دشمن قوتوں کی مرضی کے راستے پہ نہ چلیں

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)

اسلام آباد اور راولپنڈی ہی نہیں بلکہ دوسرے شہروں سے آنے والوں کو بھی راستے بند ہونے ، ٹریفک کے درپیش عذاب کے بعد عدلیہ کے حکم پر فیض آباد میں دھرنا دینے والوں کے خلاف پولیس ایکشن کے نام پر ایک تماشہ کیا گیا۔صبح کو اس وقت ایکشن کیا گیا لوگ تعلیمی اداروں،اپنے روزمرہ کے کام کاج کے لئے گھروں سے نکلے تھے۔براہ راست ٹی وی کوریج میں پولیس کی نااہلی واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔اسلام آباد کے ایک سابق آئی جی نے بھی ایکشن کے طریقہ کار پر تنقید کی۔ یہ مناظر حیران کن تھے کہ دھرنا دینے والے مظاہرین کے خلاف پولیس اہلکار دستے کی صورت آگے بڑہنے کے بجائے غیر منظم انداز میں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کی طرح آگے بڑھ رہے تھے۔پولیس ایکشن میں نہ کوئی پلاننگ نظر آئی نہ حکمت عملی۔ بس یوں کاروائی کی گئی کہ کاروائی ہوتے نظر آئے ، مقصد حاصل کرنے کی کوشش ہی نہیں بلکہ نیت کا بھی فقدان نمایاں طور پر نظر آیا۔ اس ایکشن کے ساتھ ہی ملک بھر کے مختلف مقامات پر کئی مسجدوں میں اعلانات ہوئے اور بالخصوص دینی مدرسوں کے افراد نے راستے بند کر دیئے اور یہ صورتحال اب بھی قائم ہے۔ہفتے کے روز تمام دن جاری رکھنے کے بعد رات کے وقت پولیس ایکشن روک دیا گیا۔ اتوار کو ایک اعلی سطحی اجلاس وزیر اعظم کی صدارت میں ہوا لیکن'' کمانڈ'' آرمی چیف کی نظر آئی۔

آج تمام ملک لاقانونیت کی مثال کی بنا ہوا ہے۔حکومت ،انتظامیہ اور عدلیہ ہی نہیں بلکہ ریاستی رٹ بھی بے بسی کے عالم میں پامال ہو رہی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب ملکی سیکورٹی اور مذہب کے نام پر ملک میں من مانی کاروائیاں کی گئی ہو ، طریقہ کار کو غیر مناسب تسلیم کرنے کے باوجود اسے ناگزیر اور ناقابل اعتراض قرار دیا گیا ہو۔ ملکی سیکورٹی اور مذہب کے نام پر ملک میں من مانی کرنا آزمودہ طریقہ ہے۔ ملکی سلامتی کو درپیش حقیقی خطرات ، دہشت گردی کے خلاف جنگ ، افغانستان اور انڈیاسے کشیدہ معاملات ، ترقیاتی ، تعمیری منصوبے ، اختیارحکمرانی کی کھینچا تانی ، عوامی مسائل و امور ، سب کو نظر انداز کر کے مذہب کے نام پر غیر اسلامی طرز عمل سے جھگڑے ، حکومت و عوام کو تنگ ہی نہیں عاجز کرنے والے ایسے عناصر کی نظر میں زیادہ ضروری ہیں۔مذہبی جماعتوں کے پاس اچھا موقع ہے کہ تمام'' مذہبی مطالبات'' اسی وقت تسلیم کر ا لئے جائیں تا کہ بقول ان کے پاکستان میں مکمل اسلام نافذ ہو جائے۔ورنہ انہیں الگ الگ مطالبے پر بار بار دھرنے کی'' اسلامی'' جدوجہد کرنا پڑے گی۔چلو حکومت پر اعتما دنہیں ہے لیکن پارلیمنٹ میں تو مذہبی جماعتوں کے نمائندے موجود ہیں ، کیا دھرنے والوں کوان پر بھی اعتبار نہیں؟ انہوں نے تو اپنی ہٹ دھرمی ، بدزبانی سے اسلامی تعلیمات کا کھلا مذاق اڑانے کے مترادف طرزعمل کا مظاہرہ کیا ہے ۔پاکستان میں مذہبی باتوں کو اتنا مقدس بنایا گیا ہے کہ اب مذہب پر علمی انداز میں بھی بات نہ کرنے میں ہی عافیت معلوم ہوتی ہے۔

کئی مذہبی جماعتیں مظاہرین کی چند باتوں کو غیر مناسب قرار تو دے رہی ہیں لیکن ملک کو مفلوج کرنے ،انتشار و بے یقینی کا شکار کرنے پر مبنی دھرنوں ، مظاہروں کو ختم کرنے کی بات نہیں کرتے۔ علماء کے لئے تو ضروری تھا اور ہے کہ وہ اکٹھے دھرنے کے مقام پر جا کر انہیں غیرمناسب انداز ترک کے مناسب انداز اپنانے پر آمادہ کرتے ۔علماء کی زیادہ ذمہ داری اس لئے کہ یہ معاملہ مذہبی حوالے سے ہی اٹھایا گیا ہے۔ملک کو تباہ کن نتائج کے خطرات کی نذر کرنے کے اس معاملے میں علماء اپنا مثبت کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں ۔مذہبی جماعتیں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے رہنمائی کی ساکھ سے محروم ہو رہی ہیں۔کیا خوف کا عالم ہے کہ فساد پھیلانے والوں کے غیر اسلامی طرز عمل پر لکھنے والوں کو بھی پہلے اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلانے کے لئے اپنا عقیدہ تفصیل سے بیان کرنا پڑ رہا ہے۔مذہبی جماعتوں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ان کا یہ یقین اور عمل ہے کہ مقصد اچھا بتاتے ہوئے کچھ بھی غلط کیا جانا عین مناسب ہے۔

پاکستان میں عوام کی اسلام سے محبت کومنفی انداز میں استعمال کرتے ہوئے مذہبی بنیادوں پر جنونیت اور ہٹ دھرمی کو ہوا دینا اور اس طرز عمل کو اسلام سے محبت کا تقاضہ قرار دینا ، اسلام و پاکستان دشمن عالمی طاقتوں کے عزائم کی سہولت کاری میں محسوس ہوتا ہے۔کیا متعدد اسلامی ممالک میں فرقہ واریت ، مذہبی اختلافات کی بنیادوں پر انتشار اور تباہی کی مثالیں ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں ہیں؟ ملک میں فرقہ وارانہ گروپوں کی مذہبی انتہا پسندی کو پاکستان کا چہرہ (تعارف)بنایا جا رہا ہے۔مذہبی جماعتوں کا انتہا پسندانہ ، ہٹ دھرمی پر مبنی طرز عمل اور ان کی آشیر باد مسلمانوں اور پاکستان کے لئے تباہ کن نتائج کے خطرات کا موجب ہے۔مصائب سے گزرتے ہوئے مسلمانوں میں یہ احساس( قلیل ہی سہی) پیدا ہو رہا ہے کہ سوچ،عقیدے،رنگ و نسل،سماج کی بنیاد پر نفرت نہیں کرنی چاہئے۔اس حالیہ واقعہ کی صورتحال سے اسٹیبلشمنٹ ، حکومت اور اداروں نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ملک میں سب سے غیر محترم عوام ہیں ، باقی سب مقدس ہیں۔پاکستان کے اداروں ، عوام کو کسی دشمن کی ضرورت نہیں ، خود ہی اپنے لئے کافی ہیں۔خدا کے لئے اسلام پر رحم کریں ، مسلمانوں پر رحم کریں ، پاکستان پر رحم کریں ، مسلمانوں کو اس راستے پہ چلانے کی کوشش نہ کریں جس پہ اسلام دشمن مسلمانوں کو چلانا چاہتے ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 624 Articles with 329146 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
26 Nov, 2017 Views: 537

Comments

آپ کی رائے