یہ بھی مسلمان ہیں

(Tanveer Awan, Islamabad)

امریکہ اور یورپین ممالک میں مسلمانوں اور اسلام کو دہشت گرد ،انسانیت دشمن ،ہمدردی اور غمگساری کے جذبوں سے کوسوں دور بےرحم اور امن دشمن باور کروانے میں شب وروز میڈیا مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ،لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ لندن کا میئر صادق خان ہو یا جارج واشنگٹن کے دور میں امریکی فوج کو کمانڈ کرنے والا مسلمان جنرل، ناسا ریسرچ سینٹر کےچیف سائنٹسٹ ڈاکٹر ولید سمیت وہاں کام کرنے والے 70فیصد مسلمان ہوں یاامریکہ کو آزاد کروانے کیلئے شمالی افریقی عرب محمد اور یوسف بن علی ورجینیا کے محاذپر 1775سے 1783تک جنگ لڑتے رہے اورسلام نامی عرب مسلمان نے برطانوی میجر جنرل JOHN PITCAIRN کو گولی مار کر قتل کیا تھا جو امریکہ کی آزادی کیلئے سنگ میل سے کم نہیں تھا، بنگلہ دیشی امریکی نژاد فضل الرحمن خان جس کو سٹرکچرل انجینئرنگ کا آئن سٹائن کہا جاتا ہے ایک مسلمان ہے اور اس نے ہی پوری دنیا میں پہلی مرتبہ ٹو، تھری ،فور فریمز اور ٹیوب سٹرکچر کو متعارف کروایااورآج امریکہ کی تمام بلند وبالا اور آسمان کو چھوتی ہوئی عمارتیں امریکی مسلمان انجینئر فضل الرحمن خان کی مہارت کے بغیر ممکن نہیں تھیں۔جب کہ سماجی اور رفاعی سرگرمیوں میں بھی مسلمان نمایاں مقام پر نظر آتے ہیں ،ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق حال ہی میں 62 سالہ امریکہ نژاد لیبین محمد بزیک نے گزشتہ 20 برس سے وہ ایسے بچوں کو گود لے کر کفالت کررہے ہیں جو ہسپتال جاکر صرف موت کے شکار ہوتے ہیں۔ محمد بزیک انہیں ہر ممکن طور پر خوش رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں ہنساتے ہیں اور امید دلاتے ہیں۔

صرف لاس اینجلس ہی میں 35000 ایسے بچے ہیں جو میڈیکل کیس مینجمنٹ سروسز کے تحت آتے ہیں۔ ان کی طبی ضروریات بھی بہت خاص ہوتی ہیں اور ان بچوں کو گھر کے پیار کی شدید ضرورت ہوتی ہے جبکہ محمد بزیک وہ واحد شخص ہیں جو انہیں گھر کا ماحول فراہم کرتے ہیں۔

لاس اینجلس میں ڈپارٹمنٹ آف چلڈرن اینڈ فیملی سروسز (ڈی سی ایف ایس) کی میلسا ٹسٹرمین کہتی ہیں کہ جب کوئی ہمیں کسی بچے کو گھر کا ماحول فراہم کرنے کی درخواست کرتا ہے تو ہمارے ذہن میں صرف محمد بزیک کا نام آتا ہے۔ ’ایسے انتہائی حساس بچوں کو صرف محمد بزیک ہی دیکھ سکتا ہے۔جب کہ محمد بزیک کا کہنا ہے کہ وہ 1978 میں لیبیا سے کیلیفورنیا آئے تھے اور یہاں دیکھا کہ ایک خاتون بیمار بچوں کی کفالت کررہی تھی اور اس کا گھر ایسے بچوں کےلیے ایمرجنسی پناہ گاہ کا درجہ رکھتا تھا۔چنانچہ اس نے 1989 میں اس ڈان نامی خاتون سے شادی کرلی اور پھر یہ دونوں مل کر انتہائی بیمار بچوں کی کفالت کرنے لگے،پھر 1991 میں ان کے اپنے پہلے بچے کا انتقال کے بعد انہوں نے صرف ایسے بچوں کو گود لیا جو پیدائشی طورپر کینسر یا کسی اور جان لیوا بیماری کے شکار تھے اور اپنی موت کی جانب بڑھ رہے تھے۔ واضح رہے کہ جس وقت معاشرے میں کوئی بھی ان بچوں کو قبول نہیں کرتااس وقت محمد بزیک ان کے لیے آغوش محبت و شفقت ثابت ہوتا ہے ،جو یقینا لائق تحسین اور قابل رشک ہے۔

اس میں دو رائے نہیں کہ محمد بزیک کا یہ طرز عمل احترام انسانیت سے بھرپور اور محبت و شفقت سے عبارت اسلامی تعلیمات کا ہی نتیجہ ہے ،اور اسی طرح اسلام کا حقیقی چہرہ ،محبت و مودت ،احترام اور غم خواری کا فلسفہ، محمد بزیک ،عبدالستار ایدھی ،مفتی رشید احمدکے رفاعی اداروں،خبیب فاؤنڈیشن اور ان جیسے ہزاروں انسانیت کے ہمدردوں کی صورت میں اسلام مخالف پروپیگنڈا کی دنیا میں مثل شمع موجود ہیں، جویقینا عالمی استعمار کی ہزار ہا میڈیا ئی سازشوں کا عملا منہ توڑ جواب ہونے کے ساتھ اسلام کے پرامن اور احترام انسانیت سے لبریز تعلیمات کا استعارہ بھی ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 137847 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
21 Nov, 2017 Views: 346

Comments

آپ کی رائے