بچ کر رہیں

(Sana, Lahore)
اب مجھے لگتا ہے جب مادی چیزوں کا حصول اور استعمال بدل رہا ہے تو انسان کو آج انسانوں سے خوش امیدی اور توقعات کے مسائل لاحق ہو رہے ہیں۔ کیونکہ کبھی بھی کسی کاونسلر کے پاس کوئی بھی ٹوٹا موبائل نہیں ٹوٹا دل ہی لے کر آیا ہے۔

ایک وقت تھا کہ انسان کو ڈر لگتا تھا چنگھاڑتے ہوئے شیر سے سانپوں سے بھالووؤں سے ہاتھی سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر آج وہ وقت ہے جب انسان کو ڈر لگتا ہے اپنے ہی جیسے انسان سے اپنے ہی جیسے دو ہاتھ دو پیر دو آنکھیں دو کان رکھنے والے انسان سے۔ انسان پریشان ہے ہراساں ہے مضطرب بھی ہے بے چین بھی ہے کوئی راستہ سمجھ بھی نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کس سے۔۔ کس کی وجہ سے اپنے ہی جیسے انسان کی وجہ سے۔

انسانوں کے ہاتھوں نقصان انسانوں کو ہمیشہ ایک ہی طرح نہیں پہنچتا۔ انسان کو نقصان اپنے ہی جیسے انسانوں کے ہاتھوں مختلف شکلوں میں پہنچتا ہے اکثر ہی انسان کے لئے اس نقصان کو برداشت کرنا مشکل اور مشکل ترین ہوتا ہے۔ انسان کو سمجھ نہیں آرہا ہوتا کہ انسان کو اتنا دکھ تکلیف کیوں مل رہا ہے صدمہ پہ صدمہ کیوں مل رہا ہے۔ مگر وہ ملتا ہے ۔

کیونکہ زندگی ایک امتحان ہے اور انسان کو امتحان دینا ہی ہوتا پے ۔ انسان کو وہ کام کرنا ہی ہوتا ہے جو بھی اسکے لئے کرنا خواہ کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو ۔ انسان کے لئے مشکل دیکھی جائے تو ہر بندے کی مشکل الگ ہوتی ہے ہاں اس کی مرضی کی نہیں ہوتی مگر اسکے لئے وہی بہترین ہوتی ہے جس میں اسکو ڈال دیا جاتا ہے جہاں اس کو لڑنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔

اللہ کا نظام بے حد خوبصورت ہے آپ کو ایک ہی مسئلہ پر بہت سے لوگ چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھاتے نظر آئیں گے مگر کچھ دوسرے لوگ اسی مسئلے کو چل چھوڑ کہتے نظر آئیں گے۔ مگر کچھ لوگ اس پر دوسروں کو مورد الزام اٹھاتے اور کچھ ذمہ داری قبول کرتے نظر آتے ہیں کچھ زندگی کو مثبت انداز میں لے کر آگے بڑھنے اور زندگی کی بہتری کے لئے کام کرنے کو تیار نظر آئیں گے ہاں یہ ہے کہ ایسے خوش قسمت ہوتے کم ہی ہیں ۔

انسان کو جو مسئلہ آج سب سے ذیادہ تنگ کر رہا ہے کہیں انسانوں کی فرمائشیں کہیں انسانوں کے لاڈ کہیں انسانوں کی ضدیں کہیں بہت ذیادہ پیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکثر اب جو کبھی مثبت چیزیں تھیں وہ بھی منفی ہی ہوتی نظر آ رہی ہیں ۔

جیسا کہ اگر کسی بھی بچے کو بے تحاشا پیار محبت اور ہتھیل کا چھالا بنا کر پالا جائے مگر ایک وقت آتا ہے کہ اس بچے کو اپنی عملی زندگی میں قدم رکھنا ہے ۔ انسان کو اس بچے کو پھر دنیا سے بھی وہی پیار وہی دُلار چاہئے ہوتا ہے مگر مسئلہ یہ آ جاتا ہے کہ دنیا وہ پیار اور دلار نہیں دیتی جب نہیں ملتا پھر انسان کو دکھ لگ جاتا ہے ۔

جیسا کہ کسی شخص کی ہمیشہ تعریف ہی تعریف ہوئی ہو مگر اب یہ ضروری نہیں کہ سکول کالج یا یونیورسٹی کے بعد اب سسرال میں بھی ویسی ہی تعریف ملے گی۔ یا نئے بننے والے رشتوں میں بھی وہی لاڈ اور اپنائیت دکھائی جائیگی۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ہر جگہ ہی آپکی توقع آپکی فرمایش مان لی جائے۔

پھر ایسا بھی نہیں ہوتا کہ آپ ہی ہمیشہ ٹاپر رہیں ۔
آپ کی ڈریسنگ ہمیشہ بیسٹ ہو۔
آپ ہی ہمیشہ موسٹ وانٹیڈ رہیں۔
آپ ہی ہمیشہ بیسٹ فرینڈ رہیں۔
آپ ہی ہمیشہ موسٹ بیوٹی فل رہیں۔

ہمیں آج ان انسانوں سے بچنے کی ضرورت ہے جو ہمیں جھوٹوں میں اور ایسے جھوٹوں میں پھنسا دیں جہاں ہم یہ ہی بھول جائیں کہ اس زمانے میں مستقل اگر کچھ ہے تو وہ صرف تبدیلی ہے۔

ہم یہ بات بھول جاتے ہیں۔ جب ہو خود تبدیلی اپنے آپ میں اور ساتھ والوں میں بھی بھگتتے ہیں تب ہمیں اپنے لئے زندگی کو بہتر اور معیاری کرنا پڑتا ہے۔ کوشش کر کے کیونکہ وہ ہمیشہ بہترین رہتی نہیں ہے۔ وہ اچھی رہتی نہیں۔
اسکا خیال رکھنا پڑتا ہے۔
مگر
آگے وہی نکل جاتا ہے جو خیال رکھ لیتا ہے۔جو واویلا ڈالے رکھتا ہے وہ آگے نئیں نکل سکتا ۔ وہ خود کو بھی اور دوسروں کو بھی مشکل میں ڈالے رکھتا ہے۔ خود بھی پریشان حیران ساتھ والے بھی حیران و پریشان۔
ہمیشہ اچھا اور ہمیشہ ایک جیسا اور جو آپکو ایسی آس دلائے وہ بھی کہلائے جھوٹا ۔

اب مجھے لگتا ہے جب مادی چیزوں کا حصول اور استعمال بدل رہا ہے تو انسان کو آج انسانوں سے خوش امیدی اور توقعات کے مسائل لاحق ہو رہے ہیں۔ کیونکہ کبھی بھی کسی کاونسلر کے پاس کوئی بھی ٹوٹا موبائل نہیں ٹوٹا دل ہی لے کر آیا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 184605 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
11 Dec, 2017 Views: 540

Comments

آپ کی رائے