سوال

(Kanwal Naveed, Karachi)

کچھ لمحے اپنے لیے بھی ہوتے ہیں کیا؟

خود سے ملنے کا اتفاق بہت کم لوگوں کو ہوتا ہے ،یہاں تک کہ تمام عمر گزر جاتی ہے ۔انسان اپنی ذات کو جاننے کے لیے دوسروں کی باتوں دوسروں کی نظروں کا متلاشی رہتا ہے۔ دنیا نے اچھا کہا تو اچھا اور دنیا نے بُرا کہا تو میں بُرا ہوں ۔ میں کیا ہوں ؟کیسا ہوں ؟ مجھے کیسا ہونا چاہیے؟ ان سوالوں کی وجوہات کیا ہیں ؟ کیا یہ سوال بھی کسی اور کی وجہ سے میرے دل و دماغ کا حصہ بنے ہیں؟ ان سوالوں سے متعلق سوچنا ہر کسی کے لیے ضروری ہے۔ کچھ عرصہ میں لگا تار عجیب بے چینی کا شکار رہی ہوں ۔ ایک سوال میرے لیے معمہ بنا رہا۔

وہ سوال یہ تھا کہ کیا کسی لمحے انسان اپنے لیے بھی جیتا ہے۔ ہر رشتہ نبھانے اور دوسروں کی ضرورتیں پوری کرتے ہوئے، ہم لوگ اپنی زندگی جی کر مر جاتے ہیں ۔ جیسے جیسے سوال کے ساتھ دن گزر رہے تھے ،بے چینی میں مذید اضافہ ہوتا جا رہاتھا۔میں اپنے کاموں کو ٹھیک سے انجام ہی نہیں دے پا رہی تھی۔
ایسے لگتا تھا۔زندگی کسی بوجھ کی طرح مجھ پر لاد دی گئی ہے۔ پھر لگا تار تفکر اور کتابوں سے مستفید ہونے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچی کہ انسان کسی کے لیے کچھ بھی نہیں کرتا ۔ کسی لمحہ بھی، وہ کسی کے لیے کچھ بھی نہیں کرتا ۔ اس کا ہر عمل اس کے اپنے لیے ہوتا ہے ۔ کبھی وہ زمہ داری نبھانا چاہتا ہے تو کبھی وہ زمہ داریوں سے دور بھاگنا چاہتا ہے۔ کبھی کسی کے لیے جینے کے دعوے کرتا ہے تو کبھی کسی کے لیے مرنے کی دہائی دیتا ہے ۔ اس سب میں یہ فراموش کر دیتا ہے کہ وہ ایسا کر کیوں رہا ہے۔
انسان جب چند لمحے مکمل سچائی کے ساتھ سوچے۔ تو پتہ چلے گا کہ ہم تو عبادت بھی جنت کے لیے کرتے ہیں ۔ اللہ کے لیے نہیں ۔ ہم اپنے آپ سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ جو چیز ہم سے متعلقہ ہوتی ہے، اسے اہمیت دینے لگتے ہیں ۔ اپنی ذات کو چاہنا اس کی قدر کرنا کسی طور بھی بُرا نہیں ۔ لیکن بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں جو شخص یہ کہتا ہےکہ میں اپنی ذات کو ہر شے سے ذیادہ چاہتا ہوں ، اس پر خود غرض ہونے کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ۔ اس لیبل سے بچنے کے لیے ہم سب جھوٹ بولتے ہیں ۔نہ صرف دوسروں سے بلکہ اپنے آپ سے ۔ ہم اس جھوٹ کو بول کر نہ صرف دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ اپنی ذات کو بھی سچائی سے دور کر دیتے ہیں ۔ خود سے محبت نہ کرنے والا کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ ہم اپنی چاہت میں ہی زندگی کوسنوارنے کے لیے مکمل جدوجہد کرتے ہیں ۔ انسان کو دوسرے کا کام دیا جائے تو وہ کبھی بھی اس قدر محبت اور محنت سے نہیں کرتا۔ جتنی محبت سے اپنا کام کرتا ہے۔

جب جب ہم خود سے سچ بولتے ہیں ۔زندگی خوبصورت ہو جاتی ہے۔ اکثر مائیں کہتی ہیں ۔ ہم نے اپنی زندگی اپنے بچوں کو پوری کی پوری دے دی ۔ اپنے لیے تو کچھ کر ہی نہیں پائیں ۔ اصل میں اپنی زندگی اپنے بچوں کو دینا ان کا اپنے لیے کیے جانے والافیصلہ تھا نہ کہ بچوں کہ لیے۔ ہم اپنی ترجحات کا تعین کرتے ہیں ۔ اس کی زمہ داری خود قبول کرنے کی بجائے دوسرے پر ڈال دیتے ہیں ۔ پیدا ہونے والا بچہ اپنے ماں باپ سے مطالبہ نہیں کرتا کہ اسے پالا جائے۔ یہ ماں باپ کا اپنا کیا ہوا فیصلہ ہوتا ہے ۔ جو وہ اپنی خوشی کے لیے اپنی مرضی سے کرتے ہیں ۔ اسی طرح اکثر لڑکیوں کی جب شادی کامیاب نہیں ہوتی تو وہ اپنے ماں باپ کو کوستی ہیں ۔ ان کے کہنے پر ہم نے فیصلہ کیا۔ جبکہ وہ دل میں خوب جانتی ہیں کہ وہی والدین اگر انہیں آگ میں کودنے کا کہتے تو وہ ایسا ہر گرز نہ کرتیں ۔ اپنے عمل کی زمہ داری خود قبول کرنے والے انسان نہ صرف مطمین ہوتے ہیں بلکہ اپنی زات کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہتے ہیں ۔یہ چند مثالیں تھیں ورنہ ہم میں سے ذیادہ لوگ اپنے غلط کاموں کی زمہ داری دسروں پرڈال کر بری الزمہ ہونا چاہتے ہیں ۔جس سے نہ صرف دوسروں کی بلکہ اپنی زندگی جہنم بنا لیتے ہیں ۔

کچھ لمحے بیٹھ کر سکون سے سوچیں آپ کے تمام کام کس کے لیے ہوتے ہیں ۔ اگر آپ کا جواب یہ ہو کہ دوسروں کے لیے یا اللہ کے لیے تو دوبارہ سے غورو فکر کیجئے ۔ اگر رب نے حکم دیا ہوتا کہ میری نافرمانی کرنے والے کو جنت دی جائے۔ خوبصورت حوریں دی جائیں تو کیا ہم میں سے کوئی نماز پڑھتا ۔ اگر جواب نہیں ہے تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ کسی نے ہماری زندگی برباد کر دی ۔ دوسروں کی وجہ سے ہماری زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔ چند لمحے اپنے لیے نکال کے اس روشنی کو کھوجنے کی کوشش کریں جو آپ کی اپنی ذات کے اندر ہے ۔ باہر روشنی کی تلاش میں شعلے کو پکڑیں گئے تو صرف ہاتھ ہی جلے گا۔ہماری زندگی واقعات اور معملات کا مجموعہ ہے ۔ہمارے ردعمل ہمارے انتخاب ۔ اپنے انتخابات کی زمہ داری قبول کیجئے ۔ خواہ وہ خوشحالی لے کر آئیں یا بدحالی۔

مجھ پر جب یہ انگشاف ہوا کہ میں سب کچھ اپنے لیے کرتی ہوں تو سکون نے نہ صرف میرے کاموں کو بہتر کیا بلکہ میری زندگی کو خوبصورت بنا دیا۔ میری ہر سوچ کی بنیاد بدل گی ۔میں اپنے ماں ،باپ بہین بھائیوں۔ شوہر یا بچوں کے لیے کچھ بھی نہیں کرتی بلکہ سب کچھ اپنی خوشی کے لیے پوری ایمانداری سے کرتی ہوں ۔ یہاں تک کہ میری نماز بھی فقط میرے لیےہی ہے کہ وہ رب جو نیک ہونے پر نوازتا ہے وہ مجھے نوازے ،جو پاک ہونے پر قبول کرتا ہے مجھے بھی قبول کرئے۔
میں خود سے محبت کرتا ہوں
اپنی ہر اک چیز سے محبت ہے مجھے
وہ دنیا مجھے پسند ہے جہاں میں رہتا ہوں
اس آسمان سے مجھے محبت ہے
جس کہ ستارے میری رات کو روشن کرتے ہیں
اپنی ماں سے مجھے محبت ہے
جس کی آغوش نے مجھے جیون جینے لائق بنایا
اس باپ سے مجھے محبت ہے
جس کی شفقت نے مجھے زندگی کے تقاضے سکھائے
میرا ہر رشتہ مجھے عزیز ہے
فقط اس لیے کہ وہ میرا ہے
میرا ہر لمحہ مجھے عزیز ہے
یہاں تک کہ میں اس قبر سے محبت کرتا ہوں
جہاں مجھے دفن کیا جائے گا۔
مجھے عبادت سے محبت ہے کہ وہ مجھے سکون دیتی ہے
میں کسی انسان سے نفرت نہیں کرتا
نفرت میرے وجود کے لیے اچھی نہیں
میں ہر اس چیز سے دور رہتا ہوں
جو میرے وجود کی تکلیف کا بایث بنے
کسی کی بات مجھے تکلیف جو دے تو میں روتا ہوں مگر
میرے رونے کی وجہ بھی میں ہی ہوں فقط میں
میں اپنے اس میں ہر کسی سے ذیادہ محبت کرتا ہیں
میں چاہتا ہوں کہ جب میں نہیں ہوں تو!
تو بھی وہ جگہ اچھی رہے جہاں میں رہا ہوں
وہ لوگ خوش رہیں جو مجھ جیسے ہیں
جومیرے اپنے ہیں یا اپنے نہیں کچھ فرق نہیں پڑھتا
میں کسی سے کسی کے لیے محبت نہیں کرتا
میں کسی کے لیے کچھ بھی نہیں کرتا!
کیوں کہ میں سب سے ذیادہ خود سے محبت کرتا ہوں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182653 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
22 Aug, 2017 Views: 535

Comments

آپ کی رائے