سود،سود کی حرمت اور سود کا خاتمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قسط نمبر ١

(MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, Jhelum)
سود ہر صورت میں حرام

سود کیا ہے؟
وزن کی جانے والی یا کسی پیمانے سے ناپے جانے والی ایک جنس کی چیزیں اور روپے وغیرہ میں دو آدمیوں کا اس طرح معاملہ کرنا کہ ایک کو عوض کچھ زائد دینا پڑتا ہو ربا اور سود کہلاتا ہے جس کو انگریزی میں Interest یا Usuryکہتے ہیں۔ جس وقت قرآنِ کریم نے سود کو حرام قرار دیا اس وقت عربوں میں سودکا لین دین متعارف اور مشہور تھا، اور اُس وقت سود اُسے کہا جاتا تھا کہ کسی شخص کو زیادہ رقم کے مطالبہ کے ساتھ قرض دیا جائے خواہ لینے والا اپنے ذاتی اخراجات کے لیے قرض لے رہا ہو، یا پھر تجارت کی غرض سے، نیز وہ Simple Interestہو یا Compound Interest، یعنی صرف ایک مرتبہ کا سود ہو یا سود پر سود۔ مثلاً زید نے بکر کو ایک ماہ کے لیے 100 روپے بطور قرض اس شرط پر دیے کہ وہ 110 روپے واپس کرے، تو یہ سودہے؛ البتہ قرض لینے والا اپنی خوشی سے قرض کی واپسی کے وقت اصل رقم سے کچھ زائد رقم دینا چاہے تو یہ جائز ہی نہیں؛ بلکہ ایسا کرنا نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے؛ لیکن پہلے سے زائد رقم کی واپسی کا کوئی معاملہ طے نہ ہوا ہو۔ بینک میں جمع شدہ رقم پر پہلے سے متعین شرح پر بینک جو اضافی رقم دیتا ہے، وہ بھی سود ہے۔

اللہ رب العزت نے انسان کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا ہم وہ مقصد بھول چکے ہیں اللہ رب العزت نے قرٓن پاک میں ارشاد فرمایا کہ وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون(سورة الذاریات آیت نمبر۶۵پارہ ۷۲رکوع نمبر۳)ہم نے جن و انس کو پیدا نہیں کیا مگر عبادت کے لئے۔اللہ رب العزت نے ہمیں عقل و شعور دیااللہ تعالیٰ ہمارے سامنے نیکی اور برائی دونوں راستوں کو رکھ دیاقرآن مجید نے یہودیوں کے ان بڑے بڑے جرائم اور مظالم کی نشاندہی کی ہے جس کی وجہ سے ان پر عذاب آیا اور ان سے سلطنت چھین لی گئی۔ اللہ پاک نے حلال رزق ان کے لیے ختم کر دیا۔ ان کے اقتصادی نظام تبا ہ کر دیا۔ قرآن مجید نے یہودیوں کے ہولنا ک مظالم میں سے ان کے سودی نظام کو صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ارشاد خداوندی ہے '' تو یہودیوں کے بڑے ظلم کے سبب ہم نے وہ بعض ستھری چیزیں جو ان کے لیے حلال تھیں ان پر حرام کر دیں۔ اور اس لیے کہ انہوں نے بہتوں کو اللہ کی راہ سے روکا'' یہودی سود کھاتے تھے سود پر اپنا کاروبار چلا تے تھے حالانکہ انھیں سود کا نظام چھوڑنے کا حکم تھا اس لیے یہودیوں کو تباہ و بربا د کر دیا گیا۔
ربا عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی زیادہ ہونا‘بڑھنایا اصل سے زیادہ کے ہیں۔اردو میں ربا سے مراد سود کے ہیں یعنی وہ فکسڈ اضافہ جو قرض دینے والا اپنے مقرض سے لیتا ہے۔فی الشرع فضل مال بلاعوض فی معاوضة مال بمال۔(دستور العلما ¾جزنمبر ۲ص۸۲۱) اسلام امیر و غریب سب کے لئے یکساں سلامتی اور خیر کا دین ہے جو دولت کو چند ہاتھوں میں رکھنے کا قائل نہیں اس لئے ہمارے دین میں ربا یعنی سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔قرآن پاک میں سود کی حرمت کے بارے میں سات آیات اور چالیس احادیث ہیں۔سودی نظام انسانی ہمدردی اور مدد کے اصولوں کے خلاف ہے جس میں ایک فرد یا گروہ کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے معاشرے کے بے بس افرادکی صف میں لاکھڑا کرتا ہے۔اس سے معاشرے میں غریب افراد کی غربت میں نہ صرف اضافہ ہوتا ہے بلکہ بغیر کسی محنت کے سود کے ذریعے سے حاصل کی جانے والی دولت معاشرے میں حرام مال کے اضافے کا باعث بنتی ہے۔سود کسی بھی معاشرے میں ظلم کو جنم دیتا ہے۔جب مجبور کی مجبوری سے فائدہ اٹھایا جانے لگے تو لوگ اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے غلط راہ اختیار کرنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔اس لئے اسلام ایسے نظام کو حرام قرار دیتا ہے جو لوگوں کے استحصال کا باعث بنتا ہے۔حصرت عمررضی اللہ عنہ نے ربا کے بار ے میں فرمایاکہ آخری چیز جو آپﷺپر نازل ہوئی وہ ربا کی آیت ہے لہٰذا تم سود کو چھوڑ دو اور اس چیز کو بھی چھوڑ دو جس میں سود کا شبہ بھی ہو۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سود کو نہ چھوڑنے والا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے جنگ کر رہا ہے۔ سودکا کاروبار کرنے والے سے اس سے بڑھ کر اللہ اور اسکے رسول ﷺ کی ناراضگی کا اظہار اور کیا ہوگا کہ اس کیلئے جنگ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ہمارا ایمان ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم دینے والے بنیں۔کسی کو دیتے وقت اس کی مجبوری سے منافع حاصل کرنے کی بجائے اس سے احسان کا رویہ احتیار کریں۔جبکہ سود کا نظام معاشرے میں خودغرضی پیدا کرتا ہے۔اس میں بظاہر دنیا کا فائدہ تو ہے لیکن آخرت میں سود لینے والا ایسے اٹھے گا جیسے دیوانگی کی حالت میں ہو۔حلال طریقے سے محنت کے ذریعے حاصل کیے جانے والے مال میں اللہ کی طرف سے برکت پیدا ہوتی ہے جبکہ بغیر کسی محنت ومشقت سے منافع کے طور پر حاصل کردہ مال کبھی نہ کبھی قلت کا شکار ضرور ہوتا ہے۔آپ ﷺ نے بھی اس بارے میں فرمایا جس کسی کا مال سود سے زیادہ ہوگا آخرکار وہ قلت کی طرف جائے گا۔
سورہ بقرہ کی آیات کا ترجمہ
جو لوگ دن رات، کھلے اور چھپے اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ انہیں اپنے پروردگار سے اس کا اَجر ضرور مل جائے گا۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے (ان لوگوں کے برعکس)جو لوگ سود کھاتے ہیں۔ وہ یوں کھڑے ہوں گے۔ جیسے شیطان نے کسی شخص کو چھو کر اُسے مخبوط ُالحواس بنا دیا ہو۔ اس کی وجہ ان کا یہ قول (نظریہ)ہے کہ تجارت بھی تو آخر سود ہی کی طرح ہے۔حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال قرار دیا ہے اور سود کو حرام۔ اب جس شخص کو اس کے پروردگار سے یہ نصیحت پہنچ گئی اور وہ سود سے رک گیا تو پہلے جو سود وہ کھا چکا،سو کھا چکا،اس کا معاملہ اللہ کے سپرد۔ مگر جو پھر بھی سود کھائے تو یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گےاللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا اور صدقات کی پرورش کرتا ہے۔ اور اللہ کسی ناشکرےبدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے، نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰة ادا کرتے رہے ان کا اجر ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ انہیں نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گےاے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اگر واقعی تم مومن ہو تو جو سود باقی رہ گیا ہے اُسےچھوڑ دواور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ ہےاور اگر (سود سے) توبہ کر لو تو تم اپنے اصل سرمایہ کے حقدار ہو۔ نہ تم ظلم کرو اور نہ تم پر ظلم کیا جائے اور اگر مقروض تنگ دست ہے تو اُسے اس کی آسودہ حالی تک مہلت دینا چاہیے۔ اور اگر (راس ُالمال بھی)چھوڑ ہی دو تو یہ تمہارےلیے بہت بہتر ہے۔ اگر تم یہ بات سمجھ سکو اور اس دن سے ڈر جاﺅ جب تم اللہ کے حضور لوٹائے جاﺅ گے۔ پھر وہاں ہر شخص کو اس کے اَعمال کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگااے ایمان والو! جب تم کسی مقررہ مدت کے لیے اُدھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو۔ اور لکھنے والا فریقین کے درمیان عدل و انصاف سے تحریر کرے۔اور جسے اللہ تعالیٰ نے لکھنے کی قابلیت بخشی ہو اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہئے۔ اور تحریر وہ شخص کروائے جس کے ذمہ قرض ہے۔ وہ اللہ سے ڈرتا رہے اور لکھوانے میں کسی چیز کی کمی نہ کرے (کوئی شق چھوڑ نہ جائے) ہاں اگر قرض لینے والا نادان ہو یا ضعیف ہو یا لکھوانے کی اہلیت نہ رکھتا ہو تو پھر اس کا وَلی انصاف کے ساتھ اِملا کروا دے۔ اور اس معاملہ پر اپنے (مسلمان) مردوں میں سے دو گواہ بنا لو۔ اور اگر دو مرد میسر نہ آئیں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بناﺅ کہ ان میں سے اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ اور گواہ ایسے ہونے چاہئیں جن کی گواہی تمہارے ہاں مقبول ہو۔ اور گواہوں کو جب (گواہ بننے یا)گواہی دینے کے لیے بلایا جائے تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے اور معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا مدت کی تعیین کے ساتھ اسے لکھوا لینے میں کاہلی نہ کرو تمہارا یہی طریق کار اللہ کے ہاں بہت منصفانہ ہے جس سے شہادت ٹھیک طرح قائم ہو سکتی ہے اور تمہارے شک و شبہ میں پڑنے کا اِمکان بھی کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین تم آپس میں دست بدست کر لیتے ہو، اسے نہ بھی لکھو تو کوئی حرج نہیں۔اور جب تم سودا بازی کرو تو گواہ بنا لیا کرونیز کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائےاور اگر ایسا کرو گے تو گناہ کا کام کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ ہی تمہیں یہ احکام و ہدایات سکھلاتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا ہے اور اگر تم سفر میں ہو اور لکھنے کو کوئی کاتب نہ مل سکے تو رہن با قبضہ(پر معاملہ کر لو) اور اگر کوئی شخص دوسرے پر اعتماد کرے (اور رہن کا مطالبہ نہ کرے)تو جس پر اعتماد کیا گیا ہے اسے قرض خواہ کی امانت ادا کرنا چاہئے۔ اور اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے۔ اور شہادت کو ہرگز نہ چھپاﺅ۔ جو شخص شہادت کو چھپاتا ہے بلاشبہ اس کا دل گنہ گار ہے اور جو کام بھی تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہےجو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے چھپاﺅ یا ظاہر کرو، اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا سزا دے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
یہ آیت دراصل صدقات و خیرات کے احکام کا تتمہ ہے۔ یعنی آخر میں ایک دفعہ پھر صدقہ کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اب اس کی عین ضد سود کا بیان شروع ہو رہا ہے... صدقات و خیرات سے جہاں آپس میں ہمدردی، مروّت، اُخوت، فیاضی پیدا ہوتی ہے وہاں طبقاتی تقسیم بھی کم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سود سے شقاوتِ قلبی، خود غرضی، منافرت، بے مروّتی اور بخل جیسے اخلاقِ رذیلہ پرورش پاتے ہیں اور طبقاتی تقسیم بڑھتی چلی جاتی ہے جو بالآخر کسی نہ کسی عظیم فتنہ کا باعث بن جاتی ہے۔ اشتراکیت دراصل ایسے ہی فتنہ کی پیداوار ہے۔
اے ایمان والو سود دونے پر دونا نہ کھا ¶ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہارا چھٹکارا ہو
قرآن: سورة آل عمران:130
اور ان کو سود لینے کے سبب سے حالانکہ اس سے منع کیے گئے تھے اور اس سبب سے کہ لوگو ں کا مال ناحق کھاتے تھے اور ان میں سے جو کافر ہیں ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
قرآن: سورة النسائ:161
یہ دراصل سود خور یہودیوں کا قول ہے اور آج کل بہت سے مسلمان بھی اسی نظریہ کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ سودی قرضے دراصل دو طرح کے ہوتے ہیں:
(1) ذاتی قرضے یا مہاجنی قرضے یعنی وہ قرضے جو کوئی شخص اپنی ذاتی ضرورت کے لئے کسی مہاجن یا بنک سے لیتا ہے، (2) اور دوسرے تجارتی قرضے جو تاجر یا صنعت کار اپنی کاروباری اغراض کے لئے بنکوں سے سود پر لیتے ہیں۔ اب جو مسلمان سود کے جواز کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ یہ کہتے ہیں کہ جس سود کو قرآن نے حرام کیا ہے وہ ذاتی یا مہاجنی قرضے ہیں جن کی شرح سود بڑی ظالمانہ ہوتی ہے اور جو تجارتی سود ہے وہ حرام نہیں۔ کیونکہ اس دور میں ایسے تجارتی سودی قرضوں کا رواج ہی نہ تھا۔ نیز ایسے قرضے چونکہ رضا مندی سے لئے دیئے جاتے ہیں اور ان کی شرحِ سود بھی گوارا اور مناسب ہوتی ہے اور فریقین میں سے کسی پر ظلم بھی نہیں ہوتا، لہٰذا یہ تجارتی سود اس سود سے مستثنیٰ ہے جنہیں قرآن نے حرام قرار دیا ہے۔
حضورﷺتمام انسانیت کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے اور آپ ﷺ کی امت ہونے کی حیثیت سے یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم تمام انسانیت میں خیر اور بھلائی پھیلانے کا ذریعہ بنیں نہ کہ خودغرضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ہی لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھائیں۔امت مسلمہ ایک جسم کی حیثیت رکھتی ہے کہ اگر جسم کے ایک حصے میں درد ہوتو پورے جسم میں تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

اللہ تبارک وتعالی نے اہل اقتدار کی ذمہ داری بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ لوگ کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز کا نظام قائم کریں اور زکوة دیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔
سود اور سود کے استحصالی نظام کے خلاف کلمہ جہاد بلند کرنا کیوں ضروری ہے؟ آئیے قرآن و سنت نبوی کی روشنی میں اس کا جواب ڈھونڈتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا۔ ''
الذین یاکلون الربوٰالایقوموں الاکما یتخبط الشیطان من المس(سورہ بقرہ آیت نمبر۵۷۲پارہ نمبر۳رکوع نمبر۶)
جو لوگ سو د کھاتے ہیں و ہ قیامت کے دن اپنی قبروں سے اس طرح ااٹھیں گے کہ جیسے شیطان نے چھو کر اسے مخبوط (حواس باختہ) بنا دیا ہو''
یعنی قیامت کے روز سود خور اس فالج زدہ شخص کی طر ح کھڑے کیے جائیں گے جیسے کسی کو کوئی شیطان یا جن چھو جائے اور اس کے ہوش و حواس جاتے رہیں قیامت کے دن جس کو فالج زدہ کھڑا دیکھو تو سمجھ لو کہ وہ سود خور ہے۔اور اس حرام خوری کے باعث آج قیامت کے دن اس کے اوسان خطا کر دیے گئے ہیں۔ پھر فرمایا '' یہ حالت ان کی اس لیے ہوگی کہ انھوں نے (حلال اور حرام کو یکساں کر دیا ہے) کہ جیسے سودا ہے ویسے ہی سود ہے''
سود خوروں کو اس لیے شیطان کے مس شدہ کی طرح ہوش و حواس سے عاری کھڑا کیا جائے گا کہ جب ان کو کہا جاتا تھا کہ سود چھوڑ دو تو وہ کہتے تھے بھئی سود لینا ایک نفع ہی تو ہے جیسے تم کاروبار میں نفع حاصل کرتے ہو۔ ہم قرض کے ذریعے مال کما تے ہیں۔ چونکہ انھوں نے سود اور تجارت کو سود کے بربر اور سود کو تجارت کے بربر قرار دے دیا تھا اور ایہ اتنا بڑا جرم ہے کہ جس کے باعث قیامت کے دن انھیں شیطان زدوں کی طرح کھڑا کیا جائے گا۔ ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ '' اور اللہ نے بیع کو حلال اور سود کو حرام کیا'' (سورة البقرہ )
اور جو سود کو ترک نہ کرے و ہ پھر اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لیے تیا ر ہو جائے۔ اللہ نے مسلمانوں کو سود ترک کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا '' اے ایمان والو: اللہ سے ڈرو اور چھوڑ دو جو باقی رہ گیا ہے سود اگر تم سچے مسلمان ہو۔'' اللہ تعالی کا یہ واضح حکم بھی تمام لوگوں کے لیے موجود ہے کہ تم نے سود کا لین دین اور سود کا نظام نہ چھوڑا تو پھر تیار ہو جاؤ کہ تمھارے خلاف اور تمھارے استحصالی نظام کے خلاف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے اعلان جنگ ہو چکا ہے۔
حضرت عبداللہ بن حنظلہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سود کا ایک درہم کھانا چھتیس مرتبہ زنا سے زیادہ شدید (جرم) ہے بشرطیکہ کھانے والے کو معلوم ہو کہ یہ درہم سود کا ہے
(جامع الصغری جلد ایک ص ۶۵۲،کنزالعمال جلد ۴،مشکوةالمصابیح حدیث ۵۲۸۲)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺنے فرمایا کہ جس رات مجھے معراج ہوئی میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے پیٹ ایسے تھے جیسے اژدھوں سے بھرے ہوئے گھر اور اژدھے پیٹوں سے باہر بھی دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے جبریل علیہ السلام سے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں۔ جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا یہ سود خور ہیں۔
(تفسیر ابن کثیر اردوجلد ایک پارہ سوم)
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سود لینے والے، دینے والے، تحریر لکھنے والے اور گواہوں، سب پر لعنت کی اور فرمایا وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں
(مسلم: جلد دوم ص ۷۲کتاب البیوع، باب لعن آکل الربوا و مُوکِلہ قدیمی کتب خانہ،الترغیب والترھیب جلد اول ص ۹۳۵،الدرالمنشور،)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سود لینے اور دینے والوں کے علاوہ بنکوں کا عملہ بھی اس گناہ میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔
آپﷺ نے فرمایا:''(سود کے گناہ کے) اگر ستر حصے کئے جائیں تو اس کا کمزور حصہ بھی اپنی ماں سے زنا کے برابر ہے'
' (ابن ماجہ بحوالہ مشکوٰة: کتاب البیوع، باب الربا، فصل ثالث)
سود خور کو قیامت کے دن خون کی نہر میں کھڑاکیاجائے گا:
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”رات میں نے خواب دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور مجھے ایک مقدس سر زمین کی طرف لے گئے،پھر دونوں چلتے رہے یہاں تک کہ ہم لوگ خون کی ایک نہر پر پہنچے،اس نہر میں بیچ میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا اور بعض روایتوں میں ہے کہ وہ بیچ میں تیر رہا تھا،اور نہر کے کنارے ایک شخص تھا جس کے سامنے پتھر تھے،نہر میں کھڑا یا تیرتا ہوا شخص جب باہر نکلنے کے لئے کنارے کی طرف بڑھتا تو کنارے پر کھڑا ہوا شخص پتھر پھینک کر اس کے منہ پر مارتا اور اسے اسی پرانی جگہ پر واپس کردیتا جہاں پر وہ پہلے کھڑا تھا،جب جب وہ کنارے آنے کوشش کرتا کنارے پر کھڑا شخص اس کے ساتھ یہی سلوک کرتا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”کہ میں نے اپنے ساتھی(حضرت جبرئیل علیہ السلام) سے پوچھا:یہ شخص کون ہے؟ انہوں نے فرمایا:یہ شخص جسے آپ نے خون میں کھڑا دیکھا ہے وہ سود خور ہے جو دنیا میں سود کھایا کرتا تھا،آج اس کو اس کے اسی جرم کی سزا دی جارہی ہے۔
(رواہ البخاری فی البیوع مختصرا، وفی الصلاة مطولا،انظرالترغیب والترھیب: 2?743)
سود انسان کو برباد کرنے والی چیز ہے:
سود خور کے لئے آخرت میں چند سزا ¶وں اور عذاب کے تذکرہ کے بعد آئیے چند دنیوی مضرتوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں، حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“ (صیحح البخار ¸ حسب ترقم فتح البار ¸: 4/ 12, صحح مسلم: 1/ 64)
یعنی سات ہلاک کردینے والی چیزوں سے بچو، لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کونسی چیزیں ہیں؟ آپ نے فرمایا:”اللہ کے ساتھ شرک کرنا،جادو، نا حق کسی شخص کو قتل کرنا، سود کھانا،یتیم کا مال کھانا، جنگ کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہونا،غافل عفیفہ مومنہ عورتوں پر الزام لگانا۔
اس طرح کی تباہی اور بربادی کے بے شمار واقعات معمولی تلاش و جستجو پر آپ کو سننے کو مل جائیں گے،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک حدیث میں فرمایا:”
(رواہ الحاکم عن ابن عباس وقال: ھذا حدیث صحیح الاسنادووافقہ الذہبی،انظرالمستدرک:۷۳ ج۲
جب کسی بستی میں زنا اور سود عام ہوجائے تو اس بستی والوں نے اپنے لئے اللہ کے عذاب کو حلال کرلیا۔
اس معنی کی حدیث مسند ابو یعلیٰ میں بھی بسند جید حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے مروی ہے۔
(دیکھئے الترغیب والترہیب۶۴۷،ج ۲
آپﷺ نے فرمایا: ''سود کا ایک درہم جو آدمی کھاتا ہے اور وہ اس کے سودی ہونے کو جانتا ہے تو وہ گناہ میں چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے''
(مسند احمد، دارمی، بحوالہ مشکوٰة: ح ۵۲۸۲کتاب البیوع، باب الربا،فصل ثالث،کنزالعمال جلد ۴،جامع الصغریٰ جلد ایک ص ۶۵۲)
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے کئی گناہ ایسے ہیں جو سود سے بھی بہت بڑے ہیں۔مثلاً شرک، قتل ناحق اور زنا وغیرہ لیکن اللہ اور اس کے رسولﷺ سے جنگ کی وعید اللہ تعالیٰ نے صرف سود کے متعلق سنائی ہے اور خود رسول اللہﷺ نے بھی ایسے سخت الفاظ استعمال فرمائے ہیں جو کسی اور گناہ کے متعلق استعمال نہیں فرمائے تو آخر اس کی وجہ کیا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ سود اسلامی تعلیمات کا نقیض اور اس سے براہِ راست متصادم ہے اور اس کا حملہ بالخصوص اسلام کے معاشرتی اور معاشی نظام پر ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں ایک دوسرے کا بھائی بن کر رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ وہ آپس میں مروّت، ہمدردی، ایک دوسرے پر رحم اور ایثار کا سبق سکھلاتا ہے۔ آپﷺ نے ساری زندگی صحابہ کرام ؓکو اُخوت و ہمدردی کا سبق دیا اور ایک دوسرے کے جانی دشمن معاشرے کی، وحی الٰہی کے تحت اس طرح تربیت فرمائی کہ وہ فی الواقع ایک دوسرے کے بھائی بھائی اور مونس و غمخوار بن گئے۔ اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ایک احسانِ عظیم شمار کرتے ہوئے قرآن میں دو مقامات پر اس کا تذکرہ فرمایا ہے: (سورئہ آل عمران کی آیت 103 میں اور سورئہ انفال کی آیت 63 میں) اور یہ چیز رسول اللہﷺ کی زندگی کا ماحصل تھا۔ جبکہ سود انسان میں ان سے بالکل متضاد رذیلہ صفات مثلاً بخل، حرص، زرپرستی اور شقاوت پیدا کرتا ہے۔ اور بھائی بھائی میں منافرت پیدا کرتا ہے جو اسلامی تعلیم کی عین ضد ہے۔
دوسرے یہ کہ اسلام کے معاشی نظام کا تمام تر ماحصل یہ ہے کہ دولت گردش میں رہے اور اس گردش کا بہاﺅ امیر سے غریب کی طرف ہو۔ اسلام کے نظامِ زکوٰة و صدقات کو اسی لئے فرض کیا گیا ہے اور قانونِ میراث اور حقوقِ باہمی بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں۔ جبکہ سودی معاشرہ میں دولت کا بہاﺅ ہمیشہ غریب سے امیر کی طرف ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی سود اسلام کے پورے معاشی نظام کی عین ضد ہے
آپﷺ نے فرمایا کہ '':لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جب ہر کوئی سود کھانے والا ہوگا۔ اگر سود نہ کھائے تو بھی اس کا بخار (اور ایک دوسری روایت کے مطابق) اس کا غبار اسے ضرور پہنچ کے رہے گا''
(نسائ ¸: کتاب البیوع، باب اجتناب الشبہات ف ¸ الکسب)

اور آج کا دور بالکل ایسا ہی دور ہے۔ پوری دنیا کے لوگوں اور اسی طرح مسلمانوں کے رگ و ریشہ میں بھی سود کچھ اس طرح سرایت کر گیا ہے، جس سے ہر شخص شعوری یا غیر شعوری طور پر متاثر ہو رہا ہے، آج اگر ایک مسلمان پوری نیک نیتی سے سود سے کلیتاً بچنا چاہے بھی تو اسے کئی مقامات پر اُلجھنیں پیش آتی ہیں۔ مثلاً آج کل اگر کوئی شخص گاڑی، سکوٹر، کار، ویگن، بس یا ٹرک خریدے گا تو اسے لازماً اس کا بیمہ کرانا پڑے گا۔ اگرچہ اس قسم کے بیمہ کی رقم قلیل ہوتی ہے اور یہ وہ بیمہ نہیں ہوتا جس میں حادثات کی شکل میں بیمہ کمپنی نقصان ادا کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہے۔ تاہم ہمارے ہاں قانون یہ ہے کہ جب تک نئی گاڑی کا بیمہ نہ کرایا جائے وہ استعمال میں نہیں لائی جاسکتی اور اس قلیل رقم کی قسم کا بیمہ ہر سال کرانا پڑتا ہے۔ اور بیمہ کا کاروبار شرعاً کئی پہلوﺅں سے ناجائز ہے جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔

اسی طرح تاجر پیشہ حضرات بنک سے تعلق رکھے بغیر نہ مال برآمد کرسکتے ہیں اور نہ درآمد۔ ان کے لئے آسان راہ یہی ہوتی ہے کہ وہ بنک سے ایل سی ((Letter of Credit یا اعتماد نامہ حاصل کریں۔ اس طرح تمام درآمد اور برآمد کردہ مال سودی کاروبار سے متاثر ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ تجارتی سود یا کمرشل انٹرسٹ Intrest) (Commercialکو جائز سمجھنے والے اور حمایت کرنے والے حضرات یہ حجت بھی پیش کیا کرتے ہیں کہ جب تمہارے گھر کی بیشتر اشیاءسودی کاروبار کے راستہ سے ہو کر تم تک پہنچی ہیں تو تم ان سے بچ کیسے سکتے ہو؟ تو اس قسم کے اعتراضات کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کے سود کو ختم کرنا یا اس کی متبادل راہ تلاش کرنا حکومت کا کام ہے اور اگر حکومت یہ کام نہیں کرتی تو ہر مسلمان انفرادی طور پر جہاں تک سود سے بچ سکتا ہے، بچے اور جہاں وہ مجبور ہے وہاں اس سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا کیونکہ شریعت کا اُصول ہے کہ'' مواخذہ اس حد تک ہے جہاں تک انسان کا اختیار ہے اور جہاں اضطرار ہے وہاں مواخذہ نہیں''
جاری ہے

اگر اس تحریر میں کہیں بھی کسی قسم کی کوئی بھی غلطی کوتاہی ہوئی ہو تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں معافی کا طلب گار ہوں
اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تومعذرت خواہ ہوں

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI

Read More Articles by MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI: 113 Articles with 97350 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Aug, 2017 Views: 1056

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ