پاکستان کے بہترین آل راؤنڈر

(rafi abbasi, Karachi)
کرکٹ ٹیم کےکئی کھلاڑی آل راؤنڈصلاحیتوں کے حامل ہیں
حنیف محمد اور وسیم باری بیٹنگ، بالنگ اور وکٹ کیپنگ میں مہارت رکھتے تھے
، محمد حفیظ2012-13میں اور حال ہی میں دوسری مرتبہ آئی سی سی کی آل راؤنڈرز کی فہرست میں پہلے درجے پر فائزکیا گیا ہے،
ثنا میر پہلی خاتون کرکٹر ہیں جنہیں 2013میں آل راؤنڈ کارکردگی پربی سی سی پی ویمن کرکٹر آف دی ایئر ایوارڈ سے نوازا گیا
آل راؤنڈربابر اعظم ریکارڈ ساز کرکٹر بن گئے ہیں

کرکٹ کا کھیل کسی بھی ٹیم کی اجتماعی کارکردگی کا مرہون منت ہوتا ہے، جس میں بیٹسمین کریز پر کھڑے ہوکرفاسٹ و اسپن بالنگ کا مقابلہ کرتے ہوئےاچھے اسٹروک کھیل کرزیادہ سے زیادہ اسکورکرنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ دوسری طرف بالر بیٹسمین کی اننگ کا خاتمہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ کھلاڑیوں کو آؤٹ کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ کرکٹ میچوں میں وکٹ کیپر کا کردار بھی انتہائی اہم ہوتا ہے وہ ہبیٹسمین کا وکٹ کے پیچھے کیچ پکڑنے اور اسٹمپ آؤٹ کرنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں جب کہ فیلڈر رنز روکنے، گیند کو باؤنڈری کی طرف جانے سے روکنے،، کیچ پکڑنے اور مخالف ٹیم کے اسکور کو محدود کرنےکے لیے جان توڑ کوشش کرتے ہیں۔ کرکٹ ٹیم میں کئی کھلاڑی بیک وقت بیٹسمین ، بالر، فیلڈر اور وکٹ کیپنگ کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، ان کا شمار آل راؤنڈر کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے کئی کھلاڑی آل راؤنڈکارکردگی کے حامل رہے جن میں سے بیشتر نے اپنے آل راؤنڈ کھیل سے عالمی شہرت پائی۔ ان میں سے ایسے چند پاکستانی کھلاڑیوں کا ذکر نذر قارئین ہے۔

حنیف محمد
حنیف محمد پاکستان کرکٹ ٹیم کے’’ ابتدائی کھلاڑیوں‘‘ میں سے تھے، جنہوںنے اپنے کیرئیر کا آغاز 1952میں بھارت کے خلاف پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا پہلامیچ کھیل کر کیا۔ انہیں وکٹ کیپر بیٹسمین کے طور پر قومی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا اورانہوں نے اس حیثیت سےوکٹ کے پیچھے سب سے پہلا کیچ پکڑا۔ اپنے پہلے ہی میچ میں انہوں نے بہترین آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔بلے باز ی میں بھی انہیں کمال حاصل تھا اور گھنٹوں وکٹ پر ٹھہر کر سنگل، ڈبل اور ٹرپل سیچریاں اسکور کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔انہیں سویپ شاٹ کا خالق سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کھیل کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ بہترین اسپن بالر تھےاور دائیںو بائیں دونوں ہاتھوں سے بائولنگ کرا نے کی حیران کن خوبی رکھتے تھے۔ فیلڈ میں بھی ان کی کارکردگی متاثر کن تھی، ان کا شمار دس پاکستانی کھلاڑیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہوتا ہے جنہوں نے ایک میچ میں پانچ کیچ پکڑے۔

آصف اقبال
آل راؤنڈرآصف اقبال رضوی کا شمار بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کے ابتدائی دورکے کرکٹرز میں ہوتا ہے جنہوں نے قومی ٹیم کی فتوحات میں کارہائے نمایاں انجام دیئے۔ بچپن سے کرکٹ کا شوق تھا ، ان کے خاندان کے کئی افراد بھارت میں کرکٹ کھیلتے تھے اور انہوں نے بھی اپنے کھیل کی ابتدا بھارت میں کھیل کر کی۔ ان کے چچا غلام احمد بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے ہیںجب کہ کزن ثانیہ مرزا ٹینس کی اسٹار کھلاڑی ہیں۔ 1961میں والدین کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے اور کرکٹ کے حلقوں میںخود کو آف اسپنر کی حیثیت سے متعارف کرایا۔ 1964میں پاکستان ٹیم میں شامل ہوئے اور پہلا ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف کھیلا جب کہ1973میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے انہوں نے ایک روزہ میچ کے لیے ڈیبیو کیا۔بالنگ میں ان کی سوئنگ مخالف ٹیم کے بیٹسمینوں کے لیے پریشان کن رہتی تھی ۔ 1975اور 1979میں منعقد ہونے والے پہلے اور دوسرے کرکٹ ورلڈمیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے اور اپنی آل راؤنڈ کارکر دگی کی بدولت دوسرے ورلڈ کپ میں پاکستان کو سیمی فائنل کوالیفائی کرنے میں کردار ادا کیا۔ قومی ٹیم سے ریٹائرمنٹ کے بعدبرطانیہ کی کینٹ کرکٹ کلب کے کپتان رہے۔انہوں نے شارجہ کے بزنس مین، عبدالرحمن بخاطر کے ساتھ مل کر پاکستانی اور بھارتی کرکٹرز کی مالی معاونت کے لیے شارجہ میں ’’کرکٹ بینی فٹ فنڈ سیریز ‘‘ کا آغاز کیاجس کے بعد عبدالرحمن بخاطر نے 80کے اوائل میں شارجہ میں پہلا کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر کرایا تھا۔ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد آصف اقبال 1993میں آئی سی سی ریفری پینل میں شامل ہوگئے۔

وسیم راجہ
وسیم حسن راجہ قومی کرکٹ ٹیم کے لیگ اسپن بالر تھے جنہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز 1973میں انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے کیا، جب کہ اسی سال انہوں نے نیوزی لینڈ کےخلاف ایک روزہ میچ میں ڈیبیو کیا۔وہ گگلی کے ماہر تھے اور انہوں نےبالر کی حیثیت سے 51وکٹیں حاصل کی تھیں۔ہ مڈل آرڈر بلے باز تھے جب کہ کئی میچوں میں پاکستان کی طرف سے اوپننگ بھی کی۔آل راؤنڈر کی حیثیت سے بھی ان کی کارکردگی شاندار تھی۔1976میں انہوں نے ویسٹ انڈیز کے دورے کےموقع پر بیٹنگ، بالنگ فیلڈنگ میں بہترین کھیل کی بدولت خود کو ایک اچھے آل راؤنڈر کے طور پرمنوایا تھا۔کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ آئی سی سی کے ایمپائر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے ۔پاکستان کےپہلےکرکٹر ہیں جن کا انتقال کرکٹ گراؤنڈ میں ہوا۔23 اگست 2006ء میں ایک کائونٹی میچ سپروائز کررہے تھے کہ ان کا سر چکرانے لگا، سلپ میں کھڑے فیلڈر کواپنی طبیعت کے بارے میں بتایا۔ انہیں میدان سے باہر لے جایا جا رہا تھا کہ بائونڈری لائن پرپہنچ کر ان کا انتقال ہوگیا۔ وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رمیز راجہ کے بڑے بھائی تھے۔

انتخاب عالم
انتخاب عالم کا شمار پاکستان کے ریکارڈ ساز آل راؤنڈر میں ہوتا ہےانہوں نے کرکٹ کیرئیر کا آغاز 1959میں آسٹریلیا کے خلاف اسپن بالر کی حیثیت سے کھیلتے ہوئے کیا اور اپنی پہلی ہی گیند پر بیٹسمین کوآؤٹ کردیا، جو ایک عالمی ریکارڈ بن گیا۔1969سے 1977تک قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان رہے۔ 1973ء میں پاکستان نے پہلی بار نیوزی لینڈ کو اس کی سرزمین پرشکست سے دوچار کیا،اس تاریخی فتح میں انتخاب عالم نے 11 وکٹیں لے کراہم کردار ادا کیابیٹسمین کے طور پر بھی ان کی کارکردگی نمایاں رہی، 1967ء میں اوول ٹیسٹ میںبیٹنگ کی اور آصف اقبال کے ساتھ نویں وکٹ کی شراکت میں 190 رنز اسکور کرکے عالمی ریکارڈقائم کیا،،جس پر 30برس تک پاکستان کی حکم رانی رہی۔ مختلف ٹیموں کے ساتھ میچوں میں انہوں نے آل راؤنڈر کارکردگی پیش کرکے اپنی ٹیم کو فتح سے ہم کنار کرایا۔

وسیم باری
وسیم باری کو عالمی کرکٹ کے حلقوں نے جنوبی ایشیا کے بہترین وکٹ کیپر اور آل راؤنڈر کا خطاب دیا تھا۔ انہوں نے 1967میں انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا اور برطانوی کھلاڑی کولن ملی برن، وکٹ کے پیچھے ان کا پہلا شکار ہوئے۔ وکٹ کیپنگ میں انہوںنے جدیدانداز اپنائے تھے۔ بلے سے لگ کر بیٹسمین کے عقب میں آنے والی گیندکو پکڑنے کے لیے ان کی حیرت انگیز ڈائیونگ آج بھی کرکٹ کے شائقین کے ذہنوں میں محفوظ ہے۔ 1971میں انہوں نے لیڈز ٹیسٹ میں ایک ہی میچ میں آٹھ کیچ پکڑنے کا عالمی ریکارڈ قائم کیا جب کہ 1976-76میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں چار بیٹسمینوں کو اسٹمپ آؤٹ کرکے عالمی ریکارڈ بک میں دوبارہ اپنا نام ثبت کرایا۔ وہ رائٹ ہینڈ ڈبیٹسمین بھی تھے اور انہوں نے گیارہویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے 60رنز ناٹ آؤٹ بنانے کا کارنامہ بھی انجام دیا۔

عمران خان
عمران خان پاکستان کرکٹ کے مایہ ناز آل راؤنڈر، بیٹسمین، فاسٹ بالر اور فیلڈر تھے۔ انہوں نے 16سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنا شروع کی۔1971میں ایجبسٹن میں پاکستان کی طرف سے انگلینڈ کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ کھیل کر ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا اور تین سال بعد ٹرینٹ برج میں پروڈنشل ٹرافی کے میچ میں انگلینڈ کے خلاف ہی کھیل کر ایک روزہ میچ میں ڈیبیو کیا۔ 1976-77میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف فاسٹ بالر کی حیثیت سے میچ میں حصہ لیا، اور ان کا شمار دنیا کے تیز ترین بالر میں کیا جانے لگا اور انہیں آئی سی سی آل ٹائم رینکنگ میں تیسرے نمبر پر فائز کیا گیا۔ ان کا بیٹنگ ریکارڈ بھی بہترین تھا اور اپنے ٹیسٹ کیرئیر میں متعدد سینچریز اسکور کیں جن میں سے دو ناٹ آؤٹ سینچریز تھیں۔ ان کی قیادت میں پاکستان 1992کے عالمی کپ کا فاتح رہا۔

جاوید میاں داد
جاوید میاں دادنے 16سال کی عمر میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیااوراپنی آل راؤنڈ کارکردگی سے کرکٹ ماہرین کو حیران کردیا۔شاندار کھیل کی وجہ سے انہیں 1974ء میں انگلینڈ کے دورے پر جانے والی پاکستان انڈر19ٹیم کا نائب کپتان بنادیا گیا۔ انگلستان میں انہوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا جس کےبعد 1974-75ء میں سری لنکا کا دورہ کرنے والی جونیئر ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے تقرری کردی گئی ۔ انڈر 19میں اپنی شاندار پرفارمنس کی وجہ سے انہیں 1975ء میں انگلستان میں منعقد ہونے والے کرکٹ کے پہلے عالمی کپ کے لئے قومی ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ انہوں نے ورلڈ کپ میںاپنے ون ڈے کیریئر کا ابتدائی میچ کالی آندھی کے نام سے معروف ، ویسٹ انڈیز کےخلاف کھیلا۔ اس وقت ان کی عمر 18سال سےکم تھی اور وہ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے تمام کھلاڑیوں میں سب سے کم عمر تھے۔1975-76میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں انہوں نے پہلا ٹیسٹ میچ کھیلااو ر اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں وہ سینچری اسکور کرنے والے پاکستان کے دوسرے کھلاڑی بن گئے۔ ان کا شمار ملک کے ریکارڈ ساز بیٹسمینوں میں ہوتا ہے لیکن وہ اچھے اسپن بالر بھی تھے۔ نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف میچوں میں ان سے بالنگ بھی کرائی گئی اور نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں انہوں نے آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا شمار بہترین فیلڈرز میں ہوتاتھا او رانہوں نے کئی بار آؑ ل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرکے متعدد مواقع پر پاکستان کو فتح سے ہم کنار کرانے میں کردار ادا کیا۔978ء میں اٹھارہ سال کے طویل تعطل کے بعد پاک بھارت کرکٹ تعلقات بحال ہوئے اور بھارتی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ لاہور ٹیسٹ جس کا انعقاد قذافی اسٹیڈم میں کیا گیا تھا، پاکستان نے جیتا ۔ اس میں جاوید میاں داد نے بہترین آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس میں انہوںنے صرف 77گیندوں پر 119رنز اسکور کرنے کا کارنامہ انجام دیا،فیصل آباد ٹیسٹ میں وہ 154رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے جب کہ بہترین فیلڈنگ کے ذریعے حریف بیٹسمینوں کے متعدد کیچز پکڑے۔ وہ ٹیسٹ میچوں میں چھ مرتبہ او ر ون ڈے میچز میں18مرتبہ مین آف دی میچ رہے۔ ان کا شمار سب سے زیادہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کرکٹر میں ہوتا ہے۔ شارجہ میں چیمپئنز ٹرافی اور آسٹریلیا میں بینسن اینڈ ہیجز ٹرافی میں ’’پلیئر آف دی سیریز‘‘ ایوارڈ حاصل کیے۔ 1982میں انہیں وزڈن کرکٹر آف دی ایئر‘‘ کا ایوارڈ دیا گیا۔

مدثر نذر
مدثر نذر نے ٹیسٹ کیریئر کا آغازایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ کھیل کر کیا۔ ان کے والد نذر محمد پاکستان کے ابتدائی دور کے کرکٹر تھے اور اوپننگ بیٹسمین کے طور پر اننگ کا آغاز کرتے تھے۔ انہیں بھی ٹیم میں اوپنر کی حیثیت سےشامل کیا گیا لیکن وہ دائیں ہاتھ سے بالنگ کرنے والے میڈم پیسر بالر تھےاور انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیرئیر کے دوران 177وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا شمار قومی ٹیم کے مایہ ناز فیلڈرز میں ہوتا تھااور ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے کئی مرتبہ پاکستان ٹیم کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔وہ دنیا کے پہلےبیٹسمین تھے جوصرف ایک رن کی کمی سے ڈبل سینچری بنانے سے محروم رہے۔دنیا کی سست ترین ٹیسٹ سنچری بنانے کا اعزاز بھی انہی کے پاس ہے، وہ پاکستان کے بیٹ کیری کرنے والے دوسرے بیٹسمین ہیں اس سے قبل یہ اعزازان کے والد مدثر نذر کے پاس تھا۔ انہیں کھیل میںآل راؤنڈ کارکردگی کی بنا پر لارڈ ٹیسٹ کے اختتام پر’’ گولڈن آرم ‘‘ کا اعزاز دیا گیا۔

محمد حفیظ
2003میں ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ میں ڈیبیو کرنےوالے کھلاڑی محمد حفیظ کا شمار دنیا کے بہترین کرکٹرز میں ہوتا ہے۔ وہ رائٹ آرم بالر اور بلے باز کے علاوہ فیلڈنگ میں بھی بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہیں، اسی وجہ سے 2012-13میں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں دنیاکے بہترین آل راؤنڈرز کی فہرست میں پہلے درجے پر فائز تھے، جب کہ چند روز قبل عالمی ریٹنگ میں انہیں ایک مرتبہ پھرایک روزہ کرکٹ کا نمبر ون آل راؤنڈر قرار دیا گیا ہے۔ آل راؤنڈر محمد حفیظ نے اب تک ایک روزہ میچز میں 1200 اوورز کرائے ہیں جن میں کوئی بھی نو بال نہیںتھی،یہ ون ڈے کرکٹ کا ایک عالمی ریکارڈ ہے۔وہ ایک روزہ کیریئر میں11 سنچریز اور 32 نصف سنچریز کی مدد سےچھ ہزار کے قریب رنز اسکور کر چکے ہیں جب کہ تقریباً 150کھلاڑیوں کو آئوٹ کیا ہے۔ٹیسٹ میچز میں بھی ان کی بیٹنگ پرفارمنس شاندار ہے اور وہ 9 سنچریز اور 12 نصف سنچریز اسکور کرچکے ہیں جب کہ 52 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔ٹی ٹوئنٹی میچز میں بھی انہوں نے آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 9 نصف سینچریز بنائی ہیں جب کہ بالر کی حیثیت سے 46 بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کا بالنگ ایکشن گزشتہ کئی سالوں سے متنازعہ بنا ہواہے، کچھ عرصے قبل آئی سی سی کی جانب سے کلیئرنس ملنے کے بعد انہوں نے دوبارہ قومی کی طرف سے میچوں میں حصہ لینا شروع کیا لیکن حال میں ہی سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز میں ان کی بالنگ کے انداز کو ایک مرتبہ پر مشکوک قرار دیا گیا ہے۔

عبدالرزاق
عبدالرزاق پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر تھے جن کےایک روزہ کرکٹ میچوں میں کارنامے ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ عبدالرزاق نے قومی ٹیم کی طرف سے صرف چند ٹیسٹ میچ کھیلے اور اس حوالے سے ان کے موہالی ٹیسٹ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس میچ میںپاکستان کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہیں 1996میں قذافی اسٹیڈیم میں زمبابوے کے خلاف ایک روزہ میچ میں میڈیم فاسٹ بالر کے طور پر شامل کیا گیا تھا جب کہ 1999میں آسٹریلیا کے خلاف برسبین کے گراؤنڈپرپہلا ٹیسٹ میچ کھیلے۔1999-2000میں’’ کارلٹن اینڈ یونائٹیڈ سیریز ‘‘کے میچوں میں ہوبارٹ کے گراؤنڈ پر بھارت سے میچ کے دوران انہوں نے 20رنز پر پانچ کھلاڑی آؤٹ کیے جب کہ اس میچ میں ان کی بیٹنگ بھی شاندار رہی اور انہوں نے نصف سینچری مکمل کی۔ ان کا بیٹنگ اسٹائل منفرد تھا اور کئی مرتبہ انتہائی نازک صورت حال میں انہوں نے ٹیم کی بیٹنگ لائن کو سہارا دیا۔ بالر کی حیثیت سے 2000میں سری لنکا کے خلاف اپنی پہلی ہیٹ ٹرک بنائی۔ وہ بہترین آل راؤنڈر تھے، بیٹنگ، فیلڈنگ اور بالنگ سمیت کرکٹ کے تمام شعبوں میں ان کی کارکردگی انتہائی شانداررہتی تھی۔ بیٹسمین کی حیثیت سے عبدالرزاق کی یادگار اننگز جنوبی افریقہ کیخلاف ایک روزہ میچ میں دیکھی گئی، جہاں انہوں نےہاری ہوئی قومی ٹیم کو میچ میں فتح سے ہم کنار کروایا۔2009کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی انہوں نے میچ وننگ اننگ کھیل کر قومی ٹیم کو عالمی چیمپئن بنوانے میں یادگار کردار ادا کیا۔

ثنا میر
پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان ثنا میرکا شمار بھی بہترین خاتون آل راؤنڈر میں ہوتا ہے۔انہوں نے 2005میں ایک روزہ کرکٹ اور 2009میں ٹی ٹوئنٹی میں ڈیبیو کیا۔ وہ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والی بلے باز کے علاوہ آف اسپنر بالر بھی ہیںاور کرکٹ کے ان دونوں شعبوں میں ان کی کارکردگی بہت شاندار ہے، لیکن ان کا شمار دنیا کی بہترین آل راؤنڈر کھلاڑی میں بھی ہوتا ہے۔ 2008تک وہ ویمن ٹیم کی وائس کپتان کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں، 2009میںانہیںعروج ممتاز کی جگہ کپتان بنادیا گیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے 2010میں ایشین گیمز میں طلائی تمغہ حاصل کیا، جب کہ زرعی ترقیاتی بنک کی ٹیم چار مرتبہ قومی چیمپئن بنی۔ سیدھے ہاتھ سے بیٹنگ کرتی ہیں جب کہ رائٹ آرم اسپن بالر ہیں۔ بیٹنگ، بالنگ، فیلڈنگ سمیت اپنی آل راؤنڈ کارکردگی کی بنیاد پر کھیل کے تمام شعبوں پر حاوی ہیں۔ وہ پہلی خاتون کرکٹر ہیں جنہیں آل راؤنڈ کارکردگی کی بنیاد پر 2013میں’’بی سی سی پی ویمن کرکٹر آف دی ایئر‘‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2013میں ان کی قیادت میںٹیم نے یورپ کا دورہ کیا تو پاکستان ٹیم نے انگلینڈ کو اسی کی سرزمین پر ٹی ٹوئنٹی اور ایک روزہ کرکٹ کے 11میچوں میں شکست دی۔ آئی سی سی رینکنگ میں ان کا شمار دنیا کی چھٹی بہترین بالر میں ہوتا ہے۔و یمن ورلڈ کپ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ثنا میرنے شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکاٹ لینڈ کی ٹیم کو چھ وکٹوں سے شکست دینے میں نمایاں کردار ادا کیا، جس کے بعدپاکستان نے سپر سکس مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا۔ ورلڈ کپ ٹورنامنٹ میں انہیں 100 وکٹیں حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون کھلاڑی کا اعزاز حاصل ہواجب کہ بیٹنگ میں بھی ان کا رن ریٹ بہت شاندار ہے۔ فیلڈر اور آل راؤنڈر کی حیثیت سے بھی ان کی کارکردگی بہترین ہے۔ گزشتہ دنوں انہیں ٹیم کی قیادت سے فارغ کردیا گیا۔

یونس خان
یونس خان نے 2000ء میں سری لنکا کے خلاف ایک روزہ میچ کھیل کراپنے کرکٹ کیریئر کا آغاز کیا ، جب کہ ٹیسٹ کرکٹ کی ابتدا بھی سری لنکا کے خلاف اسی سال کی۔قومی ٹیم کے کپتان رہے اوراس حیثیت میں ان کی کارکردگی انتہائی شاندار رہی۔انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں ٹرپل سینچری اسکور کرکے منفرد ریکارڈ قائم کیا اور وہ حنیف محمد اور انضمام الحق کے بعد ٹرپل سینچری اسکور کرنے والے پاکستان کےتیسرے جب کہ دنیا کے 23ویں بیٹسمین بن گئے۔ 2009میں آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں وہ پہلی پوزیشن پربراجمان تھے۔ 2014ء میں سری لنکا کے دورے کے موقع پر جب پاکستانی ٹیم کے کھلاڑی پہلے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میںانتہائی کم اسکور پر آؤٹ ہوکرایک ایک کرکے پویلین کی طرف لوٹے ، انہوں نےشاندر اننگ کھیل کر قومی ٹیم کی پوزیشن مستحکم کردی جس کی وجہ سے انہیں ’’مردبحران ‘‘کا خطاب دیا گیا۔سری لنکا کی ٹیم خلاف ٹیسٹ میچ میں دوسری اننگر میں سینچری اسکور کرنے کے بعد وہ ’’دوسری اننگز‘‘ میں سب سے زیادہ پانچ سینچری بنانے والے دنیا کے پہلے بیٹسمین بن گئے، اس سے قبل سنیل گواسکر اور رکی پونٹنگ کے پاس دوسری اننگز میںچار سینچریاں اسکور کرنے کا اعزازتھا۔آل راؤنڈر کی حیثیت سے وہ قومی ٹیم کے پہلے کرکٹر ہیں جنہوں نے ٹیسٹ میچز میں 100کیچز پکڑنے کا اعزازبھی حاصل کیا۔ویسٹ انڈیز کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے دوران ہی یونس خان ٹیسٹ سیریز میں 10 کیچ لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے۔ انہوں نے بشو کا کیچ لے کر یہ اعزاز اپنے نام کیا۔وہ دنیا کے وواحدبیٹسمین ہیں جنہوں نے دنیا کے گیارہ ممالک میں سینچری اسکور کی۔ ان کا شمار دنیا کے پہترین اسپنر میں ہوتا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں انہیں 4مرتبہ ’’پلیئر آف دی سیریز‘‘ اور دس مرتبہ مین آف دی میچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ جب کہ ایک روزہ میچز میں بھی وہ دو مرتبہ مین آف دی سیریز رہے۔ اس سال ویسٹ انڈیز کے دورے کے اختتام پر انہوں نے کرکٹ کو خیر باد کہہ دیا جس کے بعدبرطانیہ کے لارڈز کرکٹ گرائونڈ میں پاکستان کے سابق لیجنڈ کرکٹر کے اعزاز میں ایک پر وقار تقریب کا اہتمام کیا گیاجس میں کرکٹ کے سب سے معتبر جریدے وزڈن کے نمائندے نے سابق پاکستانی کپتان کو وزڈن کی خصوصی کتاب پیش کی۔اختتامی سیشن میں یونس خان نے لارڈز میوزیم کےمہتمم کو اپنا کرکٹ بیٹ اوردستانے پیش کیے، جویادگار کے طور پر میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔

شاہد آفریدی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کرکٹرشاہد آفریدی کا شمار دنیا کے بہترین آل راؤنڈرز میں ہوتا ہے۔ 1998میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ اور 1996میں کینیا کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے کرکٹ کیرئیر کا آغاز کیا۔ وہ اپنے ابتدائی دور سے ہی کرکٹ کے شائقین کے پسندیدہ کھلاڑی رہے ہیں۔ ان کا بیٹنگ اسٹائل انتہائی منفرد جب کہ بالنگ میں بھی نئی نئی ورائٹیز متعارف کرائی ہیں ک۔ انہیں ایک روزہ کرکٹ کا بہترین آل راؤنڈر کہا جاتا ہے۔ان کے کھیل کی نمایاں خصوصیت بہترین بلے بازی ہے لیکن ان کی لیگ اسپن باؤلنگ سے بھی بیٹسمین ہراساں رہتے تھے۔ فیلڈر کی حیثیت سے بھی ان کی کارکردگی نمایاں رہی ہے۔ بیٹسمین کے طور پر انہوں نے جتنے چھکے لگائےان کا مقابلہ بھی کوئی کرکٹرنہیں کر سکا۔انہوںنے کرکٹ کی تاریخ کی تیز رفتار سینچری بنانے کا ریکارڈ قائم کیا جو کئی سال تک ناقابل تسخیر رہا ۔ انہوں نے 350 سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ انہیں صحیح معنوں میں گیم چینجر کہا جاتا تھا۔آئی سی سی کی طرف سے ٹوئنٹی 20 کرکٹ کے دوسرے بہترین آل راؤنڈر قرار دیئے گئے جب کہ بالرکی عالمی رینکنگ میںان کا پانچواں نمبرتھا۔

بابر اعظم
نووارد کھلاڑیوں میں بابر اعظم اپنی شاندار آل راؤنڈ کارکردگی کی وجہ سے اپنے کیریئر کے ایک سال کے عرصے میں ہی کئی نئے عالمی ریکارڈ کے حامل بن گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ ابوظبی میں سب سےکم اننگز میںسات سینچریاں بنا کر انہوں نے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے، اس سے قبل انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے33اننگز میں سب سے زیادہ رنز اسکور کرکے ایک منفرد کارنامہ انجام دیا ہے۔گزشتہ سال وہ ویسٹ انڈیز کے دورے کے دوران کیریبئن ٹیم کے خلاف پانچ میچوں میں مسلسل فچار سینچریاں اسکور کرچکے ہیں۔ بابر اعظم اچھے بیٹسمین ہونے کے علاوہ رائٹ آرم آف بریک بالر اوربہترین آل راؤنڈر بھی ہیں اور آل راؤنڈ کھیل میں وہ متعدد کھلاڑیوں کو کیچ و اسٹمپ آؤٹ کرچکے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rafi abbasi

Read More Articles by rafi abbasi: 109 Articles with 80817 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2017 Views: 491

Comments

آپ کی رائے