مت کہیے ایسے الفاظ۔۔۔

(A R Tariq, )

ہم بحثیت فرد ؍ذمہ دارمعاشرے میں رہتے ہوئے معاشرے میں موجود لوگوں ؍عزیزواقارب بالخصوص ماں باپ ،بہن بھائی،بیوی بچوں کو ایسی ایسی باتیں کرجاتے ہیں یاان کے بارے میں اظہارخیال کرتے وقت ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں،جو ہم بڑے کسی کے سامنے فخروغروریاپھر ضد ،اناکے خول میں جھکڑے ،کسی کے سامنے اپنے آپ کو نمایاں کرنے،اپنی ناک کو اونچا کرنے یا اپنی خفت وشرمندگی کو مٹانے کے لیے یا اپنی ناک کا جھوٹابھرم رکھنے ،اپنی ضد اور انا کو پروان چڑھائے لوگوں کو یا اپنے مخاطب کو ’’ہم کسی سے کم نہیں‘‘کا احساس دلانے کے لیے کرتے ہیں اور ایسے میں اخلاقیات کی تمام حدوں کو بھی پامال کردیتے ہیں۔انداز بدتمیزی اختیار کرتے وقت اس موقع پر پل بھر کے لیے بھی نہیں سوچتے کہ ہمارا یہ فعل دوسرے کے لیے ،جس کو ہم یہ ایذاء پہنچارہے ہیں کے دل پر کیا بن کر گزر رہا ہوگا۔ہماری باتیں دوسرے کے لیے کس حد تک تکلیف کا باعث بن رہی ہونگی۔ ہماری ضد اور اناء جس کے خول میں ہم جھکڑے ہوئے ہیں ،کتنے گھروں اور افراد کے لیے اذیت کا باعث بن رہے ہونگے۔ ہمارا دوسروں سے ناروا طرزعمل ہمیں پستی کی کس انتہاء گہرائیوں میں پہنچا رہا ہوگا۔ہم دوسروں کی ایسی تیسی کرتے ،اپنی عزت وناموس اور عزت کا مورال کس حد تک گرا رہے ہیں۔اپنی ہی ذات کے خول میں گم ،دوسروں سے برتر ہونے کی سوچ اورمخلوق خدا کو حقیر جاننے کا عمل (جن کو خدا کے بعدآپ کے رحم وکرم پر رکھا گیا ہے )آپ کو کتنی قدرومنزلت سے نواز رہا ہوگا۔میں اور صرف میں ہی ،دوسرا کوئی نہیں،کی سوچ آپ کو ذلت کی کن اتھاہ گہرائیوں میں گرا رہی ہونگی۔اپنے عزیزواقارب ؍بہن بھائی بالخصوص ماں باپ سے سرد رویہ اﷲ کے ہاں آپکا رتبہ کتنا بنا رہا ہوگا۔مخلوق خدا سے محبت وشفقت کا رویہ اوران کے کام آنے کی بجائے،ان کو دیکھ کر ناک سکوڑنا،منہ چڑانا اور ان کو اپنے پاس دیکھ کر خوامخواہ آگ بگولا ہوجانا اور خدمت خلق اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنے کی بجائے ان پر لعنتیں بھیجنا جیسا اقدام خدا کے ہاں کتنا مقبول ہوگا۔دنیا اور ناپسندیدہ افراد کی نفرت میں موتی لال ،ہیرے جواہرات سے بھی قیمتی رشتوں کی حرمت پامال کرنا،ان کی عزت وعصمت پر ناحق کیچڑ اچھالناجیسے اقدامات اور قابل احترام افراد ،جن کی عزت وناموس کے ہم پاسبان ہیں پر غلط الزام،بہتان لگانا کہاں کا انصاف ہوگا۔ اپنی بڑائی کے زعم میں مبتلا،معاشرے کے سیدھے سادھے افراد یا فیملی کے لوگوں کوحقیر جاننا یا ہدف تنقید بنانا کہاں کی دانشمندی ہوگی۔اپنوں کے مقابلے میں دوسروں کو اہمیت دینا کہاں کی سمجھ داری ہوگی۔بات کو اپنی کم عقلی ،کم فہمی کے باعث سمجھ نہ پانا اور الزام دوسروں کے سر تھوپنا کدھر کا انصاف ہوگا۔اپنے سے منسلک افراد سے اپنی ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے بدلہ لینے کی سوچ اپنائے ان کی حرمت پامال کرنا کون سے عقل کے زمرے میں آئے گا۔اپنے آپ کو سب سے بڑا سیانا سمجھنا اور دوسروں کو اپنے مقابلے میں جاہل اجڈ جاننا کون سا علم ہوگا۔اپنی انا ،ضدہٹ دھرمی اور ناک کی جھوٹی آن با ن شان کو برقرار رکھنے کے لیے(چاہے اندر سے کتنے ہی ٹوٹے کیوں نہ ہو)اپنوں کی زندگی اور مستقبل سے کھیلنا کہاں تک ٹھیک ہوگا۔فیملی میں سے کسی کو بہت بڑھا کر پیش کرنا اور کسی کو انتہائی پستی میں ڈال کر عزت ڈھونڈنا،ایسے میں وقار کہاں ہوگا۔بحثیت بڑے ،چھوٹوں پر رحم کرنے کی بجائے، غلطی پرمعاف کرنے کی بجائے سزا کی سوچ ہمیں کس تباہی کے دہانے پر لیجا رہی ہوگی۔بحثیت سربراہ خاندان (یسے افراد جن کی زندگی کا دارومدار آپ پر ہے)انہیں جھوٹی ضد ،اناء کی بھینٹ چڑا دیناکہاں کی انسانیت ہوگی۔اپنے سے بڑے یا چھوٹے پر ہر وقت خفگی کا اظہار یا اس کی کمزوریوں پر ان کو ڈانٹ ڈپـٹ کا انجام کیا ہوگا۔ اپنے سے جڑے ہوئے افراد کے حوالے سے کیے گئے فیصلے کے کتنے دوررس نتائج ہونگے۔آپ کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ دوسروں کی زندگی میں کتنے معاون اورکتنے بھیانک اثرات مرتب کر رہے ہیں۔آپ کے شخصی مفادات پر مبنی فیصلے آپ کے قریبی افراد بالخصوص اپنوں کے لیے کتنے فائدہ مند ہونگے۔ان سب چیزوں کو سوچیئے اور پھر منہ سے کوئی الفاظ نکالیے۔اسلیئے کہ بحثیت ذمہ دار ؍سربراہ آپ کے فیصلے نسل نو کی تعمیر بھی کر سکتے ہیں اور ان کے لیے اپنے ہاتھوں ’’کھوداگھڑا‘‘بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔آپ کی ذرا سی شفقت ومحبت اور ہمدردی کے جذبات ٹوٹے ہوئے دلوں پر مرہم کا کام کرسکتے ہیں،وہیں آپ کی غیرذمہ دارانہ حرکات ،نفرت آمیزجذبات وخیالات جہاں فیملی کے لیے نقصان کا باعث بن سکتے ہیں وہیں آپ کی شخصیت کو بھی تار تار کرسکتے ہیں۔اپنوں خصوصا اولادکے حق میں کہے گیے اچھے الفاظ اور دعائیں ان کی زندگیاں روشن اور سنوار سکتے ہیں۔وہیں برے اور حقارت پر مبنی الفاظ ان کی زندگیوں میں کبھی نہ بجھنے والی مایوسیوں اور پچھتاوٗں کی آگ بھی لگا سکتے ہیں۔اسلیئے بحثیت بڑے، ایسے تمام افراد چاہے وہ کسی بھی رشتے میں آتے ہو،آپ کے رحم وکرم پر پڑے آپ کی شفقت ومحبت،ہمدردی وپیار اور توجہ کے منتظر ہوتے ہیں۔آپ کی دعاوٗں کے حصار کے حصول کی کوششوں میں سرکرداں ہوتے ہیں۔انہیں ایسے الفاظ بول کر تکلیف نہ پہنچائیں جو ان کی دل آزاری ،وحشت ونفرت کا باعث بنیں بلکہ مخاطب کرتے ایسے الفاظ کا چناو ٗ کریں جو محبت وخلوص کو پروان چڑھائیں۔ایک دوسرے میں ہمدردی وخیال کی سوچ پیدا کریں۔محبت وایثار سے لبریز ہو۔ادب واحترام کی علامت بنیں ۔اسلیئے مت کہییے ایسے الفاظ جو آپ کوبھی برباد کر ڈالیں اور دوسروں کی بھی دین اور دنیا جلا ڈالیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: A R Tariq

Read More Articles by A R Tariq: 51 Articles with 16196 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Nov, 2017 Views: 458

Comments

آپ کی رائے