عاطی لاہور یا گینگ پر مضبوط گرفت

(Sardar Zeeshan Tahir, )

بھتہ خوری کی لت کراچی میں ایسی رواج پائی کہ اب اس کے واقعات پنجاب میں بھی ہورہے ہیں۔کراچی میں سیاسی و عسکری گروپس نے اربوں روپے کا بھتہ وصول کرکے بیرون ممالک میں بیٹھے اپنے آقاوں کو پہنچایا۔جس کے شوائد اب ظاہر ہورہے ہیں۔لیکن پنجاب میں ایسے مضبوط گینگ کا علم ہوا ہے جن کا نیٹ ورک بیرون ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ابھی چند روز قبل علی پور چٹھہ کے رہنے والے عاطف زمان عرف عاطی لاہوریا کو ہنگری سے گرفتار کیا گیا ہے جو پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھتہ خوری،قتل اور اقدام قتل کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ہے۔ خوف کی علامت اس خطرناک ملزم نے 23 جولائی 2017 کو علی پور چٹھہ کے عمران نامی ایک تاجر کو بھتہ نہ دینے پر قتل کرایا تھا۔جس کے بعد گوجرانوالہ کی پولیس نے عاطی گینگ کے خلاف منظم مہم کا آغاز کیا اور چند ہی مہینوں میں اسکے کئی ساتھیوں کو جہنم وا صل کر دیا۔ڈیڑھ ماہ قبل عاطی لاہوریا کے بھائی اعظم کو بھی سی آئی اے پولیس نے سعودی عرب سے گرفتار کیا جو فرار کی کوشش میں مارا گیا۔عاطی لاہوریا پر تھانہ علی پور چھٹہ،لدھیوالا وڑائچ،فیروز والا اور تھانہ صدر کامونکی میں سنگین جرائم کے کئی مقدمات درج ہیں جبکہ اس گینگ کے خلاف صرف ضلع گوجرانوالہ میں 90 سے زائد مقدمات موجود ہیں۔اس گینگ کے 9 رکن پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں 4 ارکان جیلوں میں جبکہ تین ساتھی بیرون ممالک فرار ہیں۔عاطی لاہوریا 35 سال کا نوجوان ہے لیکن اس نے ایسے افراد پر مشتمل نیٹ ورک منظم کیا ہوا ہے جو پنجاب خصوصا ضلع گوجرانوالہ میں دہشت کا نشان بن چکا ہے وہ ہنگری سے یورپ میں داخل ہورہا تھا کہ اسے بڑی کامیاب حکمت عملی سے سی آئی اے پولیس نے گرفتار کر لیا۔وہ اپنے گینگ کا سرغنہ ہے اور اس کے ساتھی بھی وارداتوں میں پوری طرح ملوث ہیں گینگ کے اراکین طارق عرف دکھی اور محمد اسلم عرف بوٹا کے خلاف 19 سنگین مقدمات ہیں مگر وہ تاحال بیرون ملک چھپے بیٹھے ہیں اسی طرح لقمان عرف ہلاکو بھی بیرون ملک ہے جبکہ اس کے ریڈ وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں جس کے باعث اسکی گرفتاری بہت جلد عمل میں لائے جانے کا قوی امکان ہے۔عاطی لاہوریا کے دیگر ساتھی مہران عرف چندو،ماجد عرف ماجو،شہزاد عرف شازی بٹ اور وجاہت بٹ جیلوں میں ہیں جبکہ اس خطرناک گینگ کے باقی اہم اراکین لقمان عرف نومی،ابوزر عرف کاکا بٹ،اسلم عرف چندو ٹافی،معظم،عرفان شاہ عرف داتا،خالد عرف خالدی،ماجد عرف ماجو،رضا محبوب اور اسامہ پولیس مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔عاطی گینگ کے خلاف سی پی او گوجرانوالہ اشفاق خان اور ڈی ایس پی سی آئی اے عمران عباس چدھڑ نے بڑی منظم منصوبہ بندی کرکے کامیابیاں حاصل کی ہیں۔یہ خطرناک گینگ صنعتکاروں اور جاگیرداروں کو حراساں کرکے کروڑوں کا بھتہ وصول کرتا تھا۔اس کی دہشت سے امیر طبقہ خوف اور عدم تحفظ کا شکار تھا۔جونہی گینگ کا سرغنہ عاطف زمان عرف عاطی لاہوریا بیرون ملک سے گرفتار ہوا ہے تو کاروباری طبقہ نے سکھ کا سانس لیا ہے۔توقع ہے کہ خطرناک ملزم جلد پاکستان منتقل ہوکر گوجرانوالہ پولیس کے حوالے ہوگا۔عاطی لاہوریا کی گرفتاری بہت بڑی کامیابی ہے جس کا سہرا سی پی او اشفاق خان اور ڈی ایس پی سی آئی اے عمران عباس چدھڑ اور انکی ٹیم کے سر ہے جنہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایسے خوفناک اور بااثر گروہ کے خلاف عملی کارروائی کی ہے۔پولیس اس گروہ کے پیچھے مضبوط ہاتھوں کو بھی تلاش کر رہی ہے جو اس کی پشت پناہی اور عاطی لاہوریا کی پاکستان میں عدم موجودگی کے باوجود اس گینگ کو اپنے اثرورسوخ کے ذریعے تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔ایسے افراد کو آہنی ہاتھوں سے پکڑنے کی ضرورت بھی ہے جو ایسے خطرناک جرائم پیشہ افراد کا سہارا بن رہے ہیں اور معاشرتی برائی میں ملوث ہیں جس کی وجہ سے عوام عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں۔گوجرانوالہ پولیس نے کچھ عرصہ میں بڑی مہارت اور حکمت سے جرائم پیشہ افراد کے گرد گھیرا تنگ کیا ہے جس کی وجہ سے جرائم کی مجموعی شرح میں کافی حد تک کمی کے باعث عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔سی پی او اشفاق خان، ایس پی صدر کامران ممتاز اور خاص طور پر ڈی ایس پی سی آئی اے عمران عباس چدھڑ اس پر مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے جرائم کی بیخ کنی کا بیڑہ اٹھایا ہے اور بلا امتیاز خدمت خلق کر رہے ہیں جو پولیس کا فرض اور عوام کی ضرورت ہے ایسے پولیس افسران کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر عوام کے اطمینان کا باعث ہیں۔عوامی سطح پر تو انکی بھرپور حوصلہ افزائی ایک فطری عمل ہے۔عاطی لاہوریا جیسے انتہائی خطرناک گینگز کا مکمل صفایا ہونا چاہیے تاکہ عوام میں جو خوف کا احساس پایا جاتا ہے وہ پوری طرح ختم ہو سکے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sardar Zeeshan Tahir

Read More Articles by Sardar Zeeshan Tahir: 3 Articles with 1202 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2017 Views: 437

Comments

آپ کی رائے