قربانی کی اہمیت، فرضیت اور معاشی اثرات

(Maemuna Sadaf, Rawalpindi)

قربانی ایک عظیم عبادت ہے ۔قربانی کم و بیش ہر قوم وملت پر کسی نہ کسی صورت فرض کی گئی لیکن قربانی کے عمل کو حضرت ابراہیم کے ساتھ مخصوص کیا جاتا ہے ۔جس کی بنیادی وجہ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کا اﷲ کی راہ میں بالترتیب اپنی اولاد اور اپنی جان کی قربانی کا قصد جسے اﷲ نے قبول فرماتے ہوئے حضرت اسماعیل کو بچا کر ان کی جگہ ایک مینڈھا قربان فرما نا ۔ گویا ان کی قربانی کو قبول فرما کر آنے والی امتوں کو پیغام دے دیا گیا کہ اﷲ کی رضا ، مال و اولاد یہاں تک کہ اپنی جان سے بھی زیادہ ۔
قرآن پاک میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے ۔
ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی ہے تاکہ وہ چوپائیوں کے مخصوص جانوروں پر اﷲ کا نام لیں جو اﷲ تعالی ٰ نے عطاء فرمائے (سورت حج ۔آیت ۳۴)

قربانی کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت زید بن ارقم ؓ نے بیان فرمایا کہ رسول ﷺ کے صحابہ ؓ نے سوال کیا۔یا رسول اﷲﷺ قربانی کیا ہے؟ (یعنی قربانی کی حیثیت کیا ہے ؟)۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تمھارے باپ ابراہیم ؑ لہ سنت اور طریقہ ہے ۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ ہمیں اس قربانی کے کرنے سے کیا ملے گا ؟ فرمایا : ہر بال کے بدلے میں ایمک نیکی ۔ صحابہ کرام ؓ نے پھر سوال کیا ۔
یا رسول اﷲ ﷺ اون کے بدلے میں کیا ملے گا ۔ فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے نیکی ۔
ایک اور حدیث میں کچھ یوں منقول ہے ۔
عید الاضحی کے دن کوئی عمل اﷲ تعالی ٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے سندِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ لہذا تم خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔ (جامع ترمذی )
قربانی کا بنیادی سبق یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اپنے رب کی فرمانبرداری اور اطاعت میں کسی قسم کا دقیقہ فروگذاشت نہیں کرنا چاہیے۔ مال و دنیا کی محبت کو چھوڑ کر اﷲ کی محبت اختیار کریں۔
واضع رہے ! قربانی کا مقصود رضائے الٰہی ہے ۔

قربانی کے بے شمار معاشی اور معاشرتی اثرات بھی ہیں وہ لوگ جن کی بودوباش کا دارومدار جانوروں کی آفزائش پر ہے وہ عید قرباں کے موقع پر اپنے مویشیوں کی فروخت کے لیے سجائی جانے والی منڈیوں میں آتے ہیں۔ مویشیوں کی فروخت سے ان کے سال بھر کی روزی روٹی کا انتظام ہو پاتا ہے ۔ اس طرح روپیہ ایک ہاتھ سے نکل کر دوسرے ہاتھ میں جاتا ہے ۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 2.5 ملین گائیں ، 4 ملین بھیڑیں اور 1 ملین بکریاں یا بکرے قربان کیے جاتے ہیں ۔

مویشیوں کے ذبیحہ کی وجہ سے ان نادار اور سفید پوش لوگوں کو بھی گوشت کھانے کو ملتا ہے جو بوجہ سفید پوشی گوشت خریدنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔اس طرح معاشرتی طور پر مختلف طبقات کے درمیان تفاوت میں کمی لائی جا سکتی ہے ۔ انسانیت اور دوسروں کے لیے احساسات کا جذبہ اجاگر کیا جا سکتا ہے ۔
رفاعی ادارے جانوروں کی کھالیں عوام سے اکٹھی کرکے انھیں فیکڑیوں کو فروخت کرتے ہیں ۔ اس طرح ان رفاعی اداروں کے مالی مسائل میں بھی کمی واقع ہوتی ہے ۔

دوسری جانب ملک کے طول وعرض میں ہونے والی قربانی کی وجہ سے جانوروں کی کھالیں کافی اچھی مقدار میں حاصل ہوتی ہیں جن کو پروسسنگ کے بعد لیدر کی اشیاء بنانے کے کام میں لایا جاتا ہے ۔جس میں پرس، جوتے اور دیگر اشیاء شامل ہیں ۔یہ کھالیں لیدر انڈسٹری کو سستے داموں مل جاتی ہیں ۔ اس طرح لیدر انڈسٹری کو کھالوں کی فراہمی ممکن ہو پاتی ہے ۔ یہ کھالیں تقریبا تمام برس لیدر کی اشیاء بنانے کے کام آتی ہیں ۔ انھی کھالوں کی بدولت پاکستان کی لیدر انڈسٹری پوری دنیا میں مشہور ہے ۔ اس انڈسڑی سے منسلک ان گنت لوگ اسی کاروبار سے اپنی زندگی کی گاڑیوں کو احسن طریقے سے کھینچ پاتے ہیں ۔ اور ملک کو لیدر کی اشیاء کی فروخت سے کثیر زر ِ مبادلہ حاصل ہوتا ہے ۔یہ اربوں ڈالر کا بزنس اسی قربانی کی مرہون ِ منت ہے ۔

الغرض قربانی کی فضلیت مذہبی اعتبار سے تو مسلم ہے ہی لیکن معاشی اور معاشرتی اعتبار سے بھی قربانی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ قربانی کی اہمیت کا انکار کرنے والوں سے ایک گذارش آپ لبرل ضرور ہیں لیکن آپ کا لبرل ہونا اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے ۔ قربانی کا ایک پہلو دیکھ کر آپ فیصلہ کر بیٹھتے ہیں جو کسی طور مناسب نہیں ۔ قربانی مویشی بانوں کی معاش کا ایک ذریعہ ہے تو دوسری جانب ملک کی لیدر انڈسٹری کے لیے ایک ستون ۔

31 Aug, 2017 Views: 522

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ