دہرا معیار

(Abida Rahmani, Karachi)

زندگی بسر کرنیکی بے اصولی اور بے قاعدگی میں دہرا معیار یا double standard بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دہرا معیار شخصی رویوں سے لیکر خاندانی ، قومی ، سیاسی ، مذہبی اور بین الاقوامی سطح پر پا یا جاتا ہے ۔اس دورنگی اور تضاد سے ہمیں آئے دن واسطہ پڑتا ہے اور افسوسناک صورتحال سامنے آتی ہے ۔
شخصی طور پراس معیار کے حامل افراد اور اقوام کے ظاہر و باطن میں واضح تضاد پایا جاتا ہے ۔ یہ لوگ دنیا دکھاوے کو تو بے حدمہذب، نیک اور پارسا بنتے ہیں جبکہ باطنی طور پر انتہائی بد طینت اور بد اطوار ہوتے ہیں ۔ مثلا اگر ہم اس قسم کے مردوں کی مثال لیں تو اس قبیل کے مرد گھر کے باہر حد درجہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ جبکہ گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ غصہ ، چڑ چڑا پن اور بد مزاجی دکھاتے ہیں ۔ یہ تو ایک چھوٹی مثال ہے لیکن یہ دہرا معیار زندگی کے بیشترمعاملات میں افسوسناک حد تک دکھائی دیتا ہے۔اسی طرح کا رویہ خواتین کا بھی عام ہے ۔ یوں تو حد درجہ سوشل اور ملنسار رہینگی لیکن بوڑھے ساس سسر سے سیدھے منہ بات نہیں کرینگی بلکہ انکی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دینگی ۔جو کچھ اچھا انہیں اپنے میکے میں دکھائی دیتا ہے وہیں چن چن کر سسرال میں برائیاں ڈھونڈھتی رہتی ہیں ۔انمیں ایسے لوگ بے شمار ہیں جوکہ یوں تو کافی دیندار ہوتے ہیں لیکن حقوق العباد کی پامالی کرتے ہیں اور جب انسے کوئی معاملہ کیا جائے تو انتہائی گھٹیا پن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اسی طرح لین دین میں انکا پول کھل جاتا ہے ۔کینیڈا اور امریکہ میں ایسے ہمارے متعدد افرادموجود ہیں جو حکومتی امداد حاصل کرنیکے لئے اپنے آپ کو مختلف طریقوں سے مفلس اور مجبور دکھاتے ہیں ۔ ورنہ اچھے خاصے کھاتے پیتے ، خوشحال ، پابند نمازی اور پر ہیزگار لوگ ہوتے ہیں۔انکا دہرا معیار ان ناجائز ہتھکنڈوں کو جائز بنا دیتا ہے ۔اسطرح کے حرام ذرائع کو وہ درست سمجھتے ہیں جبکہ حلال گوشت کے حصول کے لئے تگ ودو کرینگےوہ سمجھتے ہیں کہ یہاں کی حکومت کو دھوکہ دینا جائز ہے جبکہ خود انکا منافقانہ کردار سامنے آجاتا ہے۔ یہی منافقانہ یا دوہرا معیار بچوں کی سرشت میں بھی آجاتا ہے ۔وہ بھی دکھاوے کو نیک اور شریف بنتے ہیں جبکہ گمراہی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

قومی اور معاشرتی سطح پر یہ دورنگی ، منافقت اور دہرا معیار ظلم اور نا انصافی کی حد تک چلا جاتا ہے ۔اسوقت بین ا لاقوامی سطح پر اگر ہم جائزہ لیں تو ظلم اور ناانصافی کا دور دورہ ہے۔ غریب ، غریب تر اور امیر امیر تر ہو تا جا رہا ہے ۔ دنیا کے ممالک اسی دو رنگی اور دہرے معیار کی وجہ سے بٹے ہوئے ہیں ایک جانب امیر ممالک میں دولت کی ریل پیل ہے جبکہ دوسری جانب غربت ، فاقے اور قحط سالی کے ڈیرے ہیں ۔ایک جانب خوراک کی اسقدر فراوانی کہ آدھی خوراک کوڑے کی نذر ہو جاتی ہے جبکہ ایسے ممالک ہیں جہاں بھوک اور قحط سالی کے ڈیرے ہیں انسان ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے ہوئے ہیں ۔ بھوک اور افلاس ہلاکتوں پر ہلاکتیں ہورہی ہیں ۔ یہی دوہرا معیار لڑائیوں اور جنگوں میں روا رکھا جاتا ہے ایک طرف امن و آشتی کی باتیں ہین جبکہ انہی ممالک نے اپنے باشندوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے ۔ برما کے روہنگیا مسلمان اور نوبل امن انعام یافتہ آن سانگ سوچی اسکی بہترین مثال ہیں ۔ روہنگیا مسلمان جس خونریزی ، اذیت اور بر بریت سے گزر رہے ہیں آن سانگ سوچی کا نوبل انعام اسکی پاداش میں انسے واپس لیا جائے اسلئے کہ وہ جس ملک کی حکمران ہے اسی میں یہ بہیمانہ کرروائیاں ہورہی ہیں ۔ اور وہ کسی بھی طرح اس انعام کی حقدار نہیں ہے۔

امریکہ کا اسلامی دہشت گردی کا الزام بھی ایک دہرا معیار ہے ابھی پرسوں لاس ویگاس کے منڈالے بے کسینو میں 60 لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے ۔ اسکو ایک بد دماغ آدمی کی کاروائی قرار دیا گیا اگر کرنے والا کوئی مسلمان ہوتا تو اسکو عالمی دہشت گردی سے جوڑ کر مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جاتا۔

اسی طرح عرب ممالک میں دولت کے ریل پیل اور عیاشی کے مصارف کی کوئی انتہا نہیں۔ جبکہ دوسری جانب مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد غربت اور فاقوں کاشکارہے۔

سعودی عرب کاہمسایہ ملک یمن سعودی دراندازی کے نتیجے میں سخت غذائی قلت اور کسماپر سی کا شکار ہے۔ اسی دہرے معیار کے تحت مشرقی وسطی ایک بھڑکتے ہوئے جہنم کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔

یہ دو چہرہ لوگ منافق کہلاتے ہیں ۔ انسانی تاریخ میں منافقت ایک ایسا روّیہ ہے جوکبھی کسی جماعت' ادا رے یا شخصیت کی پالیسی یا ادارہ جاتی قانون کا باقاعدہ حصّہ نہیں بنا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکا غیر اعلانیہ استعمال بڑھتا رہا۔ دور نبویﷺ میں اس روّیے کے حاملین کو منافقین کہا گیا۔ مگر دور حاضر میں یار لوگوں نے اس کے معنی و مفہوم ہی بدل دیے اب جب دل چاہے جس کو چاہے منافق کہہ دیا جاتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abida Rahmani

Read More Articles by Abida Rahmani: 195 Articles with 162870 views »
I am basically a writer and write on various topics in Urdu and English. I have published two urdu books , zindagi aik safar and a auto biography ,"mu.. View More
05 Oct, 2017 Views: 588

Comments

آپ کی رائے