ماہِ ذی الحجہ کے فضائل و مسائل

(Mufti Muhammad Waqas Rafi, )

ماہِ ذی الحجہ اسلامی تقویم کے اعتبار سے بارہواں اور آخری مہینہ کہلاتا ہے ، جس میں اسلام کا ایک انتہائی اہم اور عظیم رکن ’’حج‘‘ اداء کیا جاتا ہے ، اور تمام روئے زمین کے چپہ چپہ سے مختلف علاقوں ، مختلف خاندانوں اور مختلف زبانوں کے مسلمان محبت الٰہیہ میں رخت سفر باندھ کر ’’ لبیک اﷲم لبیک‘‘ کی دیوانہ وار صداء لگاتے ہوئے ایک مخصوص جگہ جمع ہوتے ہیں اور حج جیسا اہم اور عظیم فریضہ انجام دیتے ہیں ۔ اسی وجہ سے ماہِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ سال بھر کے تمام دنوں میں اﷲ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے ۔

اور قرآنِ مجید میں اﷲ تعالیٰ نے اس کی قسم کھا رکھی ہے چنانچہ ارشاد ہے: ’’ ترجمہ: قسم ہے فجر کے وقت کی اور دس (۱۰) راتوں کی اور جفت کی اور طاق کی ۔‘‘ (ترجمہ: مفتی تقی عثمانی) (سورۃ الفجر : ۱/۳۰،۲،۳)

امام سیوطیؒ نے در منثور میں متعدد سندوں سے یہ روایت درج کی ہے کہ حضورِ اقدس ؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اِس آیت میں ’’دس (۱۰) راتوں ‘‘ سے ذی الحجہ کا پہلا عشرہ مراد ہے اور وتر ( طاق) سے عرفہ کا دن اور ’’شفع‘‘ ( جفت) سے قربانی کا دن (یعنی عید الاضحی ) کا دن مراد ہے ۔ (در منثور)

حضرت عباسؓ سے مروی ہے کہ رسالت مآب ؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’سال بھر کے تمام دنوں میں سے کوئی دن (جس میں بے انتہاء عمل صالح یعنی نیکیاں و بھلائیاں کی گئی ہوں) ماہِ ذی الحجہ کے عشرہ سے زیادہ اﷲ تعالیٰ کو پسند نہیں۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا : ’’یارسول اﷲؐ! کیا اﷲ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد و قتال کرنا بھی اس کے برابر نہیں؟۔‘‘آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’اﷲ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد و قتال کرنا بھی اِ س کے برابر نہیں۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ تین مرتبہ صحابہؓ نے یہی سوال کیا اور آپؐ نے تینوں مرتبہ یہی جواب عنایت فرمایا۔ پھر آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’البتہ وہ شخص جو اپنے مال و جان کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے کے لئے گیا ہو اور وہیں میدانِ جہاد میں شہید ہوگیا ہو( تو اُس شخص کا اجر و ثواب ان دس (۱۰) دنوں کے اجر و ثواب کے برابر ہوسکتا ہے۔)(صحیح بخاری)

حضرت ابو ہریرۃؓسے روایت ہے کہ نبی پاکؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ کسی دن کی عبادت اﷲ تعالیٰ کو اتنی محبوب نہیں جتنی کہ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کی محبوب ہے ۔ عشرہ ذی الحجہ میں ایک دن کا روزہ سال بھر کے روزوں کے برابر اور اِس میں ایک رات کی نماز سال بھر کی نمازوں کے برابر ہے۔‘‘ (غنیۃ الطالبین)

حضرت سعید بن جبیر رحمۃ اﷲ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ : ’’ عشرہ ذی الحجہ کی راتوں میں جراغ بجھایا نہ کرو! آپؒ کو اس عشرہ میں عبادت بہت پسند تھی حتیٰ کہ اپنے خادموں کو بھی اِن راتوں میں عبادت کے لئے بیدار رہنے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔ (غنیۃ الطالبین)

حضرت جابر بن عبد اﷲؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’ ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں سے زیادہ اور کوئی افضل دن نہیں ہے۔‘‘ (صحیح ابن عوانہ ، صحیح ابن حبان)

اسی وجہ سے علماء نے لکھا ہے کہ: ’’ جس شخص نے سال کے افضل دنوں میں روزہ رکھنے کی منت مانی ہو، اُسے عرفہ (نو (۹) ذی الحجہ) کے دن روزہ رکھ کے اپنی منت پوری کرنی چاہیے ، اور جس نے ہفتہ کے کسی دن روزہ رکھنے کی منت مانی ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ جمعہ کے دن روزہ رکھ کے اپنی منت پوری کرے۔

عشرہ ذی الحجہ کے دنوں کی فضیلت اس لئے ہے کہ اس میں ’’عرفہ‘‘ کا دن واقع ہے اور ماہِ رمضان کے آخری عشرہ کی راتیں اس لئے افضل ہیں کہ اُن میں ’’شب قدر‘‘ واقع ہے ۔ اور چوں کہ ماہِ ذی الحجہ میں عرفہ کا دن آتا ہے اس لئے اس دن کو تمام دنوں پر فضیلت حاصل ہے ۔

بقر عید کے شروع کے نو (۹) دنوں میں روزہ رکھنے کی فضیلت اور ان کے مستحب ہونے کے بارے میں بہت سی احادیث مروی ہیں۔ چنانچہ بعض ازواجِ مطہراتؓ سے منقول ہے کہ نبی اکرمؐ بقرہ عید کے نو (۹) دن ، دسویں محرم اور ہر ماہ میں اکثر و بیشتر تین روزے رکھا کرتے تھے ۔ اور ہر ماہ کے تین دنوں میں سے پہلے پیر اور پہلی جمعرات کے دن روزہ رکھتے تھے ۔ ( سنن ابو داؤد ، سنن نسائی)ایک روایت میں ہے کہ سرکارِ دو عالم ؐذی الحجہ کے عشرہ اور ہر ماہ تین دن روزہ رکھا کرتے تھے ۔ (ماثبت بالسنۃ فی احکام السنۃ)

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ؐنے ارشاد فرمایا کہ: ’’جس شخص نے عشرہ ذی الحجہ کی کسی تاریخ میں رات بھر عبادت کی تو گویا اُس نے سال بھر حج کرنے اور عمرہ کرنے والے کی سی عبادت کی ، اور جس نے عشرہ ذی الحجہ کا کو ئی روزہ رکھا تو گویا اُس نے پورا سال اﷲ تعالیٰ کی عبادت کی۔‘‘ (غنیۃ الطالبین)

ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عبد اﷲ بن مسعود ؓ عرفہ کی فجر سے یوم نحر کی عصر تک (ہرنماز کے بعد بآوازِ بلند ) تکبیرات تشریق : ’’ اﷲ اکبر ، اﷲ اکبر ، لا الٰہ الا اﷲ واﷲ اکبر ، اﷲ اکبر ، وﷲ الحمد‘‘ پڑھا کرتے تھے۔اور حضرت علی المرتضیٰ ؓ عرفہ کی فجر سے ایام تشریق کے اخیر دن (یعنی تیرھویں ) کی عصر تک (ہر نماز کے بعدمذکورہ بالا) تکبیرات تشریق پڑھا کرتے تھے۔(الترغیب و الترہیب)

مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع عثمانی صاحب ؒنے اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ : ’’چوں کہ حضرت علیؓ کی روایت بھی صحیح سند سے ثابت ہے ، اس واسطے حنفیہ کا عمل اسی پر ہے اور عبد اﷲ بن مسعود ؓ نے زائد کی نفی نہیں کی ، لہٰذا اُن کے خلاف بھی نہیں ہوا۔‘‘ (خطبات الاحکام لجمعات العام)

ماہِ ذی الحجہ کی دوسری اہم ترین عبادت قربانی ہے اور اس کا بہت بڑا ثواب ہے۔ چنانچہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اﷲؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ بنی آدم کا کوئی عمل بقرعید کے دن اﷲ تعالیٰ کو قربانی کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ۔ اور بے شک (قربانی کا) خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوجاتا ہے ۔ لہٰذا قربانی کے اِس عمل کے ساتھ اپنا دل خوش کرو!۔ (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)

(ایک مرتبہ )صحابہؓ نے عرض کیا : ’’ یارسول اﷲؐ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟‘‘ آپ ؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’یہ تمہارے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے ۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا : ’’ہمارے لئے اس میں کیا (ثواب) ہے یا رسول اﷲؐ!؟‘‘ آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے ۔ عرض کیا کہ: ’’ (بھیڑ وغیرہ کی ) اُون میں کیا (ثواب) ملتا ہے (یا رسول اﷲؐ!؟‘‘ آپ ؐ نے فرمایا کہ :’’(بھیڑ وغیرہ کی ) اُون میں بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے۔‘‘ (مسند احمد ، سنن ابن ماجہ)

ایک حدیث میں آتا ہے ٗ حضورِ اقدس ؐ نے ارشاد فرمایا کہ: ’’ جس شخص نے دل کی خوشی اور ثواب طلب کرنے کے لئے قربانی کی ، تو وہ قربانی (جہنم کی ) آگ سے اُس شخص کے واسطے آڑ ہوگی۔‘‘ (الترغیب والترہیب)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Rafi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Rafi: 185 Articles with 133104 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Aug, 2017 Views: 637

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ