حدیث عود روح، ایک غیر جانبدارانہ تجزیہ - 1

(Manhaj As Salaf, Peshawar)

تحریر: حافظ ابویحییٰ نورپوری حفظہ اللہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق قبر میں مردے سے سوال و جواب کیے جاتے ہیں تو اس وقت مردے کی روح اس کے جسم میں لوٹائی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
وتعاد روحه فى جسده، ويأتيه ملكان،فيجلسانه، فيقولان له : من ربك؟

’’ مردے کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، وہ اسے بٹھا دیتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟۔۔۔“ [مسند أبى داؤد الطيالسي : 114/2، ح :، 789 طبعة دار هجر، مصر، الزهد والرقائق لابن المبارك والزهد لنعيم ابن حماد المروزي : 1219، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت، مصنف ابن أبى شيبة : 54/3، ح : 12062، طبعة مكتبة الرشد، الرياض، مسند أحمد : 499/30، طبعة مؤسسة الرسالة، الزهد لهناد بن السري : 205/1، ح : 339، طبعة دار الخلفاء للكتاب الاسلامي، الكويت، سنن ابي داؤد السجستاني : 4753، الرد على الجهمية للدارمي : 110، طبعة دار ابن الأثير، الكويت، تفسير الطبري : 660/13، طبعة دار هجر، مستخرج أبى عوانة ”إتحاف المهرة لابن حجر : 459/2، طبعة مجمع الملك فهد، المدينة“، مسند الروياني : 263/1، 392، طبعة مؤسسة القرطبة، القاهرة، الشريعة للآجري : 1294/3، طبعة دار الوطن، الرياض، الإيمان لابن مندة : 1064، طبعة مؤسسة الرسالة، بيروت، المستدرك على الصحيحين لالحاكم : 93/1، ح : 107، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت، إثبات عذاب القبر للبيهقي : 20،21، طبعة دار الفرقان، عمان]

↰ قارئین کرام نے ملاحظہ فرما لیا ہے کہ اس حدیث کو تدوین حدیث کے شروع سے لے کر ہر دور میں متقدمین و متاخرین محدثین نے عقیدے اور دیگر موضوعات پر مبنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ محدثین کرام نے اس حدیث سے عقیدے کے بہت سے مسائل کا استنباط کیا ہے۔ اہل فن اور نقاد محدثین میں سے کسی ایک نے بھی اس حدیث کو ناقابل اعتبار قرار نہیں دیا۔ اس کے تمام راوی جمہور محدثین کرام کے ہاں ثقہ و صدوق ہیں۔ اس حدیث کے صحیح ہونے کے لیے یہی بات کافی تھی، اس پر مستزاد کہ کئی ایک محدثین نے اس کے صحیح ہونے کی صراحت بھی کر دی ہے، جیساکہ :

➊ امام ابوعبداللہ، محمد بن اسحاق بن محمد بن یحییٰ، ابن مندہ، عبدی رحمہ اللہ (م : 395ھ) اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
هذا إسناد متصل مشهور، رواه جماعة عن البراء، وكذلك رواه عدة عن الأعمش، وعن المنهال بن عمرو، والمنهال أخرج عنه البخاري ما تفرد به، وزاذان أخرج عنه مسلم، وهو ثابت على رسم الجماعة. وروي هذا الحديث عن جابر، وأبي هريرة، وأبي سعيد، وأنس بن مالك، وعائشة رضي الله عنهم.

’’ یہ متصل اور مشہور سند ہے۔ اسے کئی راویوں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے۔ اسی طرح بہت سے راویوں نے اسے اعمش اور منہال بن عمرو سے بیان کیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے (صحیح بخاری میں) منہال بن عمرو کی ایک ایسی حدیث بھی بیان کی ہے، جسے بیان کرنے میں وہ اکیلا ہے۔ زاذان راوی کی روایت امام مسلم رحمہ اللہ نے (اپنی صحیح) میں ذکر کی ہے۔ یوں یہ حدیث، متواتر حدیث کی طرح ثابت ہے۔ یہ حدیث دیگر صحابہ کرام، سیدنا جابر، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوسعید، سیدنا انس بن مالک اور سیدہ عائشہ سے بھی مروی ہے۔“ [الإيمان لابن مندة : 962/2، ح : 1064، طبعة مؤسسة الرسالة، بيروت]

➋ امام ابونعیم، احمد بن عبداللہ، اصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وأما حديث البراء فحديث مشهور، رواه عن المنهال بن عمرو الجم الغفير، وهو حديث اجمع رواة الاثر على شهرته و استفاضته.

’’ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث مشہور کے درجے پر ہے، اسے منہال بن عمرو سے محدثین کی بہت بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔ اس کے مشہور اور مستفیض ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔“ [مجموع الفتاوى لا بن تيمية: 439/5، طبعة مجمع الملك فهد، المدينة]

➌ امام ابوعبداللہ، محمد بن عبداللہ، حاکم، نیشاپوری رحمہ اللہ (321-405ھ) فرماتے ہیں :
هذا حديث صحيح على شرط الشيحين، فقد احتجا جميعا بالمنهال بن عمرو وزاذان أبى عمر الكندي، وفي هذا الحديث فوائد كثيرة لأهل السنة، وقمع للمبتدعة، ولم يخرجاه بطوله، وله شواهد على شرطهما، يستدل بها على صحته.

’’ یہ حدیث امام بخاری و مسلم رحمها اللہ کی شرط پر صحیح ہے۔ امام بخاری و مسلم دونوں نے منہال بن عمرو اور زاذان ابوعمر کندی کی روایات کو دلیل بنایا ہے (منہال کی روایت بخاری میں، جبکہ زاذان کی مسلم میں ہے)۔ اس حدیث میں اہل سنت کے لیے بہت سے فوائد ہیں اور یہ بدعت شکن ہے۔ امام بخاری و مسلم نے اسے تفصیلاً بیان نہیں کیا، البتہ بخاری و مسلم کی شرط پر اس حدیث کے کئی شواہد ہیں، جن سے اس کی (مزید) صحت پر استدلال کیا جاتا ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين :196/1 طبعة دار الكتب العلمية، بيروت]

➍ امام ابوبکر، احمد بن حسین بن علی، بیہقی رحمہ اللہ (384- 458ھ) فرماتے ہیں :
هذا حديث صحيح الإسناد.
’’ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔“ [شعب الإيمان للبيهقي : 610/1، ح : 390، طبعة مكتبة الرشد، الرياض]

➎ حافظ ابومحمد، زکی الدین، عبدالعظیم بن عبدالقوی، منذری رحمہ اللہ ( 581-656ھ) لکھتے ہیں :
هذا الحديث حديث حسن، رواتهٔ محتج بهم فى الصحيح

’’ یہ حدیث حسن ہے، اس کے راویوں سے صحیح (بخاری و مسلم) میں حجت لی گئی ہے۔“ [الترغيب والترهيب للمنذري : 197/4، ح : 5396، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت]


➏ مشہور مفسر، علامہ، ابوعبداللہ، محمد بن احمد، قرطبی رحمہ اللہ (م:671ھ) فرماتے ہیں :
وهو حديث صحيح، له طرق كثيرة

’’ یہ حدیث صحیح ہے، اس کی بہت سی سندیں ہیں۔“ [التذكرة بأحوال الموتى وأمور الآخرة، ص: 359، طبعة دار المنهاج، الرياض]

➐ شیخ الاسلام، تقی الدین، احمد بن عبدالحلیم، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728 ھ) فرماتے ہیں :
وهو على شرطهما ’’ یہ حدیث امام بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔“ [شرح حديث النزول، ص : 83، طبعة المكتب الاسلامي، بيروت]

➑ علامہ، ابوعبداللہ، محمد بن احمد بن عبدالہادی دمشقی رحمہ اللہ (705-744 ھ) فرماتے ہیں :
وقد ثبت فى حديث البراء بن عازب الطويل المشهور فى عذاب القبر ونعيمه، فى شأن الميت وحاله، أن روحه تعاد إلى جسده.

’’ سیدنا براء بن عازب کی عذاب و ثواب قبر کے بارے میں بیان کردہ طویل اور مشہور حدیث میں میت کے بارے میں یہ ثابت ہے کہ روح اس کی طرف لوٹائی جاتی ہے۔“ [الصارم المنكي فى الرد على السبكي، ص : 223، طبعة مؤسسة الريان، بيروت]

➒ علامہ، شمس الدین، ابوعبداللہ، محمد بن احمد بن عثمان ذہبی رحمہ اللہ (673- 748ھ) لکھتے ہیں :
على شرطهما ’’ یہ حدیث امام بخاری و مسلم کی شرط پر ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين مع تلخيص الذهبي :196/1 طبعة دار الكتب العلمية، بيروت]

➓ شیخ الاسلام ثانی، علامہ محمد بن ابوبکر بن ایوب، ابن قیم رحمہ اللہ (691- 751ھ) فرماتے ہیں :
وهذا حديث صحيح ’’ یہ حدیث صحیح ہے۔“ [إعلام الموقعين :137/1، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت]

◈ نیز فرماتے ہیں :
وذهب إلى القول بموجب هذا الحديث جميع أهل السنة والحديث من سائر الطوائف.
’’ اہل سنت و حدیث کے تمام گروہ بالاتفاق اس حدیث کے مطابق عقیدہ رکھتے ہیں۔“ [الروح فى الكلام على أرواح الأموات والأحياء، ص : 42، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت]

◈ ایک مقام پر فرماتے ہیں :
هذا حديث ثابت، مشهور، مستفيض صححه جماعة من الحفاظ، ولا نعلم أحدا من أئمة الحديث طعن فيه، بل رووه فى كتبهم، وتلقوهٔ بالقبول، و جعلوه اصلا من اصول الدين فى عذاب القبر ونعيمه، ومسائلة منكر و نكير، وقبض الأرواح وصعودها إلى بين يدي الله، تم رجوعها إلى القبر.

’’ یہ حدیث ثابت، مشہور اور مستفیض ہے۔ اسے بہت سے حفاظ ائمہ کرام نے صحیح قرار دیا ہے۔ ہمارے علم کے مطابق ائمہ حدیث میں سے کسی نے اس میں طعن نہیں کی، بلکہ انہوں نے اسے اپنی کتابوں میں روایت کر کے اسے قبول کیا ہے اور عذاب و ثواب قبر، منکر نکیر کے سوالات، قبض روح، اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف جانے اور پھر قبر کی طرف واپس لوٹنے کے بارے میں بنیادی دینی حیثیت دی ہے۔“ [الروح فى الكلام على أرواح الأموات والأحياء، ص:48، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت]

⓫ علامہ ابوالحسن، علی بن ابوبکر بن سلیمان ہیثمی (735-807ھ) لکھتے ہیں :
هو فى الصحيح وغيره باختصار، رواه أحمد، ورجاله رجال الصحيح.
’’ یہ حدیث صحیح بخاری وغیرہ میں اختصار کے ساتھ موجود ہے۔ اسے امام احمد رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے اور اس کے راوی صحیح (بخاری و مسلم ) والے ہیں۔“ [مجمع الزوائد ومنبع الفوائد : 50/3، 4266، طبعة مكتبة القدسي، القاهرة]

⓬ حافظ، ابوالفضل، احمد بن علی، ابن حجر رحمہ اللہ (773-852ھ) اس کی صحت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
و صححه ابو عوانة وغيره. ’’ اسے امام ابوعوانہ وغیرہ نے صحیح قرار دیا ہے۔“ [فتح الباري : 234/3]

⓭ علامہ عبدالرحمٰن بن ابوبکر، سیوطی (849-911ھ) لکھتے ہیں :
اخرج احمد وابن ابي شيبة فى المصنف والطيالسي وعبد الله فى مسنديهما، وهناد بن السري فى الزهد، وأبو داؤد فى سننه، والحاكم فى المستدرك، وابن جرير، وابن أبى حاتم، والبيهقي فى كتاب عذاب القبر، وغيرهم من طرق صحيحة، عن البراء بن عازب.

’’ اس حدیث کو امام احمد نے (اپنی مسند میں )، امام ابن ابوشیبہ نے اپنی مصنف میں، امام (ابوداؤد) طیالسی اور امام عبداللہ ( ؟ ) نے اپنی مسند میں، امام ہناد بن سری نے اپنی کتاب الزہد میں، امام ابوداؤد نے اپنی سنن میں، امام حاکم نے اپنی مستدرک میں، امام ابن جریر، امام ابن ابوحاتم نے اور امام بیہقی نے کتاب عذاب قبر میں، نیز دیگر ائمہ کرام نے (اپنی اپنی کتب میں ) سیدنا براء بن عازب سے صحیح سندوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔“ [شرح الصدور بشرح حال الموتى والقبور، ص:61، طبعة دار المعرفة، لبنان]

⓮ علامہ، ابوالحسن، عبیداللہ بن محمد عبدالسلام، مبارکپوری رحمہ اللہ (1327-1414 ھ) فرماتے ہیں :

والحديث نص فى أن الروح تعاد إلى الميت فى قبره وقت السؤال، وهو مذهب جميع أهل السنة من سائر الطوائف.

’’ یہ حدیث اس بات پر واضح دلیل ہے کہ قبر میں میت سے سوال کے وقت اس کی روح لوٹائی جاتی ہے۔ اہل سنت کے تمام گروہوں کا یہی مذہب ہے۔“ [مراعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: 331/5، طبعة إدارة البحوث العلمية، الهند]

⓯ علامہ، ابوعبدالرحمٰن، محمد ناصر الدین بن الحاج نوح، البانی رحمہ اللہ (1332-1420 ھ) فرماتے ہیں :

وقال الحاكم : صحيح على شرط الشيخين، وأقره الذهبي، وهو كما قالا.

’’ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے (کہ یہ حدیث صحیح ہے )۔“ [أحكام الجنائز، ص: 159، طبعة المكتب الإسلامي]

↰ قارئین غور فرمائیں کہ مختلف ادوار کے ایک درجن سے زائد محدثین اور اہل علم کی طرف سے اس حدیث کی صحت کی توثیق ہو چکی ہے۔ کسی ایک بھی اہل فن محدث نے اسے ’’ ضعیف“ قرار نہیں دیا۔ اہل سنت و الجماعت کا ہر دور میں اتفاقی طور پر یہی عقیدہ رہا ہے، لیکن موجودہ دور میں ڈاکٹر مسعود الدین عثمانی نے اس حدیث کو ’’ ضعیف“ قرار دیتے ہوئے اس کے دو راویوں منہال بن عمرو اور زاذان ابوعمر کے بارے میں جرح ذکر کی ہے۔

↰ اپنے زعم میں ڈاکٹر عثمانی نے بڑی علمی کاوش کی ہے، لیکن حقیقت میں انہوں نے محدثین کرام کی مخالفت مول لے کر بہت بڑی جہالت کا ارتکاب کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ محدثین کرام جنہوں نے خود قرآن و سنت کی روشنی میں روایات کے قبول و رد کے قوانین وضع کیے اور کمال احتیاط سے راویان حدیث کے مراتب طے کیے، وہ اس حدیث کی علتوں سے واقف نہ ہو سکے اور جو لوگ رجال حدیث سے اچھی طرح واقف بھی نہیں تھے، ان کے سامنے اس حدیث میں موجود ’’ خرابیاں“ عیاں ہو گئیں ؟ اور اسی بنا پر ان لوگوں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسے امام اہل سنت اور دیگر محدثین و اکابرین امت کے بارے میں کفر و شرک کے فتوے داغنے شروع کر دئیے !

↰ آئندہ سطور میں ہم اسی بات کا جائزہ لیں گے اور اصول محدثین کی روشنی میں انتہائی انصاف کے ساتھ واضح کریں گے کہ یہ ساری کارروائی ڈاکٹر عثمانی نے اپنی جہالت کی وجہ سے کی ہے۔ اگر ان کو فن حدیث و رجال میں ادنیٰ سا بھی درک ہوتا تو وہ ہرگز ایسی جاہلانہ کاوش نہ کرتے۔
محدثین کرام اور منہال بن عمرو کی توثیق

منہال بن عمرو کی حدیث صحیح ہے، اس بارے میں ایک درجن سے زائد محدثین و نقاد اہل فن کی آراء ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ان سب کے نزدیک منہال بن عمرو ثقہ راوی ہے۔ اب اس کے بارے میں مزید محدثین کرام کی شہادتیں ملاحظہ فرمائیں :
➊ امام جرح و تعدیل یحییٰ بن معین رحمہ اللہ (158-233 ھ) فرماتے ہیں :
المنهال بن عمرو ثقة.
”منہال بن عمرو ثقہ راوی ہے۔“ [الجرح والتعديل لابن أبى حاتم : 357/8، طبعة مجلس دائرة المعارف العثمانية، الهند، وسنده صحيح، تاريخ ابن معين برواية الدوري: 407/3، طبعة مركز البحث العلمي، مكة المكرمة]

➋ امام اہل سنت، ابوعبداللہ، احمد بن حنبل رحمہ اللہ (164-241 ھ) فرماتے ہیں :
أبو بشر أوثق، إلا أن المنهال أمتن.
”ابوبشر زیادہ ثقہ ہے، لیکن منہال زیادہ مضبوط راوی ہے۔“ [الضعفاء الكبير للعقيلي : 236/4، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت]

↰ یعنی امام احمد کے نزدیک اگرچہ منہال بن عمرو کی نسبت ابوبشر زیادہ ثقہ ہے، لیکن ان کے نزدیک منہال بن عمرو بہی مضبوط راوی ہے۔

➌ امام بخاری رحمہ اللہ (194-256ھ) نے صحیح بخاری میں منہال بن عمرو سے حدیث نقل کی ہے۔ [دیکھیں : حديث نمبر:3371] یہ امام بخاری رحمہ اللہ کے منہال بن عمرو پر اعتماد۔ کرنے کی دلیل ہے، کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب میں صرف صحیہ احادیث ذکر کی ہیں اور اپنی کتاب کا نام بھی ’’ صحیح“ رکھا ہے اور امت مسلمہ نے اتفاقی طور پر اس کے صحیح ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔

◈ شارح بخاری ابوالفضل، احمد بن علی بن محمد، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (م :852 ھ) فرماتے ہیں :
ينبغي لكل منصف ان يعلم ان تخريج صاحب الصحيح لاي راو، كان مقتض لعدالته عنده، وصحة ضبطه، وعدم غفلته، ولا سيما ما انضاف إلى ذلك من إطباق جمهور الأئمة على تسمية الكتابين بالصحيحين، وهذا معنى لم يحصل لغير من خرج عنه فى الصحيح، فهو بمثابة اطباق الجمهور على تعديل من ذكر فيها
’’ ہر منصف شخص کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ امام بخاری و مسلم کے کسی راوی سے حدیث نقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ راوی ان کے نزدیک کردار کا سچا اور حافظے کا پکا ہے، نیز وہ حدیث کے معاملے میں غفلت کا شکار بھی نہیں۔ خصوصاً جب کہ جمہور ائمہ کرام متفقہ طور پر بخاری و مسلم کی کتابوں کو ”صحیح“ کا نام بھی دیتے ہیں۔ یہ مقام اس راوی کو حاصل نہیں ہو سکتا جس کی روایت صحیح (بخاری و مسلم ) میں موجود نہیں۔ گویا جس راوی کا صحیح بخاری و مسلم میں ذکر ہے، وہ جمہور محدثین کرام کے نزدیک قابل اعتماد راوی ہے۔“ [فتح الباري شرح صحيح البخاري : 384/1، طبعة دار المعرفة، بيروت]

↰ معلوم ہوا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے نزدیک منصف شخص وہ ہے جو صحیح بخاری و مسلم کے راویوں کو امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر جمہور ائمہ حدیث کی توثیق کی بنا پر ثقہ اور قابل اعتماد سمجھے۔ اب ڈاکٹر عثمانی کی طرح کا جو شخص صحیح بخاری کے راویوں کو ’’ ضعیف، مجروح اور متروک“ کہتا ہے، وہ بقول ابن حجر، منصف نہیں، بلکہ خائن ہے۔

◈ محدث العصر، علامہ محمد ناصرالدین، البانی رحمہ اللہ منہال بن عمرو پر جرح کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
ويكفي فى رد ذلك أنه من رجال البخاري.
’’ اس کے رد میں یہی کافی ہے کہ منہال بن عمرو صحیح بخاری کا راوی ہے۔“ [تحقيق الآيات البينات فى عدم سماع الأموات، ص: 84، طبعة المكتب الإسلامي، بيروت]

➍ امام احمد بن عبداللہ بن صالح، عجلی رحمہ اللہ (181-261ھ) فرماتے ہیں :
منهال بن عمرو، كوفي، ثقة
’’ منہال بن عمرو، کوفے کا رہائشی اور قابل اعتماد شخص تھا۔“ [تاريخ العجلي : 300/2، طبعة مكتبة الدار، المدينة]

➎ امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث، سجستانی رحمہ اللہ (202-275 ھ) منہال بن عمرو کی ایک حدیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
هذا دليل على أن القرآن ليس بمخلوق.
’’ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم مخلوق نہیں۔“ [سنن أبى داود، تحت الحديث : 4737]

↰ امام ابوداود رحمہ اللہ منہال بن عمرو کی حدیث کو اس بات کی دلیل بنا رہے ہیں کہ قرآن مخلوق نہیں ہے۔ اس سے دو باتیں ثابت ہوئیں۔ ایک تو یہ کہ قرآن کو مخلوق کہنے والا امام ابوداود کے نزدیک سنت کا مخالف ہے۔ اسی لیے ائمہ دین نے ایسے شخص کو کافر قرار دیا ہے۔ دوسرے یہ کہ منہال بن عمرو امام صاحب کے نزدیک ثقہ و قابل اعتماد ہیں اور ان کی حدیث دین کے بنیادی معاملات، یعنی عقائد میں بھی دلیل ہوتی ہے۔

➏ امام، ابوعیسیٰ، محمد بن عیسیٰ، ترمذی رحمہ اللہ (209-279 ھ) منہال بن عمرو کی ایک حدیث ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
هذا حديث حسن صحيح [سنن الترمذي، تحت الحديث : 2060]

↰ بهلا کسی ”ضعیف مجروح اور متروک “ شخص کی حدیث حسن صحیح ہوتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ امام ترمذی رحمہ اللہ کے نزدیک منہال بن عمرو ثقہ راوی ہیں، اسی لئے ان کے نزدیک اس کی حدیث حسن صحیح کے درجے کو پہنچتی ہے۔

➐ امام، ابوبکر، احمد بن عمرو بن عبدالخالق بزار رحمہ اللہ (م : 292 ھ) منہال بن عمرو کی بیان کردہ ایک حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
واسنادۂ حسن . ”اس کی سند حسن ہے۔ ‘‘ [مسند البزار المنشور باسم البحر الزخار: 321/11، طبعة مكتبة العلوم والحكم، المدينة]

➑ امام الائمہ، ابوبکر، محمد بن اسحاق،، ابن خزیمہ رحمہ اللہ (223-311 ھ) نے بھی منہال بن عمرو کی بیان کردہ کئی احادیث (مثلاً دیکھیں صحیح ابن خزیمہ : 1194، 2830 ) کو صحیح قرار دیا ہے۔

➒ امام ابوعوانہ، یعقوب بن اسحاق، نیشاپوری رحمہ اللہ (م : 316 ھ) بھی منہال بن عمرو کی بیان کردہ حدیث ( دیکھیں مستخرج ابوعوانہ : 7764 ) کو صحیح قرار دیتے ہیں۔

➓ امام، ابوجعفر، احمد بن محمد بن سلامہ، طحاوی حنفی رحمہ اللہ (238-321 ھ) منہال بن عمرو کی بیان کردہ ایک حدیث ذکر کرنے كے بعد فرماتے ہیں:
وكان فى ذلك دليل . . . ”اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ۔۔۔۔ “ [شرح مشكل الأثار: 347/1، طبعة مؤسسة الرسالة، بيروت]

امام طحاوی حنفی کے نزدیک منہال من عمرو کی بیان کردہ حدیث عقیدے میں بھی دلیل بنتی ہے، جیسا کہ وہ ایک مقام پر فرماتے ہیں :
فكان هذا الحديث فيه إثبات عذاب القبر.
”اس حدیث سے عذاب قبر کا اثبات ہوتا ہے۔ ” [ايضا:177/13]

⓫ امام، ابوحاتم، محمد بن حبان بن احمد، ابن حبان رحمہ اللہ نے بھی (م : 354 ھ) منہال بن عمرو کی بہت سی احادیث [مثلاً دیکھیں صحیح ابن حبان : 1012، 1013، 1757، 2978، 5617] کو صحیح قرار دیا ہے۔

⓬ ناقد رجال، امام ابوالحسن، علی بن عمر، دارقطنی رحمہ اللہ (306-385 ھ) سے امام حاكم رحمہ اللہ نے منہال بن عمرو كے بارے ميں پوچها تو انہوں نے فرمايا:
صدوق . ”وه سچا اور قابل اعتماد شخص تها۔‘‘ [سؤالات الحاكم للدارقطني، ص : 273، طبعة مكتبة المعارف، الرياض]

⓭ امام، ابوحفص عمر بن احمد، ابن شاہين رحمہ اللہ (297-385 ھ) فرماتے ہيں:
والمنهال بن عمرو ثقة . ’’ منہال بن عمرو ثقہ ہے۔“ [تاريخ أسماء الثقات، ص: 230، ت : 1412، طبعة الدار السلفية، الكويت]

⓮ امام اندلس، ابو عمر، یوسف بن عبداللہ، ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
والأحاديث فى أعلام نبوته أكثر من أن تحصي، وقد جمع قوم كثير كثيرا منها، والحمد لله، ومن أحسنها، وكلها حسن، ما حدثنا عبد الوارث بن سفيان . . . عن المنهال بن عمرو . . .
”علامات نبوت کے بارے میں بے شمار احادیث مروی ہیں۔ الحمد للہ ! بہت سے لوگوں نے ان میں سے بہت سی احادیث نقل کی ہیں۔ یہ ساری کی ساری حسن ہیں، لیکن ان سب میں سے بہترین حدیث وہ ہے، جو ہمیں عبد الوارث بن سفیان نے . . . منہال بن عمرو کے واسطے سے بیان کی ہے۔۔۔ ‘‘ [التمهيد لما فى المؤطأ من المعاني والأسانيد : 221/1، طبعة وزارة عموم الأوقاف، المغرب]

⓯ حافظ، ابوالقاسم، علی بن حسن،، ابن عساكر رحمہ اللہ (499-571 ھ) سے منہال کی بیان کردہ حدیث کی قرار دیا ہے۔ [معجم ابن عساكر :340/1، طبعة دار البشائر، دمشق]

⓰ علامہ، ابوعبداللہ، محمد بن عبدالواحد، ضياء الدين مقددسی رحمہ اللہ (569-643 ھ) نے منہال بن عمرو کی بہت سی احادیث [ مثلا ديكهيں الاحاديث المختارة: 760،455 ] کو صحیح کہا ہے۔

⓱ حافظ، ابوفداء، عمادالدین، اسماعیل بن عمر،ابن كثیر رحمہ اللہ (700-774 ھ) کچھ روایات، جن میں منہال بن عمرو کی بیان کردہ روایت بھی تھی، کے بارے میں فرماتے ہیں :
فهذه طرق جيدة، مفيدة للقطع فى هذه القضية
”یہ عمدہ سندیں ہیں جو کہ اس معاملے کی قطعیت کو ثابت کرتی ہیں۔ ‘‘ [مسند الفاروق : 391/1، طبعة دار الوفاء، المنصورة]

⓲ حافظ، ابو عبد اللہ، محمد بن احمد بن عثمان، ذہبی رحمہ اللہ (673 – 748 ھ) نے منہال بن عمرو کا ترجمہ ذکر کرنے سے پہلے صح لکھا ہے۔ اس رمز کے بارے میں وہ خود فرماتے ہیں :
إذا كتبت (صح) أول الاسم، فهي إشارة إلى أن العمل على توثيق ذلك الرجل .
’’ جب میں کسی اسم سے پہلے صح لکھ دوں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس آدمی کی توثیق ہی پر اعتماد کیا جائے گا۔“ [لسان الميزان لابن حجر: 9/1، طبعة مؤسسة الأعلمي للمطبوعات، بيروت]

نیز منہال بن عمرو کی بیان کردہ ایک روایت ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں :
فهذا اسنادهٔ صالح.
’’ اس کی سندحسن ہے۔“ [تاريخ الإسلام : 107/4، طبعة دار الغرب الإسلامي]

⓳ حافظ، ابوالفضل، احمد بن علی، ابن حجر رحمہ اللہ (773-852 ھ) منہال بن عمرو پر کی گئی کی کی ایک جرح کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
وبهذا لا يجرح الثقه.
”ثقہ راوی کو ایسی بات کے ذریعے مجروح قرار نہیں دیا جا سکتا۔ “ [هدى الساري : 446/1، طبعة دار المعرفة، بيروت]

⓴ علامہ، محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ (1332-1420 ھ) منہال بن عمرو کی ایک حدیث ذکر کرنے کے بارے میں فرماتے ہیں :
وهذا اسناد صحيح، المنهال بن عمرو ثقة من رجال البخاري.
’’ یہ سند صحیح ہے۔ منہال بن عمرو ثقہ ہے اور صحیح بخاری کا راوی ہے۔“ [سلسلة الأحاديث الصحيحة : 442/2، طبعة مكتبة المعارف، الرياض]

ایک درجن سے زائد محدثین کرام اور اہل علم نے عود روح والی حدیث کو صحیح کہا اور اب بیس محدثین و ماہرین فن حدیث سے منہال بن عمرو کو ثقہ اور قابل اعتماد ثابت کیا جا چکا ہے۔ جن ائمہ دین نے منہال بن عمرو کو ثقہ قرار دیا ہے اور اس کی احادیث پر اعتماد کیا ہے، ان کے نزدیک بھی منہال کی بیان کردہ عود روح والی حدیث بھی بالکل صحیح ہے۔

کیا یہ تمام ائمہ دین بھی عثمانی فرقے کے ہاں مردہ پرست اور مشرک قرار پائیں گے ؟ اب یہ لوگ ان ائمہ کی بیان کردہ احادیث کو کس منہ سے اپنی دلیل بناتے ہیں ؟ اب ڈاکٹر عثمانی کوصراط مستقیم پر ماننے والے لوگ بتائیں کہ ان کے وار سے کون سا امام بچا ہے ؟
ڈاکٹر عثمانی کے جہالت پر مبنی اعتراضات

ڈاکٹر عثمانی نے لکھا ہے : ’’ دراصل مردے کے جسم میں روح کے لوٹائے جانے کی روایت شریعت جعفریہ کی روایت ہے، جو اس روایت کے راوی زاذان (شیعہ ) نے وہاں سے لے کر براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے منسوب کر دی ہے۔ اس کی سند دیکھیے تو اس کے اندر ضعفاء، مجروحین، متروکین اور شیعہ ملیں گے۔“ [ ’’ ایمان خالص“، دوسری قسط، ص : 17]

↰ ملاحظہ کیا قارئین نے کہ اس عبارت میں ڈاکٹر عثمانی نے اس حدیث کو زاذان راوی کی کارروائی قرار دیا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک اس حدیث کو بیان کرنے کا قصوروار صرف زاذان راوی ہے، لیکن اگلی ہی سطر میں منہال بن عمرو پر جرح نقل کرنا شروع کر دی۔ جب زاذان ہی اس روایت کا ذمہ دارتھا تو پہلے منہال بن عمرو پر جرح کا سبب سوائے ہٹ دھرمی کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

منہال بن عمرو پر جرح کی حقیقت

درجنوں ائمہ حدیث کا منہال بن عمرو کو ثقہ کہنا اور اس کی حدیث پر عقیدے میں بھی اعتماد کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ ثقہ راوی ہے اور اس کی بیان کردہ روایات اصول محدثین کے مطابق بالکل صحیح ہیں، نیز اس پر جو جرح کی گئی ہے، وہ مردود ہے، جیساکہ :
◈ علامہ ذہبی رحمہ اللہ کے نزدیک منہال بن عمرو پر جرح قابل قبول نہیں، بلکہ اس کی توثیق ہی راجح ہے۔ [ميزان الاعتدال فى نقد الرجال: 192/4، طبعة دار المعرفة، بيروت]

◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
المنهال بن عمرو تكلم فيه بلا حجة
’’ منہال بن عمرو پر کی گئی جرح بے دلیل ہے۔“ [هدى الساري:464/1، طبعة دار المعرفة، بيروت]

◈ علامہ البانی رحمہ اللہ منہال بن عمرو کے بارے میں فرماتے ہیں :
وفيه كلام لا يضر ’’ اس پر کی گئی جرح اس کو کوئی نقصان نہیں دیتی۔“ [سلسلة الأحاديث الصحيحة : 442/2، طبعة مكتبة المعارف، الرياض]

◈ عصر حاضرکے محقق، دکتور بشار عواد معروف لکھتے ہیں :
ولم يجرح بجرج حقيقي، وبعض ما نسب إلى جرحه لا يصح بسبب ضعف الراوي .

’’ منہال بن عمرو پر کوئی قابل قبول جرح نہیں کی گئی، اس پر کی گئی بعض جرحیں تو بیان کرنے والے کے کمزور ہونے کی بنا پر ثابت ہی نہیں۔“ [حاشية تهذيب الكمال فى أسماء الرجال : 572/28]

↰ اس بارے میں اہل علم و فن کے مزید اقوال ہم آئندہ سطور میں ذکر کریں گے۔ ڈاکٹر عثمانی نے منہال بن عمرو پر جو جرح ذکر کی ہے، ہم اگر اس کو قارئین کی آسانی کے لیے اپنے الفاظ میں ترتیب دیں تو اس کا خلاصہ کچھ یوں ہو گا۔ (ڈاکٹرعثمانی کے الفاظ ہم تفصیلی تجزئیے میں ذکر کریں گے ) :

① امام حاکم کا کہنا ہے کہ منہال بن عمرو کی حیثیت یحییٰ بن سعید گراتے تھے۔
② ابن معین منہال کی شان کو گراتے تھے۔
③ امام شعبہ نے منہال بن عمرو کے گھر سے گانے کی آواز سنی تو اسے ترک کر دیا۔
④ جوزجانی نے منہال بن عمرو کو بدمذہب لکھا ہے۔
⑤ ابن حزم نے اس کی تضعیف کی ہے اور اس کی قبر میں سوال و جواب والی رایت کو رد کیا ہے۔
↰ امام بخاری رحمہ اللہ سمیت درجنوں محدثین کی واضح توثیق کے خلاف ڈاکٹر عثمانی کے پاس یہی جمع پونجی تھی۔ اصول حدیث کے مطابق اتنے زیادہ محدثین کی توثیق کے مقابلے میں یہ پانچوں جروح اگر ثابت اور مؤثر بھی ہوتیں تو ان کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ چہ جائیکہ ان میں سے پہلی دو تو سرے سے ثابت ہی نہیں، یعنی امام یحییٰ بن سعید قطان اور امام یحییٰ بن معین نے منہال پر کوئی جرح کی ہی نہیں، جبکہ باقی تینوں سے منہال بن عمرو کی حدیث پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ آئیے تفصیلا ملاحظہ فرمائیں :

① امام یحییٰ بن سعید اور منہال بن عمرو
ڈاکٹر عثمانی نے لکھا ہے : ’’ الذہبی اپنی کتاب میزان الاعتدال میں لکھتے ہیں کہ حاکم کا کہنا ہے کہ منہال کی حیثیت یحییٰ بن سعید گراتے تھے۔“ (’’ ایمان خالص“، دوسری قسط، ص : 17)

↰ اس بات کا تذکرہ نہ امام حاکم رحمہ اللہ کی کسی کتاب میں ملتا ہے، نہ امام یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے کسی نے باسند ایسی کوئی بات ذکر کی ہے۔ علامہ ذہبی رحمہ اللہ اور امام حاکم رحمہ اللہ کے درمیان تقریباً ساڑھے تین صدیوں کا فاصلہ ہے، جبکہ امام حاکم اور امام یحییٰ بن سعید کے درمیان قریباً دو صدیاں حائل ہیں۔ بغیر کسی سند کے کیسے مان لیا جائے کہ واقعی امام یحییٰ بن سعید نے منہال کی حیثیت گرائی تھی ؟ عجیب منطق ہے ڈاکٹر عثمانی کی کہ جمہور محدثین ایک حدیث کو صحیح قرار دیں تو بھی وہ اسے رد کرنے کے لیے اس کی سند کو زیر بحث لاتے ہیں، لیکن خود جرح نقل کرنے کے لیے کسی سند کا التزام نہیں کرتے۔

↰ یاد رہے کہ جس طرح حدیث کو سند کے بغیر یا ضعیف سند کے ساتھ قبول نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح حدیث کے رد و قبول کے بارے میں اقوال اور راویان حدیث کی توثیق و جرح بھی سند کے بغیر یا ضعیف سند کے ساتھ قبول نہیں ہو سکتی، کیونکہ یہ امور بلاواسطہ حدیث سے تعلق رکھتے ہیں۔ قارئین ہمارے منہج کو بھی ملحوظ رکھیں کہ ہم جس طرح حدیث کے بارے میں صحت سند کا اہتمام کرتے ہیں، بالکل اسی طرح کسی بھی حوالے سے کسی بھی امام کا قول ذکر کرتے ہوئے بھی یہ اہتمام کرتے ہیں کہ وہ قول یا تو خود اس امام کی کسی ثابت شدہ کتاب میں موجود ہو یا پھر کسی اور نے اس کو محدثین کے ہاں قابل حجت سند کے ساتھ ذکر کیا ہو۔ اس کے برعکس گمراہ لوگ اپنی تائید میں متاخرین کی کتب سے اندھا دھند بے سند اقوال ذکر کرتے رہتے ہیں۔

↰ دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس سے منہال بن عمرو پر ابن قطان کی کوئی جرح ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ مبہم سی بات ہے، ہو سکتا ہے کہ کسی زیادہ ثقہ راوی کے مقابلے میں ابن قطان اس کی حیثیت کو کم کرتے ہوں اور یہ کوئی جرح نہیں۔

◈ اس بارے میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
وحكاية الحاكم عن القطان غير مفسرة.

’’ امام حاکم کی امام یحییٰ بن سعید قطان سے روایت مبہم ہے۔“ [فتح الباري : 446/1]
↰ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ امام حاکم رحمہ اللہ خود منہال پر جرح کے خلاف تھے۔ وہ تو منہال بن عمرو کو ثقہ قرار دیتے تھے، جیساکہ ہم ذکر کر چکے ہیں۔ ڈاکٹر عثمانی کی ’’ دیانت علمی“ ملاحظہ فرمائیں کہ منہال بن عمرو کی توثیق کے بارے میں امام حاکم رحمہ اللہ کے ثابت شدہ قول اور ابن قطان کی جرح پر ابن حجر کے تبصرے کو بالکل نظر انداز کر دیا، جبکہ منہال پر جرح کے بارے میں بے سند و بے ثبوت قول کو سینے سے لگا لیا۔ سجان اللہ، کیا تحقیق ہے !

② امام یحییٰ بن معین اور منہال
ڈاکٹر عثمانی نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی کتاب ”تہذیب التہذیب“ کے حوالے سے لکھا ہے : ’’ ابن معین، منہال کی شان کو گراتے تھے۔“ [’’ ایمان خالص“، دوسری قسط، ص :18]

↰ گزشتہ کی طرح یہ بات بھی بے سند ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ، امام بن معین رحمہ اللہ سے چھ صدیاں بعد پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے ابن معین تک اس قول کی کوئی سند بھی ذکر نہیں کی۔ بغیر کسی سند کے کیسے مان لیا جائے کہ واقعی ابن معین رحمہ اللہ، منہال کی شان کو گراتے تھے ؟ اس سلسلے میں ابن حجر رحمہ اللہ نے جس نقل پر اعتماد کیا ہے، شاید وہ یہ ہے :
حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ (499-571 ھ) نے منہال بن عمرو کے حالات میں لکھا ہے :
قال المفضل بن غسان الغلابي : ذم یحيى بن معين المنهال بن عمرو.
’’ مفضل بن غسان غلابی کا کہنا ہے کہ امام یحییٰ بن معین نے منہال بن عمرو کی مذمت کی ہے۔“ [تاريخ دمشق: 374/60 طبعة دار الفكر، بيروت]

↰ اس حکایت کا راوی ابوبکر محمد بن احمد بن محمد بن موسیٰ بابسیری ’’ مجہول“ ہے۔
↰ اگر یہ قول ثابت بھی ہو تو یہ منہال پر جرح نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
فأما حكاية الغلابي، فلعل بن معين كان يضع منة بالنسبة إلى غيره، كالحكاية عن أحمد، ويدل على ذلك أن أبا حاتم حكى عن ابن معين انهٔ وثقه.
’’ رہی غلابی کی حکایت، تو شاید امام ابن معین کسی اور (زیادہ ثقہ ) راوی کی نسبت اس کی شان کو گراتے ہوں، جیسا کہ امام احمد سے بھی ثابت ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ امام ابوحاتم نے امام ابن معین سے منہال کا ثقہ ہونا بھی ذکر کیا ہے۔“ [فتح الباري : 446/1، طبعة دار المعرفة، بيروت]

↰ یعنی جرح کے برعکس امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کی طرف سے منہال بن عمرو کی واضح توثیق ثابت ہے، جیسا کہ توثیق کے ضمن میں سب سے پہلے نمبر پر ہم بیان کر چکے ہیں۔

↰ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے منہال پر جرح کا رد کیا ہے۔ ڈاکٹر عثمانی نے ابن حجر سے ان کی مردود بتائی ہوئی جرح بغیر رد نقل کیے ذکر کر دی، لیکن جو بات ابن معین اور ابن حجر سے ثابت تھی، یعنی منہال کی توثیق، اپنے خلاف پا کر اس کا ذکر تک نہیں کیا۔ ایسے لوگوں سے انصاف کی توقع عبث ہے۔
③ امام شعبہ اور منہال بن عمرو
امام شعبہ رحمہ اللہ سے اس بارے میں دو طرح کی روایات بیان کی گئی ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے منہال بن عمرو کے گھر سے قرآن کریم کو سر کے ساتھ پڑھنے کی آواز سنی۔ [الجرح والتعديل لابن أبى حاتم : 357/8، طبعة دار إحياء التراث العربي، بيروت]
دوسرے یہ کہ انہوں نے منہال کے گھر سے گانے کی آواز سنی تھی۔ [الضعفاء الكبير للعقيلي : 236/4، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت، وسنده صحيح]

↰ جو روایت ڈاکٹر عثمانی نے ذکر کی ہے، اس میں گانے کا کوئی ذکر نہیں۔ الفاظ یہ ہیں :
لانه سمع من داره صوت قراءة بالتظريب
’’ کیونکہ شعبہ رحمہ اللہ نے منہال کے گھر سے سر کے ساتھ قرآن کی قرأت سنی تھی۔“
ثابت ہوا کہ اس روایت میں گانے کا نہیں، بلکہ قرآن کریم کی قرأت کا ذکر ہے، جیسا کہ ڈاکٹر عثمانی کی محولہ کتاب میں ایک اور جگہ تصریح ہے :
سمع صوت قراءة بألحان، فترك الكتابة عنه لأجل ذلك.
’’ امام شعبہ رحمہ اللہ نے ترنم کے ساتھ قرأت کی آواز سنی، اسی بنا پر اس سے حدیث لکھنا چھوڑ دیا۔“ [الجرح والتعديل : 172/1]

یہ عالم ہے ڈاکٹر عثمانی کی عربی دانی اور کتب کی ورق گردانی کا !
بہرحال قرآن کریم کو تغنی، یعنی سر اور خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھنا کوئی قابل جرح بات نہیں، جیسا کہ عرب محقق ڈاکٹر بشار عواد معروف فرماتے ہیں :
هذا جرح مردود، والله أعلم، وما أدري كيف جوز شعبة لنفسه أن يتركهٔ للتطريب بالقراءة، ان صح ذلك عنه، فقد ثبت عن المصطفي صلى الله عليه وسلم ضرورة تحسين الصوت والتطريب بالقراءة.
’’ یہ جرح مردود ہے۔ اگر امام شعبہ رحمہ اللہ سے یہ بات ثابت ہے تو سمجھ سے بالاتر ہے کہ انہوں نے نرم اور خوبصورت آواز سے قرأت کو بنیاد بنا کر منہال کو چھوڑنا جائز کیسے سمجھ لیا ؟ حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ قرآن کریم کی قرأت خوبصورت آواز اور سر میں ہونی چاہیے۔“ [حاشية تهذيب الكمال فى أسماء الرجال : 570/28، طبعة مؤسسة الرسالة]

دوسری روایت جس میں منہال کے گھر سے گانے کی آواز آنے کا ذکر ہے، اس کے مطابق بھی منہال بن عمرو پر کوئی قدغن نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ جب امام شعبہ رحمہ اللہ نے وہب بن جریر رحمہ اللہ کے سامنے یہ ماجرا بیان کیا تو وہب بن جریر رحمہ اللہ نے امام شعبہ رحمہ اللہ کے اس طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے ایک سوال کیا، جس پر امام شعبہ رحمہ اللہ خاموش ہو گئے اور ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا۔ وہب بن جریر رحمہ اللہ امام شعبہ سے اپنا مکالمہ یوں بیان کرتے ہیں :
عن شعبة، قال : أتيت منزل منهال بن عمرو، فسمعت منه صوت الطنبور، فرجعت، ولم أساله، قلت : وهلا سألته ! فعسى كان لا يعلم.
’’ امام شعبہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں منہال بن عمرو کے گھر آیا تو مجھے گھر سے گانے کی آواز سنائی دی۔ میں لوٹ آیا اور منہال سے اس بارے میں نہیں پوچھا۔ میں نے کہا : آپ نے اس سے کیوں نہ پوچھا ؟ ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے لاعلم ہو۔“ [الضعفاء الكبير للعقيلي : 236/4، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت، و سندهٔ صحيح]

امام شعبہ رحمہ اللہ کی منہال پر جرح کا سب سے پہلے رد تو وہب بن جریر رحمہ اللہ نے ان کے سامنے کر دیا اور ان کو لاجواب بھی کر دیا۔ وہب بن جریر رحمہ اللہ کی بات بالکل درست تھی کہ ہو سکتا ہے، منہال کو اس بات کا علم ہی نہ ہو، وہ گھر پر نہ ہو، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کے پڑوسیوں کے گھر سے یہ آواز آ رہی ہو اور امام شعبہ رحمہ اللہ کو غلط فہمی ہو گئی ہو۔ پھر کسی کے گھر سے گانے کی آواز آنا جرح کا سبب تو نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ گھر کا جو فرد ایساکر رہا ہے، منہال اس سے راضی نہ ہو۔ بعض انبیائے کرام کے گھر والے بھی تو ان کے نافرمان ہوئے ہیں۔ کیا اس بنا پر ان کو بھی الزام دیا جائے گا ؟ وہب بن جریر رحمہ اللہ کے مطابق امام شعبہ رحمہ اللہ کو منہال کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے ان سے استفسار کرنا چاہیے تھا۔

بعد والے اہل علم بھی امام شعبہ رحمہ اللہ کی اس بے جا سختی کا رد کرتے آئے ہیں، جیسا کہ :
◈ علامہ، ابوالحسن، علی بن محمد، ابن قطان، فاسی رحمہ اللہ (562-628 ھ) منہال کی نرم آواز میں قرأت پر امام شعبہ کے رد عمل والی روایت ذکر کر کے فرماتے ہیں :
فإن هذا ليس بجرحه، إلا أن يتجاوز إلى حد يحرم، ولم يذكر ذلك فى الحكاية.
’’ یہ (سر سے قرأت ) کوئی جرح نہیں، الا یہ کہ حرمت کی حد تک پہنچ جائے (یعنی اس میں تکلف اور غلطی آ جائے )، اور ایسی کوئی بات اس واقعے میں مذکور نہیں۔“
اور گانے کی آواز سن کر شعبہ کے ترک کرنے والی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں :
فهذا، كما ترى، التعسف فيه ظاهر.
’’ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، امام شعبہ کا یہ رویہ واضح طور پر بےجا ہے۔“ [بيان الوهم والإيهام فى كتاب الأحكام : 363/3، طبعة دار طيبة، الرياض]

◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ ( 661-728 ھ) امام شعبہ رحمہ اللہ کے بارے میں فرماتے ہیں :
وأما قول من قال: تركه شعبة، فمعناه أنه لم يرو عنه، كما قال أحمد بن حنبل : لم يسمع شعبة من عمر بن أبى سلمة شيئا، وشعبة، ويحيى بن سعيد، وعبد الرحمن بن مهدي، ومالك، ونحوهم، قد كانوا يتركون الحديث عن أناس لنوع شبهة بلغتهم، لا توجب رد أخبارهم، فهم إذا رووا عن شخص كانت روايتهم تعديلا له، وأما ترك الرواية فقد يكون لشبهة لا توجب الجرح، وهذا معروف فى غير واحد قد خرج له فى الصحيح.

’’ جس نے امام شعبہ رحمہ اللہ کے کسی راوی کو ترک کر دینے کی بات کی ہے، اس کی مراد یہ تھی کہ امام شعبہ نے اس سے احادیث روایت نہیں کیں، جیسا کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا کہ شعبہ نے عمر بن ابوسلمہ سے کوئی حدیث نہیں سنی۔ امام شعبہ، امام یحییٰ بن سعید، امام عبدالرحمٰن بن مہدی، امام مالک وغیرہ جیسے ائمہ کسی شبہ کی بنا پر بھی لوگوں سے روایت کرنا چھوڑ دیتے تھے۔ یہ ائمہ جس راوی سے روایت کریں، اس کے ثقہ ہونے کی یہ دلیل ہو گی، لیکن ان کا کسی سے روایت چھوڑ دینا بسا اوقات کسی شبہ کے وجہ سے ہوتا ہے جو حقیقت میں جرح کا سبب نہیں ہوتا۔ صحیح بخاری کے کئی راویوں کے بارے میں امام شعبہ رحمہ اللہ کا ایسا طرز عمل ثابت ہے۔“ [ الفتاوي الكبري : 53/3، طبعة دار الكتب العلمية، بيروت]
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As Salaf

Read More Articles by Manhaj As Salaf: 286 Articles with 217385 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Oct, 2017 Views: 926

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ