خواتین کے لئے مفید ادبی شہ پارے

(Dr Shaikh Wali Khan Almuzaffar, Karachi)

ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور کہا کہ پیر صاحب مجھے کوئی ایسی تعویذ دیں کہ میرا شوہر میری ہر بات مانے، جو بھی میں کہوں وہ میرے تابع ہو جائے۔پیر صاحب بھی دور اندیش انسان تھے انھوں نے اس عورت کی بات غور سے سنی، اور کہا کہ یہ عمل تو شیر کی گردن کے بال پرہوگا۔ اور وہ بال بھی آپ خود شیر کی گردن سے اکھاڑ کر لائیں گی۔ تب اثر ہوگا ورنہ کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
وہ عورت بہت پریشان ہوگئ ،مایوس ہو کر واپس آگئی اور اپنی سہیلیوں کو بتایا۔ایک سہیلی نے مشورہ دیا کہ کام تو مشکل ہے مگر ناممکن نہیں، تم ایسا کرو کہ روزانہ پانچ کلو گوشت لیکر جنگل جایا کرو اور جہاں شیر آتا ہے وہاں ڈال کر چھپ جاؤ۔ کچھ عرصہ بعد شیر کے سامنے جا کر ڈالو وہ گوشت کا عادی ہو جائیگا۔تم اس کے قریب جاکر گوشت ڈالنا شروع کر دینا اور اس کی گردن پر پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دینا اور جب شیر تم سے مانوس ہو جائے تو گردن سے بال اکھیڑ لینا۔اس عورت کو بات پسند آئی، دوسرے دن ہی اس نے گوشت لیا اور جنگل گئی اور گوشت ڈال کے چھپ گئی، شیر آیا گوشت کھایا اور چلا گیا۔اس عورت نے ایک ماہ تک ایسا کیا، ایک ماہ بعد اس نے شیر کے سامنے جا کر گوشت ڈالنا شروع کر دیا تاکہ شیر کو پتہ چل سکے کہ اس کی خدمت کون کرتا ہے۔کچھ دنوں بعد شیر بھی عورت سے مانوس ہو گیا تھا، عورت نے شیر کی گردن پر آہستہ آہستہ پیار سے ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا. ایک دن عورت نے موقع دیکھ کرشیر کی گردن سے بال اکھیڑا اور خوشی خوشی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی ، بال پیر صاحب کو دیا اور کہا کہ میں شیر کی گردن سے بال اکھیڑ کر لے آئی ہوں اب آپ عمل شروع کریں۔پیر صاحب نے پوچھا: کیسے لائی ہو؟تو عورت نے پوری تفصیل بتا دی۔پیر صاحب مسکرایا اور کہا کہ کیا تمہارا شوہر اس جنگلی درندے سے بھی زیادہ خطرناک ہے؟
جوکہ خونخوار ہوتاہے، جس کی تم نے چند دن خدمت کی اور وہ تم سے اتنا مانوس ہو گیا کہ تم نے اس کی گردن سے بال اکھیڑ لیا اور اس نے تمہیں کچھ بھی نہیں کہا ، تمہارے شوہر کے ساتھ بھی پیٹ لگا ہوا ہے تم اس کی خدمت کرو جب جنگلی درندہ خدمت سے اتنا مانوس ہو سکتا ہے تو ایک باشعور انسان بھی آپ کے یقیناً تابع ہوسکاتاہے۔
🌟🌟🌟
غزوۂ مُوتہ سے واپسی کا منظر ہے.....
حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجاہدین کی واپسی کی خبریں سُن رہی ہیں۔
اپنے پیارے شوہر حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کی راہ میں آنکھیں بچھائے بیٹھی ہیں،بچوں کو بھی تیار کردیا ہے،آہٹ کی آواز سنائی دیتی ہے لیکن
یہ جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نہیں....
بلکہ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ِ مبارک ہے،اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا انداز سے ہی سمجھ جاتی ہیں....
کہ
ان کے زندگی کے ہم سفر،ہجرت کے ساتھی اور پیارے شوہر جعفر طیاررضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ ان سے بچھڑ چکے ہیں۔
یہی معاملہ ہمارے معاشرے میں ہوتا تو حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پوری زندگی بچوں کے ساتھ تنہا حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا
لیکن
وہ نبی کریم ﷺ اور ان کے تربیت یافتہ صحابہ کرام رضوانہم اجمعین کا وسیع القلبی والا دور تھا۔
ایک مسلمان بیوہ کو کیسے حالات و جذبات کے تھپیڑے کھانے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا جاتا....؟؟؟؟؟؟
یارِغار،بعدالانبیاء سب سے افضل شخص یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نے انھیں اپنی زوجیت میں لے لیا
اور
بچوں کو باپ جیسی گھنی شفقت اور محبت میسر آگئی،اللہ نے ایک فرزند بھی عطا فرما دیا۔
پھر کچھ عرصہ بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کا وصال ہوگیا،حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ نے غسل دلایا۔
دو دفعہ بیوہ ہونا ہمارے تنگ نظر معاشرے کے لئے تو انہونی بات ہے ۔۔۔
لیکن بیوہ عورت کو فوراً معاشرتی دھارے کی زندگی میں اُس وقت ہم آہنگ کرلیا جاتا تھا
تاکہ
اسے تن تنہا نفسیاتی اور جذباتی جنگ نہ لڑنی پڑے۔۔۔!!!
اس دفعہ آگے بڑھنے والے غیرت کے پیکر کوئی اور نہیں؛شیرِ خدا،ابو تراب،فاتحِ خیبر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ تھے۔
آپ حضرت جعفررضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کے چھوٹے بھائی بھی تھے لیکن
صرف بھتیجوں کی کفالت ہی نہیں کی بلکہ فرزندِ ابوبکر کو بھی اسی محبت سے پالا۔
یہ کیسا معاشرہ تھا جو عورت کے حقوق کا ایسے محافظ تھا کہ رشک آتا ہے۔
ہم صحابہ کرام رضوانہم اجمعین کے دور میں پیدا ہونے کی خواہش بھی کرتے ہیں،ان جیسا بننا بھی چاہتے ہیں
لیکن
جب نفس پر زد آئے تو خاموشی کی دبیز چادر لپیٹے سو جاتے ہیں۔بیوہ یا مطلقہ اور اس کے بچوں کو تحفظ دینا ایسا اس معاشرے میں رچا بسا کام تھا
کہ
اس کے لئے کوئی تقریرکرنے،کوئی مہم چلانے،کوئی حکمت بتانے کی ضرورت نہیں تھی۔اورہمارا معاشرہ اور ہمارے رویے۔۔۔!!!؟؟؟؟؟
🌟🌟🌟
ایک اور پاکباز صحابیہ حضرت عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی مثال لیتے ہیں:
پہلا نکاح حضرت عبداللہ بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ سے ہوا،آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہابہت خوبصورت تھیں اور اس جوڑے کی محبت عرب میں مثال بن گئی۔
حضرت عبداللہ بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نے ایک دن وفورِ محبت میں ان سے عہد لیا کہ اگر میں تمھاری زندگی میں وفات پاگیا تو دوسرا نکاح نہیں کروگی۔
پھر حضرت عبداللہ بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ کچھ عرصہ بعد شہید ہوگئے۔
لیکن
اس معاشرے میں بیوہ خاتون کو تنہا چھوڑنے کی مثال محیر العقل تھی،اس لئے بڑوں کےسمجھانے پر نکاحِ ثانی کے لئے راضی ہوگئیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ جو آپ کے چچا زاد بھائی بھی تھے،نے حضرت عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اپنے نکاح میں لے لیا۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ بھی شہید ہوگئے۔
عدت پوری ہونے کے بعد عشرۂ مبشرہ میں سے مشہورصحابی حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نے نکاح کا پیغام بھیجا اورحضرت عاتکہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ان کے نکاح میں آگئیں۔کچھ عرصہ بعد حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ نے بھی جامِ شہادت نوش کیا۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بارے میں عرب میں مشہورہوگیا تھا کہ جسے شہادت کی تمنا ہو ۔۔۔۔
وہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح کرلے۔اسی مناسبت سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو شہداء کی زوجہ کہا جاتا ہے۔
اس عظیم مثال کا اپنے معاشرے سے تقابل کریں....اللہ اللہ۔۔!!!
کیسا کُھلا،وسیع القلب معاشرہ تھا۔۔سبحان الله!!!!
🌟🌟🌟
ﺍﯾﮏ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﺌﮯ
ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺁﺋﮯ۔ ﺍِﻥ ﮐﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﻧﺌﮯ ﭘﮍﻭﺳﯿﻮﮞ
ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺻﺎﻑ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﭘﮍﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ
ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺌﮯ ﮨﻤﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮨﺮ
ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﻧﻮﭦ ﮐﺮﺗﯽ
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﺮﺗﯽ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ
ﺑﯿﻮﯼ ﻧﮯ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ
ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻼﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ۔ " ﯾﮧ
ﻟﻮﮒ ﮐﺘﻨﮯ ﺧﺮﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ "،
ﺑﯿﻮﯼ ﭼﺎﺋﮯ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ
ﺑﻮﻟﯽ،
" ﺫﺭﺍ ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩُﮬﻠﮯ، ﺍِﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ
ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ
ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﻟﯿﮟ، ﯾﺎ ﮐﻢ ﺍﺯ ﮐﻢ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ
ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ" ۔ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﺍُﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﺯﯾﺮِ ﻟﺐ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﻣﺸﻐﻮﻝ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﮐﭙﮍﮮ
ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻼﺗﮯ، ﺍِﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ
ﺍﻭﺭ ﺩُﮬﻼﺋﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﯽ ﺗﺎﺛﺮﺍﺕ ﮨﻮﺗﮯ۔ ﻭﮦ
ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﮐﺎ
ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮐﮧ "ﺁﺝ ﭘﮭﺮ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ
ﺍﭼﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮬﻮﺋﮯ ," "ﺩﻝ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ
ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﻭﮞ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ
ﺩﮬﻼﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ" ۔۔۔ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ۔۔ !
ﺍﻟﻐﺮﺽ ﺍُﻥ ﮐﮯ ﭘﮍﻭﺳﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﮐﮯ
ﮐﭙﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻼﺋﯽ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮨﯽ ﺍِﺱ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺗﻨﻘﯿﺪ
ﮐﺎ ﻧﺸﺎﻧﮧ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﺘﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺻﺒﺢ ﺟﺐ ﯾﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ
ﺗﻮ ﭘﮍﻭﺳﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺻﺎﻑ ﺳُﺘﮭﺮﮮ ﺩُﮬﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﭙﮍﮮ
ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﺳﮯ
ﺑﻮﻟﯽ، "ﺩﯾﮑﮭﺎ! ﺑﺎﻵﺧﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﮨﯽ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ
ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯿﺴﮯ ﺩﮬﻮﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺷﮑﺮ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ
ﺍُﻥ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮨﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﯾﮧ ﻋﻘﻞ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺁﺋﯽ ﮐﯿﺴﮯ۔۔۔؟"
ﭘﮭﺮ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﯽ " ﺷﺎﯾﺪ
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ
ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺻﺎﺑﻦ ﺑﺪﻝ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ " ﺍﻭﺭ ﭼﭗ ﮨﻮﺗﮯ
ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﻮﺍﺏ ﻃﻠﺐ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ
ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﯽ۔
ﺷﻮﮨﺮ ﺟﻮ ﻧﺎﺷﺘﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮﻭﻑ ﺗﮭﺎ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﯽ
ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ، ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ، "ﺑﯿﮕﻢ ! ﺁﺝ ﺻﺒﺢ ﻣﯿﮟ
ﺟﻠﺪﯼ ﺍُﭨﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍِﺱ ﮔﺮﺩ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﯼ
ﮨﻮﺋﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ،
ﺟﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﮭﯽ"
ﺩﻭﺳﺘﻮ ! ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺭﻭﺯﻣﺮﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ
ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﺻﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ
ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﺭﺩِ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ
ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺻﻞ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺧﻮﺩ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺍُﺱ ﻃﺮﻑ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺗﺎ۔
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭘﺮﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ،
ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺻﺎﻑ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺟﺐ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ
ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮐﺎ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ
ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺤﺼﺎﺭ ﺍُﺱ ﮐﮭﮍﮐﯽ ﯾﺎ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﮐﯽ
ﺷﻔﺎﻓﯿﺖ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮨﻢ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﭼﺎﻧﭻ
ﺭﮨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿں
🌟🌟🌟
اگر کوئی ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال میں خوش رہتی ہے ۔۔۔اگر وہ اپنی بوڑھی ساس کو تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ کھانے کو دیتی ہے....اگر وہ سسر کے سونے پر اپنے بچوں کو شور کرنے سے روکتی ہے ۔
اگر وہ خاوند کے گھر آنے پر مسکراہٹ کے ساتھ استقبال کرتی ہے اور اس کی تواضع ٹھنڈے مشروب سے کرتی ہے تو
"""میرے خیال میں وہ آن پڑھ نہیں بلکہ ماسٹرز ان سائیکلوجی ہے """
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ شوگر اور بلڈ پریشر کی مریضہ ایک بار پیٹ بھر کر نہیں کھا سکتی اور اسے بار بار بھوک لگتی ہے ۔
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ بوڑھاپے میں غصہ جلدی آتا ہے اور نیند ٹوٹنے پر تو بےحد آتا ہے
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس کا سسرال بہت سی چیزیں خریدنا افورڈ نہیں کر سکتا ،
کیونکہ وہ جانتی ہے کہ میرا شوہر باہر کے سرد وگرم سے نبردآزما ہوکے آ رہا ہے ۔
اگر ہر لڑکی اسی طرح اپنے سسرال میں موجود افراد کی نفسیات سمجھ لے اور مشکلات کو تدبیر سے حل کرنے لگے تو بہت سے مسائل جنم لینے سے پہلے ہی وفات پا جائیں اور خوشیوں کی پھوار ہر سمت سے برسنے لگے ۔
کیا ہم اپنے گھروں کا ماحول ایسا بنا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہم اپنی بیٹی کی تربیت اس نہج پہ کر سکتے ہیں ....؟؟؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو یاد رکھیے ۔ ایک دن اپکی بہو بھی ایسی ہی آ جائے گی ۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Shaikh Wali Khan Almuzaffar
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Aug, 2017 Views: 342

Comments

آپ کی رائے