نیچاں دی آشنائی

(Iftikhar Chohdury, )

کبھی نہیں کہا کہ میں ہی دنیا کا سچا آدمی ہوں لیکن اﷲ کے فضل سے جھوٹ سے ہمیشہ گریز کیا۔یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جدہ میں خبریں سے وابستگی تھی میاں نواز شریف نئے نئے اٹک قلعے کی جیل سے کھلی فضاؤں میں جدہ پہنچے تھے۔مرحوم قاری شکیل کی ضد تھی آپ ان سے ضرور ملیں ۔ملاقات کا وقت قصر الضیافہ میں طے تھا لیکن مرحوم قاری شکیل نے کہا میاں صاحب سے مغرب کی نماز کے وقت حجر اسود کے پاس مل لیجئے برادر دلشاد جانی صدر پیپلز پارٹی بھی وہیں تھے ۔نماز کے بعد ہم قصر کی طرف بڑھے راستے میں باتیں ہوتی رہیں جب اس شاہی مہمان خانے میں پہنچے تو عبدالرزاق جامی نے پہلے چودھری شجاعت حسین کی ہم خیال گروپ میں جانے کا ذکر کیا قائد اعظم لیگ بنانے کی بات کی اور خوش الحانی سے میاں محمد کا کلام سنانا شروع کیا نیچاں دی آشنائی کولوں نئی فیض کسے نئی پایا۔اس وقت ایک ہم خیال گروپ تشکیل پا چکا تھا ان کے ساتھی جمپ لگا کے فوجی آمر کے پاس چلے گئے تھے جدہ میں آج میاں نواز شریف کے جوتے سیدھے کرنے والے مجھے اس وقت جنرل مجید اعجازالحق کے ساتھ نظر آئے جب انہوں نے جدہ میں جا کر ہم خیال گروپ تشکیل دیا تھا۔مہمان خانے کی دیوار کے ساتھ کھڑے ہو کرمجھے کہنے لگے دیکھئے چودھری صاحب یہ لوگ مجھے چھوڑ گئے کہتے تھے قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اب دیکھئے یہ لوگ مجھے چھوڑ گئے میں نے جواب دیا میاں صاحب کرپشن ایک ناسور ہے یہ آپ کے ساتھ تھے کرپٹ تھے اب یہ وہ رقم بچائیں یا آپ کا ساتھ دیں ایک طرف جیل ہے اور دوسری جانب موجاں ہی موجاں۔ویسے بھی آپ ادھر ؤ گئے ہیں وہ کدھر جاتے۔

مجھے آج ایک باوثوق ذرائی نے جب ملکی مال کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کر جانے والے ایک بندے کی کہانی سنائی تو میں پھر اس وقت کی جانب لوٹ گیا کہ کیا اب یہ بقای چور پھر بھاگیں گے اور کسی نئی جماعت میں چلے جائیں گے۔میرا اپنا نقطہ ء نظر ہے جنہوں نے نواز شریف کے دور میں کھایا پیا وہ یا تو ملک سے بھاگیں گے یا اب ادھر ادھر ہوں گے۔سیاست کے سینے میں دل ہوتا ہے مگر ایک سیاہ دل جو مطلب پرستی کے لئے سب کچھ کر گزرتا ہے غیرت ہمت جراء ت ایک چیز ہے جو لوگ ڈٹ جاتے ہیں انہیں دنیا سلام کرتی ہے مگر اس ظالم دنیا میں بہت سے لوگ انہیں بے وقوف بھی کہتے ہیں۔وہ بے وقوف کہلائے گئے جو امریکی سامراج کے خلاف ڈٹ گئے گمنام راہوں میں مارے گئے اور دنیا انہیں کمال کا بندہ کہتی ہے جو فضل الرحمن کی طرح مشرف سے بغل گیر ہو گئے کہا گیا کہ انہوں نے ایک سجدہ کر کے ہزار سجدوں سے نجات دلوا دی۔مجھے لال مسجد کے وہ دن یاد تھے جب یہ موصوف مکہ بھاگ گئے بچے مار دئے گئے قران جل گئے یہ چالاک بچ گئے بعین ختم نبوت کیس کے دنوں کی طرح۔بہر حال کسی کی نظر کے سامنے کوئی دلیر با غیرت ہوتا ہے اور کوئی اسے بے وقوف کہہ دیتا ہے۔کچھ لٹیرے ایسے ہیں جن پر ابھی ہاتھ ڈلنا ہے ان میں بہت سی کارپوریشنوں کے وہ شکستخوردہ عناصر ہیں جنہیں عوام نے مسترد کیا تھا ان کی کرپشن کی کہانیاں سامنے آنا شرع ہوئی ہیں ان میں ایک پاکستان ٹورزم ڈویلیپمنٹ کارپوریشن کے ایم ڈی ہیں یہ وہی موصوف ہیں جو حسین نواز کی پیشی کے موقع پر شاہ کی وفاداری کرتے ہوئے پولیس پر چیخے اور نو جون کو ضمانتیں بھی کرائیں۔موصوف ایک نئے رنگیلا ہیں انہیں ایک کرولا گاڑی جس کا نمبر اسلام آباد 547ہے موصوف اسے استعمال کرنے کے مجاز ہیں لیکن انہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ٹیوٹا فرچنر جس کا نمبر 808اور ایک اور گاڑی ویگو نمبر040ہے خدمت خلق کے لئے اپنے استعمال میں رکھی ہیں آخری دو گاڑیاں لاہور اپنے گھر بھیج دی گئی ہیں۔ان کے قصے جو ابھی زبان زد عام نہیں ہوئے ان میں ان کی شاہ خرچیاں دیکھئے فلش مین ہوٹل میں دو کمرے جن کا روزانہ کرایہ 18400اور6500ہے۔فلیش مین کے کمرہ نمبر 99اور06جناب کے استعمال میں ہے۔ھضرت کو اجازت 9000روپے کی ہیاور آپ جناب24900روپے کے کمروں میں رہائیش پذیر ہیں ۔سوچنے کی بات ہے کہ پاکستان ٹورزم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے پاس پورے پاکستان میں لاتعداد ہوٹلز موٹلز ہیں اگر ان کے سربراہ اس قسم کے لوگ لگائے گئے ہیں تو ان ہوٹلوں میں کیا ایمانداری ہو گی۔

یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جس کے بانی اپنے دفتر میں چائے کے بل پر سٹپٹا گئے کہ کیا یہ لوگ جو میری کابینہ میں ہیں چائے گھر سے پی کر نہیں آئے۔قارئین محترم یہ ملک قائد اعظم نے بنا کر دیا اس کی تعمیر میں ہمارے پرکھوں نے جان لڑا دی اب اس قسم کے لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جنہیں دنیا ایک چور اور ڈاکو کے نام سے یاد کرتی ہے۔عمران خان نے انہیں تھوڑی سی رعائت دے کر انہیں مسٹر چور اور مسٹر ڈاکو قرار دیا ہے۔اس طرح کی کتنی کارپوریشنیں کتنے ادارے ہیں جہاں دودھ کی رکھوالی ان بلوں کو بٹھا دیا گیا ہے کتنے ادارے کہہ سکتے ہیں انگنت ادارے ہیں جہاں انہوں نے منہ بولے لوگوں کو لگایا ۔جس بندے کو سیاحت کی اے بی سی نہیں آتی وہ درہ خنجراب ہنزہ گلگت چلاس پاسو ناران کاغان ایبٹ آباد وادی نیلم کلر کہار مری بھوربن نتھیا گلی کی خوبصورتی کو دنیا سے کیسے آگاہ کر سکے گا۔جو ملکی وسائل کا غلط استعمال کرتا ہے اس سے ادارے کہاں محفوظ رہ سکیں گے عمران خان نے بڑی اچھی بات کی تھی کہ احتساب اوپر سے شروع کیا جائے۔بڑے چور پر ہاتھ ڈالا جائے۔میاں صاحب ایک اور بار ملک سے باہر ہیں در بدر ہیں کاش انہوں نے سبق سیکھا ہوتا اور ان لٹیروں کو اپنے گرد جمع نہ کیا ہوتا ۔کوئی ادارہ دیکھیں جہاں انہوں نے اپنے بندے لگائے وہاں کیا نتائج نکل رہے ہیں پیمرا ہو یا کوئی اور ۔ان کی اپنی سٹیل ملیں کارخانے ایئر لائینز منافع میں جا رہی ہیں اور پی آئی اے کے جہاز تک غائب ہو جاتے ہیں۔لگتا ہے اس بار میاں صاحب کو ان کے ساتھی عبدالرزاق جامی کی زبانی گجر بادشاہ میاں محمد کا کلام سنا کر رہیں گے مگر اڈیالہ جیل میں۔اور یہ سارے ہمنوا کسی قائد اعظم مسلم لیگ میں شیروانیاں پہن رہے ہوں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 407 Articles with 161577 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
03 Nov, 2017 Views: 532

Comments

آپ کی رائے