’’قانونی ادارے بے بس کیوں‘‘؟

(Tooba Nasim, )

میرا سوال یہ ہے کہ آدمی آخر چھرا مار کیوں بنا؟ اس کے دل میں آخر اتنی نفرت کیوں پیدا ہوگئی؟ کہ راہ چلتی خواتین کو چھرا مار کر زخمی کردیتا ہے۔ ایک چھرا مار کراچی کے علاقے جوہر موڑ گلشن کے اطراف میں آتا ہے۔ تقریباً پندرہ خواتین کو چھرا مار کر فرار ہوجاتا ہے اور ہماری پولیس دیکھتی رہ جاتی ہے۔ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے آگے بے بس ہیں؟ آخر چھرا مار یہ سب کر کے کس ایجنڈے کو فروغ دے رہا ہے۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ سندھ حکومت ہمارے ساتھ تعاون کرے تو ہم چھرا مار شخص کو دو دن میں پکڑ سکتے ہیں۔ وسیم اختر کے اِس بیان سے یہ تاثر جاتا ہے کہ چھرا مار کر پکڑنا بہت آسان کام ہے۔ سندھ حکومت اس واقعہ پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اور اس سے قبل ’’پاک سر زمین‘‘ کے چئیرمین مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ چھرا مار شخص کے بارے میں، میں کوئی بات نہیں کرونگا۔

یہ میرے لیول کی بات نہیں ہے۔ سندھ حکومت اور ’’پاک سر زمین‘‘ کے چئیرمین مصطفی کمال اس بات کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اپنی لاپروائی برت رہے ہیں۔ چھرا مار کی وجہ سے طالب علم اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیاں جاتے ہوئے اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔ کراچی کی خواتین گھروں سے باہر نکلنے میں ڈر محسوس کرتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کراچی کی عوام کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھروسہ نہیں ہے۔ میں یہاں یاک بات کہنا چاہتی ہوں۔ شہر کراچی پاکستان کا معاشی مرکز ہے اگر اس شہر کی خواتین بازاروں میں خریداری کے غیر سے بہار نہیں نکلے گی تو ایک ڈر و خوف معیشت پر پڑے گا‘‘۔ اس سے قبل پنجاب کے شہر سائیوال اور چچہ وطنی میں اس طرح کے چھرا مار واقعہ ۲۰۱۳؁ء میں رونما ہوا تھا اس واقعہ کا مرکزی ملزم وسیم نے ۲۰۱۳؁ء میں ۲۴ خواتین پر چھری سے حملے کیے تھے اور ۲۰۱۵؁ء میں وسیم نامی شخص گرفتار ہوا اور ۸ ماہ بعد ضمانت پر چھوٹ گیا اور کچھ عرصے سے وہ غائب ہے سوال یہ ہے کہ وسیم نامی شخص آخر کہا غائب ہوا وسیم کو ’’زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا‘‘۔ چچہ وطنی سائیوال کے واقعات کا ملزم وسیم نے کسی اور شہر کا رُخ کرلیا ہے۔ بہرحال میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کرتی ہوں کہ چھرا مار شخص کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ کراچی کی خواتین سکون کا سانس لے سکیں کیونکہ ’’کراچی خوشحال اور ترقی کرے گا تو پاکستان ترقی کرے گا‘‘۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tooba Nasim
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2017 Views: 406

Comments

آپ کی رائے