موجودہ نظام تعلیم پیچیدگی کی جانب گامزن

(Shoukat Ullah, Banu)

طالب علم کسی بھی نظام تعلیم کا محور ہوتے ہیں۔ مدرسہ ، استاد ، نصاب ، تدوین نصاب ، درسی کتب ، تعلیمی دفاتر اور مقاصد سب کا محور ی نقطہ یہی ہوتا ہے۔ جس کا بنیادی مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اس نظام میں حصول علم کے لئے ہر آنے والا طالب علم ایسی تعلیم و تربیت سے بہرہ ور ہو جو اس کی انفرادی اور اجتماعی دونوں لحاظ سے نافع ہو۔جیسا کہ ارشاد نبوی ﷺ ہے ۔ ’’ اے اﷲ میں آپ سے نفع دینے والا علم ، پاک روزی اور قبول ہونے والا عمل مانگتا ہوں ‘‘۔کسی تعلیمی نظام کی کامیابی اور ناکامی کو جانچنے کا پیمانہ بھی یہی ہے کہ اس سے فارغ التحصیل ہونے ہونے والا فرد اپنے مطلوب مقاصد حاصل کر چکا ہے یا نہیں۔ کسی قوم کی اس سے بڑی بد قسمتی بد نصیبی اور کیا ہوگی کہ اس کا نظام تعلیم کا ڈھانچہ مکمل ہو جانے کے باوجود وہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے فرد کودنیا و آخرت میں اپنے حقیقی مقام کا شعور نہ ہو ، اس کی صلاحیتوں کی مطلوبہ صلاحیتوں کی ابیاری نہ ہوئی ہو اور وہ اپنے ملک کے کسی بھی شعبہ حیات میں مفید اور کار گر نہ ہو۔ طالب علم کا یہ محوری مقام اور اس کی اہمیت کسی اسلامی مملکت کے نظام نظام تعلیم میں زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ بد قسمتی سے آج ہمارا نظام تعلیم سہل سے پیچیدگی کی جانب گامزن ہے اور ایسی گھبیر صورت حال میں پھنس گیا ہے کہ جس نے طالب علموں کے ساتھ اساتذہ کو بھی چکرا کر رکھ دیا ہے۔عجیب ‘ سمجھ سے بالاتر حالات بن گئے ہیں۔ اَب کل ہی کی بات ہے کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد کا ایک بی اے پاس طالب علم ہاتھوں میں کتابوں کا بستہ اور چہرے پر پریشانی کے عالم میں میرے پاس آیا۔ اُس نے ایسوسی ایٹ ڈپلومہ اِن ایجوکیشن (ADE ) پروگرام میں داخلہ لیا ہے ۔یہاں آپ کو یہ بتاتا جاؤں کہ یہ ڈپلومہ تعلیمی پالیسی کی رو سے پی ٹی سی اور سی ٹی دونوں کے برابر ہے۔اور تعلیمی پالیسی پر عمل درآمد سے ان دونوں پروگراموں کو ختم کر دیا گیا ہے۔ طالب علم نے بستہ کھولا اور کتابیں ایک طرف رکھیں ، پھر ایک اور بستہ کھولا۔’’یہ میری بی اے کی کتابیں ہیں جو میں نہ صرف پڑھ چکا ہوں بلکہ فسٹ ڈویژن سے کامیابی سے ہمکنار بھی ہوچکا ہوں ‘‘۔ میرے استفسار پر پریشان حال طالب علم نے کہا۔ ابھی تک میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ طالب علم اتنا پریشان کیوں ہے اور اُس کا اصل مدعا کیا ہے۔ جب طالب علم نے دونوں پرگراموں کی کتابوں کو ایک ساتھ رکھا تو جو کتابیں اس کے لئے نئے پروگرام میں پڑھنے کے لئے بھیجی گئی تھیں وہ بی اے والی کتابیں ہی تھیں جو وہ پڑھ چکا تھا۔اَب طالب علم کی پریشانی اور اس کا مدعا میری سمجھ میں کافی دیر بعد آیا۔ یہ بات بتانا ضروری ہے کہ اے ڈی ای کے پہلے سمسٹر میں اسلامیات ، مطالعہ پاکستان ، اُردو اور کمپیوٹر سائنس کے کورسسز وہی ہیں جو گریجویٹ سطح پر آفر کئے جاتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ کورسسز بورڈ آف سٹڈیز کی منظوری (Approval) کے بعد اے ڈی ای میں شامل کیے گئے ہوں گے۔ ہمیں یہ معلوم نہیں کہ ان حضرات نے ان کورسسز کے حوالے سے سفارشات اعلیٰ حکام کو ارسال کی ہوں گی یا نہیں؟ ایسے طالب علم جو گریجویٹ سطح پر جو کورسسز پڑھ چکے ہوں تو کم از کم اُن کو استثنیٰ دیا جائے۔ ہاں البتہ جو طالب علم ہائیر سیکنڈری سکول سرٹیفیکیٹ کے حامل ہیں اُ ن کے لئے یہ کورسسز شامل اور ضروری قرار دیں۔

میرا آج کا کالم نوجوان کی اس پریشانی پر اختتام پذیر نہیں ہوتا بلکہ تعلیمی نظام میں پیچیدگیوں کے حوالے سے ایک اور اہم بات بھی آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ پاکستان بار کونسل کی جانب سے قانون کی تعلیم میں کوالٹی پیدا کرنے کی غرض سے ایل ایل بی (تین سالہ ) پروگرام کو پانچ سالہ کر دیا گیا ہے ۔ جس کے لئے لیگل ایجوکیشن ایکٹ کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ یہ پاکستان بار کونسل کا انتہائی قابل ستائش و تحسین اقدام ہے۔ لیگل ایجوکیشن ایکٹ میں یہ شق بھی موجود ہے کہ جو طالب علم بی اے کی سطح پر قانون کا مضمون پڑھ چکے ہیں وہ ایل ایل بی (تین سالہ ) پروگرام میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے اور یہ سلسلہ اس ایکٹ کے نافذالعمل ہوجانے کے بعد تین سال تک جاری رہے گا۔بارکونسل کی واضح ہدایات اور قانون سازی کے باوجود یونیورسٹیوں نے صرف ایل ایل بی ( پانچ سالہ ) پروگرام کے لئے رواں سال داخلوں کا اعلان کیا اور اُن گریجویٹ کے حقوق سلب کئے جنہوں نے بی اے میں قانون کا مضمون پڑھا تھا۔ اس سلسلے میں ایک ہونہار طالب علم نے یونیورسٹی آف پشاور کے خلاف ہائی کورٹ پشاور سے رجوع کیا اور بے شمار طالب علموں نے گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کے خلاف پشاور ہائی کورٹ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان بینچوں میں اپنے جائز حقوق کے لئے رٹ پیٹیشنز دائر کی ہیں۔ہم دوسری اقوام کی ترقی کو تعلیم کی مرہون منت گردانتے ہیں لیکن خود نظام تعلیم کو سہل بنانے کے بجائے پیچیدہ راہوں پر ڈال رہے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shoukat Ullah

Read More Articles by Shoukat Ullah: 202 Articles with 125109 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Nov, 2017 Views: 763

Comments

آپ کی رائے