سوال : طواف سے پہلے صفا و مروہ کی سعی کرنا جائز ہے؟
جواب : بالکل جائز نہیں!

سوال : صفا و مروہ کے کتنے چکر ہیں؟
جواب : سات ، صفا سے لے کر مروہ تک ایک چکر مکمل ہوتا ہے،مروہ سے لے کر صفا تک دوسرا چکر مکمل ہو جاتا ہے،دو سبز نشانوں کے درمیان تیز تیز چلنا ہو گا، عورتیں عام چال چلیں، نفلی طواف کے بعد صفا و مروہ کی سعی نہیں،صفا و مروہ کی سعی میں وضوشرط نہیں، بے وضو، جنبی اور حائض و نفاس والی عورت بھی سعی کر سکتی ہے۔

سوال : دسویں ذوالحجہ کو کو ن سے اعمال کیے جاتے ہیں؟
جواب : چار اعمال ہیں:
١۔ اس دن کا سب سے پہلا عمل جمرئہ عقبہ کو کنکریاں مارنا ہے،یہ واجب ہے، اس کا افضل وقت طلوعِ آفتاب کے بعد سے لے کر زوال تک ہے۔
٢۔ ہدی (قربانی)کرنا
٣۔ سرکے بال منڈوانا یاکٹوانا،اس کے بعد حاجی پر عورت کے علاوہ حج کے منافی ہر چیز حلال ہو جاتی ہے، خوشبو کا استعمال بھی کر سکتا ہے۔
٤۔ طوافِ افاضہ

سوال : رمل کیا ہے؟
جواب : طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میںکندھے اکڑا کر تیز تیز اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھا کرچلنا ''رمل'' ہے،، یہ سنت نبوی ہے۔

سوال : اضطباع کیا ہے؟
جواب : طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں احرام کی چادر دائیں کندھے کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا ''اضطباع'' کہلاتا ہے، یہ جائز اور سنت ہے۔

سوال : عرفات میں حاجی یوم ''عرفہ'' کا روزہ رکھ سکتا ہے؟
جواب : نہیں!البتہ حاجیوں کے علاوہ دوسرے رکھ سکتے ہیں،اس کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔

سوال : کیا ایک سفر میں ایک سے زائد عمرے کرسکتا ہے؟
جواب : کرسکتا ہے۔حر م سے باہر چلا جائے، کسی بھی میقات سے احرام باندھ لے، تنعیم سے بھی باند ھ سکتا ہے۔
(ماخوذ : مختصر فتاوی امن پور)
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: manhaj-as-salaf

Read More Articles by manhaj-as-salaf: 287 Articles with 222338 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Aug, 2017 Views: 1719

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ