صبح کے بُھولے

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

بہت پرانی بات نہیں ہے سبھی کو یاد ہوگا جب اداکارہ نرگس نے ایک پریس کانفرنس منعقد کر کے شوبز سے کناراکشی اور دینداری کی زندگی گذارنے کا اعلان کیا تھا ۔ پھر اس کے بعد وینا ملک نے بھی مولانا طارق جمیل کی تعلیم و تبلیغ سے متاثر ہو کر اپنی تمام شوبز مصروفیات سے تائب ہونے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ نرگس نے قراٰن پاک ہاتھ میں لے کر اور وینا ملک نے غار ِ حرا کے اندر بیٹھ کر ساری زندگی سر سے دوپٹہ سرکنے نہ دینے کے عزم کا اظہار کیا ۔ پھر ساری دنیا نے دیکھا کہ دوپٹہ سر سے تو کیا سرے غائب ہو گیا ۔ نرگس چار دن کے بخار کے بعد دوبارہ اسٹیج پر اپنی سابقہ سرگرمیوں میں مصروف ہو گئی اور وینا ملک نے تو اتنا انتظار بھی نہیں کیا اور دوبئی میں ہونے والے ایک نیم عریاں فیشن شو میں حصہ لیا ۔ حالانکہ کہتے ہیں کہ اللہ توبہ کی توفیق بھی تبھی دیتا ہے جب وہ بندے سے راضی ہوتا ہے ان دونوں عورتوں نے تو اپنے رب کی اس صفت کی بھی لاج نہیں رکھی بس یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں اداکارہ نور بخاری نے بھی جو شوبز سے کناراکشی اور اپنی باقی زندگی دین کی راہ پر چلتے ہوئے گذارنے کا اعلان کیا تو جہاں اسے ایک طرف سے بےحد حوصلہ افزائی اور پذیرائی حاصل ہوئی تو وہیں دوسری طرف سے سخت طعن و تشنیع اور پچھلی زندگی کے تذکروں کا سامنا کرنا پڑا ۔ مثلاً چار شادیاں جن میں سے ایک اس نے ایک ہندو کے ساتھ کی ۔ چونکہ نرگس اور وینا ملک کی عہد شکنی کی مثال سامنے موجود ہے لہٰذا نور بخاری کی بھی شوبز سے کناراکشی کا اعلان محض میڈیا میں وائرل ہونے اور پانچویں شادی کی راہ ہموار کرنے کا ہتھکنڈہ معلوم ہوتا ہے ۔ اب دلوں اور نیتوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے اور نہ ایک عام آدمی کا کام فتوے جھاڑنا ہے مگر شوبز کے لوگ چونکہ خود اپنے منہ سے خود کو پبلک پراپرٹی کہہ رہے ہوتے ہیں تو ان کے کسی بھی پرسنل میٹر کے میڈیا پر پبلش ہونے کے بعد پبلک اس پراپرٹی کی خوب مٹی پلید کرتی ہے اور خوب خوب گڑے مردے اکھاڑتی ہے ثبوتوں کے ساتھ ۔

بہرحال نور بخاری کے ایک احسن اقدام کے بعد اسے طنز و تضحیک کا نشانہ بنانا اور اس کے ماضی کے حوالے دینا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے اللہ جسے ہدایت دے جب توفیق دے جتنی بھی دے غنیمت ہے ۔ جو کام کرنے گناہ ہیں ان کو دیکھنا پسند کرنا بھی گناہ میں شریک ہونے کے مترادف ہے ہم میں سے کس کے ہاتھ صاف یا اعمال بد سے پاک ہیں؟ کیا ہمیں ہدایت اور اپنی آخرت کی فکر کرنے کی ضررت نہیں ہے ۔ ہمارے سامنے سارہ چودھری سائرہ خان ستائش خان اور عروج ناصر وغیرہ کی بھی تو مثالیں موجود ہیں ہو سکتا ہے ابھی کچھ اور نام رہ گئے ہوں لیکن ان میں سب سے زیادہ قابل ذکر نام سارہ چودھری کا ہے ۔ وہ اپنے دور کی ایک بہت کامیاب مقبول اور نوجوان و حسین اداکارہ تھی گیارہ سال تک شوبز کی دنیا پر راج کیا اللہ نے اس کے دل کی دنیا بدل دی اور وہ لڑکی ایسے بدلی کہ پھر کبھی کسی نے اس کی صورت نہیں دیکھی وہ شرعی پردہ کرنے لگی وہ ہدایت و معرفت کی جس راہ پر چل پڑی تو پھر اس نے مڑ کر نہیں دیکھا ۔ کسی نے استقامت اور ثابت قدمی دیکھنی ہو تو وہ سارہ چودھری کی طرف دیکھے ۔

اسی طرح مرد فنکاروں میں جنید جمشید علی حیدر علی افضل شیراز اپل اور عجب گل ایک مثال ہیں ۔ جنید جمشید نے اپنے کیریئر کے عروج پر جب دولت اور شہرت اس کے قدموں میں ڈھیر تھیں اپنے فن کو خیرباد کہا جو کہ اس کل وقتی پیشہ اور روزی روٹی کا ذریعہ تھا ۔ چاہتا تو ساری جوانی جی بھر کے شوبز کے مزے لُوٹتا اور بڑھاپے میں تائب ہوتا مگر اس نے بھری بہار میں رنگ و نور و سرود کی دنیا کو الوداع کہا اور صراط مستقیم کو اپنا لیا اور مرتے دم تک ثابت قدم رہا یہ کوئی آسان بات نہیں ہوتی اپنے نفس کی قربانی ۔ ہر نفسانیت اپنی دسترس میں ہونے کے باوجود اس سے منہ موڑ لینا معمولی بات نہیں ہوتی ۔ اللہ جنید جمشید کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں ان کی اہلیہ کے ساتھ اعلا مقام عطا فرمائے ۔ اللہ کی رضا کے لئے اپنے کیریئر کے عروج پر شوبز کو الوداع کہنے والے اس کے بندے کامیاب و مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ جواں سال بھی تھے ایسا نہیں کہ بوڑھے ہو گئے کسی کام کے نہیں رہے تو ایک کونے میں بیٹھ کے اللہ اللہ کرنے لگے ۔ یہ سب وہ صبح کے بُھولے ہیں جو شام سے پہلے گھر واپس لوٹے ہیں ۔ نور بخاری نے بھی وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے اپنے رب کی رسی تھام لی تو ہمیں اس کے ماضی کو کھنگالنے کی بجائے اس کے موجودہ اقدام کو سراہنا چاہیئے اور دعا کرنی چاہیئے کہ اللہ زندگی کی ہر مشکل و آزمائش میں اس کا حامی و مددگار ہو ۔ نور بخاری! بہت شاباش خوش رہو جیتی رہو ہماری دعائیں اور نیک تمنائیں تمارے ساتھ ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 168 Articles with 1020123 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Nov, 2017 Views: 7591

Comments

آپ کی رائے
آخری پیراگراف کے شروع میں ، اللہ کی رضا کے لئے اپنے کیریئر کے عروج پر اپنے فن کو خیرباد کہنے والے چند مرد فنکاروں کے ذکر میں ایک صحیح نام نجم شیراز ہے ۔ شیراز اپل غلطی سے لکھا گیا ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Wylie on Nov, 05 2017
Reply Reply
0 Like