علماء کاکام بھی اعلیٰ ہے اورعلماء کامقام بھی اعلی

(Tariq Noman, )

جس لوگوں کی شان رب نے بڑھائی ہے ان کااحترام کرنارب کے بندوں پہ بھی ضروری ہے یاد رکھیے کہ علماء کامقام ومرتبہ بلند ہے ۔علماء کے مقام ومرتبہ کااندازہ آپ ﷺکے اس فرمان سے لگایاجاسکتاہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں ۔علماء کرام کاوہی کام ہے جوحضرات انبیاء علیہم السلام کاتھا،خواہ وہ دعوت وتبلیغ کامیدان ہویاجہاد کا،علم وعمل کامیدان ہویاتزکیہ نفس کا۔
علماء کاکام بھی اعلیٰ ہے اورعلماء کامقام بھی اعلیٰ ہے اس کائنات میں سب سے اچھااورسب سے مشکل ترین کام اگردیکھناہوتووہ علماء کرام کاہے اچھااس لیے کہ یہ نبیوں والاکام ہے اورمشکل ترین اس لیے کہ وہ تکالیف بھی برداشت کرناپڑھ جاتی ہیں جوانبیاء علیہم السلام کوپہنچی ،دربارِرسالت ﷺکے لاتعدادفرامین علماء کرام کی شان میں ملتے ہیں آئیے چلتے ہیں دربارِرسالت میں۔
حضرت ابن عباس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا:ایک فقیہ (یعنی عالمِ دین )شیطان پر ایک ہزارعابدوں سے زیادہ ہے (ترمذی وابن ماجہ )
حضرت ابن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا،دوشخصوں کے بارے میں حسد کرناٹھیک ہے ایک وہ شخص جسے خدانے مال دیااورپھر اسے راہِ حق میں خرچ کرنے کی توفیق عنایت فرمائی ۔دوسراوہ شخص جسے خدانے علم دیاچنانچہ وہ اس علم کے مطابق حکم کرتااور(دوسروں کو)سکھاتاہے (مشکٰوۃشریف)
حضرت ابی امامہ باہلی ؓروایت کرتے ہیں کہ سرکارِدوعالمﷺکے سامنے دوآدمیوں کاذکر کیاگیا،جس میں سے ایک عابد تھااوردوسراعالم (یعنی آپﷺسے پوچھاگیاکہ ان دونوں میں سے افضل کون ہے؟)حضوراکرمﷺ نے فرمایاکہ عالم کوعابد پرایسی فضیلت ہے جیسی کہ میری فضیلت اس شخص پرجوتم سے ادنیٰ درجہ کاہو۔پھراس کے بعدآنحضرت ﷺ نے فرمایا:بلاشبہ اﷲ تعالیٰ،اس کے فرشتے اورآسمانوں زمین کی تمام مخلوق یہانتک کہ چیونٹیاں اپنی بلوں میں اورمچھلیاں اس شخص کے لیے دعائے خیر کرتی ہیں جولوگوں کوبھلائی (یعنی علمِ دین )سکھاتاہے(مشکوٰۃ شریف)
حضرت کثیربن قیس فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابودرداء ؓ کے پاس دمشق کی مسجد میں بیتھاہواتھاکہ ان کے پا ایک شخص آیااورکہاکہ میں سرکاردوعالم ﷺ کے شہر سے آپ کے پاس ایک حدیث کے لیے آیاہوں جس کے بارہ میں مجھے معلوم ہواہے کہ اسے آپ سرکاردوعالم ﷺسے نقل کرتے ہیں ۔آپ کے پاس میرے آنے کی اس کے علاوہ کوئی غرض نہیں ہے ۔
(یہ سن کر)حضرت ابودرداءؓ نے فرمایا: میں نے آنحضرت ﷺ کوفرماتے ہوئے سناکہ جوشخص کسی راستہ کو(خواہ وہ لمباہویامختصر)علمِ دین حاصل کرنے کے لیے اختیار کرتاہے تواﷲ تعالیٰ اس کوبہشت کے راستے پر چلاتاہے اورفرشتے طالب علم کی رضامندی کے لیے اپمے پروں کوبچھاتے ہیں ۔اورعالم کے لیے ہر وہ چیزجوآسمانوں کے اندر ہے(یعنی فرشتے)اورجوزمین کے اوپر ہے(یعنی جن وانس)اورمچھلیاں جوپانی کے اندر ہیں دعاء مغفرت کرتی ہیں اورعابدپرعالم کوایسی ہی فضیلت ہے جیسے کہ چودہویں کاچاندتمام ستاروں پرفضیلت رکھتاہے اورعالم انبیاء کے وارث ہیں ۔انبیاء وراثت میں دیناراوردرہم نہیں چھوڑ گئے ہیں ان کاورثہ علم ہے لہٰذاجس نے علم حاصل کیااس نے کامل حصہ پایا(مشکوٰۃشریف)
علماء کرام سے استفادہ حاسل کرناہرایک انسان کے لیے ضروری ہے یہ دین بڑی محنتوں اورکوششوں کے بعد ہم تک پہنچااس کائنات میں کسی چیز کے وجود کاہونا ضرورت نہیں جتناعلماء حق کاوجودضروری ہے بعض لوگ علماء کوحقارت ونفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں اگر یہ لوگ علماء کوان کے عالم ہونے کی وجہ سے نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں توان لوگوں کواپنے ایمان کی تجدید کر لینی چاہیے علماء سے محبت ایمان کاحصہ ہے اوران سے نفرت ایمان کے ضیاع ہونے کی نشانی ہے رسول اﷲ ﷺ نے فرمایاکہ وہ شخص میری امت میں سے نہیں جوہماڑے بڑوں کے تعظیم نہ کرے ،ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اورہمارے علماء کی قدر نہ کرے(الترغیب والترہیب)
رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ جب میری امت علماء سے بغض رکھنے لگے گی اوربازاروں کی عمارتوں کوبلند اورغالب کرنے لگے گی اورمال ودولت کے ہونے پر نکاح کرنے لگے گی تواﷲ تعالیٰ ان پر چارقسم کے عذاب مسلط فرمادینگے(1)قحط سالی ہوجائے گی(2)بادشاہ کی طرف سے مظالم ہونگے(3)حکام خیانت کرنے لگیں گے(4)دشمنوں کے پے درپے حملے ہونگے
آج کل یہ سب عذاب امت پہ مسلط ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اس طرف نظرنہیں دوڑاتے جس کی وجہ سے عذاب ہم پہ مسلط ہوئے ہیں
یادرکھیے نبی کریم ﷺ کایہ بھی فرمان ہے کہ انسان جس سے محبت رکھے گاکل اسی کے ساتھ ہوگااگر علماء حق سے محبت ہوگی توکل قیامت کے دن علماء حق کے ساتھ اُٹھائے جائیں گے اوراگرمحبت علماء کے معاندین کے ساتھ ہوگی توان کے ساتھ اٹھائے جائیں گے۔
علماء کی توہین کرنے والے کاانجام
مجاہدختم نبوت جراٗ ت وبہادری کے عظیم سپوت اسلام کے عظیم سپاہی حضرت مولاناقاضی محمدعبداﷲ خالد صاحب مرحوم نے ایک عجیب واقعہ سنایاکہ دارالعلوم دیوبند میں ایک مرتبہ رات کوعشاء کی نماز کے بعدسات آدمی بیٹھے اورکچھ عجیب وغریب گفتگوشروع کر دی ،درمیان میں علماء کرام کابھی ذکر آگیا ان میں ایک نے کہاکچھ علماء یوں بیان کرتے ہیں کچھ یوں کرتے ہیں وہاں دیوبند میں ایک مدرس تھے مولانامحبوب الٰہی واقعی وہ محبوب الٰہی تھے ان کے ہاتھ کی کچھ انگلیاں اندر کوتھیں اس نے ان کامذاق کرتے ہوئے ہاتھ لہراکر اشارہ کیاکہ کچھ یوں کرتے ہیں بس پھراچانک اٹھے اوررات کوگھروں کوچلے گئے رات کوساتوں آدمیوں کورحمت کائنات ﷺ خواب میں آئے اور سخت غصے میں ہیں ،اورفرمارہے ہیں میرے محبوب الٰہی کی توہین کی جائے ،میرے محبوب الٰہی کی توہین کی جائے ۔اوردوسری طرف بانی دارالعلوم دیوبند مولانامحمدقاسم نانوتوی ؒ دامن پھیلارہے ہیں اورفرمارہے ہیں ان کومعاف کردیاجائے آپ ﷺ نے آخر میں چھ کومعاف کردیااورساتویں کے بارے میں فرمایااس کے لیے معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے صبح کی نماز میں چھ آدمی آئے انہوں نے اپنے خواب بھی سنائے اورمعافی بھی مانگی اورآنسوبرسات کی طرح برسائے ،ساتواں جورات کومسجد میں مزے لے لے کر باتیں کر رہاتھامعلوم ہوکہ موت نے اسے اپنالقمہ بنالیاہے ،جسم سوج گیااسی حالت میں دفنادیاگیا،علماء کی توہین کی توجان سے ہاتھ دھوگیا۔۔۔
(حوالہ ۔رنگ برنگی بیاض گڑنگی صفحہ 93)
حضرت عبداﷲ بن عباسؓ مشہورصحابی ،زبردست عالم وفقیہ اورقرآنی علوم کے ماہر تھے۔حضرت شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عباسؓ نے حضرت زیدبن ثابتؓ (جومشہورفقہاء صحابہ میں سے تھے)کی رکاب تھام لی ۔حضرت زید نے فرمایاکہ آپؓ میری رکاب پکڑے ہوئے ہیں ؟جب کہ آپ اﷲ کے رسولﷺکے چچازادبھائی ہیں آپ خودعظیم المرتبت اورلائق احترام ہیں ،ایساکیوں کررہے ہیں؟توحضرت ابن عباسؓنے جواب دیاکہ ہم علماء کے ساتھ ایساہی ادب واحترام کامعاملہ کرتے ہیں (حیات السابقین)
علماء حق یاعلماء آخرت کی بارہ نشانیاں امام غزالی ؒ نے کچھ یوں بیان کی ہیں
(1)اپنے علم سے دنیانہ کماتاہو،
(2)اس کے قول وفعل میں تضاد نہ ہو
(3)ایسے علوم میں مشغول ہوجوآخرت میں کام آنے والے ہوں اورنیک کاموں میں رغبت پیداکرنے والے ہوں
(4)کھانے پینے اورلباس کی نزاکتوں کی طرف متوجہ نہ رہے بلکہ ان چیزوں میں میانہ روی ہو
(5)بادشاہوں اورحکام سے دور رہے چنانچہ اسی لیے حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ اپنے آپ کوفتنوں کی جگہ کھڑے ہونے سے بچاؤ، پوچھا گیاکہ فتنوں کی جگہ کونسی ہے؟فرمایاکہ اُمراء کے دروازے کہ ام کے پاس جاکر ان کی غلط کاریوں کی تصدیق کرنی پڑتی ہے نبی کریم ﷺ کاارشاد پاک ہے کہ بدترین علماء وہ ہیں حکام کے دربار میں حاضر ہوں اوربہترین حاکم وہ ہیں جوعلماء کے دروازے پر حاضری دیں
(6)فتویٰ صادر کرنے میں جلدی نہ کرے مسئلہ بتانے میں بھی احتیاط سے کام لے
(7)اس کوباطنی علم یعنی سلوک کابہت زیادہ اہتمام ہواپنی اصلاح قلب واصلاح باطن میں بہت زیادہ کوشش کرتاہو
(8)اﷲ تعالیٰ کے ساتھ ایما ن اوریقین بہت زیادہ بڑھاہواہوکیونکہ یقین ہی راس المال ہے
(9)اس کی ہرحرکت وسکون سے خوف خداٹپکتاہو
(10)وہ ان مسائل کابہت زیادہ اہتمام کرتاہوجواعمال سے اورجائزناجائز سے تعلق رکھتے ہوں
(11)اپنے علوم میں بصیرت کے ساتھ نظر کرنے والاہو
(12)بدعات سے بہت زیادہ شدت اوراہتمام کے ساتھ بچتاہویہ علماء حق کی بارہ نشانیاں ہیں
علم حاصل کرناآج کے جدیددور میں آسان ہے اس پہ عمل کرنااس پُرفتن دور میں انتہائی مشکل ہے علم کے ساتھ عمل بھی ہوتوپھراس عالم کوچارچاندلگ جاتے ہیں ۔دنیاوآخرت میں سرخروہوجاتاہے۔اﷲ پاک ہمیں بھی علم کے ساتھ ساتھ عمل کی توفیق عطافرمائے(آمین)

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tariq Noman

Read More Articles by Tariq Noman: 69 Articles with 46259 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Oct, 2017 Views: 1103

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ